ناصر خان ناصر کی تحاریر

مرنے کے بعد کیا ہو گا؟- ناصر خان ناصر

اس موضوع پر نئے سرے سے ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔کسی بھی شخص کے مرنے کے بعد کاروبار دنیا ہرگز ہرگز نہیں رکتے۔ زمین سورج کے گرد اپنی بے ڈھنگی چال چلتی ہی رہتی ہے اور اپنے مدار سے←  مزید پڑھیے

چل بُلھیا/ناصر خان ناصر

خانہ کعبہ کی سنگی چار دیواریوں سے پرے اونچے میناروں کے سائے تلے چمکتے پھسلتے  سنگِ مرمر پر گدڑی بچھائے وہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ لمبی داڑھی، مہندی سے رنگی گھنگریالی دراز زلفیں، آنکھوں میں سرمے کے لمبے دنبالے، ہاتھوں←  مزید پڑھیے

مغل اعظم اور انار کلی/ناصر خان ناصر

انار کلی ایک ایسی فرضی کہانی ہے جس کا تاریخ میں ایک بھی ثبوت موجود نہیں ہے۔ امتیاز علی تاج نے یہ ڈرامہ کیا لکھا، اس کی شہرت کے ڈنکے بجنے لگے اور دھڑا دھڑ اس کہانی پر فلمیں بننے←  مزید پڑھیے

ایک سبق آموز واقعہ/ناصر خان ناصر

24 دسمبر 1914 ایک خاص دن تھا جب اس دن جنگ عظیم اول کے دوران ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی تھی۔ اس دن گویا برطانوی افواج اور بلمقابل جرمن افواج کے درمیان ایک خاموش سا ان کہا معاہدہ ہو←  مزید پڑھیے

حماقتستان/ناصر خان ناصر

پاکستان میں جبر اور ظلم کی تاریخ روز اول سے لکھی جانا شروع ہو گئی  تھی۔ اس ظلم اور بربریت کو آج تک کوئی شخص بھی لگام نہیں دے سکا۔ اس خونچگاں داستان کے ڈانڈے جس اصل حاکم ادارے سے←  مزید پڑھیے

اُداسی/ناصر خان ناصر

کبھی کبھار کی گہری اداسی ایک فطری جذبہ ہے۔ یہ زندگی کے آہنگ، رنگ ڈھنگ و ترنگ کا ایک وہ نرالا دلچسب رنگ ہے، جس سنگ ہیرے کی کنی کی طرح خوبصورت خوشی کی شعاعیں پھوٹتی ہیں۔ یہ وہ درد←  مزید پڑھیے

میرا جسم میری مرضی/ناصر خان ناصر

اللہ میاں کا بنایا ہوا کمپیوٹر “انسان”، خود انسان کے اپنے بنائے کمپیوٹر سے زیادہ دیر پا ہے۔ خدائ ٰکمپیوٹر کو صرف خوراک اور پانی درکار ہے۔اس خوراک میں کیا شامل ہو، اکثر اوقات انسان کی اپنی فطرت خود اسے←  مزید پڑھیے

برصغیر کی فلمی دوستیاں/ناصر خان ناصر

پاک و ہند کی فلمی دنیا ایک ایسی انوکھی طلسمی، روپ بہروپ کی جادوئی دنیا ہے، جس کے رنگ ڈھنگ نرالے اور خوشنما ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ نہایت مصنوعی بھی رہے ہیں۔ یہ دن کو رات دکھانے اور منوانے←  مزید پڑھیے

محبت اور خدا/ناصر خان ناصر

عشق وہ منہ زور بلا ہے جو اپنا آپ منوا کر رہتی ہے۔ اپنے منہ آپ بولتا، کفر تولتا اور محب و محبوب کو مٹی میں رولتا عشق دراصل عشق ہے ہی نہیں، اگر پھٹے ڈھول کی مانند اس کی←  مزید پڑھیے

مینا کماری(4)-ناصر خان ناصر

یہ اوئل 1967 کا زمانہ تھا۔ محترم جاں نثار اختر صاحب کی پروڈکشن “بہو بیگم” کے سیٹ پر فلم کے رائٹر ایم صادق صاحب اور فلم کے ڈائیلاک رائٹر تابش سلطان پوری صاحب محترمہ مینا کماری صاحبہ کو سین کی←  مزید پڑھیے

میناکماری(3)-ناصر خان ناصر

مینا کماری 1 اگست 1933 کو پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا اصل نام مہ جبین تھا۔ پیار کا نام چنی تھا۔ ان کے شوہر انھیں پیار سے منجو کہتے تھے اور وہ ان کو چندن کہتی تھیں۔ مینا کماری نے←  مزید پڑھیے

مینا کماری(2)-ناصر خان ناصر

گلزار صاحب مینا کماری کے بے حد نزدیک تھے۔ مینا جی نے محترم اختر الایمان صاحب اور جناب کیفی اعظمی صاحب سے اپنی شاعری میں کبھی کبھار اصلاح بھی لی تھی۔ مرنے سے قبل انھوں نے اپنی ساری شاعری جمع←  مزید پڑھیے

مینا کماری(1)-ناصر خان ناصر

فلمی دنیا نقل، جھوٹ اور فریب کی دنیا ہے۔ چالبازی، چاپلوسی اور مکر و فریب سے ہی لوگ وہاں پنپتے ہیں۔ وہاں گھڑی گھڑی ساتھ، ساتھی اور وفاداریاں بدلتی رہتی ہیں۔ قدم قدم پر لوگ دوستیاں مطلب کے لیے کرتے←  مزید پڑھیے

ناستک/ ناصر خان ناصر

ابھی ابھی میں نے یوں اپنے گیروے کپڑے اتار پھینکے ہیں جیسے مور اپنے بھاری پر جھاڑ کر اپنے بوجھ سے مکتی حاصل کر لیتا ہے تو شانتی سے جھارنے لگتا ہے۔ اشٹا نگک مارگ پر چلتے چلتے اس تاتھاگا←  مزید پڑھیے

بچپن/ناصر خان ناصر

ہمارے بچپن میں غریب گھرانوں میں چھوٹے لڑکوں کے کھیلنے کے لیے یہی کھدو ہوتا تھا۔ لڑکیوں کے لیے مائیں کپڑے کی گڑیاں سی دیتی تھیں۔ عید برات پر آنے دو آنے کی ربڑ کی گیند ملتی تھی۔ ربڑ کی←  مزید پڑھیے

کوکلا چھپاکی /ناصر خان ناصر

نئے زمانے کے ہمارے بچوں نے نہ مکھانے کھانے، نہ پھوکنے پھکانے دیکھے، گھگھو گھوڑے، کاغذ اور مٹی کے پنی لگے رنگین کھلونے، تل شکری، گجک، ریوڑیاں، بتاشے، مکھانے، دال سیو، شے، بھنی دالیں،کھیلیں، کھیلوں، دہی بھلے، گول گپے، تلونگڑیاں،←  مزید پڑھیے

گندم/ناصر خان ناصر

ہمارا صوبہ پنجاب متحدہ ہندوستان میں نہ صرف پورے ملک کے لیے اناج پیدا کیا کرتا تھا بلکہ اس کی سونا اگلتی زمینوں کی بدولت ہی ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ ملکی تقسیم کے بعد بھی ہمارا←  مزید پڑھیے

ہالووین/ناصر خان ناصر

موسم سرما کی آمد کے ساتھ ساتھ امریکہ و یورپ کے بازاروں میں طرح بہ طرح کے کاسٹیومز، کینڈیاں، مٹھائیاں اور پمپکنز یعنی پیٹھے بھاری تعداد میں بکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کئی  اسٹور تو اپنا سارا گیٹ اپ ہی←  مزید پڑھیے

“محبت اور خدا” اور عورت/ناصر خان ناصر

آج متحدہ ہندوستان کی 1940 میں بننے والی فلم “عورت” دیکھی۔ اس فلم میں “سردار اختر” صاحبہ نے ہیروئین کا کردار نہایت خوبی سے ادا کیا تھا۔ سردار اختر صاحبہ مشہور فلم ساز محبوب کی دوسری بیوی تھیں۔ محبوب صاحب←  مزید پڑھیے

ہجرت/ناصر خان ناصر

پاکستان اور بھارت کے درمیان بھٹکنے والے ادیبوں، شاعروں فنکاروں، گلوکاروں اور موسیقاروں کی ایک بہت لمبی لسٹ موجود ہے۔ یہ لوگ مسلمان ہونے کے باعث متحدہ ہندوستان چھوڑ کر مہاجر بن کر پاکستان تشریف لے آئے مگر یہاں کے←  مزید پڑھیے