عارف خٹک کی تحاریر
عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

آئیں ،آپ کو پنجاب گھماؤں۔۔عارف خٹک

پوری دنیا کورونا سے دہشت زدہ ہے، اور میں اپنے ناول کے سلسلے میں پنجاب کی خاک چھان رہا ہوں۔ قریہ قریہ، گلی گلی اور نگر نگر گھوم رہا ہوں۔ ملتان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سمندری، گوجرہ، پینسرہ اور فیصل آباد←  مزید پڑھیے

چُھٹکی(باب دہم)ناول سے اقتباس۔۔عارف خٹک

چُھٹکی کے لائٹ براؤن بال میرے چہرے پر بکھرے پڑے تھے۔میں اُس کے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اُتارنے لگا۔مُجھ پر ایک عجیب سی مدھوشی طاری ہونے لگی۔چُھٹکی مُجھ سے لپٹ کر سورہی تھی۔اُس کی ایک ٹانگ میرے رانوں پر←  مزید پڑھیے

شرعی سیکس۔۔عارف خٹک

پامسٹ کہتے ہیں،کہ مئی میں پیدا ہونے والا بچہ درجہ ذیل خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ “بچہ سراغ رساں، تلاشِ حق کا دلدادہ، کامیاب وکیل، عالی دماغ، راسخ العقیدہ، دُھن کا پکا، طبعیت سے اشتعال انگیز، اعلیٰ  منتظم، دشمنوں پر←  مزید پڑھیے

ناول”چھٹکی”سے اقتباس(حصہ 25)۔۔۔عارف خٹک

مونٹریال کی تُند و تیز خُنک بےرحم ہوائیں جیسے میرا جسم چیرے جارہی تھیں۔ مگر مُجھے اُس لڑکی کا انتظار تھا،جو روز اس پارک میں چہل قدمی کرنے آتی تھی۔ سترہ سال کی اُس نازک اندام لڑکی کو دیکھ کر←  مزید پڑھیے

آپ لالہ عارف خٹک کی مدد کریں گے؟

میرا نام عارف خٹک ہے۔ میں ہر مظلوم کیلئے آواز اٹھاتا رہا ہوں۔ میں نے اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کی۔ بس سامنے مظلوم ہونا چاہیے۔ میں لڑ  مر کر اس کیلئے تن تنہاء کھڑا ہوجاتا ہوں۔ نتائج سے←  مزید پڑھیے

جلد شائع ہونیوالے ناول” چُھٹکی” سے لیا گیا اقتباس(باب دہم)۔۔عارف خٹک

خدا سے شکوے کرتے ہوئے دل کے اندر جیسے ایک معرکہ سا چل رہا تھا۔جبکہ باہر سارا غُبار آنسوؤں اور ہچکیوں سے نکل رہا تھا۔بچپن سے لیکر جوانی تک کی ہر کمی اور محرومی کا گلہ کررہا تھا۔برسوں سے چُپ←  مزید پڑھیے

ہائے میری مونچھیں۔۔عارف خٹک

میری پہچان میری لمبی نوکدار مونچھیں ہوا کرتی تھیں۔ بڑا سا منہ، بڑی توند اور مونچھوں پر انگلیاں مارتا ہوا کسی محفل میں جاتا تو باخدا لوگ سمجھتے تھے کہ ننانوے خون کرکے آیا ہے اور سواں کہیں آس پاس←  مزید پڑھیے

کراچی جو میں نے دیکھا ۔۔۔ عارف خٹک

نقاب پوش کو لے کر پاس میں بند ہوتے ریسٹورانٹ سے کچھ کھانے کو لیا۔ ان کو بٹھا کر کھانا کھایا۔اور جیب سے دو ہزار نکال کر اس سانولے ہڈیوں کے ڈھانچے کو پکڑا دیئے۔ جا آج کی دیہاڑی لگ گئی۔ گھر جاؤ اپنے بچوں کے پاس۔←  مزید پڑھیے

سرِ ورک یا سرِ ورق۔۔۔عارف خٹک

اپنی آنے والی کتاب کےلئے سرِورق برادرم فیصل جوش سے بنوا رہا ہوں۔ پچھلے بیس دنوں سے میں اور فیصل جوش سرِورق کےلئے ایک دوسرے سے دست وگریبان ہیں۔ فیصل نے دو تین آئیڈیاز سمیت اپنی پینٹنگز دکھائیں۔ مگر میں←  مزید پڑھیے

پشتون تحفظ موومنٹ اور افغانستان۔۔عارف خٹک

افغان صدر کی حالیہ منظور پشتین کی گرفتاری پر ردِ عمل جہاں پشتون تحفظ موومنٹ کو مشکوک بنانے کی ایک کوشش ہے۔وہاں اس ردِ عمل سے اشرف غنی  نےپاکستان کے افغانستان میں حالیہ امن کردار سے پاکستانی انتظامیہ کو متنفر←  مزید پڑھیے

چُھٹکی(ناول)سے اقتباس۔۔۔عارف خٹک

بیسواں حصّہ چُھٹکی کو ڈُھونڈنے میں پنجاب کے اُس گاؤں جارہا تھا،جہاں چُھٹکی نے جنم لیا تھا۔ آج اٹھارہ سال بعد چُھٹکی سے ملنا تھا،اُس کو دیکھنا تھا۔اٹھارہ سالوں کا ایک ایک لمحہ جو ہم دونوں نے ایک دوسرے کے←  مزید پڑھیے

ذرا نم ہو یہ مٹی۔۔عارف خٹک

خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر مرزا جان محسود کا میں ایک عرصے سے فین رہا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب علم کی جو روشنی کُرک جیسے پسماندہ علاقے میں پھیلا رہے ہیں۔ اس کے لئے خٹکزینہ تا قیامت←  مزید پڑھیے

چُھٹکی(ماسکو کی یادیں)۔۔عارف خٹک

ریڈ سکوائر روڈ پر سینٹ باسلز کتھیڈرل کے سامنے جب ہم دونوں پہنچ گئے۔تو چُھٹکی سر پر ٹوپی صحیح کرتے ہوئے سینٹ باسلز کی طرف دیکھتے ہوئے مُجھ سے پوچھنے لگی۔ “اس چرچ کی تاریخ کیا ہے؟”میں نے اپنے ہونٹ←  مزید پڑھیے

ہوس بنام محبت۔۔عارف خٹک

محبت کی جب بات آتی ہے۔تو ذہن میں مجنوں کی شبیہہ  اُبھرنے لگتی ہے۔کہ بے غرض اور پاک محبت مجنوں اور لیلی کی ہی تھی۔ ایسی محبت ہر کسی کو کہاں نصیب ہوتی ہے۔ جس میں دونوں ایک دوسرے کی←  مزید پڑھیے

اذیت پسندی ،میں اور چھٹکی۔۔عارف خٹک

2014 سے ایک کتاب لکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔لیکن مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ جو بھی لکھتا ہوں۔ دو ماہ بعد اپنا لکھا ہوا بُرا لگنےلگتا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں اب تک پندرہ ابواب سے آگے←  مزید پڑھیے

نیا سال مبارک ہو۔۔عارف خٹک

رات کو گھڑی کی سوئیوں نے بارہ کے ہندسے پر جب ایک دوسرے کو گلے لگا کر زور سے چُوما۔تومیں بھی اُن پر سے نظریں ہٹا کر اُٹھا،اور اپنے پہلُو میں لیٹے وجُود کو آہستہ سے کندھے سے پکڑ کر←  مزید پڑھیے

دادا،پھوپھی،کھوتی اور پاکستان۔۔عارف خٹک

ہمارے دادا حضور کو اللہ جنت نصیب کرے۔ کہا کرتے تھے کہ جب بندے کی قسمت خراب ہو تو اونٹ پر بیٹھے بیٹھے کُتا بھی آکر کاٹ جاتا ہے۔ ہماری پھوپھی دس سال کی ہوں گی غالباً۔ گاؤں میں مون←  مزید پڑھیے

فلم ریویو “سچ”۔۔۔۔عارف خٹک

ابو علیحہ کی فلم کتاکشا کی سنیماٹوگرافی کمال کی تھی۔ میرے نزدیک فلم کیلئے ایک مضبوط  سکرپٹ، بہترین ڈائریکشن اور بہترین کاسٹ بہت ضروری تصور کی جاتی ہے۔ کتاکشا نے واقعی کمال کردیا۔ اسی طرح ایک نئی پاکستانی فلم بہت←  مزید پڑھیے

جمعہ گُل۔۔۔عارف خٹک

میں جب تین سال کا تھا،تو ٹھٹھرتی سردی میں ایک دن دادا نے سکول میں داخل کروا کر عمر پانچ سال لکھوا دی۔کہ سرکاری سکول میں اس وقت پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا داخلہ ممنوع ہوتا تھا۔←  مزید پڑھیے

کھوتی کو عزت دو۔۔عارف خٹک

محترم چچا جان اور کھوتیوں پر پی ایچ ڈی کرنیوالے کرک کے غیور اور خٹکزینے کے امین جناب ڈاکٹر رحیم خٹک سکنہ اسلام آباد والے فرماتے ہیں کہ ہمارے وقتوں میں کھوتی اور بیوی میں کوئی فرق نہیں ہوتا تھا۔خواتین←  مزید پڑھیے