ناصر خان ناصر کی تحاریر

نیک کام۔۔۔۔ناصر خان ناصر

اے بہو رانی! ہم آویں؟ آئے ہائے۔ کِتے دنوں بعد موقع  ملا ہے تم سے تنہائی  میں دو باتیں کرنے کا۔ اے دیکهو! پهول سی میری بچی، دو دن میں کیسی مرجها گئی ۔ ایسے ہی دن رات لگ کر←  مزید پڑھیے

ایک پرانا انٹرویو۔۔۔۔ناصر خان ناصر

پڑهنے کے شوق کا آغاز بہت بچپن سے ہی ہو گیا۔ قصہ یوں ہے کہ ہمارے والد صاحب پاکستان آرمی میں تهے اور ان کی پوسٹنگ ہمیشہ دور دراز علاقوں میں ہوتی رہی۔ دونوں بڑے بهائی  بهی بہ سلسلہ تعلیم←  مزید پڑھیے

سیرِِ ِاسرائیل بمع عزرائیل۔۔۔۔۔ناصر خان ناصر

جانا ہمارا تل ابیب ساحل پر بمع خرقہ بدوش بی بی عالمہ سیاہ پوش کے۔۔ ہماری سیاہ بختی کہ اس جنت  بے نظیر، بے خطیر، بنا کتر و پیرہن کیثر میں جاتے ہی بیگم صاحبہ کے رونگٹے اور ہمارے ناگفتہ←  مزید پڑھیے

گهنگهرو۔۔۔۔۔ناصر خان ناصر

(لکهتے ہوئے ٹوٹتے گهنگهروں کی صدا کانوں میں بجتی رہی، اگر آپ بهی سن پائیں تو۔۔۔۔۔) مجهے رقص سیکھنا تھا۔۔ اور وہ خود سراپا رقص تهی، اک ایسی اپسرا۔۔جسے دیوتاؤں نےکسی تپسوی کی تپسیا بهنگ کرنے کے لیے  سورگ سے←  مزید پڑھیے

قصّہ ایّام۔۔۔۔۔ناصر خان ناصر/حصہ اوّل

وہ نوجوانی کے دن ہی تھے جب میں خالی ہاتھ پردیس آیا۔۔۔ پیارے محترم بڑے بھائی  صاحب نے یہاں لانے، اپنے گھر رکھنے اور ہر طرح سے خیال رکھنے میں مکمل تعاون کیا۔ انھوں نے ہی تعلیم کا سارا خرچہ←  مزید پڑھیے