ناصر خان ناصر کی تحاریر

باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیہ۔۔۔۔ناصر خان ناصر

ساری بات اکنامکس اور پیسے کی ہے ۔۔۔ باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیہ۔ چار پیسے کی میت دنیا، آج کل سچ تولتی ہے، نہ حق بات مانتی ہے۔ چار سو صرف اپنی تجارت، مفادات اور اپنے فائدے←  مزید پڑھیے

چائے چاہیے۔۔۔۔ناصر خان ناصر

چائے چاہیے کونسی جناب؟ لپٹن عمدہ ہے لپٹن ہی تو ہے لپٹن لیجیے لپٹن پیجیے۔۔۔چائے چاہیے؟ کون سی جناب؟ لپٹن عمدہ ہے! لپٹن ہی تو ہے۔ لپٹن دیجیے لپٹن لیجیے لپٹن پیجیے ہمارے زمانے میں اداکارہ روزینہ اور فلمسٹار نرالا←  مزید پڑھیے

ہم کہاں جارہے ہیں۔۔۔ناصر خان ناصر

مودی صاحب مسلمان عرب ممالک سے اعلی اعزازات اور انعام و اکرام کے ساتھ ساتھ بھاری امداد وصول کرنے کے باوجود ان کے دشمن اسرائیل سے بھی اتنی عزت و احترام   پاتے ہیں۔ یہ بھارت کی کامیاب خارجہ پالیسیوں←  مزید پڑھیے

ہم کہاں جارہے ہیں۔۔۔۔ناصر خان ناصر

پاکستان میں بے حس وحشی درندوں کا ہجوم قانون اپنے ہاتھ میں لے کر انسانوں کو مار مار کر ان سے زندگی چھین لیتا ہے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ نہ اندھا قانون حرکت میں آتا←  مزید پڑھیے

چاچی زینب الٰہی۔۔۔ناصر خان ناصر

چاچی زیب الہی ہماری سگی چاچی نہیں تھیں، سچ پوچھیں تو ان سے کوئی خونی رشتہ تو تھا ہی نہیں مگر انہوں نے خون کے سگے رشتوں سے بڑھ کر ہم لوگوں سے پیار نبھایا۔ وہ ابا کے کولیگ جناب←  مزید پڑھیے

قصّہ ء ایام۔۔۔۔ناصر خان ناصر/حصہ دوم

ہماری پیدائش تو بہاولپور کی ہے مگر بچپن کوئٹہ میں گزرا۔ سردی اور برفباری کی بنا پر ہمیں کئی بار ڈبل نمونیہ ہوا۔ کئی بار مرتے مرتے بچے۔ بہت نازک اور کمزور سے تھے۔ کوئٹہ کا فوجی اسپتال ہمارا دوسرا←  مزید پڑھیے

نیک کام۔۔۔۔ناصر خان ناصر

اے بہو رانی! ہم آویں؟ آئے ہائے۔ کِتے دنوں بعد موقع  ملا ہے تم سے تنہائی  میں دو باتیں کرنے کا۔ اے دیکهو! پهول سی میری بچی، دو دن میں کیسی مرجها گئی ۔ ایسے ہی دن رات لگ کر←  مزید پڑھیے

ایک پرانا انٹرویو۔۔۔۔ناصر خان ناصر

پڑهنے کے شوق کا آغاز بہت بچپن سے ہی ہو گیا۔ قصہ یوں ہے کہ ہمارے والد صاحب پاکستان آرمی میں تهے اور ان کی پوسٹنگ ہمیشہ دور دراز علاقوں میں ہوتی رہی۔ دونوں بڑے بهائی  بهی بہ سلسلہ تعلیم←  مزید پڑھیے

سیرِِ ِاسرائیل بمع عزرائیل۔۔۔۔۔ناصر خان ناصر

جانا ہمارا تل ابیب ساحل پر بمع خرقہ بدوش بی بی عالمہ سیاہ پوش کے۔۔ ہماری سیاہ بختی کہ اس جنت  بے نظیر، بے خطیر، بنا کتر و پیرہن کیثر میں جاتے ہی بیگم صاحبہ کے رونگٹے اور ہمارے ناگفتہ←  مزید پڑھیے

گهنگهرو۔۔۔۔۔ناصر خان ناصر

(لکهتے ہوئے ٹوٹتے گهنگهروں کی صدا کانوں میں بجتی رہی، اگر آپ بهی سن پائیں تو۔۔۔۔۔) مجهے رقص سیکھنا تھا۔۔ اور وہ خود سراپا رقص تهی، اک ایسی اپسرا۔۔جسے دیوتاؤں نےکسی تپسوی کی تپسیا بهنگ کرنے کے لیے  سورگ سے←  مزید پڑھیے

قصّہ ایّام۔۔۔۔۔ناصر خان ناصر/حصہ اوّل

وہ نوجوانی کے دن ہی تھے جب میں خالی ہاتھ پردیس آیا۔۔۔ پیارے محترم بڑے بھائی  صاحب نے یہاں لانے، اپنے گھر رکھنے اور ہر طرح سے خیال رکھنے میں مکمل تعاون کیا۔ انھوں نے ہی تعلیم کا سارا خرچہ←  مزید پڑھیے