یادوں کا بومرنگ۔۔عاطف ملک

استاد نے اپنی چادر جھاڑی، کئی یادیں نکل کر باہر آپڑیں۔ وہ ان یادوں کو وہیں چھوڑ دینا چاہتا تھا مگر یادیں بھاگ کر پھر واپس آجاتیں۔ اس نے سوچا یہ یادیں بھی کیا بومرنگ ہیں، جتنی زور سے دور پھینکو، اتنی تیزی سے واپس آجاتی ہیں۔ آسٹریلین مقامی لوگوں نے صدیوں پہلے لکڑی سے شکار کی خاطر یہ ہتھیار بنانا سیکھا تھا، ہوا میں گھومتا تیرتا جاتا ہے اور جانور کے سر پر لگتا ہے۔ کیا خوبصورت سادہ سا ہتھیار ہے، ایک خم دار لکڑی جس کی ایک سطح رگڑ کے ہموار کر دی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف کی سطح کو ایسے بنایا جاتا ہے کہ آہستہ سے ڈھلوان لیتی نیچے کو آتی ہے بعین جیسے کسی ہوائی جہاز کے پَر کی اوپری جانب ہوتی ہے۔ بیس ہزار سال کا ہتھیار آج کے جہاز کا جدامجد کہا جاسکتا ہے۔ ایروفوائل ہوا میں اٹھتی، گھومتی، تیرتی، بیٹھتی شکار کرتی یا بے آواز واپس کو لوٹتی۔

استاد نے سوچا یاد بھی بومرنگ کی طرح گھوم کر آتی ہے، بے آواز، ہوا میں تیرتی، دور جاتی نظر آتی اور پھر دائرے میں گھومتی واپس آجاتی ہے، بے آواز شکار کرتی، فرق صرف یہ ہے کہ یاد کا شکار کوئی اور نہیں بلکہ پھینکنے والا ہوتا ہے۔

پی آئی اے کا جہاز کراچی میں پچھلے ہفتے گرا اور مسافروں میں شامل جوان، خوب رو سکواڈرن لیڈر زین العارف خان کی تصویر سامنے آئی تو استاد کو تقریباً ایک دہائی قبل کا ایک نوعمر یاد آگیا جسے اس نے پڑھایا تھا۔ کالج آف ایروناٹیکل انجینئرنگ کے ایک کمرہ جماعت میں استاد کھڑا تھا اور سامنے تراشیدہ بالوں، شیو شدہ چہروں، چمک دار آنکھوں کے ساتھ بیس کے قریب کیڈٹس بیٹھے تھے۔ استاد جانتا تھا کہ یہ سب ایک سفر کی کڑی ہیں۔ سفر، جس کی ایک کڑی وہ خود بھی تھا کہ پندرہ سال قبل وہ بھی اسی طرح کسی رنگ اترتے ڈیسک کے سامنے بیٹھا تھا۔ انہیں طالبعلموں میں زین العارف بھی تھا، لمبا قد، ذہین چہرہ، نازک چشمے کا فریم لگائے وہ درمیان کی قطار میں بیٹھا تھا۔ استاد کا اس کورس سے تعلق رہا کہ اس نے دو تین مضامین اس جماعت کو پڑھائے۔ اس جماعت میں مختلف پس منظر سے آئے طالبعلم تھے جن کے اطوار مختلف تھے۔ استاد کی یاد میں زین ایک نرم گو، خوب اطوار کا ذہین طالبعلم تھا جو بڑوں کا احترام کرنا جانتا تھا۔ اس کا لہجہ کراچی کا تعلق بتاتا تھا، اور اس کا طرزِعمل نفاست کا رنگ دیتا تھا۔ استاد اور شاگرد اس مقام سے اپنے اپنے سفر کو چل نکلے۔ استاد سات سمندر پار ایک یونیورسٹی میں طالبعلموں کی ایک نئی نسل کو پڑھانے چل نکلا اور زین ایروناٹیکل انجینئرنگ مکمل کرکے اس سفر پر چل نکلا جس کا اختتام ماڈل کالونی کی ایک تنگ گلی میں ہوا۔ استاد کا ماڈل کالونی سے ایک تعلق رہا تھا، کسی زمانے میں ملیر کینٹ میں رہتا استاد ماڈل کالونی سے گذر کر آئی-بی-اے کے صدر کیمپس میں پڑھنے جاتا تھا۔ وہ دور ایک دہشت کا دور تھا کہ بوری بند مسخ شدہ لاشیں روشنیوں کے شہر میں گمنام ملتی تھیں۔ ماڈل کالونی کی ایک گلی میں استاد کے موٹر سائیکل کو جب روکا گیا تھا، تو دہشت اس کے جسم میں برق کی مانند گذری تھی۔ وہی گلی یا اُس کے آس پاس کی کسی گلی میں پی-آئی-اے کے گرتےجہاز کے مسافروں میں بھی در آئی دہشت کچھ ویسی ہی ہوگی۔

انٹرنیٹ پر استاد کی نظر سے زین العارف کا سبز پرچم میں لپٹا تابوت گذرا اور ایک یاد گھوم کر استاد کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ استاد ایروناٹیکل انجینئر تھا اور اس کا چھوٹا بھائی پائلٹ تھا۔ آج سے اکیس سال قبل استاد نے اپنے بھائی کا پرچم میں لپٹا تابوت سپرد خاک کیا تھا، تابوت، بند تابوت جو سبز پرچم میں لپٹا تھا۔ تابوت جس کے تمام تختے کیلوں سے ٹھکے تھے اور اسے ایک وردی پہنے دستہ اٹھائے لایا تھا۔ گھر کے صحن میں ایک چارپائی پر وہ تابوت آدھے گھنٹے کے لیے رکھا گیا کہ ماں اور بہن اس تابوت پر ہاتھ پھیر لیں کہ یہی انکا اپنے پیارے کو خداحافظ ہوگا۔ رخصت ہوتے کا چہرہ نہیں دیکھا جاسکتا تھا، ماں اُس کے ماتھے کو چوم کر الوداع نہیں کہہ سکتی تھی، بہن آخری دفعہ نظر بھر کر بھائی کے چہرے کو محفوظ نہیں کرسکتی تھی، بڑا بھائی چھوٹے بھائی کی لاش سے بغلگیر نہیں ہوسکتا تھا کہ اڑتے جہاز زمین پر آئیں تو چہرے، ماتھے، جسم سب اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں۔

پرچم میں لپٹا تابوت بند پارسل کی مانند تھا، گھر پر ڈلیور کیا گیا اور آدھے گھنٹے بعد اگلی منزل کی جانب لے جایا گیا۔ قبرستان میں لیفٹیننٹ ضرار کو فوجی اعزاز سے دفن کیا گیا۔ ” دستہ ہوشیار، دستہ سلام فنگ، دستہ فائر”۔

اگلے ہفتے استاد اپنے بھائی کا ذاتی سامان لینے کراچی عازم سفر ہوا۔ شہید کا آفیسرز میس کے بی-او-کیوز [بیچلزر آفیسزر کواٹرز] کا کمرہ مقفل کردیا گیا تھا۔ استاد نے درخواست کی کہ وہ گیسٹ روم میں نہیں ٹھہرے گا، وہ اسی کمرے میں ٹھہرنا چاہتا ہے جہاں سے اُس کا چھوٹا بھائی اس صبح تیار ہو کر ہوابازی کے لیے گیا تھا۔ وہ صبح جو اس دوپہر میں ڈھلی جب اس کے بھائی کے اٹلانٹک جہاز کو بھارتی جنگی جہازوں نے میزائل مار کر تباہ کیا تھا۔ استاد کو کہا گیا کہ وہ یہ نہ کرے۔ استاد نے کہا کہ وہ ایک بند تابوت کو دفنا کر ایک لمبا سفر کرکے آیا ہے۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی کا چہرہ نہیں دیکھ سکا، وہ آج رات اُس بستر پر سونا چاہتا ہے جس پر اس کے بھائی نے اپنی زندگی کی آخری رات بسر کی تھی، شاید یہ چہرہ نہ دیکھنے کی تلافی ہو۔
وہ بند کمرہ استاد کے لیے کھول دیا گیا۔
استاد نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسے اکیلا چھوڑ دیا جائے۔

کمرے میں زمین پر گدا بچھا تھا کہ رزقِ خاک ہونے والے نے پہلے ہی بستر زمین پر کرلیا تھا۔ ایک طرف دروازے کی کھونٹی پر پائلٹ کا استری شدہ یونیفارم لٹکا تھا، پالش سے چمکتا جوتوں کا جوڑا ساتھ رکھا ہوا تھا۔ میز پر فریم شدہ والدہ کی تصویر رکھی تھی، جس کے ساتھ رخصت ہونے والے کی یونیفارم میں تصویر مسکرا رہی تھی۔ میز پر پرفیومز کی بوتلیں ترتیب سے لگی تھیں۔ الماری میں کپڑے تہہ شدہ پڑے تھے۔ کمرے کے اٹیچڈ باتھ میں ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ ایک شیشے کے گلاس میں رکھے تھے، دھلا تولیہ سٹینڈ پرلٹک رہا تھا۔ شیو کا سامان بے ترتیب پڑا تھا کہ جانے والا جلدی میں گیا تھا۔ استاد نے بیسن پر لگے شیشے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ اس کی آنکھیں تھکی تھیں، کئی رات کی جاگی، گہری تھکی مگر وہ آنکھیں اُس شیشے میں ایک دوسرے چہرے کی دھندلی تصویر دیکھ سکتی تھیں۔ وہ چہرہ جس نے اس شیشے میں استاد سے قبل اپنا چہرہ دیکھا تھا۔ ایک چہرے کا عکس ابھی کہیں باقی تھا، ہلکا سا باقی، گرد ہوتا ہوا عکس جو شاید کچھ عرصے میں باقی لوگوں کے لیے ختم ہوجائے مگر استاد کی گہری تھکی آنکھوں میں وہ ہمیشہ کے لیے چھاپ چھوڑ جائے گا۔ استاد نے وہ رات اس زمین پر بچھے گدے پر گذاری جس میں ابھی بھی جانے والے کی خوشبو اور گرمائش موجود تھی۔ وہ عجب رات تھی، سوتے جاگتے گذرتی رات، محسوس ہوتا کہ کوئی کمرے میں موجود ہے، شاید کوئی ابھی دروازہ کھول کر آجائے، شاید دروازے کے باہر کسی کے قدموں کی آواز ہے، شاید کچھ ہے یا شاید کچھ بھی نہیں، شاید کچھ باقی ہے یا شاید کچھ بھی باقی نہیں۔ کئی موقع پراستاد کو لگا کہ کمرہ زندہ ہے، سانس لیتا، سرگوشی کرتا، ابھی جانے والا آجائے گا۔ اس رات کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ کیا کوئی اُس رات کو کوئی بیان کرے، ایک بڑے بھائی نے اپنے لحاظ سے چھوٹے بھائی کو خدا حافظ کہا، ایسے کہ ایک گمنام سی آس بھی ساتھ تھی۔ جب جانے والے کا چہرہ نہ دیکھا ہو تو انسان ایک آس میں جیتا ہے؛ شاید سب جھوٹ ہو، شاید خواب ہو، شاید کوئی معجزہ ہوگیا ہو، شاید، شاید، اور شاید۔

صبح استاد کو بھائی کا سامان دیتے ایک افسر نے ایک طرف اکیلے میں بلایا اور کہا کہ آپ کے لیے میرے پاس کچھ ہے۔ افسر نے ہاتھ بڑھایا، استاد نے دیکھا کہ دینے والے کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ادھ جلا چمڑے کا بٹوہ تھا۔ کانپتی آواز میں اس نے کہا کہ یہ آپ کے لیے ایک نشانی ہے، ایک نشانی جو آخری وقت میں جانے والے کے ساتھ تھی۔ استاد نے بٹوے کو پکڑا اور کھولے بغیر جیب میں ڈال لیا۔ یہ عام چیز نہ تھی، یہ اُس لمحے کی شاہد تھی جب جہاز آگ کے جلتے گولے میں تبدیل ہوا تھا اور جہاز کے ساتھ ساتھ سولہ انسانی جانیں بھی اگلے سفر پر روانہ ہو گئی تھیں۔ استاد اس نشانی کو اکیلے میں کھولے گا۔

استاد اس بٹوے کو کھولنا بھی چاہتا تھا اور نہیں بھی کھولنا چاہتا تھا۔ بٹوہ جو سرکریک کی دلدلی زمین پر جہاز کے باقی بکھرے ٹکڑوں کے ساتھ بے نام پڑا تھا۔ بے نام، مگر یہ بٹوہ بے نام نہ تھا کہ اُس کے اوپر کسی تحفے کے طور پر جانے والے کا نام کنداں تھا، لیفٹیننٹ ضرار احمد۔ استاد کو پتہ تھا کہ دلدلی زمین پر سے اٹھائے جانے والی چیزیں بھی دلدل ہوتی ہیں، آدمی پھر ان میں دھنسا ہی رہتا ہے، چاہے جتنی مرضی کوشش کرلو نہیں نکل سکتا، یاد کا دلدل صرف آنکھ بند ہونے پر ہی رہائی دیتا ہے۔

استاد نے برآون بٹوے کی سطح کو دیکھا، وہ ایک طرف سےایسے جل چکا تھا کہ چمڑے میں سوراخ ہوگیا تھا، ایک بے قاعدہ سا سوراخ جس کے کنارے جل کر سوکھ چکے تھے۔ وہ سوراخ بٹوے میں جھانک رہا تھا جیسے استاد کے لیے وہ بٹوہ فنا کے ایک لمحے کی جھانک تھا۔ استاد نے بٹوے کو کھولا، بٹوے کے پچھلے بڑے خانے میں کچھ کرنسی نوٹ ادھ جلے تھے۔ بٹوہ کھولنے کے بعد دائیں طرف کے خانے میں کچھ سکے پڑے تھے۔ استاد نے ہاتھ بڑھا کر وہ سکے نکالے،سکوں کی ساخت بدل چکی تھی، وہ حرارت کے باعث پگھل چکے تھے۔ استاد کی انگلیوں کی پوریں جلنے لگی تھیں۔ استاد کو اُس لمحہِ نامعلوم کا احساس ہورہا تھا کہ جس کے بعد تابوت پوری طرح بند ہوتے ہیں، ہر جانب سے تختے مضبوط کیلوں سے ٹھک جاتے ہیں، مضبوطی کے ساتھ ٹھکے ہوئے کہ بند تابوتوں کو کھولنے سے کچھ نہیں ملتا۔ بائیں جانب بٹوے کے خانے میں پاسپورٹ تصاویر تھیں۔ سب سے اوپر والدہ کی تصویر تھی، والدہ جس نے اپنی زندگی اپنے بچوں پر تج کردی تھی۔ شہید کی والدہ بچپن میں جل گئی تھیں، جس سے ان کے دونوں ہاتھوں کی ایک ایک انگلی ضائع ہو گئی تھی اور چہرے پر نشان رہ گئے تھے، مگر بیٹے کے ادھ جلے بٹوے میں ماں کی تصویر نہ جلی تھی۔ استاد نے کبھی ماں کو بیٹے کی اس ادھ جلے بٹوے کی نشانی کا نہ بتایا، وہ کبھی یہ ہمت نہ کر پایا۔ اب جب ماں جی رخصت ہو گئی ہیں تو اس نے تحریر لکھنے کی ہمت کی ہے۔

ماں جی کی تصویر کو بٹوے سے ہٹایا تو نیچے بڑے بھائی کی تصویر تھی۔ یہ متوسط طبقہ بھی بڑا چھوت چھات کا مارا ہوتا ہے، یہاں گھر میں سکھایا جاتا ہے کہ بڑا بھائی باپ کی مانند ہوتا ہے۔ بڑے بھائی کا احترام ایک جھجک  پیدا کر دیتا ہے۔ یہاں بڑے بھائی کے سامنے سگریٹ نہیں پی جاسکتی، اونچی آواز میں بات نہیں کی جاتی، اس کے ہاتھ سے سامان کا تھیلا پکڑ لیا جاتا ہے، مگر اپنے بٹوے میں بڑے بھائی کی تصویر بھی نہیں رکھی جاتی۔ استاد نے سوچا، یہ چھوٹا بھائی بھی عجب تھا، خداحافظ کیے بغیر چلا گیا مگر تصویر ساتھ رکھے تھا۔ جانے والا پریکٹیکل آدمی تھا، باتیں نہ بناتا تھا، عمل پر یقین رکھتا تھا۔ محنت کار تھا، ہاتھ سے کام کرتا۔ اس کے جانے کے بعد ماں ہمیشہ یاد کرتی تھی کہ گھر کے صحن میں یہ پودا، یہ درخت اُس کے ہاتھ کا لگا تھا۔ استاد نے اپنی اور اپنے والدین کی زندگی پر نظر ڈالی، جانے والے کے بعد انکی زندگی کی سمت ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔

یاد کا ایک اور بومرنگ گھوم کر استاد کے سامنے آگیا۔ اکتوبر 2005 کا پہلا ہفتہ سمسٹر کے آغاز کا بھی پہلا ہفتہ تھا۔ استاد کو آخری سال کی کلاس کو پڑھانے کے لیے نیا کورس ملا تھا، شاید منگل یا بدھ کا دن تھا کہ استاد کالج آف ایروناٹیکل انجینئرنگ میں جماعت کے سامنے کھڑا ہوا۔ عام طور پر یونیورسٹیوں میں ہر جماعت کا ایک نمائندہ ہوتا ہے جو اساتذہ اور انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کار کا فریضہ انجام دیتا ہے، مختلف یونیورسٹیوں میں اسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، کہیں کلاس ریپریزنٹیٹیو، جسے مختصراً سی-آر کہتے ہیں، کہیں یہ سینئر مین کہلاتا ہے۔ استاد باقی استادوں سے فرق تھا، وہ اپنے مضمون کے لیے خود رابطہ کار چنتا تھا۔ اس نے کلاس سے پوچھا کہ جماعت میں سب سے زیادہ گریڈ کس کا ہے؟ ایسے سوال پر عام طور دوسرے طلبا نام لیتے ہیں، لائق طالبعلم خاموش ہی رہتا ہے کہ عموماً “ہے جادۂ حیات میں ہر تیز پا خموش”۔ ایک جانب بیٹھے طفیل عزیز کی جانب اشارہ کیا گیا۔ استاد نے اپنے مضمون کے لیے اُسے رابطہ کار کا فریضہ سونپا اور بتایا کہ اس کی کیا ذمہ داریاں ہوں گی۔ وہ ہفتہ لانگ ویک اینڈ بنتا تھا سو جمعہ سات اکتوبر کو لوگ اپنے اپنے گھروں کو عازم سفر ہوئے۔ استاد بھی رسالپور سے اسلام آباد آگیا۔ ہفتہ آٹھ اکتوبر کی صبح 9 بجے وہ زلزلہ آیا کہ استاد کی رہائش کے قریب ایف- دس میں مارگلہ ٹاور گر گیا اور کئی رہائشی جابحق ہوئے۔ شام تک معاملہ واضح ہوا کہ زلزلے کا مرکز آزاد کشمیر میں مظفر آباد تھا اور بڑے پیمانے پر تباہی اور اموات واقع ہوئی ہیں۔ استاد پیر کو واپس کالج پہنچا تو پتہ لگا کہ طفیل اپنے گھر مظفر آباد گیا تھا اور زلزلے میں مالک حقیقی سے جاملا ہے۔ استاد نے چادر کو کس کر اپنے گرد لپیٹا تو یہ جوان سال موت بھی ہمیشہ کے لیے ساتھ بندھ گئی۔

استاد کی یاد میں ایک اوراضطراب بھی ہے۔ یونیورسٹیوں میں طالبعلم اپنے گھر چھوڑ کر مختلف جگہوں سے آتے ہیں۔ استاد اسے ہجرت کہتا ہے، اور ہجرت کچھ کو کم اور کچھ کو زیادہ مضطرب کر دیتی ہے۔ استاد کی کلاس میں وہ ایک مضطرب تھا جو ڈیرہ اسمعیل خان سے آیا تھا۔ استاد کو علم نہ تھا کہ اس کے سوال، اس کی تیزی اس لیے تھی کہ اُس کے پاس وقت کم تھا۔ کالج میں چھٹیاں ہوئیں تو وہ کرائے کی گاڑی میں ڈیرہ اسمعیل خان کو جارہا تھا کہ ایک بڑے ٹرک کو کراس کرتے کنٹینر اس کی کار پر گر گیا۔ چار نوعمر جو مل کر اس کرائے کی گاڑی کا کرایہ اٹھا رہے تھے، اگلے جہاں کو اٹھ گئے۔ استاد کی چادر میں ایک درد کا پیوند اورلگ گیا۔

ضرار، زین العارف، طفیل، مدثر اور کئی اور، استاد کئی شہیدوں کا جانتا ہے۔ انکوائریاں ہورہی ہیں، ہوتی رہی ہیں، ہوتی رہیں گی مگر اس سے قطع نظر شہادت کا سرٹیفکیٹ بلا معاوضہ فوراً مل جاتا ہے۔ ہاں، سیکشن سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے رشوت دینا ہوتی ہے۔ استاد نے غمزدہ ماں باپ کے ساتھ جج کے سامنے پیشی دی۔ یہ غم کا ایک بڑا امتحان ہے، جوان سال موت کے بعد بیٹے کی بچت، بنک اکاونٹ سب کے لیے سامنے آکر بیان دینا پڑتا ہے، نہ چاہتے، بادل نخواستہ، روتے دل کے ساتھ، مگر کیا کریں قانون قانون ہے۔ سیکسشن سرٹیفکیٹ نہیں بنا، آبجکشن کے لیے بڑے قانونی نکتے ہیں۔ کچہری کے اہل کار کے نزدیک استاد قابلِ احترام تھا کہ شہید کا بھائی تھا، اس کا بڑا درجہ تھا۔ شہید کا سکسیشن سرٹیفکیٹ فوراً بننا چاہئیے کہ اس نے ملک وقوم کے لیے جان دی ہے، مگر دیکھیئے کچہری کے نظام کی مجبوری ہے، خرچہ پانی کرنا پڑے گا۔ استاد کے ذہن میں پچھلی پیشی پر ماں باپ کے غمزدہ چہرے تھے۔ اس نے غمزدہ چہروں کے بارے میں سوچا، انہیں دوبارہ جج کے سامنے بیان دینے کی اذیت سے گذرنے کا خیال کیا اور پیسے پکڑاتے اللہ سے “الراشی و المرتشی کلا ھما فن نار” کی صف میں کھڑے ہونے کی معافی مانگی۔

استاد کی یاد کے ساتھ سائنس آمل کھڑی ہوئی۔ استاد کی پی-ایچ-ڈی کا موضوع ملٹی ریزولوشن انیلیسس تھا۔ چیزوں کو موقع کی مناسبت سے مختلف پیمانے پر دیکھا جاتا ہے، سکیل بدلتا رہتا ہے، کہیں مائکرو میٹر کی پیمائش ہے اور کہیں شمسی سالوں کا ناپ ہے۔ استاد کو خیال آیا کہ اخبار کی خبر کیسی سرسری اہمیت رکھتی ہے،” ایک سائیکل سوار کار کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا”۔ عام سی خبر ہے، ہوتا رہتا ہے، اخبار ایسی خبروں سے بھرا پڑا ہے، یہ تو آج کے زبان نکالے پیاسے میڈیا کے دور میں بریکنگ نیوز بھی نہیں بنتی۔ مگر ایک دوسرے پیمانے پر سائیکل سوار کے گھر والوں کی زندگی اس لمحے کے بعد کبھی ویسی نہ رہے گی؛ بیوی کا سہاگ لٹ گیا، بچوں کا باپ چلا گیا۔ سائیکل چلاتا تھا مگر تھا تو سہی۔ کاش کہ وہ جو ذمہ دار ہیں ملٹی ریزولوشن انیلیسس کر سکیں کہ ایک سکیل پر یہ ناقابل تلافی نقصان ہے۔ استاد نے اعداد وشمار ڈھونڈا تو دیکھا کہ ہر ماہ پاکستان میں چار سو سے زیادہ لوگ ٹریفک حادثات میں مرتے ہیں، یہ ہر روز کے چودہ لوگ اور خاندان بنتے ہیں[1]۔
جہاز ایسے تواتر سے نہ گرتے اگر ریگولیٹری محکمہ اپنا کام کررہا ہوتا۔ ٹریفک کے حادثات کا یہ تسلسل نہ ہوتا اگر ٹریفک انجینئرنگ، ٹریفک پولیس اور سڑکوں کا محکمہ اپنا کام کررہا ہوتا، کمرشل گاڑیوں کے ٹھیک ہونے کی چیکنگ پر معمور محکمہ اپنا کام کررہا ہوتا۔ سب نہ سہی مگر بہت سے افراد ان محکموں میں وقت گذارنے اور پیسہ کمانے جاتے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی سربراہی ایسی عمومی سمجھی جاتی ہے کہ کسی ماہر کی بجائے ریٹائرڈ کو نوازنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے یا وہ جو کسی وجہ سے اپنے ہاں بیکار ہو جائے۔ ریگولیٹری محکمے کی تاریخ پر نظر ڈالیں، کوئی لوٹ کا بازار لگا کر بھاگا، کوئی حبِ جاہ کا اتنا مارا تھا کہ ماتحتوں کی ایک تعداد نے دستخط کر کے دہائی دی کہ اس کا ذہنی معائنہ کروایا جائے۔ ایک حبِ شہوت کے مارے کے بارے میں جاننے والے جانتے ہیں کہ کسی قحبہ خانے پر پولیس چھاپے میں گرفت میں آیا۔ اب اپنے ہاں ٹھہرنے کی گنجائش نہ رہی تھی، کند ہم جنسوں نے نکالے جانے کی بجائے ڈیپوٹیشن پر آگے بھجوادیا کہ جھپٹنے پلٹنے کا موقع چلتا رہے۔

انکوائریاں ہوتی رہیں گی، شہادت کے سرٹیفکیٹ بلامعاوضہ بٹتے رہیں گے۔ جہاز ہوں یا ٹریفک، ہسپتال ہوں یا پولیس سٹیشن، کچہری ہو یا تعلیم، سسٹم پر کام کریں۔ ملٹی ریزولوشن کو سمجھیے، کسی وقت اور مقام پر بے مقام ہی سب اہمیت رکھتا ہے۔ کسی پرانی سائیکل پر پھٹے پرانے کپڑے پہنے عامی کو بھی سرسری پیمانے پر نہ لیں، وہ ایک پیمانے پر کچھ کے لیے اس دنیا میں سب کچھ ہے۔

Reference 1: http://www.pbs.gov.pk/content/traffic-accidents-monthly

عاطف ملک
عاطف ملک
عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل ، موسیقی اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے، اور آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں۔ یہ تحاریر ان کے ذاتی بلاگ پر بھی پڑھی جاسکتی ہیں www.aatifmalikk.blogspot.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *