“یہ لو خنجر! اور اڑا دو گردن اپنے قاتل کی۔ جس نے تم سے زندگی چھینی اس کی سانسیں چھین لو۔” معصوم ہاتھوں میں تلوار تھما دی گئی۔ اس نے ایک نظر ہاتھ میں پکڑے ہوئے خنجر پر ڈالی اور← مزید پڑھیے
”ٹھیک سے بیٹھو۔گھبرا کیوں رہی ہو؟ اور ہاں شیشہ نیچے کرو۔ تمہیں ٹھنڈی ہوا لگے۔“ اُس نے شیشہ آہستہ آہستہ نیچے کیا۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ سختی سے بھینچے ہونٹ یوں بند تھے جیسے کبھی نہیں کھُلیں گے۔← مزید پڑھیے
گیم ساری ہی اُلٹ چکی ہے۔دائیاں ہاتھ دکھا کر،بائیں ہاتھ سے تھپڑ مارا جارہا ہے۔بات سادہ اور عام فہم ہے،مگر شعور کی سطح ہر ایک کی مختلف ہے۔ ہاکستان اگر انڈیا سے احتیاط کرتا رہتا تو شاید کبھی اپنا دفاعی← مزید پڑھیے
ارطغرل اپنے قبیلے کے چھوٹے سے حصے کے ساتھ رقہ واپس جا رہا تھا‘ وہ اپنے بڑے بھائی سے معذرت کر کے دوبارہ قائی قبیلے کا حصہ بننا چاہتا تھا‘ ماں حیمہ بھی اس کے ساتھ تھی‘ یہ لوگ جب← مزید پڑھیے
کل تک سوشل میڈیا پہ اور گپ شپ کی محفلوں میں لوگ مذاقاً ایک دوسرے سے پوچھا کرتے تھے کہ”دکھاؤ ذرا، کدھر ہے کورونا” ؟ یا، کیا کسی نے آج تک کورونا کا کوئی مریض دیکھا ہے ؟ آج کل← مزید پڑھیے
استاد نے اپنی چادر جھاڑی، کئی یادیں نکل کر باہر آپڑیں۔ وہ ان یادوں کو وہیں چھوڑ دینا چاہتا تھا مگر یادیں بھاگ کر پھر واپس آجاتیں۔ اس نے سوچا یہ یادیں بھی کیا بومرنگ ہیں، جتنی زور سے دور← مزید پڑھیے
شندور پولو میچ کے بعد لنچ کا انتظام تھا ۔ میں نے سرٹیفیکیٹ سائین کیا تو میس حوالدار نے پرائم منسٹر بینظیر بھٹو کو سیلیوٹ کرکے لنچ تیار ہے کی دعوت دی ۔ شندور hut میں کھانے کے کمرے میں← مزید پڑھیے
رب مہرباں نے سن لی تمہاری اب تم کبھی ٹشو نہیں بیچو گی ! ان شاء اللہ ماشاء اللہ لا حول و لا قوہ الا بالا میری پیاری بچی گھر کے حالات نے تمہیں مجبور کر دیا تم ماما کا← مزید پڑھیے
سر ، آپ سب ہمارے لیے بہت ہی محترم اور قابلِ عزت بھائی ہیں، آپ سب سے بہت ہی ادب، احترام کے ساتھ یہ کہنے کی جسارت کرنا چاہوں گا ، کہ آپ لوگ اسلام آباد اور پنڈی کے رازوں← مزید پڑھیے
ان کا نام فقیر محمد ہے۔ آزاد کشمیر کے ایک دور دراز گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں ماسٹرز کرنے کے بعد یہ اپنے گاؤں کے چند پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہونے لگے۔ 2012ء میں میری← مزید پڑھیے
ستیہ پال آنند اردو کے صفِ اول کے نظم گو شاعرہیں جو گزشتہ نصف صدی سے مرغزارِ ادب کو لازوال نظموں سے آراستہ کرتے آر ہے ہیں۔ وہ ان چند اردو شاعروں میں سے ایک ہیں جو زود گوئی کے← مزید پڑھیے
ہم تو بچپن سے اپنے گھر میں سلیمانی چائے کا نام سنتے آئے ہیں۔ جب بھی گھر میں مچھلی کا سالن بنتا تھا تو اس دن شام کو سلیمانی چائے ہی بنتی تھی کہ مچھلی کے بعد چھ سے آٹھ← مزید پڑھیے
نسل ِ انسانی کو پہلی بار وبا کا سامنا نہیں۔ اس سے قبل بھی کئی ایک وبائیں مختلف ادوار میں دنیا کے ایک بڑے حصے کو متاثر کر چکی ہیں۔ علاج دریافت ہونے تک احتیاط ہی واحد راستہ تھا← مزید پڑھیے
پورے ملک میں بے یقینی کی کیفیت ہے۔ ہر طرف سے موت کی خبریں آرہی ہیں۔۔۔ کرونا کے گھنے ہوتے بادلوں کے نیچے محکوم انسانوں کے بےیارومددگار قافلے دربدر بھٹک رہے ہیں۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک سو پانچ← مزید پڑھیے
عید کے تیسرے دن میری ایک آنٹی جی، شیخوہ پورہ میں فوت ہو گئیں۔ شوگر کی مریضہ تھیں اور اسی سلسلے میں دو سال پہلے ڈاکٹرز نے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹ دی تھی کہ جو عضو، جسم پر← مزید پڑھیے
پاکستان جنوبی ایشیاء کا ترقی پذیر ملک ہے۔ ہمیں بہت سے سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہےجب ملکی معیشت میں وسعت اور آبادی میں اضافہ ہوتا ہے تویہ مسائل اور بھی سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔اگرچہ غیر سرکاری تنظیموں← مزید پڑھیے
سماجی سائنِس کا مطالعہ کیا جائے، تو ادب اور سماج کا رشتہ ایک اٹوٹ تعلق بن چکا ہے۔ جسے دوسرے الفاظ میں ترقی پسند ادب کہا جاتا ہے۔ ایسا ادب جو سماج میں محنت کشوں، دہکانوں اور مظلوموں کے حقوق← مزید پڑھیے
اللہ بھلا کرے کورونا وائرس کا جس نے بڑے بڑے پہلوانوں اور پھنے خانوں کو ایسا چت کردیا ہے کہ اگر ان میں ذرا سی بھی شرم ہوئی تو اب وہ قوم کے سامنے دوبارہ بڑکیں نہیں ماریں گے ۔← مزید پڑھیے
کل آئسکریم کھاتے ہوئے اپنے دھیان کے بے رنگ کینوس پر میں نے ایک نظم تمہارے لیے رنگ دی نظم رنگتے رنگتے نہ جانے کتنے مصرعے آسمان پر پینٹ ہوگئے سنا ہے تمہارے علاقے میں کرفیو لگا ہے انہی سوچوں← مزید پڑھیے
دو دن قبل رات ساڑھے دس بجے کسی کام سے کھاریاں شہر جانے کے لئے گھر سے نکلا ۔ جی ٹی روڈ سے ذرا پیچھے کینٹ کی حدود میں جہاں کبھی پہلی چیک پوسٹ ہوا کرتی تھی ایک بچی کو← مزید پڑھیے