ناصر خان ناصر کی تحاریر

میرا جسم میری مرضی۔۔ناصر خان ناصر

اللہ میاں کا بنایا ہوا کمپیوٹر “انسان”، خود انسان کے اپنے بنائے کمپیوٹر سے زیادہ دیر پا ہے۔ خدائی کمپیوٹر کو صرف خوراک اور پانی درکار ہے۔ اس خوراک میں کیا شامل ہو، اکثر اوقات انسان کی اپنی فطرت خود←  مزید پڑھیے

پاکستان، ہندوستان۔۔ناصر خان ناصر

دلت، جھبیل، پکهی واس، شودر، کمی، اوڈر، تیلی، مراثی، چنگڑ، نیارئیے، ملیچ، وان کٹ، چوہڑے، چمار، شہودے، بردے کوہنے، مردے شوہنے، ملنگ ملنگے، آچهوت، منگتے، سانسی، پانسے، جهانگڑ، بهنگی، بھگ منگے، فقیر، مزارعے، ہاری، مصلی، آدی واسی، نائی ، موچی،←  مزید پڑھیے

کہانی کا دکھ( دوسرا،آخری حصّہ )۔۔ناصر خان ناصر

مگر یہی بات لکهی کہانی اور بهوگی کہانی کا مشترک درد بن کر کانوں میں انڈیلا رہ جاتا۔ یہ سارے الفاظ بهی دهندلے ہو کر کهو جاتے، صرف مفہوم کی بجلیاں گونجتی کڑکتی رہ جاتیں۔۔ کہانی لکهنے والی نے کئی←  مزید پڑھیے

کہانی کا دکھ(حصّہ اوّل)۔۔ناصر خان ناصر

ایک کہانی وہ تهی جسے وہ  لکھتی  تهی اور ایک کہانی وہ تهی جس کا لکھا وہ بهوگتی تهی، دونوں کہانیاں بالکل مختلف تهیں مگر گڈ مڈ ہو ہو جاتی تهیں۔ پهر جو وہ لکهنا چاہتی تهی، اس سے لکها←  مزید پڑھیے

منی دئیا لالہ۔۔ناصر خان ناصر

ایک لوک گیت پنجاب میں ہماری دادی کے وقتوں سے گایا جا رہا ہے۔ اس کے بول دور دور تک ہندکو میں بھی گائے جاتے ہیں۔ دلہن بنی ایک لڑکی گھونگھٹ نکال کر اور کمر کو پکڑ کر گول گول←  مزید پڑھیے

قلو پطرہ بی بی کے شوہر۔۔ناصر خان ناصر

ہمارے یار غار تنولی صاحب کی تمام تر پوسٹیں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان ان کی گوند سے چپک کر رہ جاتا ہے۔ محترم اور ان کی لاکھوں لکھوں پر بھاری لِکھت ایسے مقناطیس ہیں جن سے چھوٹنا جان جوکھوں←  مزید پڑھیے

برگِ صدا از تحفہِ درویش۔۔ ناصر خان ناصر

آج صبح جب میں اونچے اونچے خراٹے بھرتی ہوئی  خوابِ خرگوش میں مگن غفلت کے مزے خراماں خراماں لوٹ رہی تھی تو اچانک سیل فون کی گھنٹی بجی اور بجتی ہی چلی گئی۔ یا اللہ خیر! فون اگر وقت بے←  مزید پڑھیے

لکڑی کا گلہ۔۔ناصر خان ناصر۔

لکڑی کا یہ گلّہ ہمارے بچپن میں ہر گھر کے باورچی خانے میں موجود ہوتا تھا۔ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جو کچن میں لکڑی کے چولہے کے نزدیک پیڑھیوں، چوکیوں اور دریوں پر بیٹھ کر توے←  مزید پڑھیے

جزا و سزا۔۔ناصر خان ناصر

زندگی اور انسانیت بہت بڑی چیزیں ہیں, شاید مذہب سے زیادہ اہم۔ اس حقیقت کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے اور انسانوں کی مذہبی آزادی کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں پر جہاں←  مزید پڑھیے

کہانی کا بدھا۔۔ناصر خان ناصر

فیس بک کے اشتہاروں میں کانسی کے ایک خوبصورت بدھا کی تصویر تھی جو صرف بیس ڈالر میں بیچا جا رہا تھا۔کانسی کا اتنا خوبصورت بدھا اور صرف بیس ڈالر۔۔۔ترنت میسج بھجوایا اور مجسمے کی ڈائمنشنز دریافت کیں۔ “کہیں سے←  مزید پڑھیے

