• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا بینظیربھٹو کے کھانے میں واقعی زہر ڈالا گیا تھا؟۔۔بریگیڈئیر بشیر آرائیں

کیا بینظیربھٹو کے کھانے میں واقعی زہر ڈالا گیا تھا؟۔۔بریگیڈئیر بشیر آرائیں

شندور پولو میچ کے بعد لنچ کا انتظام تھا ۔ میں نے سرٹیفیکیٹ سائین کیا تو میس حوالدار نے پرائم منسٹر بینظیر بھٹو کو سیلیوٹ کرکے لنچ تیار ہے کی دعوت دی ۔ شندور hut میں کھانے کے کمرے میں صرف 8 کرسیاں لگ سکتی تھیں ۔ پرائم منسٹر اور آصف علی زرداری کے علاوہ صرف 4 مہمان اندر آسکتے تھے کیونکہ میجر جنرل غازی الدین رانا اور کرنل مراد خان نیر نے میزبان ہونے کے ناطے ڈائننگ ٹیبل پر ہونا تھا ۔ میں میس سیکریٹری تھا اور انتظامات دیکھنے کو کمرے میں موجود تھا ۔ اس دن بی بی کو قریب سے دیکھا ۔ سادگی اور خوبصورتی کا پیکر تھیں۔

ڈاننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہی بینظیر بھٹو نے مجھے اشارے سے فوٹوگرافر کو کمرے سے باہر نکالنے کو کہا ۔ کھانا شروع ہونے لگا تو بی بی کا ساتھ آیا ہوا ٹفن بھی کھل گیا اور انہوں نے صرف وہی کھایا ۔ اب چترال سکاؤٹس میس کی سویٹ ڈش چینی سے بنی باسکٹ میں پیش ہوئی ۔ بی بی نے ڈش کو حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے دیکھا ۔ ڈش کی شکل و صورت کی تعریف کرکے کرنل مراد سے پوچھا یہ کون بناتا ہے ۔ کرنل مراد نے کہا ہمارا باورچی ہے جسے ہم نانی کہتے ہیں ۔ بی بی نے کہا اسے بلوائیے ۔ ڈش بی بی کے سامنے پڑی رہی ۔ نہ کسی کو پیش ہوئی نہ کسی نے کھائی ۔ کرنل مراد نے مجھے اشارے سے سمجھایا کہ اسے گندے لباس میں مت لانا اور کہا اسے وردی میں لانا۔ میں فورا باہر نکل گیا ۔

65 سالہ باورچی عرف نانی پچھلے 45 سال سے چترال آفیسرز میس میں تھا ۔ وہ ریٹائر ہو گیا تھا مگر اسے کوئی جانے نہ دیتا ۔ تنخواہ بڑھا کر رکھ لیتے ۔ ایک طرف وہ انتہائی سرچڑھا اور کسی کی بات نہیں سنتا تھا ۔ کرنل مراد بھی کچھ کہتے تو اسکا جواب ہوتا مجھے نکال دو ۔ دوسری طرف جونیر سے جونیر افسر کا بھی آدھی رات تک انتظار کرتا اور کھانا کھلائے بغیر نہ سوتا ۔ بس کپڑے ہفتے بعد بھی بدلنے پر اسے موت پڑتی ۔ دیکھنے میں گندہ لگتا تھا ۔ مگر ماہر باورچی تھا ۔

میں نے جلدی سے نانی کے گندے کپڑے بدلوائے اور وردی والی کالی شلوار قمیض پہنوا کر بی بی کے پاس کمرے میں لے آیا ۔ بی بی نے ڈش کی تعریف کرکے کہا کہ تم میرے گھر اسلام آباد چل کر میرے باورچی کو سکھا دو ۔ اس کے جواب سے پہلے ہی کرنل مراد نے مجھ سے کہا ڈاکٹر اسے ضرورت کی چیزیں دو اور ہیلی کاپٹر میں پہلے سے بٹھادو ۔ آصف زرداری نے لقمہ دیا سب کچھ مل جائیگا کچھ ساتھ نہ لے۔

نانی کو میں اور ایک سکیورٹی افسر جلدی جلدی ایک ہیلی کاپٹر کی طرف لے جا رہے تھے تو میلے میں آئے ہزاروں لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔ آدھ گھنٹے بعد سب مہمانوں کے ہیلی کاپٹرز اڑ گئے ۔ میجر جنرل غازی IGFC بھی چلے گئے تو ہم آرام سے بیٹھ گئے ۔ کچھ دیر بعد ہیڈکوارٹر کا صوبیدار میجر فاروق جان پریشانی میں ہانپتا کانپتا ہم تک آیا ۔ کرنل مراد کے کان میں کچھ کہا تو کرنل مراد ہنستے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ مجھے ساتھ لیکر Hut سے ذرا دور آکر اس سے دوبارہ پوچھا کہ اب بتاؤ۔ وہ کہنے لگا سر لوگ کہہ رہے ہیں وزیراعظم کے کھانے میں نانی سے زہر ملوایا گیا تھا اور اب اسے گرفتار کرکے اسلام آباد لے جایا گیا ہے ۔ وہ بار بار کہتا سر اب کیا ہوگا ۔ کرنل مراد نے مجھ سے کہا کہ اصل بات IGFC اور ہم دونوں کو پتہ ہے ۔ تم چپ رہو گے اور افواہ کی طاقت دیکھو گے ۔

چترال کے لوگ بی بی کو پوجنے کی حد تک پسند کرتے تھے ۔ خبر جنگل کی آگ کی طرح ساری وادی میں پھیل گئی ۔ لوگ نانی کے لئے دعا کرتے مگر کسی میں جرات نہ تھی کہ کوئی کرنل مراد خان نیر سے براہ راست پوچھے کہ کیا ہوا ہے ۔ مجھ سے لوگوں نے پوچھا بھی تو میں نے کہہ دیا مجھے کچھ معلوم نہیں ۔

آٹھ دن بعد مجھے حکم صادر ہوا کہ صبح چترال ائیر پورٹ سے نانی کو چپ چاپ جیپ میں بٹھا کر لے آؤ ۔ نانی تو ایسے لگ رہا تھا جیسے دوبئی سے شاپنگ کرکے آیا ہو ۔ اتنی خوشی شاید اسے حج کی نہ ہوتی جتنی بینظیر بھٹو کے گھر رہنے کی تھی ۔ بی بی نے اسے اسکے گھر والوں کے لئے تحفے تحائف ۔ نقد انعام اور شاباش سے لاد کر بھیجا ۔ شام کو دروش افسر میس کے لان میں اسٹوک (چترالی ڈانس) کے ساتھ نانی وہی سویٹ ڈش لیکر نمودار ہوا تو پنڈال میں بیٹھے لوگ ہکا بکا رہ گئے اور نانی تھک جانے تک ناچتا رہا ۔

پھر جب تک کرنل مراد خان نیر زندہ رہے نانی سے بی بی کے گھر رہنے کے قصے دوبارہ سنانے کو کہتے اور نانی تھا کہ ایک ہی بات بیسویں دفعہ اسی طرح خوشی سے سناتا ۔ کبھی کبھی کرنل مراد مجھ سے کہتے اللہ نہ کرے ہماری یونٹ میں بی بی کے لئے کوئی ایسا سوچے لیکن اگر افواہ سچ ہوتی تو ہمارا کیا بنتا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *