سیف الرحمن ادیؔب کی تحاریر
سیف الرحمن ادیؔب
سیف الرحمن ادیؔب
سیف الرحمن ادیؔب کراچی کےرہائشی ہیں۔روزنامہ”اسلام“میں انکی سوالفاظ کی کہانیاں شائع ہوتی رہتی ہیں۔فیسبک پر ان کاایک پیج ہےجس پر 200 سےزائد سو الفاظ کی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی سو الفاظ کی کہانیوں کا ایک مجموعہ "اُس کے نام" بھی پی ڈی ایف کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔

پس پردہ۔ سو الفاظ کی کہانی۔۔سیف الرحمٰن ادیب

ہر طرف مکھیاں ہی مکھیاں، دیواروں پر رینگتے ہوئے کیڑے مکوڑے، جگہ جگہ بُنے ہوئے مکڑی کے جالے، ہر طرف پھیلی ہوئی گندگی، اسی گندگی سے بنا ہوا بدبو دار ماحول، پسینے سے شرابور مزدور، میلے کچیلے کپڑے، بڑے بڑے←  مزید پڑھیے

معیار۔ سو الفاظ کی کہانی۔۔۔سیف الرحمن ادیؔب

وہ ایک کامیاب لکھاری تھا اور سچائی لکھتا تھا۔ اسی لیے اس کی ہر کہانی ناقابل اشاعت قرار پاتی تھی۔ اس کا مزاج اور انداز دیگر قلم کاروں سے مختلف تھا۔ افسانوں سے بہت دور رہ کر وہ بےخوف و←  مزید پڑھیے

زہریلا۔ سو الفاظ کی کہانی۔۔سیف الرحمٰن ادیب

چڑیا گھر میں آئی ایک نئی مخلوق پنجرے میں بند تھی۔ لمبی لمبی ٹانگوں پر کھڑا ہوا وجود، دو ہاتھ اور ہر ہاتھ میں لمبی لمبی پانچ انگلیاں، ہر انگلی کے سرے پر چھوٹا سا ناخن، دو چھوٹے چھوٹے کان،←  مزید پڑھیے

سانپ۔ سو الفاظ کی کہانی۔۔۔سیف الرحمن ادیؔب

مریض کے بقول اس کو سانپ نے ڈسا تھا لیکن اس کا معاملہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ چہرہ مکمل سرخ ہو گیا تھا، دل بری طرح زخمی تھا، کلیجہ پھٹنے کو آیا ہوا تھا اور دماغ اضطراب سے←  مزید پڑھیے

دختر وطن۔ سو الفاظ کی کہانی۔۔سیف الرحمن ادیب

اس کی کہانی درد کی ایک تصویر تھی۔ جس کے ہر کونے سے خون کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ اسی وجہ سے پتھر دل بھی موم ہو گئے تھے۔ اس کی کہانی سن کر حجاج بن یوسف نے بھی ہزاروں←  مزید پڑھیے

مظلوم۔ سو الفاظ کی کہانی۔۔سیف الرحمٰن ادیب

الماری میں کئی کتابیں رکھی تھیں۔ کہیں منٹؔو، پریم چند اور کرشن چندر کے افسانے پڑے تھے، کہیں ابن صفی اور اشتیاق احمد کے ناول سجے ہوئے تھے اور کہیں اقباؔل اور غالؔب کی کلیات اپنا رنگ جمائے ہوئے تھیں۔←  مزید پڑھیے

تصویر۔ سو الفاظ کی کہانی

وہ ایک مصور تھا اور تصویر بنا رہا تھا۔ کسی قدرتی منظر، پہاڑ یا جان دار کی نہیں بلکہ اپنے اردگرد پھیلے اندھیر نگر اور چوپٹ راج کی۔ نچلے طبقے کی آہوں اور سسکیوں کو لے کر خاکہ بنایا۔ مزدور←  مزید پڑھیے

جنسیات۔ سو الفاظ کی کہانی۔۔۔سیف الرحمن ادیؔب

کئی کہانیاں لکھنے کے بعد بھی مجھے ذرا سی بھی شہرت نہیں مل سکی تھی۔ میری کہانی کو دس بارہ لوگ ہی پڑھتے تھے اور میرے نام کو دو چار لوگ ہی جانتے تھے۔ پر اب مجھے اس الجھن کی←  مزید پڑھیے

جشن آزادی مبارک۔ سو الفاظ کی کہانی۔۔سیف الرحمن ادیؔب

اسے غلامی کا بہت شوق تھا۔ شاید اس لیے کہ اسے آزادی سے نفرت تھی۔ اسی لئے اس نے خود کو بری طرح جکڑا ہوا تھا۔ اس کا جسم چست پتلون اور کالے کوٹ تلے قید تھا۔ اس کی زبان←  مزید پڑھیے

