مری کی اس دھندلی شام میں سڑک کے کنارے بیٹھا سگار کی چسکیاں بھرتے نا جانے کونسے خیالوں میں ڈوبا ہوا تھا ۔ وہ زندگی کی تلخیوں کو بہت پریکٹیکلی ڈیل کرنے والا، ایسے ہی کبھی کبھار گھنٹوں اپنے ساتھ← مزید پڑھیے
دن اب ڈھلنے لگا تھا۔ سورج اور دُھند میں مقابلہ ہنوز جاری تھا مگر ابھی تک دھند نے سورج کو مفتوح بنا رکھا تھا۔ دھند کے اثر نے سورج کو سفید کر دیا تھا جس کی وجہ سے سردی اس← مزید پڑھیے
بیجنگ میں مجھے کِس ادیب اور کِس شخصیت سے ملنے کی ضرورت ہے؟شعیب بن عزیز سے بہتر بھلا میرا کون صلاح کار ہوسکتا ہے ؟ شعیب کے لیے چین تو بس گھر آنگن والی بات تھی۔ وہ صلاح کار بھی← مزید پڑھیے
آئی۔سی۔ایس افسر کے گھر پیدا ہونے والی سلمیٰ احمد نے نگر نگر کی خاک بھی چھانی مگر طرفہ تماشا یہ کہ ہر قدم کے بعد گھر کا راستہ بھولنے میں بھی ماہر تھیں۔ مری کانونٹ سے تعلیم حاصل کرنے والی← مزید پڑھیے
آصف عمران، عصرِ حاضر میں اسلوب وبیان، کہانی پن اور احساسِ تجمیت کی عمدہ نگارشات کے حامل ایک کہنہ مشق افسانہ نگار ہیں۔ ‘‘اہرامِ آرزو’’ آصف عمران کے افسانوں کو تیسرا مجموعہ ہے جس میں 13 خوب صورت افسانوں کو← مزید پڑھیے
کیلنڈر کا آخری ڈبہ جس پر بڑے بڑے الفاظ میں 31 دسمبر لکھا نظر آرہا تھا اب یہ کیلنڈر ایک خزاں رسیدہ درخت کی مانند تھا ۔اس کی شاخوں کا ہر پتہ گر کر زمیں بوس ہورہا تھا اور جیسا← مزید پڑھیے
سامنے تاحدِ نگاہ پھیلی برف کی اس سفید چادرکو اُلٹ سکوں تو نیچے کئی موسموں کے رنگ چُھپے ملیں گے۔ ابھی ابھی تو میری نگاہ رنگوں کے ایک طوفان سے نبرد آزما تھی ۔ یوں تو سرکاری اعلان کے مطابق← مزید پڑھیے
ابھی اس اجنبی سر زمین پر آئے چند دن ہی ہوئے تھے۔ بڑی مشکل سے بھاگ دوڑ کر کے سر چھپانے کی جگہ میسر آئی اور ڈھنگ سے سانس لینے کا موقع بھی نہیں ملا تھا کہ کلاسیں شروع ہو← مزید پڑھیے
زیر نظر کتاب نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ہے۔کتاب سے پہلے صاحب کتاب کا تعارف ضروری ہے ۔یہ کتاب ٹورونٹو میں مقیم ایک نہایت سلجھے ہوۓ فکرو خیال سے مالا مال اعلی تعلیم یافتہ نوجوان کا شعری مجموعہ ہے۔ فیصل← مزید پڑھیے
حکومت بدلی تو اسے بھی کئی دوسرے ملازمین کی طرح نوکری سے نکال دیا گیا۔ دو چار مہینے تو سرکاری دفاتر میں دھکے اور احتجاج میں ہی گزر گئے، ہوش تب اُڑے جب محلے کے دکاندار، اور بچوں کے سکول← مزید پڑھیے
وہ پاؤں گھسیٹتا ہوا ہسپتال کے اندر داخل ہوا تو پرچی لینے والوں کی لمبی لائن دیکھ کر گھبرا گیا ،اُس کی کانپتی ہوئی نحیف و ناتواں ٹانگیں مزید کانپنے لگیں ۔مگر وہ ہمت کر کے لائن میں لگ گیا← مزید پڑھیے
میرا بڑا تایا زاد منشیات فروش تھا سو پیسوں کی ریل پیل تھی۔ اچھے وقتوں میں اس کے کسی جاننے والے نے اس سے دو ہزار روپے ادھار لیا تھا کہ کبھی اچھا وقت آیا تو لوٹا دونگا۔ نشئیوں پر← مزید پڑھیے
ڈپریشن ڈائری بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مصنف اور پبلشر عابد میر کی ڈپریشن کے دوران لکھے گئے احساسات پر مشتمل تحاریر ہیں۔ ایسی تحاریر جنہیں عام انسان شاید اپنی پرسنل ڈائری میں بھی احاطہ تحریر میں لانے سے گھبراتا← مزید پڑھیے
ویران سی اس کٹیا میں رات کے پچھلے پہر پھیلے ہوئے اس سناٹے کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کی ماں کی کھانسی کی آواز توڑ دیتی تھی اور وه خاموشی سے کٹیا کی ٹوٹی ہوئی چھت سے باہر پھیلے← مزید پڑھیے
آج مراکش میں ہمارا تیسرا دن تھا ناشتے کے بعد ہم سب گائیڈ کے ہمراہ باغات کی سیر کے لیے روانہ ہوگئے۔ گیٹ پر بہت لمبی قطار تھی مگر چونکہ ہماری گائیڈ فاطمہ زہرہ نے پہلے سے ٹکٹ لے رکھی← مزید پڑھیے
ڈھلتی شام کی دھوپ میں پھیکا پن تھا۔ کچھ ایسا ہی جو اداس کرنے والا ہو۔ پتا نہیں مجھے دوسرے ملکوں کی شامیں کیوں ہمیشہ افسردہ کرنے والی لگتی ہیں؟ چلو یہاں تو جذبات کی یہ کیفیت نہیں ہونی چاہیے← مزید پڑھیے
اس غیرمعمولی کتاب کا مجھے انتظار تھا۔ جب بیگم صاحبہ نے کمرے میں داخل ہو کر بہترین پیکنگ میں ایک پیکٹ میری طرف بڑھایا تو بولی کتاب ہی ہوگی۔ اب اتنے برسوں بعد اسے پتہ ہے کہ میرے نام پر← مزید پڑھیے
“یہ لو ٹوپی۔ یہودیوں کی عبادت گاہ یعنی سیناگاگ میں جانے سے پہلے سر ڈھانپنا ضروری ہے۔” یہ کہہ کر اُس نے مجھے ٹوپی پکڑائی۔ “نکالو 5 بوسنین مارک؟” پانچ؟ “ہاں اس ٹوپی کی قیمت پانچ مارک ہے اور سیناگاگ← مزید پڑھیے
اگر ہاشم خان کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ انگریزی کے لفظ آؤٹ کاسٹ سے بہتر کوئی لفظ نہیں ۔وہ خود سر ،خود رائے ،منہ پھٹ ،غصیل اور نہ جانے کیا کیا مشہور ہیں← مزید پڑھیے
حاضرین بہ تمکین، قدردانوں، مہربانوں و مہر بانو نامہربانو! ہم سچ کہتے ہیں کہ جو بھی کہیں گے خدا اور اپنی بیگم کو حاضر ناظر جان کر سچ مچ کا درست، ٹھیک، صحیح اور بالکل ٹھیک ٹھاک کہیں گے، ہاں← مزید پڑھیے