کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(قسط 55)۔۔گوتم حیات

SHOPPING

پورے ملک میں بے یقینی کی کیفیت ہے۔ ہر طرف سے موت کی خبریں آرہی ہیں۔۔۔ کرونا کے گھنے ہوتے بادلوں کے نیچے محکوم انسانوں کے بےیارومددگار قافلے دربدر بھٹک رہے ہیں۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک سو پانچ افراد اس وبا کی وجہ سے دم توڑ چکے ہیں۔

یہ تاریک دن اب طویل ہوتے جا رہے ہیں، لاک ڈاؤن ختم ہو چکا ہے لیکن مجھ جیسے بہت سے لوگ خوفزدہ ہیں کہ گھر سے باہر نکلیں یا نہیں۔۔۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کا رسک بھی نہیں لیا جاسکتا، ہر گزرتا ہوا دن کرونا کو بڑھا رہا ہے۔ ملک بھر کے سماجی ماہرین حکومت سے پُرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر دو ہفتے کا سخت لاک ڈاؤن کیا جائے، مگر اس مطالبے کی گونج ابھی تک کپتان صاحب کے  کان تک نہیں پہنچ سکی ہے، شاید وہ اس گونج کو سننے کے روادار نہیں ہیں۔

وہ جو کہتے پھرتے تھے کہ کرونا سے ایک اور ڈیڑھ انسان مرتا ہے، اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، یہ گرم ممالک کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اللہ کے فضل سے ہم اس وبا سے محفوظ رہیں گے کیونکہ یہاں یورپی ممالک کی طرح کے سرد موسم نہیں ہیں جو اس وائرس کی افزائش میں معاونت کرتے ہیں۔۔۔ پاکستان کا گرم موسم ہمیں کرونا کی وبا سے بچائے گا۔۔۔ یہ اور اس طرح کے ڈھیروں فرسودہ، بچکانہ و بیوقوفانہ بیانات اب ہمارے عظیم لیڈر کی نالائقی کو بےنقاب کر چکے ہیں۔ اگر ابھی بھی کسی کو اس عظیم لیڈر کی نالائقی و نااہلی پر کوئی شک ہے تو وہ یا تو اپنا دماغی علاج کروائے یا پھر ان تلخ حقائق کو تسلیم کرے جو محض پچھلے تین مہینوں میں ہم عوام نے بھگتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ مئی کا مہینہ گرم ترین ہوتا ہے، اس سال مئی کا مہینہ دہکتی ہوئی گرم دھوپ برساتا ہوا رخصت ہو چکا ہے مگر افسوس کہ یہ گرم دھوپ بھی کرونا کو شکست سے دوچار نہیں کر سکی، اس وائرس کو پگھلا کر ختم نہیں کر سکی۔۔۔ اب ہم ماہِ جون کی گرمی کو جھیل رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس گرمی میں سورج کی حدت سے پک کر کرونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق جون کے اختتام تک کرونا وبا سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد حیران کن حد تک پانچ لاکھ کا ہندسہ کراس کر چکی ہو گی۔

اس وقت ملک بھر میں ہر روز تقریباً چار ہزار سے زائد کیسز کرونا کے رپورٹ ہو رہے ہیں، پچھلے کئی دنوں سے یہی سلسلہ چل رہا ہے، کرونا سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ چکی ہے مگر افسوس کہ گزشتہ روز کپتان صاحب نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے فرمان جاری کیا کہ جولائی اور اگست میں کرونا سے خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔۔۔ یعنی کپتان صاحب کے نزدیک اس ماہ چار ہزار اور پانچ ہزار کے جو یومیہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں وہ نارمل ہیں، ہمیں اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ٹی وی پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق لاہور کے ہسپتالوں میں کرونا کی کٹس ختم ہو گئی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں لاہور کرونا کا گڑھ بنتا جا رہا ہے اگر فوری طور پر اس وبا سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تو صورتحال بےقابو ہو سکتی ہے۔ صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی صورتحال بھی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ شہر کے نجی ہسپتالوں نے عوام کو آگاہ کر دیا ہے کہ ہمارے پاس کرونا کے مریضوں کے علاج کی گنجائش اب ناپید ہو چکی ہے، ہسپتالوں کے وارڈز بھر چکے ہیں اور کسی نئے مریض کو ہم داخل نہیں کر سکتے۔

یاد رہے کہ یہ وہ مہنگے ہسپتال ہیں جہاں پر کوئی عام انسان علاج کروانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ سرکاری ہسپتالوں کے حال سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔۔۔
یہاں بیس مارچ کے بعد لاک ڈاؤن کیا گیا اور پھر پندرہ مئی سے  سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر عوام کو عید کی خریداری کے نام پر بازاروں میں کھلا چھوڑ دیا گیا، اس دوران مساجد میں باجماعت نمازیں بھی ادا کی گئیں، یوم علی کا ماتمی جلوس بھی شہر کی سڑکوں پر نکالا گیا، کئی مساجد میں باجماعت نمازیں ادا کرنے کے نام پر سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی کے افسوسناک واقعات بھی رونما ہوئے، غرض ہماری صوبائی اور وفاقی حکومت اس وبا سے نمٹنے کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی واضح اور جامع پالیسی بنانے میں ناکام ہو چکی ہے ۔ عوام کے وسیع تر مفاد میں اگر اس وبا کو مدنظر رکھ کر کوئی منصوبہ بندی کی جاتی تو آج ہمارے ملک میں ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد کرونا کے مریض نہ ہوتے۔

کیا اب ہمارے کپتان صاحب اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ جولائی اور اگست کے مہینوں میں کرونا کے مریضوں کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر جائے۔؟ شاید اسی لیے عوام کو گزشتہ روز خطاب کے دوران بتا دیا گیا ہے کہ جولائی اور اگست میں کرونا عروج پر پہنچے گا۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(قسط 55)۔۔گوتم حیات

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *