میں تو چلی چین/دیوارِ چین- جانا ہمارا مسجد نیوجیا Niujieمیں(قسط5 ) -سلمیٰ اعوان

ڈھلتی شام کی دھوپ میں پھیکا پن تھا۔ کچھ ایسا ہی جو اداس کرنے والا ہو۔ پتا نہیں مجھے دوسرے ملکوں کی شامیں کیوں ہمیشہ افسردہ کرنے والی لگتی ہیں؟ چلو یہاں تو جذبات کی یہ کیفیت نہیں ہونی چاہیے تھی کہ بہت اپنوں اور پیاروں کے درمیان تھی۔ مگر بندہ اب اپنے اِن الٹے پلٹے احساسات کا کیا کرے؟

بالکونی میں بھی ہردو گھنٹے بعد کھڑے ہونا، تیز ہوائیں پھانکنا،کہیں ماٹھی،کہیں چوکھی دھوپ بھرے آسمان کو دیکھنا اوراُوپر والے سے گلے شکوے کرنا ِ میرے لئے چائے پینے جیسا ہی اہم کام ہوتا تھا۔ آج بھی یہ مشغلہ جاری تھا جب سعدیہ نے کمرے کے عقبی دروازے سے کہا ۔
‘‘آپ فوراً  تیار ہو جائیے۔نیو جیا مسلم سٹریٹNiuJie Muslim Streetچلنا ہے۔ عصر وہیں پڑھنی ہے۔ مسلمانوں کا محلہ دیکھنا ہے اور کچھ سیرسپاٹا پرانے بیجنگ کے Hutongsکا بھی کرنا ہے۔
چلو ہنسی چہرے پر پھیل گئی۔

یہاں جانے کی بڑی تمنا تھی۔ پہلے دن جب عمران شہر سے طائرانہ سا تعارف کروا رہا تھا تو جی چاہا کہوں یہاں کی قدیم ترین مسجد میں تو لے چلو۔ سر زمین پر رکھ کر کچھ مانگ لوں۔ اپنے لیے نہیں ملک کے لیے۔ پر چپکی رہی کہ جانے کتنا تھکا ہوا ہے؟دفتر سے آتے ہی تو نکل کھڑا ہوا تھا۔

تیاری میں مَیں نے کون سے گدھے گھوڑے جوتنے تھے یا ہار سنگھار کرنے تھے۔ جو کپڑے پہنے ہوئے تھی اسی پر کوٹ پہنا۔ چپہ بھر لمبے بالوں میں کنگھا چلایا۔ ہونٹوں کو ذرا سا لال کیا۔ لیجئے تیار تھے۔

باہر کی دنیا سہ پہر کی ماند ماند سی دھوپ میں بڑی حسین نظر آئی تھی۔

سڑکوں کو دیکھتی تھی ۔خدا جھوٹ نہ بلوائے صفائی ستھرائی کا وہ عالم کہ جس کے لیے کہا جاتا ہے پلیٹ نہ ملے تو دال چاول فرش پر ڈال کر کھالو۔

ذہن میں تصویریں اُبھر رہی تھیں۔عورتوں کے جتھے،مردوں کے پرے سائیکلوں پر پیڈل چلاتے۔مگر وہ تصویریں 1970,80کی دہائیوں میں اخبارات ،رسائل اور ٹی وی پر دیکھی ہوئی کہیں قصہ پارینہ تھیں،جب سائیکل چین کی تمدنی زندگی کا اشیائے خوردنی کی طرح کا ہی ایک حصّہ تھی۔سائیکل سواری کی مقبولیت کا وہ حال کہ چین صرف اپنی اسی خصوصیت کی بنا پر پوری دنیا میں مشہور تھا۔اسے Kingdom of Bicyclesکے عنوان سے جانا جاتا تھا۔

Chinese Minaret Tower and Grave Cow Street Niu Jie Islamic Mosque Beijing China For the Hui Minority Famous Moslem Mosque in China

اب حسرت سے کہتی ہوں کیا قوم ہے؟ ٹپوسی مار کرکوٹھے پر چڑھی۔بیچ کی سیڑھیاں تو اڑا کر رکھ دیں۔جیسے ہمارے ہاں سائیکل سے موٹر سائیکل ،چھوٹی گاڑی پھر کہیں بڑی گاڑی کا سفر وہ بھی نصیب سے۔یہاں افلاس سے افلاک تک کا سفر بس چار دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔

عمران بتاتا تھا ۔سائیکل آج بھی استعمال میں ہے مگر یہ مخصوص جگہوں پر پڑی ہوتی ہیں۔استعمال کرنے والا خود ہی لاک اور اَن لاک کرتا ہے۔جہاں جانا ہوتا ہے جاکر سائیکل کو وہیں چھوڑ سکتا ہے۔

سال بعد جب میرے بچے اور اُن کے بچے چین گئے تو میرے پوتوں کے پاس سائیکل کے حوالے سے بڑی دلچسپ کہانیاں تھیں۔انہوں نے رج کر سائیکلیں چلائیں۔

چینی یار لوگوں نے سابق امریکی صدر جارج بش اور ان کی بیگم کو بھی سائیکل پر چڑھا دیا تھا۔ جب وہ 1975میں بیجنگ میں امریکی سفیر تھے۔دونوں میاں بیوی تحفے کی سائیکلوں کو بیجنگ کی سڑکوں پر خوب خوب دوڑاتے پھرتے۔

یونگ دنگ من برج سے مڑے۔ اسی کے پہلو ندی ساتھ ساتھ چلی۔ دائیں طرف سائے شی کھاؤ سٹریٹ سے سیدھے مسلم محلے پہنچ گئے۔Caishi Kou سڑک سے ہی سبز گنبد کے لشکارے نظر آنا شروع ہو گئے تھے۔

نیوجیاNiujie دراصل مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔ مسجد کوئی 966 ء کے درمیان تعمیر ہوئی۔ جس کا سنگِ بنیاد عرب عالم دین ناصرالدین نے رکھا تھا۔ بیجنگ کے اِس نیوجیا Niujie علاقے میں ہوئی Huiمسلمانوں بارے چینی تاریخ دانوں اور محقق دانوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ان میں دو نام ڈاکٹر Wen Fei Wang اور Shangyi Zhollبہت اہم ہیں۔ڈاکٹر ون فی وینگ Won Fiwang ،East Asian Languages and Civilizationمیں ایک محقق اور تنقید نگار کی شہرت رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر Shangyi Zhollبھی جو نارمل یونیورسٹی آف پیکنگ کے شعبہ ریسرچ کے استاد ہیں۔The Growth and Decline of Muslim Hui پر اِن کا تحقیقی کام بہت اہمیت کا حامل ہے۔
خوبصورت علاقہ تھا۔ فلک بوس عمارتیں قطار در قطارشائستگی سے ایستادہ تھیں۔ سڑکیں کشادہ اور دکانیں سرخ و پیلے کے امتزاج سے چمک رہی تھیں۔ دو باتوں نے توجہ کھینچی تھی۔ پہلی بار مانگنے والے دو بندے یہاں اس علاقے میں نظر آئے تھے۔ بوڑھی عورت اور ادھیڑ عمر کا آدمی۔

کچھ دینے سے قبل کھڑی سوچتی رہی یہ مانگنے اور ہاتھ پھیلانے کی ریت آخر ہم مسلمانوں سے ہی کیوں جڑی ہوئی ہے؟ یہ مانگنے والے یقیناً صورت سے چینی ہی لگتے تھے۔ اِن چند دنوں میں اس قوم کا جو مجموعی مزاج اور رویہ نظر آیا تھا ۔سعدیہ اور عمران سے جو جو باتیں سُنی تھیں۔اس سے یہی جانا تھا کہ ہاتھ پھیلانا تو اس قوم نے اپنے مزاج سے ہی نکال دیا ہے۔تو پھر یہ گندی عادت مسلمانیت سے کاہے کو جڑگئی ہے۔

دوسری کا تعلق خالصتاً ہمارے نصف ایمان سے تھا۔ یعنی صفائی آدھا ایمان ہے۔ یہاں آدھے ایمان سے وابستگی کا وہ اظہار نہ تھا جسے میں کافروں کے ہاں مسلسل دیکھتی چلی آرہی تھی۔پتہ نہیں ہم مسلمان ہر معاملے میں ڈنڈیاں کیوں مارنے لگے ہیں؟

دوکانیں بڑی رنگ رنگیلی سی تھیں۔ دوکانوں کے باہر سرخ رنگ کے گول پھندنے والے ڈیکوریشن پیس جو غالباً چین کا برکت و خوشحالی کا علامتی نشان ہیں یہاں بھی یہ کم و بیش اکثر دکانوں کے ماتھوں پر جھومر کی طرح لٹکتے نظر آئے تھے۔

ایک اور چیز ہماری مسلمانیت کی تسکین کرتا جذباتی سا منظر کہ کِسی کِسی دکان کے دروازے پر کلمہ طیبہ کا چسپاں ہونا آنکھوں کی چمک بڑھانے اور قلب کو سرشار کرنے کا باعث تھا۔ سبزیاں دیکھیں۔ جہازی سائز مولیاں اور بینگن۔ اف میرے اللہ ٹبر کے لیے ایک بینگن ہی کافی ہے۔

چونکہ یہاں مسلمانوں کی خاصی بڑی تعداد ہے۔اس لیے بہترین حلال گوشت کے لیے بھی یہ علاقہ بیجنگ میں خاصی شہرت رکھتا ہے۔یہیں حلال گوشت کی قدیم ترین دُکان ہے جو کہیں 1912ء میں قائم ہوئی تھی۔ مزے کی بات یہاں بہترین چائے کی دکانیں تھیں۔ مٹھائی اور پیسٹری کی بھی۔ بند خریدا۔ 1.5 یو آن کا۔ ہائے اتنا مہنگا۔ ایک تو کمبخت ضرب تقسیم کی گندی عادت جان نہیں چھوڑتی۔

بیسن میں لُتھڑے چکن پیس دیکھ کر تو گویا منہ ہی پانی سے بھر گیا تھا۔
‘‘بھئی انہیں تو خریدنا ہے ہر صورت۔’’

یہیں ایک بڑے سے سٹور میں جائے نماز،ٹوپیاں،تسبیحاں،حجاب اور احرام وغیرہ بھی ملتے ہیں۔عمران نے ایک دکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ چاولوں کے لیے خصوصی شہرت کی حامل ہے۔

چلتے چلتے ایسا من موہنا سا منظر آنکھوں سے ٹکرایا تھا کہ جس نے رک جانے پر اصرار کیا تھا۔رکی اور پلٹ کر ایک لمبی نظر اپنی پشت پر ڈالی۔پانچ چھ دکانوں کی ایک قطار کی آرائش لاجواب تھی۔کتنی دیر کھڑی انہیں تکتی رہی ،تکتی رہی۔حتیٰ کہ سعدیہ نے آواز دی۔

لمبی ملگجی سی دیوار کے ساتھ چلتے جس کے اندر سے جھانکتے درخت پر کھلے سفید پھولوں کو مسکرا کردیکھتے اور آگے بڑھتے ہوئے ایک چھوٹے سے دروازے سے اندر داخل ہوئے۔یہ ایک انوکھا سا منظر تھا۔قدامت کے دل کش چینی فن تعمیر میں ڈوبا ہوا وہی پگوڈا نما چھجے دار شیڈ والا۔پہلی نظر میں مسجد کا تاثر ہر گز نہیں سامنے آیا تھا۔ اسلامی فن تعمیر کی بھی کوئی علامت بظاہر نظر نہیں آتی تھی۔مگر ذرا سا ہی غور کرنے پر اسی چھجے دار پگوڈا سٹائل کے نیچے عین محرابی صورت ڈیوڑھی نما راستے پر کلمہ طیبہ لکھا نظر آیا ۔تسکین کی ایک لہر رگ و پے میں دوڑی تھی۔

اس کے اندر کے مختلف حصوں کی زیارت کرنا میرے حسابوں بڑا ایمان افروز تھا کہ وہاں وہ سب کچھ تھا جسے دیکھنے کی مجھے چاہت اور تمنا تھی۔چوبی منقش ستون، محرابیں اور قرآنی آیات سے سجی دیواریں۔اس وقت شام تھی ۔اندر کی اِس خاموش شام میں اس کے حسن نے پورے ماحول کو متاثرکررکھا تھا۔

ہم نے سوچا سب سے پہلے اس کے بقیہ حصّے دیکھ لینے چائہیں۔ گو چہل پہل اور گہماگہمی والی فضا نہ تھی۔ پتہ نہیں اللہ کے گھر رونق دیکھنا کیوں اچھا لگتا ہے۔مسجد کے مردانہ اور زنانہ حصّوں کو دیکھ کر مرکزی جگہ پر جب واپس آئے دیکھا کہ صحن میں کافی لوگ تھے۔جاننے پر پتہ چلا کہ یہ تین خاندان تین ملکوں سے ہیں۔

ایک کا تعلق چین کے شہر لانچو سے تھا۔میاں بیوی اور بچہ۔ تھوڑی سی باتیں ہوئیں۔لانچو میں مسلمان کافی تعداد میں ہیں۔دنیا کی بہترین چائے کے لیے بھی یہ علاقہ خصوصی شہرت کا حامل ہے۔ دوسرا خاندان انڈونیشیا کا تھا۔ اچھے محبت والے لوگ ملنسار سے۔

تیسرا خاندان جو اس دوران نظر آیا۔ وہ ملائیشیا سے تھا۔ نوجوان لڑکا نیوی میں ملازم، سانولے رنگ کی خاتون جو اس کی شریک حیات تھی کوالالمپور میں سیکنڈری اسکول میں ریاضی کی استاد تھی۔ دو چھوٹی چھوٹی بچیاں ساتھ تھیں۔ تاہم عجیب سی بات تھی کہ بچیوں کے اجسام پر گرم کپڑے نہیں تھے۔ دونوں میاں بیوی خود اچھی طرح لپٹے لپٹائے تھے۔ گو مارچ کا آواخر تھا مگر ٹھنڈ تو خاصی تھی۔ ہواؤں میں وہ تیزی تھی جو تندی کے حساب میں جاتی ہے۔ بڑے بڑے رک سیک ساتھ تھے۔ پورے ٹوریسٹ تام جھام کے ساتھ لدے پھندے تھے۔

ایک دل گداز سی داستان بھی ساتھ تھی۔ تین دن مرکزی بیجنگ کے کسی مہنگے ہوٹل کے بعد اب کسی سستے کی تلاش میں نکلے تھے۔ پوچھتے پوچھاتے یہاں آ گئے۔ اب رہنمائی کے طالب تھے۔ داہنے ہاتھ انتظامی دفاتر کے کمرے تھے۔ عمران نے اُسے وہاں جانے اور اُن سے مشورے کا کہا۔ مرد نے بیوی کو وہیں مسجد کے پہلے داخلی دروازے کے پاس جہاں ہم سب کھڑے تھے چھوڑا اور خود کھوج کے لئے چلا گیا۔
ہم نے بھی سوچا کہ عصر کی اذان سے پہلے پہلے ہمیں مسجد کا ایک تفصیلی سا چکر لگا لینا چاہیے۔مسجد کے مختصر سے لان کے جھاڑ جھنکار نے دل کو ملال سے بھردیا۔ہائے اِسے تو سرسبز رکھنا ضروری تھا۔چلو مانا موسم کی انتہائی شدت نے اس پر اپنے اثرات چھوڑے ہوئے ہیں۔

بہرحال اِس ساری افسردہ کیفیت کو ایک طرف رکھتے ہوئے سامنے کی طرف بڑھے۔ کتب خانہ کشادہ بھی تھا اور کتابوں سے بھی بھرا ہوا تھا۔ شیشے کی بند الماریوں سے آنکھیں لڑا لڑا کر دیکھا مگر وہ یا تو چینی میں تھیں یا پھر عربی میں۔ کمرے کی فضا میں نیلگوں اور ارغوانی رنگ نمایاں تھا۔ جس کے امتزاج نے ماحول میں بے نام سی اداسی اور کچھ کچھ تاریکی کا سا احساس نمایاں کر رکھا تھا۔

عورتوں کا حصہ خاصا قابل رحم تھا۔ فائبر گلاس کے لمبے مستطیل نما سبز شیڈ کی چھت کچھ اچھا تاثر نہیں چھوڑتی تھی۔ کمرے کا سارا فرش دریاں ٹائپ غریبڑے سے قالینوں سے ڈھنپا ہوا تھا۔ ایک کمرے میں مقامی دستکاری کی چیزیں تھیں۔ کمرہ بند تھا۔ مسجد کا مردانہ حصہ پھر بھی بہت بہتر تھا۔

فضا میں اذان کی آواز گونجی ۔مگر یہ وہ تاثر پیدا نہ کر سکی جو ایک خوش الحان موذن کی رسیلی آواز کرتی ہے جو سننے والے پر جادوئی سے احساس کا تاثر چھوڑتی ہے۔ سیاہ پینٹ لمبی سیاہ شیروانی ٹائپ گوٹ پر سفید عمامہ پہنے ایک ادھیڑ عمر چینی عقب سے آیا۔ مسجد کے صحن میں کھڑا ہوا۔ چھ بندے اُسی طرح کے لباس میں آئے اور عین امام کے پیچھے اور دائیں بائیں پھیل گئے۔

اللہ اکبر کے ساتھ نماز باہر کھلے صحن میں ادا ہونے لگی۔ ہاں البتہ ایک بڑا دلچسپ سا منظر بھی دیکھنے کو ملا ۔ اقامت اور رکوع کے دوران دو تین نمازیوں کو اِدھر اُدھر بھی دیکھتے ہوئے پایا۔ 1969 ء یادوں میں ابھرا تھا جب میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں تھی اور رمضان کے آخری دنوں میں عید منانے کے لیے اپنی کلاس میٹ اور ہوسٹل میٹ ریبا کے ساتھ بار یسال سے صاحب رائے جا رہی تھی۔ سفر فیری لانچ پر تھا۔ عصر کی نماز لوگوں کو پڑھتے دیکھا تو ہنسی آئی تھی۔ تانک جھانک کا بس ایسا ہی سلسلہ جاری تھا۔

ہم ابھی وہیں تھے جب کوئی بارہ تیرہ لوگ اندر آئے۔سر پر چینی ٹوپیاں اور لمبی داڑھیاں۔یہ بیجنگ کے چینی تھے اور سب کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا۔ عمران سے جب وہ باتیں کرتے تو چینی کی بجائے انگریزی بولتے تھے۔ لہجہ گو اچھا نہ تھا تاہم بات چیت میں روانی تھی۔ انہوں نے رائے ونڈ کا ذکر کیا جس کے سالانہ اجتماع میں وہ اکثر جاتے رہتے تھے۔

ملائی خاتون کا شوہر ابھی تک نہیں آیا تھا۔ وہ اس تبلیغی گروپ سے باتیں کرنے لگی۔ گفتگو سے پتہ چلا کہ ملائیشیا اور چین کا ایک گہرا تعلق ہے۔ ملائیشیا میں چینیوں کی خاصی تعداد آباد ہے۔مسجد کے سیر سپاٹے اور لوگوں سے بات چیت میں وقت کا تو احساس ہی نہ رہا۔اب مغرب سر پر کھڑی تھی۔سوچا اِسے بھی نپٹا لیں وگرنہ قلق رہے گا کہ عین وقت نماز اللہ کے گھر سے نکل آئے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

Hutongدیکھنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔وہیں ایک ریسٹورنٹ سے ہم نے کافی لی۔چکن اور بند دونوں کا تیاپانچہ کیا۔شام گہری ہورہی تھی جب واپسی کی۔Hutongsکا سیر سپاٹا پھر کسی وقت پر اٹھا دیا تھا۔
جاری ہے

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply