میری بیٹی۔۔عامر عثمان عادل

رب مہرباں نے سن لی تمہاری
اب تم کبھی ٹشو نہیں بیچو گی !
ان شاء اللہ ماشاء اللہ لا حول و لا قوہ الا بالا
میری پیاری بچی
گھر کے حالات نے تمہیں مجبور کر دیا تم ماما کا ہاتھ بٹانے سڑک پہ نکل آئیں
جن نازک ہاتھوں میں گڑیا ہونا تھی ان میں ٹشو پیپر کے پیکٹس تھے ۔ جن آنکھوں میں خوبصورت خوابوں کو سجنا تھا وہاں حسرتوں کا بسیرا تھا
کبھی عجوہ کے سامنے تھک ہار کر بیٹھ جاتیں کبھی پیزا ہٹ کی دیوار سے لگی گارڈ کی جھڑکیاں سہتی ،کبھی KFC کے لان میں اپنی ہم عمر بچیوں کو ہزاروں کے برگرز تھامے دیکھتی رہ جاتی۔۔
رات گئے مزدوری کر کے گھر پہنچتی تو کتنا تھک چکی ہوتی تھی ناں
یاد ہے تمہارے ہاتھ میں ڈیجیٹیل تسبیح تھی، جس پر تم سبحان اللہ کا ورد کرتی رہتی تھیں
تو میری بچی
یہ کیسے ممکن تھا کہ تم اپنے سوہنے رب کا ذکر کرتی اور وہ تمہیں یاد نہ رکھتا
لو پھر اس نے تمہاری سن لی
تمہارے معصوم جذبے اس کی بارگاہ میں شرف قبولیت پا چکے
اس نے اپنے بندوں کے دل میں تمہاری محبت بیدار کر کے تمہارا نگہبان مقرر کر دیا
دیکھو پوری دنیا سے تمہارے انکل ، بھائی تمہارے لئے تڑپ اٹھے ہیں
امریکہ اٹلی سے تین انکلز نے تو تمہارے پورے گھرانے کی مستقل کفالت کا ذمہ اٹھا لیا ہے
جس کی پہلی قسط آج تمہاری ماما نے بینک سے وصول کر لی ہے
آج ان پیسوں سے تمہارے گھر کا کرایہ بھی ادا ہو گیا اور مہینے بھر کا راشن بھی خرید لیا گیا
باقی بہت سے انکلز نے تمہارے گھر والوں کے لئے بہت سے پیسے بھجوا دئیے ہیں
پتہ ہے کیوں ؟
ان سب کا بس یہ کہنا ہے
ہمارے ہوتے ہماری بیٹی سڑک پہ کیوں جا ئے؟
میری بیٹی !
اب تمہیں پڑھنا ہے بس
گڑیا سے کھیلنا ہے
تمہارے رب نے تمہارے طفیل تمہاری بہادر ماں کی بھی تو سن لی
اب اسی رب کے کرم سے تم چھوٹے بہن بھائی  سکول جایا کرو گے
تمہاری بڑی بہنیں ہنر سیکھیں گی عزت سے پیا دیس سدھاریں گی
میری گڑیا !
تمہیں نئی زندگی مبارک ہو
رب تمہارے نصیب روشن کرے
صد شکر یا رب العالمین!

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *