چاقو زنی کے جرائم میں کمی کے لیے مفید اقدامات/فرزانہ افضل

30 اپریل 2024 بروز منگل لندن میں ایک بھیانک واقعہ پیش آیا۔ صبح سات بجے نارتھ ایسٹ لندن کے رہائشی علاقے کی پُرسکون گلیاں چیخ و پکار اور شور و ہنگامے سے گونج اٹھیں۔ ایک 36 سالہ شخص نے تلوار کے حملے سے ایک 14 سالہ نوجوان سمیت پانچ افراد کو زخمی کیا، پولیس نے اس شخص کا مقابلہ کیا اور اسے قتل کے شبے میں گرفتار کر لیا مگر 14 سالہ لڑکا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ۔ ویڈیو اور پولیس رپورٹ کے مطابق یہ شخص خمدار دھار کی سیمورائی تلوار لے کر وحشیانہ انداز میں گھوم رہا تھا ۔ اور اس نے آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں پانچ افراد پر حملہ کیا۔ پولیس کے موقع پر آ جانے کے باوجود بھی یہ شخص پاگلوں کی طرح اپنے شکار کی تلاش میں لوگوں پر حملہ کرنے کی نیت سے ادھر اُدھر بھاگ رہا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ ایک انتہائی خوفناک اور دہشت آمیز حملہ تھا۔ پولیس اس حملے کو دہشت گرد قرار نہیں دے رہی ہے، کیونکہ ابھی اس کی تفصیلی تفتیش ہونا باقی ہے۔ ملزم ہسپتال میں ہے اور زخموں کی وجہ سے پولیس کو بیان دینے سے قاصر ہے۔ لہٰذا حملے کی وجوہات مزید تفتیش کے بعد واضح ہوں گی۔

برطانیہ میں چاقو زنی کے جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے آج کے اس خوف ناک واقعہ کے بعد اس بات پر مزید زور دیا جا رہا ہے کہ چاقو اور چھریوں کی خرید و فروخت پر سخت قانون سازی ہونے کی ضروری ہے تاکہ جرائم کی شرح میں کمی آ سکے ۔

1- چھریوں کی خریداری پر عمر کی سخت پابندیاں لاگو کرنے سے نوجوانوں کو ان کے حصول سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے چاقو خریدنے کی قانونی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کرنے پر غور کیا جائے۔

2- لائسنسنگ اور رجسٹریشن کا ایک ایسا نظام نافذ کیا جائے جس کے تحت افراد کو مخصوص قسم کے چاقو خریدنے سے پہلے لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ہو۔ اس سے اتھارٹیز کو یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ چاقو کن افراد نے کن مقاصد کے لیے خریدا ہے۔

3- چھریاں اور چاقو آن لائن عام دستیاب ہیں آن لائن فروخت پر ضوابط نافذ کیے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عمر کی پابندی نافذ کی جائے اور چاقو بیچنے والی کمپنیاں بھی قانونی ہوں۔

4- چاقو خریدنے کی خواہش مند افراد کہ بیک گراؤنڈ کی جانچ ہو کہ آیا ان کا شروع سے تشدد کا پس منظر یا مجرمانہ ریکارڈ ہے یا نہیں۔ تاکہ کریمینل بیک گراؤنڈ رکھنے والوں کی شناخت میں مدد ملے۔

5- چاقو کی مخصوص قسموں پر پابندی عائد کی جانی چاہیے جو عام طور پر تشدد اور جرائم میں استعمال ہوتے ہیں جیسے مخصوص قسم کے جنگی چاقو اور سوئچ بلیڈ وغیرہ۔

6- عوام بالخصوص نوجوان افراد میں چاقو زنی کے جرائم کے خطرات اور نتائج کے بارے میں آگاہی میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ اس بات کی تعلیم اور بیداری پیدا کرنے کے لیے کمیونٹی گروپوں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کیا جانا چاہیے۔

7- چاقو کی خریداری سے متعلق قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے اور غیر قانونی فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ چاقو زنی کی بیشتر وارداتوں میں کچن کی چھریاں استعمال کی جاتی ہیں ۔ چاہے وہ واقعات پبلک میں ہوئے ہوں یا گھر کے بند دروازوں کے پیچھے گھریلو تشدد میں۔ برطانیہ میں قانونی طور پر تین انچ کا فولڈنگ چاقو پبلک میں لے جانے کی اجازت ہے جس کی لمبائی 7.62 سینٹی میٹر یا اس سے کم ہو . اس بات کا علم ہونا بھی ضروری ہے کہ لاک نائف یا فکسڈ بلیڈ نائف گھر میں رکھنا قانونی ہیں مگر پبلک میں لاک نائف لے کر گھومنا غیر قانونی ہے۔ 30 اپریل کے اس حالیہ ترین واقعہ میں سیمورائی کٹانا ( تلوار) استعمال کی گئی، یہ خمدار تلوار روایتی طریقے سے ہاتھ سے بنائی گئی ہو تو اس کو رکھنا برطانیہ میں قانونی ہے۔

حکومت آٹھ انچ یا زیادہ کے چاقو کی فروخت پر بین لگانے پر غور کر رہی ہے جو ان تین میں سے دو کیٹگریز پر پورے اترتے ہوں۔
1- باریک دھار چاقو
2- زگ زیگ دھار والی چھری
3- دو یا زیادہ سوراخوں والے بلیڈ کا چاقو یا چھری

ابھی تک یہ قانون بنا نہیں ہے مگر ممکن ہے کہ یہ قانون اس سال پاس ہو جائے۔ پولیس کو یہ مکمل اتھارٹی ہے کہ وہ قانونی طور پر خریدے گئے چاقو کو کسی پراپرٹی سے تشدد اور جرائم میں استعمال ہونے کی شک کی بنیاد پر برآمد کرے تو پولیس ان ہتھیاروں کو ضبط کر سکتی ہے بلکہ ضائع بھی کر سکتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کے تمام اقدامات کے علاوہ ان بنیادی سماجی مسائل کو حل کرنا ہے جو تشدد اور جرائم کے عوامل بنتے ہیں۔ ڈپریشن اور ذہنی صحت کی بیماریاں نوجوانوں میں بھی پھیل رہی ہیں، غم و غصہ اور غیر سماجی رویہ ان جرائم کے بڑے محرک ہیں ۔ سکولوں اور کالجوں میں غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیا جانا چاہیے، میوزک اور آرٹ کی مفت کلاسیں اور سپورٹس سرگرمیاں فراہم کی جانی چاہیے اس کے علاوہ مینٹورشپ اور رہنمائی موثر طریقے سے دی جانی چاہیے۔ بچوں کے والدین کے ساتھ اساتذہ کو ایک پر اعتماد تعلق بنانا چاہیے، اور والدین کے ساتھ مل کر ایک باہمی تعاون کے ذریعے بچوں کے مسائل کو حل کرنا چاہیے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply