ایم پی اے کا پروٹوکول اور ڈاکٹر کی معطلی۔۔۔محمد شافع صابر

میرے سامنے ابھی دو تصاویر ہیں، ایک تصویر اس تحریک استحقاق کی ہے، جو تحریک انصاف کی ایک ایم پی اے صاحبہ نے پنجاب اسمبلی میں پیش کی، دوسری تصویر اس نوٹیفکیشن کی ہے، جو سیکریٹری صحت پنجاب نے شائع کیا ہے، جس کی رو سے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ چلڈرن ہسپتال ملتان ڈاکٹر شاہد کو معطل کیا جاتا ہے۔

ان تصاویر کے پیچھے جو کہانی ہے ،وہ یہ ہے، “MPA صاحبہ کی بیٹی بیمار تھیں ،وہ انہیں چیک کروانے کے لئے چلڈرن ہسپتال ملتان گئیں، سیدھا opd (out door patient) جانے کی بجائے وہاں کے ایم ایس کے آفس گئیں۔ ایم ایس (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ) صاحب نے ڈی ایم ایس، ڈاکٹر شاہد کو بلایا، انہیں انکی بیٹی کا چیک اپ کروانے کا کہا، ڈاکٹر شاہد ایم پی اے صاحبہ کو، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ کی OPD لے گئے ۔ ڈاکٹر سعدیہ جو وہاں مریضوں کا چیک اپ کر رہی تھیں، MPA صاحبہ نے ان سے کہا کہ میری بیٹی بیمار ہے، آپ اسے چیک کریں، ڈاکٹر سعدیہ نے جب ان سے علامات کا پوچھا، تو ایم پی اے نے جواب دیا کہ آپ کو علامت کا ڈاکٹر شاہد نے نہیں بتایا؟ ڈاکٹر صاحبہ نے جواب میں کہا کہ آپ ماں ہیں اور آپ ہی بہتر بتا سکتی ہیں، اس بات پر ایم پی اے صاحبہ ناراض ہو گئیں اور واپس ایم ایس کے دفتر چلی گئیں  اور ساری بات بتائی، ایم ایس صاحب نے انہیں اپنے ہی آفس میں چیک اپ کروانے کی آفر کی جو انہوں نے رد کر دی اور چیک اپ کروائے بغیر ہی ہسپتال سے چلی گئیں، بعد میں انہوں نے تحریک استحقاق پیش کی جس کے مطابق MS ،DMS اور ڈاکٹر سعدیہ کا رویہ تضحیک آمیز تھا جو اس اسمبلی کے تمام ارکان کے استحقاق کو مجروح کرنے کے مترادف ہے اور سیکریٹری صحت نے ڈی ایم ایس (ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ) ڈاکٹر ارشد کو معطل کر دیا “۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر راشد خود انکی opd سلپ بنا کر لائے۔ MPA صاحبہ جو خود LHV رہی ہیں، انہیں بھی سرکاری ہسپتالوں کی OPDS کے رش کا پتا ہے، لیکن حیرت ہے انہوں نے پھر بھی تحریک استحقاق پیش کی۔

ہماری اخلاقی، سماجی پستی کی اس سے بدتر مثال کیا ہو گی جس میں ایک “خواتین کےمخصوص کوٹے پر منتخب ایم پی اے کو”صحیح پروٹوکول نہ  دینے پر ایک ڈاکٹر کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ گیا۔ ہمارے ہاں یہ غلط روایت پنپ چکی ہے جس کے مطابق ہر عہدیدار کو پبلک مقامات پر پروٹوکول چاہیے، اگر نہیں دو گے تو نوکری سے جاؤ گے ۔

چلڈرن ہسپتال کے ڈی ایم ایس کی معطلی کے بعد گرینڈ ہیلتھ الائنس (GHA) اور ڈاکٹروں کی تنظیم (yda) نے احتجاج بھی کیا، لیکن سرکار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی ۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب کے الیکشن کے وعدوں میں سے ایک وعدہ پروٹوکول کلچر کو ختم کرنا بھی تھا، لیکن تبدیلی کے پہلے سال میں اس کلچر میں کمی تو نہیں آئی لیکن اضافہ ضرور ہوا ہے۔

ایک سال پہلے جب ڈاکٹر یاسمین راشد نے صوبائی وزیر صحت کا قلمدان سنبھالا تھا، تو سب سے زیادہ خوشی پڑھے لکھے طبقے خصوصاً ڈاکٹرز کو ہوئی  تھی کہ اب محکمہ صحت کے معاملات پروفیشنل لوگوں کے ہاتھ میں ہیں، لیکن محکمہ صحت کی کارکردگی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

سرکاری ہسپتالوں کی Opds میں تو رش ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا، اوپر سے ایک ایم پی اے کا وہاں جا کر پروٹوکول مانگنا، پسند کا پروٹوکول نہ ملنے پر تحریک استحقاق جمع کروانا، ڈاکٹر کو معطل کروانا، محکمہ صحت کی اس سے بری حالت کیا ہو گی؟؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا، وزیر صحت (جو خود مشہور گائناکالوجسٹ) ہیں، اس تحریک استحقاق کی مخالفت کرتیں، اپنی ساتھی ایم پی اے کو سمجھاتیں، لیکن انہوں نے ہمیشہ کی طرح سیاسی مصلحتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ پچھلے دور حکومت  میں کبھی یہ نہیں ہوا تھا کہ ایم پی اے کو پروٹوکول نہ  دینے پر کسی ڈاکٹر کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے ہوں۔
یہ MPA صاحبہ، جو نہ  تو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئیں، نہ  ہی وہ عوامی نمائندہ ہیں، انہیں کس وجہ سے پروٹوکول دیا جائے؟؟ اپنی ڈیوٹی پر موجود فرض شناس ڈاکٹر کو اپنی پسند کا پروٹوکول نہ  دینے پر  معطل کروانا، ایم پی اے  صاحبہ کی اخلاقی پستی کا عملی مظاہرہ ہے  ۔ایم ٹی آئی ایکٹ کی وجہ سے ڈاکٹرز تو پہلے ہی ہڑتالوں پر ہیں، اوپر سے اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لئے ڈاکٹرز کو نوکری سے نکلوانا جلتی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر کے نزدیک سارے مریض برابر ہوتے ہیں ۔ وہ تمام مریضوں کو ایک ہی طریقے سے چیک کرتا ہے۔آپ ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں کہ وہ آپ کو آپ کی کرسی کی بدولت، پہلے سے موجود مریضوں کو چھوڑ کر پہلے چیک کرے، اگر آپ ایسی سوچ کے مالک ہیں تو آپ کو اپنے روئیے پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پروٹوکول نامی بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے، حکومت قانون سازی کرے کہ پبلک مقامات خاص طور پر ہسپتالوں میں کسی سیاسی شخصیت کو کسی قسم کا کوئی پرٹووکول نہیں ملے گا۔

زندہ قومیں اپنے محسنوں اور مسیحاؤں کے ساتھ عزت اور احسان کے ساتھ پیش آتی ہیں ۔چلڈرن ہسپتال ملتان میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعہ کی مکمّل غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور یکطرفہ اختتامی کاروائی کا شکار ہونے والے ڈاکٹر کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے ۔ اگر ڈاکٹر صاحب قصوروار ہیں تو انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے، لیکن اگر غلطی MPA صاحبہ کی ہے تو ان سے بھی جواب طلب کرنا چاہیے ۔یاد رکھیں، ایم پی اے ہونے اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں، کسی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *