ناصر خان ناصر کی تحاریر

لکڑی کا گَلّہ۔۔ناصر خان ناصر

لکڑی کا یہ گلہ ہمارے بچپن میں ہر گھر کے باورچی خانے میں موجود ہوتا تھا۔ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جو کچن میں لکڑی کے چولہے کے نزدیک پیڑھیوں، چوکیوں اور دریوں پر بیٹھ کر توے←  مزید پڑھیے

ہنسے تو پھنسے۔۔ناصر خان ناصر

ہمارا معاشرہ بدقسمتی سے اداسی، غم اور دکھ کو خوشیوں پر ہمیشہ ترجیح دیتا چلا آیا ہے۔ ہماری شاعری نوے فیصد افسردگی، اداسی اور رنج و الم سے مزیّن ہے۔ کہیں فکر معاش ہے تو کہیں فکرِ  فردا۔ رہی سہی←  مزید پڑھیے

محبت اور خدا۔۔۔ناصر خان ناصر

عشق وہ منہ زور بلا ہے جو اپنا آپ منوا کر رہتی ہے۔ اپنے منہ آپ بولتا، کفر تولتا اور محب و محبوب کو مٹی میں رولتا عشق دراصل عشق ہے ہی نہیں، اگر پھٹے ڈھول کی مانند اس کی←  مزید پڑھیے

دو ویکسین انجکشنز کے بیچ۔۔ناصر خان ناصر

ہمارے شہر میں طوفان آئیڈا نے اتنی تباہی مچائی  ہے کہ ہر سمت ٹوٹے ہوئے در و دیوار اور ٹوٹے دل ہی دکھائی  دیتے ہیں۔ ٹوٹی چھتوں، گرتے دیوار و بام کی مرمت کروانے کے دام آسمان سے باتیں کرنے←  مزید پڑھیے

دو جمع دو۔۔ناصر خان ناصر

عجیب اتفاق ہے۔ ابھی ابھی فلاڈیلفیا سے آتے ہوئے ہائی  وے 59 ساؤتھ پر البامہ کے ایک ننھے منے چھوٹے سے قصبے کے نزدیک سے گزرے تو اس کے نام Mccalla Bessemer پر ہمیں ہنسی آ گئی ۔ ہم نے←  مزید پڑھیے

انگ انگ رنگریز۔۔ناصر خان ناصر

عزیزم نسیم خان کی انوکھی دلفریب آزاد شاعری کی کتاب “رنگریز” پڑھتے ہوئے جب انگ انگ ان دیکھے رنگوں میں رنگتا چلا گیا تو یوں محسوس ہوا جیسے قدموں تلے بچھے قالین کے دھیمے رنگ دھنک بن کر لہرانے لگ←  مزید پڑھیے

وطن عزیز میں آخر کیا ہو رہا ہے؟۔۔ناصر خان ناصر

بدقسمتی سے نااہلوں اور نکموں کا ٹولہ ملک پر سوار ہے، وہی چہرے بار بار روپ بہروپ بدل کر حکومت کر رہے ہیں اور خون لگا کر شہیدوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ محترم شیخ رشید صاحب اور خالہ فردوس←  مزید پڑھیے

کیسی چلی ہوا کہ زمانے ہوا ہوئے(اختصاریہ)۔۔ناصر خان ناصر

ہمارے ہاں باقاعدہ اخبار کا انتظار صبح سویرے باہر بیٹھ کر کیا جاتا تھا۔ جونہی ہاکر اخبار گیٹ کے اوپر سے پھینکتا، اسے جھپٹ لیا جاتا۔ مگر سب سے پہلے پڑھتے اسے والد محترم ہی تھے۔ اخبار ان سے فارغ←  مزید پڑھیے

روزہ ڈھال ہے۔۔ناصر خان ناصر

اوئے صاحب جی۔۔۔ ادھر تشریف لیاؤ لائسنس ہے؟ موٹر سیکل کے کاغذ دکھاؤ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے آج رمضان المبارک شریف ہے، آپ نے روزہ رکھا ہے؟ رکھا ہے تو آخر کہاں رکھا ہے؟ شکل سے تو نہیں لگتا کہ←  مزید پڑھیے

ہمارے بچپن کا رمضان۔۔ناصر خان ناصر

ہمارے بچپن میں ماہ رمضان کا خاص اہتمام و انتظام ہمیں اب تک یاد ہے۔ ہمیں بچپن سے ہی چاولوں کی کھیر پسند تھی۔ والدہ محترمہ ہر روز سحری میں ہمارے لیے کھیر بنا دیتی تھیں تو ہم خوشی خوشی←  مزید پڑھیے

سوت نہ کپاس۔۔ناصر خان ناصر

تنقید لکھنے والے بھی تو ایسے ایسے پاپڑ بیچتے ہیں، وہ بھی تھوک کے بھاؤ  اور تھوک میں تلے ہوئے۔۔۔ کہ توبہ ہی بھلی۔ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ اس سے بھلے تو انسان پانی کا گلاس توڑ کر ریستوران سے←  مزید پڑھیے

جب آتش جواں تھا۔۔ناصر خان ناصر

پاکستان میں ایک زمانے میں فلمی انڈسٹری پر بہاریں تھیں۔ ہر شہر قصبے میں لاتعداد سینما گھر موجود ہوا کرتے تھے۔ نت نئی    شاندار فلمیں بنتیں اور کامیابی سے ہمکنار ہوتیں۔ خواتین گھریلو فلمیں دیکھنے جایا کرتیں اور زار←  مزید پڑھیے

ہماری تاریک تاریخ جو لکھی نہ گئی۔۔ناصر خان ناصر

سن اکتر کی جنگ میں وہ سبز پوش بابے کہیں نظر نہ آئے جو پینسٹھ کی جنگ میں بھارت کی طرف سے پھینکے بم کیچ کر کے انھیں ناکارہ کر کے ندی نالوں میں پھینک دیتے تھے۔ میریا ڈھول سپاہیا←  مزید پڑھیے

قومی ترقی۔۔ناصر خان ناصر

قومی ترقی کے نام پر ہمارے ہاں جو مذاق کیے جاتے ہیں، کم از کم ہمیں تو ان پر کوئی  ہنسی نہیں آتی۔ ہمارے ہاں دکھاوے، شو شا، افتتاحی تقریبات، نقاب کشائی، ربن کٹائی  ہر بات میں اتنی ہوتی ہے←  مزید پڑھیے

مبارخاں۔۔ناصر خان ناصر

شاوا اوئے۔۔۔۔ لڑکی کو اپنے جیون ساتھی کے چناؤ  کا مکمل اختیار تو اسلام دیتا ہی ہے۔۔۔ نزلہ صرف اس لیے گر رہا ہے کہ وچولوں اور ملا، نکاح خواہوں کا کاروبار کہیں ٹھپ نہ ہو جائے۔ سماج کی چڑھی←  مزید پڑھیے

عورت جاتی کے نام ۔۔ناصر خان ناصر

خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ گھر کی خواتین سمیت دنیا بھر کی صنف نازک خوشی سے پھولی پھٹی پڑتی ہیں۔ دن ڈھلا اور اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔ پھر وہی چولہا روٹی، بک جھک اور زندگی کے عذاب ۔ عورت←  مزید پڑھیے

میرا جسم میری مرضی۔۔ناصر خان ناصر

اللہ میاں کا بنایا ہوا کمپیوٹر “انسان”، خود انسان کے اپنے بنائے کمپیوٹر سے زیادہ دیر پا ہے۔ خدائی کمپیوٹر کو صرف خوراک اور پانی درکار ہے۔ اس خوراک میں کیا شامل ہو، اکثر اوقات انسان کی اپنی فطرت خود←  مزید پڑھیے

پاکستان، ہندوستان۔۔ناصر خان ناصر

دلت، جھبیل، پکهی واس، شودر، کمی، اوڈر، تیلی، مراثی، چنگڑ، نیارئیے، ملیچ، وان کٹ، چوہڑے، چمار، شہودے، بردے کوہنے، مردے شوہنے، ملنگ ملنگے، آچهوت، منگتے، سانسی، پانسے، جهانگڑ، بهنگی، بھگ منگے، فقیر، مزارعے، ہاری، مصلی، آدی واسی، نائی ، موچی،←  مزید پڑھیے

کہانی کا دکھ( دوسرا،آخری حصّہ )۔۔ناصر خان ناصر

مگر یہی بات لکهی کہانی اور بهوگی کہانی کا مشترک درد بن کر کانوں میں انڈیلا رہ جاتا۔ یہ سارے الفاظ بهی دهندلے ہو کر کهو جاتے، صرف مفہوم کی بجلیاں گونجتی کڑکتی رہ جاتیں۔۔ کہانی لکهنے والی نے کئی←  مزید پڑھیے

کہانی کا دکھ(حصّہ اوّل)۔۔ناصر خان ناصر

ایک کہانی وہ تهی جسے وہ  لکھتی  تهی اور ایک کہانی وہ تهی جس کا لکھا وہ بهوگتی تهی، دونوں کہانیاں بالکل مختلف تهیں مگر گڈ مڈ ہو ہو جاتی تهیں۔ پهر جو وہ لکهنا چاہتی تهی، اس سے لکها←  مزید پڑھیے