عامر عثمان عادل کی تحاریر
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

ہے کوئی برانڈ ممتا کے جیسا؟۔۔عامر عثمان عادل

کچھ دن قبل صبح سویرے ایف ایم ریڈیو کھاریاں جانا ہوا۔ سگھڑ بیبیوں کی طرح خیال رکھنے والے اسٹیشن مینجر اختر وزیر نے ناشتے کا اہتمام کر رکھا تھا ۔ غنیمت یہ ہے کہ ریڈیو کے ہمسائے میں شنواری ہوٹل←  مزید پڑھیے

پردیسیوں کے نام۔۔عامر عثمان عادل

شالا مسافر کوئی نہ تھیوے ککھ جنہاں تھیں بھارے ہو ! قطر ائیر ویز کا طیارہ لاہور ائیر پورٹ سے پرواز بھرنے کو تیار تھا۔ مسافر اپنی مشکیں کسے بیٹھے تھے ۔ اور ہمارے اندر اتھل پتھل جاری  تھی ۔←  مزید پڑھیے

کلاشنکوف کے موجد کا آج 100 واں یوم پیدائش ہے۔۔۔عامر عثمان عادل

دنیا کی مہلک ترین گن ایجاد کرنے والے شخص کا نام میخائل کلاشنکوف تھا جو 10 نومبر 1919 کو روس کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوا ،مزے کی بات یہ شاعر بننا چاہتا تھا لیکن ملکی حالات اور رواج←  مزید پڑھیے

ربا سوہنیا جیویں تری مرضی۔۔۔عامر عثمان عادل

آج سکول سے واپسی پر گھر کے لئے روانہ ہوا تو کالی گھٹائیں نیلے آسمان پہ منڈلانے لگیں۔ مطلع ابر آلود تھا ۔ جونہی قطب گولڑہ گاؤں کے پاس سے گزرا ایک دم موسلا دھار بارش شروع ہو گئی ۔←  مزید پڑھیے

بات سے بات۔۔۔عامر عثمان عادل

یہ برکھا رت بھی ناں کمال کرتی ہے۔ دل کی دنیا کو نہال کرتی یے۔ بارش تھمتے ہی سورج کی سنہری کرنیں بارش کی بوندوں سے رومانس کرتی ہیں تو نیلا آسمان بھی مارے شرم کے گلنار ہو جاتا ہے←  مزید پڑھیے

تھوڑا سا ٹائم مل جائے گا صاحب ۔۔۔عامر عثمان عادل

فراٹے بھرتی تیز رفتار زندگی ، نفسا نفسی اور مارا ماری کا عالم ، روز و شب کی تھکا دینے والی روٹین ۔ایسا لگتا ہے،چین سکون آرام سب کسی پچھلے اسٹیشن پر رہ گیا ہو۔ ایک پل کی فرصت نصیب←  مزید پڑھیے

ایک اتری ہوئی شلوار اور صحافت ۔۔۔عامر عثمان عادل

کل سے سوشل میڈیا پر ایک ایف آئی  آر گردش کر رہی ہے، جس کے مطابق درخواست گزار کا موقف ہے  کہ وہ اپنی بیوی کو لے کر گجرات کے ایک مشہور ترین الٹرا ساؤنڈ سپیشلسٹ کے پاس لے کر←  مزید پڑھیے

خدارا ان کلیوں کو پامال ہونے سے بچا لیں ۔۔۔عامر عثمان عادل

میرا ہم جماعت برسوں بعد میرے سامنے بیٹھا تھا ۔ کالج کے بعد عملی زندگی کے تھپیڑوں نے سنبھلنے کا موقع ہی کہاں دیا ۔ میل ملاقاتیں رابطے سب موقوف ہوئے ۔ پتہ چلا وہ حصول رزق کی خاطر دیار←  مزید پڑھیے

وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔۔۔عامر عثمان عادل

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہاسپٹل کے وسیع لان پہ شام کے سائے چھا چکے تھے ہر سو سناٹا اور گہرا سکوت طاری تھا ،ڈاکٹر صاحب مردہ خانے سے باہر نکلے کافی دور پیدل چل کر ایمرجنسی میں  اپنے دفتر پہنچے تو←  مزید پڑھیے

طالبات سے بھری کالج بس پہ حملہ آور ہمارے بچوں کا مستقبل۔۔۔سچا واقعہ/عامر عثمان عادل

سوموار 7 اکتوبر کا واقعہ ہے۔ کھاریاں کے ایک نجی کالج کی بس حسب معمول چھٹی کے بعد طالبات کو لئے ڈنگہ کی جانب رواں دواں تھی۔ جس میں چند طلبہ بھی سوار تھے۔ دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب جونہی←  مزید پڑھیے