زندہ دل (سو الفاظ کی کہانی)۔۔سیف الرحمٰن ادیب

آنکھوں میں اداسی، چہرے پر پریشانی، ماتھے پر بےشمار بل، رخساروں پر آنسوؤں کے نشانات اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے آثار قدیمہ بھی نہیں تھے۔ شاید آخری مرتبہ مسکرائے صدیاں بیت چکی تھیں۔ وہ آئینے کے سامنے کسی مورتی کی←  مزید پڑھیے

راز دار۔ (سو الفاظ کی کہانی)۔۔سیف الرحمن ادیؔب

لمبے عرصے سے سینے میں بہت سارے رازوں کو چھپائے چلا آ رہا تھا۔ اب ان رازوں کو اگلنا چاہتا تھا اور اپنے من کو ہلکا کرنا چاہتا تھا۔ ایک سچے راز دار کی تلاش تھی جو میرے ان رازوں←  مزید پڑھیے

تبدیلی کے دعوے (سو الفاظ کی کہانی) ۔۔ سیف الرحمن ادیؔب

تماشائے “اہل کرسی” دیکھنے کی خاطر میں بھی کشکول پکڑے میدان میں کود پڑا۔ حاکم کے دروازے پر دستک دی اور کشکول پھیلا دیا۔  حاکم نے پوچھا: “کیا چاہتے ہو؟” میں نے کہا: “سکون چاہتا ہوں۔” جواب ملا: “وہ تو←  مزید پڑھیے

تبدیلی (سو الفاظ کی کہانی)۔۔ سیف الرحمن ادیؔب

“میں ملک سے غربت ختم کر دوں گا۔” میں نے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے رسمی وعدہ کیا اور بعد میں پورا بھی کر کے دکھایا۔ پانچ سالوں میں بہت کچھ دیکھنے کو ملا۔ مہنگائی کو آسمان چھوتے ہوئے، غریب←  مزید پڑھیے

بھکاری(سو الفاظ کی کہانی)۔۔سیف الرحمٰن ادیب

دیگر بھکاریوں کے ساتھ میں بھی کشکول اٹھائے قطار میں کھڑا تھا۔ حاکم وقت آہستہ آہستہ قریب آ رہا تھا۔ میں نے اپنے کشکول میں دیکھا۔ چند پرانے سکے پڑے ہوئے تھے۔ مگر اب شاید یہ کڑکڑاتے نوٹوں میں بدلنے←  مزید پڑھیے

ضرورت (سو الفاظ کی کہانی)۔۔سیف الرحمٰن ادیب

“یہ قبولیت کی جگہ ہے۔ یہاں کھڑے ہو کر جس چیز کی ضرورت ہو مانگ لو۔ دعا قبول ہوگی۔ بس شرط یہ ہے کہ توجہ سے مانگنا۔” کسی نے اپنے لیے اولاد کی دعا کی، کسی نے ترقی کا سوال←  مزید پڑھیے

لا جواب (سو الفاظ کی کہانی)۔۔سیف الرحمٰن ادیب

کامیاب سیاست دان بننے کے لیے زبان کی روانی اور حاضر جوابی بہت ضروری ہے۔ اسی لئے میں یہ سب کچھ سیکھ گیا ہوں۔ صحافیوں کے کڑوے کسیلے سوالات ہوں تو ان کا وقت پر جواب دینا اچھے سے جانتا←  مزید پڑھیے

غیرت (سو الفاظ کی کہانی)۔۔سیف الرحمٰن ادیب

“تمہارے سارے پاپوں کی فہرست ہے میرے پاس۔” تھانے دار ہونے کے ناطے میں نے سامنے بیٹھے نوجوان سے کہا۔ “پانچ دن پہلے راہ چلتے مسافروں کے ساتھ رات کے وقت تم نے لوٹ ماری کی۔ پرسوں رات جوئے کے←  مزید پڑھیے

قاتل( سو الفاظ کی کہانی)۔۔سیف الرحمن ادیؔب

“یہ لو خنجر! اور اڑا دو گردن اپنے قاتل کی۔ جس نے تم سے زندگی چھینی اس کی سانسیں چھین لو۔” معصوم ہاتھوں میں تلوار تھما دی گئی۔ اس نے ایک نظر ہاتھ میں پکڑے ہوئے خنجر پر ڈالی اور←  مزید پڑھیے