کھلا خط ۔ انصافی صحافیوں کے نام۔۔عامر کاکازئی

SHOPPING

سر ، آپ سب ہمارے لیے بہت ہی محترم اور قابلِ عزت بھائی ہیں، آپ سب سے بہت ہی ادب، احترام کے ساتھ  یہ کہنے کی جسارت کرنا چاہوں گا ، کہ آپ لوگ اسلام آباد اور پنڈی کے رازوں کے امین ہیں، ادھر جب بھی کوئی سازش پنپتی ہے، سب سے پہلے اس سازش کا آپ کو پتہ چلتا ہے۔ اسی طرح “اُن” کی سازشوں کا علم بھی پہلے آپ کو ہی ہوتا ہو گا۔ مگر جب دھرنا ترتیب دیا جا رہا تھا تو کیا اس بات کا آپ کو پتہ نہیں چلا کہ کون یہ سازشیں کر رہا ہے؟ کیا قادری جیسے شیطان کو لانے والوں کا بھی آپ سب کو پتہ نہیں تھا؟ دھرنے کے دوران حکومت پاکستان کی بلڈنگوں پر حملوں کا بھی آپ کو پتہ نہیں چلا؟ کیا دھرنے کے دوران سول نافرمانی کے اعلانات کا پتہ نہیں چلا؟سر پنڈی اسلام اباد کے بچے بچے کو پتہ تھا کہ سیور فوڈ اسلام آباد سے دھرنے والوں کے لیے کون کھانا بھیجتا تھا۔مگر آپ سب بے خبر تھے۔ سر جی ہم نے ان دھرنوں میں آپ سب کو بھی سٹیج پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، نعرے لگاتے دیکھا تھا۔ تو سر جی کیا اس وقت پتہ نہیں چلا ان سب باتوں کا؟ باوجود اتنے وسائل ہونے کے؟

کیا اس بات کو آپ نے اُس وقت نہیں سوچا کہ دھرنے  کا وہ وقت کیوں چنا گیا جب چین کے وزیراعظم نے آ کر سی پیک کے ایگریمنٹ پر سائین کرنے تھے؟ جب جب سی پیک پر کوئی ترقی ہوتی تب تب فسادی ایک دم سے اسلام اباد آ کر اس شہر کا گھیراؤ کر لیتے۔ سر جی کیا آپ کو یہ نہیں پتہ چل سکا کہ 2017 میں فیض  آباد میں کس کے حکم پر  آ کر ایک شر انگیز نے ملک کو مفلوج کیا؟ کیا پختون خوا کے پانچ بدترین سال بھی آپ کو یہ نہیں بتا سکے کہ تحریک انصاف کی حکومت ایک نااہل حکومت ہے؟ (دوسری بار الیکٹ کرنے کا دوش ہمیں نہ دیجیے گا کہ دوسری بار سیلیکشن تھی نہ کہ الیکشن)

مصنف:عامر کاکازئی

مگر شاید کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ دنیا کی سب سے تیز چھری کا نام “عقیدت” ہے جو انسان کی عقل و خرد کی شہ رگ کاٹ ڈالتی ہے۔ آپ سب محترم بھائی بھی اسی عقیدت میں مبتلا تھے۔

دوسری طرف آپ سب دو پارٹیز کی نفرت میں اس حد تک اندھے اور ضدی ہو گئے  کہ اچھے بُرے کی تمیز کھو بیٹھے ۔ مگر اب جب آپ کی نفرت شرمندگی میں تبدیل ہو رہی ہے تو اس تبدیلی کے درد کو برداشت کرنا شاید مشکل ہو رہا ہے۔

شیکسپئرکا کہنا ہے کہ ہم ان سے نفرت کرتے ہیں جن کی اچھی کارکردگی سے ڈر لگتا ہو۔

ہمارے بہت ہی محترم انصافی صحافی بھائیوں، ترقی ہمیشہ ارتقائی عمل سے ہوتی ہے نہ کہ انقلابی عمل سے۔ ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے بھی ارتقائی عمل کے تحت اسلام کو پھیلایا۔ دنیا کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیے تو ہمیشہ ارتقائی عمل سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔ یہ ایک بہت ہی سلو پروسس ہے۔ انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، حتی کہ افغانستان (بدترین دہشتگردی کے باوجود بھی) ارتقائی عمل کے تحت ہی آگے بڑھے۔ مگر  آپ کو ایک چھنٹیل کی بات پر یقین ہو گیا تھا کہ انقلاب سے سب کچھ ٹھیک ہو جاۓ گا، باوجود اس کے کہ انقلاب ہمیشہ خون لاتاہے، بربادی لاتا ہے۔
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

دھرنے میں ایک اور بات بھی بہت زور و شور سے کہی جاتی تھی کہ قومیں انفرا سٹرکچر بنانے سے نہیں بنتں،مگر اس ایک خیالی دنیا میں رہنے والے کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ غریب کو پہلے روٹی چاہیے، اس کے بعد تعلیم اور صحت کا نمبر آتا ہے، روٹی ملتی ہے روزگار سے اور پسماندہ علاقے کا انفرا سٹرکچر بنا دو، تو ہر چیز خود بخود پہنچ جائے  گی، جیسے کہ  سکول، کالج، ہسپتال، بجلی ، گیس اور روزگار بھی۔
پسماندہ علاقوں میں پہلے معاشی ترقی کی جاتی ہے پھر سوشل ترقی کی طرف جایا جاتا ہے۔
مگر ہمیں تو
نہ خدا ہی مِلا، نہ وِصال صنم

نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

مشرف کی بدترین ملٹری حکومت جس نے اس ملک کو کرپشن، دہشتگردی اور بدترین لوڈ شیڈنگ کے تحفے دیے ، ملک کی ایک بہترین لیڈر کو دہشتگردوں سے شہید کرویا، ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا تھا۔ ان سب چیزوں سے نکلنے کے لیے کم از کم پچاس سال سے بھی زیادہ کا عرصہ درکار تھا، مگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی سول حکومتوں نے صرف اور صرف آٹھ سال سے بھی کم عرصے میں ملک کو دوبارہ کھڑا کیا اور معیشت کو 5.8 تک پہنچا دیا۔ دہشتگردی کو ختم کیا، لوڈ شیدنگ کو کم کیا۔ روزگار شروع کیا۔ فاٹا کو پاکستان کا حصہ بنایا، گلگت بلتستان کو گریڈ بیس کے افسر کے چنگل سے نکال کر ان کو ایک صوبے کا درجہ دیا، آئین میں ترمیم کر کے صوبوں کو وہ اختیار دیا جسے حاصل کرنے کے لیے مشرقی بنگال ہم سے ناراض ہو کر الگ ہوا۔ ایک بے نام صوبے کو نام دیا۔ بہترین انفرا سٹرکچر کی بنیاد رکھی اور اسے ڈیویلپ کیا۔اب آتے ہیں سیاسی طور پر، دونوں پارٹیز پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اپنے رشتہ داروں کو ہی  آگے لایا جاتا ہے، تو سر جی پیپلز پارٹی کے دو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کیا زرداری یا بھٹو کے رشتہ دار تھے؟ کیا شاید خاقان عباسی نواز شریف کے رشتہ داروں میں سے تھا؟ امریکہ جیسے جمہوریت پسند ملک میں صدر کا بیٹا اور بھائی وغیرہ بھی صدر بن چکے ہیں۔ کینیڈا کے وزیراعظم کا باپ کیا وزیراعظم نہیں تھا؟ جیسے انڈیا میں اب کانگریس پر اندرا خاندان کا ہولڈختم ہو چکا ہے، اسی طرح ان دو پارٹیز پر بھی رشتہ داروں کا ہولڈ ایک دن ختم ہو جاتا ، مگر وقت کے ساتھ۔ ارتقائی عمل کے زریعے۔

اس سب ترقی کے کاموں میں ابھی ہمارے لاڈلوں کی سازشیں بھی تھیں  جو کہ کبھی دھرنے کی صورت میں اور کبھی کسی گیٹ کی شکل میں نازل ہوتی رہیں ۔ شاہراہوں پر قبضہ بھی کیا گیا۔ مگر بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ ہم یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ بھائی جی کیا یہ سب آپ کو، دوسرے معزز اور پڑھے لکھے صحافیوں کو نظر نہیں آ رہا تھا؟ ۔۔۔۔۔مگر نہیں آپ توہتھیلیوں پر سرسوں جمانے کے چکروں میں تھے۔

آپ لوگ پاکستان کے ستر سال بھول کر صرف اور صرف ان دس سالوں کا حساب مانگتے ہیں۔ جیسے کہ پاکستان آزاد ہی 2008 میں ہوا تھا۔ ان نادان اور کم عقل دوستوں کو بھول جاتے ہیں جن کی فاش غلطیوں سے پاکستان ایک دائرے میں گھوم رہاہے۔ جس نقطے سے سفر شروع کرتے ہیں، کچھ سال بعد ہمارے نادان دوست ہمیں اسی مقام تک دوبارہ پہنچا دیتے ہیں۔

ہٹلر کے پروپیگنڈا کے بارے میں کچھ اصول تھے، اسے آفتاب احمد خانزادہ صاحب نے بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنے ایک کالم میں کچھ اس طرح لکھا۔

پروپیگنڈا کا پہلا اصول یہ ہے کہ معاملہ ایک ’’شیطان‘‘ تک محدود رکھا جائے، عوام کے سامنے بیک وقت نفرت کے لیے دشمنوں کی زیادہ تعداد پیش نہ کرو

دوسرا اصول یہ ہے کہ مسلسل پروپیگنڈا کرو کہ لوگ بہشت کو دوزخ اور دوزخ کو بہشت سمجھنے لگیں

تیسرا اصول یہ ہے کہ پروپیگنڈا کو زیادہ پیچیدہ بنانے کی کوشش نہ کرو۔ اسے سادہ رکھو ۔

چوتھا اصول یہ ہے کہ ایسے پروپیگنڈا کو ہمیشہ جذباتی بناؤ، تاکہ اسے عقل و بُرہان کی کسوٹی پر کوئی پرکھ نہ سکے۔

ہمارے معزز صحافی بھائیوں آپ نے بھی یک ایجنڈہ یعنی کہ کرپشن کے ایجنڈے کے تحت جنت کو دوزغ اور دوزغ کو جنت بنا ڈالا۔

دس سال گزر گئے  تھے، آگے جو بھی آتا بہتری کے ساتھ آتا۔۔ مگر اب یہ ملک اتنا نیچے گر چکا ہے کہ پینسٹھ کے مدینہ کے سبز بابے بھی آ کر اسے ٹھیک نہیں کر سکتے۔ اب سوائے بربادی کے کچھ نہیں بچا۔ پاکستان کا ستر سال کا سفر ایک لاحاصل سفر ہے، ہم جس جگہ سے سفر شروع کرتے ہیں، کچھ ہی سال بعد پھر سے اسی مقام پر پہنچ جاتے ہیں، بلکہ اس سے بھی پیچھے پہنچ چکے ہوتے ہیں۔

سر جی ، بہت ہی ادب اور احترام کے ساتھ اپنے تمام معزز صحافی بھائیوں جو کہ اب تبدیلی مخالف ہو چکے ہیں، ان سے یہ کہنا چاہیں گے کہ
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

SHOPPING

ہم معزرت خواہ ہیں اگر ہماری اس تحریر سے کسی انصافی صحافی ، یاکسی بھی انصافی دوست کا دل دُکھا ہو۔
مگر ہاۓ افسوس
دل غلطی کر بیٹھا ہے
تو بول کفارا کیا ہو گا؟

SHOPPING

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *