عامر عثمان عادل کی تحاریر
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

طالبات سے بھری کالج بس پہ حملہ آور ہمارے بچوں کا مستقبل۔۔۔سچا واقعہ/عامر عثمان عادل

سوموار 7 اکتوبر کا واقعہ ہے۔ کھاریاں کے ایک نجی کالج کی بس حسب معمول چھٹی کے بعد طالبات کو لئے ڈنگہ کی جانب رواں دواں تھی۔ جس میں چند طلبہ بھی سوار تھے۔ دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب جونہی←  مزید پڑھیے

ہم اور ہمارے رویے۔۔عامر عثمان عادل

بات کہنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو ۔۔ ہم خوش لباس تو ہیں۔ مگر خوش اخلاق نہیں! ہماری خوش خوراکی قابل رشک ہے۔ لیکن خوش گفتاری قابل اعتراض ۔نجانے ہمارے لہجوں میں مٹھاس کی بجائے کڑواہٹ کہاں سے در آئی۔←  مزید پڑھیے

میرے بابا میرے استاد ۔۔۔عامر عثمان عادل

دنیا بھر میں اساتذہ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔ میرے بابا اپنے زمانے کے نامور استاد اور سخت گیر منتظم تھے ۔ دور کہیں ماضی کے جھروکوں سے آج کچھ یادوں نے دل دماغ کو گھیرے میں←  مزید پڑھیے

پنجاب پولیس اور بھڑ کا ڈنک۔۔۔عامر عثمان عادل

پچھلے کچھ ہفتے پنجاب پولیس پر بہت بھاری تھے ،سوشل میڈیا پر وہ اودھم مچا کہ کچھ نہ پوچھیے، یار لوگوں نے نجانے کہاں کہاں سے ڈھونڈ کر پولیس کے تشدد کی ویڈیوز اپ لوڈ کر دیں، تاثر یہ اُبھرا←  مزید پڑھیے

شکریہ کی دم توڑتی روایت اور ایک گل فروش سے ملاقات۔۔۔عامر عثمان عادل

نجانے ایسا کیوں ہے کہ ہم اپنی ساری اچھی روایات ایک ایک کر کے دفن کرتے جا رہے ہیں خوش اخلاقی تو درکنار کسی سے سیدھے منہ بات تک کرنا گوارا نہیں کرتے۔ قرآن پاک میں کم وبیش 75 مرتبہ←  مزید پڑھیے

کھیر، رات کی رانی اور ماں جی کی یاد ۔۔۔عامر عثمان عادل

آج سکول سے واپس گھر آیا ،کچھ کھانے کی تلاش میں فریج کھولا تو بڑے سلیقے سے سجائی  گئی کسٹرڈ کی پلیٹ پر نظر کیا پڑی، دل سے ایک ہوک اٹھی اور جیسے یادوں کے منہ زور دریا کا بند←  مزید پڑھیے

محلے کی دکان دہی اور ایم پی اے شپ کا پہلا دن۔۔۔عامر عثمان عادل

جب مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا بندہ عوامی نمائندہ منتخب ہو جائے تو اکثر و بیشتر بڑے دلچسپ واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 10 اکتوبر 2002 کی رات جب حلقہ پی پی 115 کے تمام←  مزید پڑھیے

زندگی دھوپ چھاؤں کا کھیل۔۔۔عامر عثمان عادل

کل کی بات ہے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے مسجد کا رخ کیا ،قیامت خیز گرمی مزاج پوچھ رہی تھی، سورج جیسے سوا نیزے پہ، حبس کے مارے سانس رکتا ہوا محسوس ہورہا تھا، حدت یوں جیسے قریب کوئی  آتش←  مزید پڑھیے

میرے دوست تیری عظمت کو سلام۔۔عامر عثمان عادل

تن تنہا سر سبز و شاداب پاکستان کا مشن لیے سماہنی سے روانہ ہوا۔ سطح سمندر سے 13400 میٹر بلند رتی گلی جھیل پہ سیاحوں کے پھیلائے ہوئے کچرے کے انبار اپنے ہاتھوں سے چُن کر اس خوب صورت جھیل←  مزید پڑھیے

مرا شہر بچا لے اے مولا ۔۔۔۔عامر عثمان عادل

گولیوں کی تڑتڑاہٹ زخمیوں کی آہ و بکا، بازاروں میں تڑپتے انسان، انسانوں کے بہتے لہو سے رنگین گلیاں، بستی پہ ہر سو وحشت اور موت کا چھایا سناٹا ۔۔۔رکیے یہ منظر کشمیر کی وادی کا نہیں یہ تصویر میرے←  مزید پڑھیے

بچوں کو موبائل نہیں اپنا پیار دیجیے۔۔۔عامر عثمان عادل

سکول اپنے دفتر میں مصروف کار تھا کہ ایک خاتون تشریف لائیں ،سلام دعا کے بعد یوں گویا ہوئیں۔۔۔ سر جی میرے تین بیٹے آپ کے ہاں زیر تعلیم ہیں آج میں آپ سے ان کی تعلیمی کارکردگی کے متعلق←  مزید پڑھیے

کشمیر سے اٹھتا دھواں اور ہماری چاند رات۔۔۔۔عامر عثمان عادل

5 اگست کو غاصب بھارتی سرکار نے اپنے ہی آئین کو پیروں تلے روندتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، مرکزی قیادت کو محصور کر کے پوری وادی کو ایک قید خانے میں بدل ڈالا کرفیو زدہ←  مزید پڑھیے

جنت ارضی سے اٹھتا دھواں ،اُمتِ مسلمہ اور ہماری ذمہ داریاں۔۔۔۔عامر عثمان عادل

پس منظر کشمیر جنت نظیر بھارتی جبر و ستم اور ظلم و استبداد کے ہاتھوں جہنم سے بدتر ہو چکا ہے، حرماں نصیب اہلِ  کشمیر کی ابتلا ء و آزمائش آج کی نہیں صدیوں پر محیط ہے ،نہتے معصوم بے←  مزید پڑھیے

پی آئی اے کھاریاں ‘ موہنجوداڑو اور کھلا سچ / کل سے آج کچھ حقائق۔۔۔۔عامر عثمان عادل

سوشل میڈیا پہ خبر کیا وائرل ہوئی  ایک بھونچال سا آ گیا کہ پی آئی  اے کا دفتر کھاریاں سے سیالکوٹ منتقل کیا جا رہا ہے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ متحرک ہوئے، شور اٹھا ،صدائے احتجاج بلند ہوئی اور پھر ہر←  مزید پڑھیے

رب کا قرآن فریادی ہے ۔۔۔عامر عثمان عادل

نفسا نفسی کے اس دور میں آ جا کے رمضان کریم ہی وہ مہینہ ہے کہ مجھ جیسے گنہگار بڑے اہتمام سے تلاوت قرآن کو معمول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دو دن پہلے ایک مسجد میں نماز ظہر کی←  مزید پڑھیے

یہ دنیا تمہارے رہنے کے قابل نہیں ہے فرشتہ ! ہاں میری بچی۔۔۔۔عامر عثمان عادل

اچھا ہوا جو تو بھی ہم سے روٹھ گئی انسانوں کی دنیا فرشتوں کے رہنے کے قابل ہی کب ہے۔ عین وقت افطار طرح طرح کی نعمتوں سے مزین دسترخوان سامنے پڑا ہے۔۔۔ ذرا تصور کیجیے اس بدقسمت گھرانے کا←  مزید پڑھیے

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے ۔۔۔عامر عثمان عادل

ایک نظر اس جوان رعنا کو تو دیکھیے نظر ہے کہ ٹھہرتی ہی نہیں اس کے چہرے پہ سرخ و سپید رنگت لبوں پہ پھیلی مسکان جیسے کوئی  شہزادہ ۔۔ قاضیاں کی بھٹی فیملی جو آج کل کریم پورہ لالہ←  مزید پڑھیے

الوداع اسامہ۔۔۔۔عامر عثمان عادل

کل اسی لمحے تم ایک المناک حادثے کا شکار ہو کر ہم سے بہت دور چلے گئے۔۔ اور آج تمہارے بابا نے اپنے ہاتھوں اپنے راج دلارے کی پیشانی پر بوسہ دے کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ دیا ۔←  مزید پڑھیے

دتہ ڈکیت پارلیمانی پارٹی اور وزیر اعلی پنجاب ۔۔۔عامر عثمان عادل

کچھ عرصہ قبل پنجاب اور آزادکشمیر میں دتے ڈکیت کی دہشت چھائی   ہوئی تھی، ظالم اتنا نڈر تھا جہاں ڈاکہ ڈالتا گھنٹوں کے حساب سے وقت گزارتا ،گھر والوں کو محبوس بنا کر فرمائشی کھانے بنوا کر کھاتا لیکن چھلاوے←  مزید پڑھیے

پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اور دم توڑتا استحقاق۔۔۔۔عامر عثمان عادل

پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہوا کرتا ہے جس میں اسمبلی کے منتخب نمائندے اور قیادت مل بیٹھ کر رواں اجلاس کے ایجنڈے یا کسی بھی اہم ایشو پر اتفاق رائے کا←  مزید پڑھیے