یادوں کی پٹاری سے اک پرانی یاد۔۔۔۔ناصر خان ناصر

ہمیں ٹی وی کا پہلا دن بھی یاد ہے۔ جب پہلی بار ٹی وی آیا  تو لوگوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا تھا۔ ہم چھوٹے سے تھے اور بہاولپور میں رہتے تھے۔ ٹی وی بنانے والی کمپنی نے←  مزید پڑھیے

ہے یہ وہ آتش غالب۔۔۔۔۔۔ناصر خان ناصر

عشق وہ منہ زور بلا ہے جو اپنا آپ منوا کر رہتی ہے۔ اپنے منہ آپ بولتا، کفر تولتا اور محب و محبوب کو مٹی میں رولتا عشق دراصل عشق ہے ہی نہیں، اگر پھٹے ڈھول کی مانند اس کی←  مزید پڑھیے

باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیہ۔۔۔۔ناصر خان ناصر

ساری بات اکنامکس اور پیسے کی ہے ۔۔۔ باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیہ۔ چار پیسے کی میت دنیا، آج کل سچ تولتی ہے، نہ حق بات مانتی ہے۔ چار سو صرف اپنی تجارت، مفادات اور اپنے فائدے←  مزید پڑھیے

چائے چاہیے۔۔۔۔ناصر خان ناصر

چائے چاہیے کونسی جناب؟ لپٹن عمدہ ہے لپٹن ہی تو ہے لپٹن لیجیے لپٹن پیجیے۔۔۔چائے چاہیے؟ کون سی جناب؟ لپٹن عمدہ ہے! لپٹن ہی تو ہے۔ لپٹن دیجیے لپٹن لیجیے لپٹن پیجیے ہمارے زمانے میں اداکارہ روزینہ اور فلمسٹار نرالا←  مزید پڑھیے

ہم کہاں جارہے ہیں۔۔۔ناصر خان ناصر

مودی صاحب مسلمان عرب ممالک سے اعلی اعزازات اور انعام و اکرام کے ساتھ ساتھ بھاری امداد وصول کرنے کے باوجود ان کے دشمن اسرائیل سے بھی اتنی عزت و احترام   پاتے ہیں۔ یہ بھارت کی کامیاب خارجہ پالیسیوں←  مزید پڑھیے

ہم کہاں جارہے ہیں۔۔۔۔ناصر خان ناصر

پاکستان میں بے حس وحشی درندوں کا ہجوم قانون اپنے ہاتھ میں لے کر انسانوں کو مار مار کر ان سے زندگی چھین لیتا ہے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ نہ اندھا قانون حرکت میں آتا←  مزید پڑھیے

چاچی زینب الٰہی۔۔۔ناصر خان ناصر

چاچی زیب الہی ہماری سگی چاچی نہیں تھیں، سچ پوچھیں تو ان سے کوئی خونی رشتہ تو تھا ہی نہیں مگر انہوں نے خون کے سگے رشتوں سے بڑھ کر ہم لوگوں سے پیار نبھایا۔ وہ ابا کے کولیگ جناب←  مزید پڑھیے

قصّہ ء ایام۔۔۔۔ناصر خان ناصر/حصہ دوم

ہماری پیدائش تو بہاولپور کی ہے مگر بچپن کوئٹہ میں گزرا۔ سردی اور برفباری کی بنا پر ہمیں کئی بار ڈبل نمونیہ ہوا۔ کئی بار مرتے مرتے بچے۔ بہت نازک اور کمزور سے تھے۔ کوئٹہ کا فوجی اسپتال ہمارا دوسرا←  مزید پڑھیے

نیک کام۔۔۔۔ناصر خان ناصر

اے بہو رانی! ہم آویں؟ آئے ہائے۔ کِتے دنوں بعد موقع  ملا ہے تم سے تنہائی  میں دو باتیں کرنے کا۔ اے دیکهو! پهول سی میری بچی، دو دن میں کیسی مرجها گئی ۔ ایسے ہی دن رات لگ کر←  مزید پڑھیے

ایک پرانا انٹرویو۔۔۔۔ناصر خان ناصر

پڑهنے کے شوق کا آغاز بہت بچپن سے ہی ہو گیا۔ قصہ یوں ہے کہ ہمارے والد صاحب پاکستان آرمی میں تهے اور ان کی پوسٹنگ ہمیشہ دور دراز علاقوں میں ہوتی رہی۔ دونوں بڑے بهائی  بهی بہ سلسلہ تعلیم←  مزید پڑھیے