ہم اور ہمارے رویے۔۔عامر عثمان عادل

بات کہنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو ۔۔ ہم خوش لباس تو ہیں۔ مگر خوش اخلاق نہیں! ہماری خوش خوراکی قابل رشک ہے۔ لیکن خوش گفتاری قابل اعتراض ۔نجانے ہمارے لہجوں میں مٹھاس کی بجائے کڑواہٹ کہاں سے در آئی۔←  مزید پڑھیے

میرے بابا میرے استاد ۔۔۔عامر عثمان عادل

دنیا بھر میں اساتذہ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔ میرے بابا اپنے زمانے کے نامور استاد اور سخت گیر منتظم تھے ۔ دور کہیں ماضی کے جھروکوں سے آج کچھ یادوں نے دل دماغ کو گھیرے میں←  مزید پڑھیے

پنجاب پولیس اور بھڑ کا ڈنک۔۔۔عامر عثمان عادل

پچھلے کچھ ہفتے پنجاب پولیس پر بہت بھاری تھے ،سوشل میڈیا پر وہ اودھم مچا کہ کچھ نہ پوچھیے، یار لوگوں نے نجانے کہاں کہاں سے ڈھونڈ کر پولیس کے تشدد کی ویڈیوز اپ لوڈ کر دیں، تاثر یہ اُبھرا←  مزید پڑھیے

شکریہ کی دم توڑتی روایت اور ایک گل فروش سے ملاقات۔۔۔عامر عثمان عادل

نجانے ایسا کیوں ہے کہ ہم اپنی ساری اچھی روایات ایک ایک کر کے دفن کرتے جا رہے ہیں خوش اخلاقی تو درکنار کسی سے سیدھے منہ بات تک کرنا گوارا نہیں کرتے۔ قرآن پاک میں کم وبیش 75 مرتبہ←  مزید پڑھیے

کھیر، رات کی رانی اور ماں جی کی یاد ۔۔۔عامر عثمان عادل

آج سکول سے واپس گھر آیا ،کچھ کھانے کی تلاش میں فریج کھولا تو بڑے سلیقے سے سجائی  گئی کسٹرڈ کی پلیٹ پر نظر کیا پڑی، دل سے ایک ہوک اٹھی اور جیسے یادوں کے منہ زور دریا کا بند←  مزید پڑھیے

محلے کی دکان دہی اور ایم پی اے شپ کا پہلا دن۔۔۔عامر عثمان عادل

جب مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا بندہ عوامی نمائندہ منتخب ہو جائے تو اکثر و بیشتر بڑے دلچسپ واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 10 اکتوبر 2002 کی رات جب حلقہ پی پی 115 کے تمام←  مزید پڑھیے

زندگی دھوپ چھاؤں کا کھیل۔۔۔عامر عثمان عادل

کل کی بات ہے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے مسجد کا رخ کیا ،قیامت خیز گرمی مزاج پوچھ رہی تھی، سورج جیسے سوا نیزے پہ، حبس کے مارے سانس رکتا ہوا محسوس ہورہا تھا، حدت یوں جیسے قریب کوئی  آتش←  مزید پڑھیے

میرے دوست تیری عظمت کو سلام۔۔عامر عثمان عادل

تن تنہا سر سبز و شاداب پاکستان کا مشن لیے سماہنی سے روانہ ہوا۔ سطح سمندر سے 13400 میٹر بلند رتی گلی جھیل پہ سیاحوں کے پھیلائے ہوئے کچرے کے انبار اپنے ہاتھوں سے چُن کر اس خوب صورت جھیل←  مزید پڑھیے

مرا شہر بچا لے اے مولا ۔۔۔۔عامر عثمان عادل

گولیوں کی تڑتڑاہٹ زخمیوں کی آہ و بکا، بازاروں میں تڑپتے انسان، انسانوں کے بہتے لہو سے رنگین گلیاں، بستی پہ ہر سو وحشت اور موت کا چھایا سناٹا ۔۔۔رکیے یہ منظر کشمیر کی وادی کا نہیں یہ تصویر میرے←  مزید پڑھیے

بچوں کو موبائل نہیں اپنا پیار دیجیے۔۔۔عامر عثمان عادل

سکول اپنے دفتر میں مصروف کار تھا کہ ایک خاتون تشریف لائیں ،سلام دعا کے بعد یوں گویا ہوئیں۔۔۔ سر جی میرے تین بیٹے آپ کے ہاں زیر تعلیم ہیں آج میں آپ سے ان کی تعلیمی کارکردگی کے متعلق←  مزید پڑھیے