نیوٹن ۔ شروع کے سال (32)۔۔وہاراامباکر

SHOPPING

نیوٹن کی پیدائش پچیس دسمبر 1642 کو ہوئی۔ والد کا انتقال چند ماہ پہلے ہو چکا تھا۔ ان کی پیدائش قبل از وقت تھی اور وہ اتنے کمزور تھے کہ پیدائش کے وقت کم ہی کسی کا خیال تھا کہ وہ چند دن سے زیادہ زندہ رہ پائیں گے ۔۔۔ لیکن وہ زندہ رہ گئے۔ اپنی والدہ کی زندگی میں وہ خوشگوار اضافہ نہ تھے۔ وہ تین سال کے تھے جب والدہ نے اپنی عمر سے دگنے اور امیر ریکٹر سے شادی کر لی۔ سوتیلے والد کو نوجوان بیوی کی ضرورت تو تھی لیکن سوتیلے بیٹے کی نہیں۔ نیوٹن کے بچپن کا لکھا نوٹ ہے، “میں نے اپنے باپ اور ماں کو دھمکی دی تھی کہ میں ان کے گھر کو آگ لگا دوں گا”۔ اس پر جواب کیا آیا؟ معلوم نہیں لیکن نیوٹن کو ان کی والدہ نے نانی کے حوالے کر دیا گیا۔ ان کی ڈائری میں نانی کے لئے محبت کے الفاظ تو نہیں لیکن کم از کم آگ لگانے جیسی دھمکی بھی نہیں۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تعلقات مناسب رہے۔

دس سال کے تھے تو سوتیلے باپ کا انتقال ہو گیا اور وہ دوبارہ والدہ کے پاس چلے گئے۔ اب تک والدہ کے دوسرے شادی سے تین بچے ہو چکے تھے۔ دو سال بعد انہیں پڑھنے کے لئے بورڈنگ سکول بھیج دیا گیا۔ یہاں ایک کیمسٹ ولیم کلارک کے گھر رہے جو ان کے تجسس اور تجربات کے قدردان تھے۔ ان سے کونڈی اور ڈنڈے سے کیمیکل پیسنا سیکھے۔ پتنگ سے لالٹین لٹکا کر اڑانے سے لے کر ہوا میں چھلانگ لگا کر طوفان کی رفتار ناپنے کے تجربات کرتے رہے۔ ولیم کلارک سے اچھے تعلقات رہے لیکن سکول مختلف کہانی تھا۔ بچے انہیں تنگ کیا کرتے تھے۔ ان کی ایسی ہی تخلیقی، تنہا اور ناخوش زندگی بڑے ہو کر بھی رہی۔

سترہ برس کی عمر میں سکول سے گھر آ گئے کہ زمین پر کام کریں لیکن کبھی اچھے کسان نہ بن سکے۔ ضروری نہیں کہ اگر آپ سیاروں کو مدار کیلکولیٹ کرنے میں جینئیس ہیں تو مکئی اگانے میں بھی ماہر ہوں۔ اور بڑی چیز یہ کہ انہیں پرواہ بھی نہیں تھی۔ ندی میں بہتے پانی میں پہیہ بنا دینے جیسے کام بھیڑ چرانے سے زیادہ لطف دیتے تھے۔ خوش قسمتی سے ان کے ماموں اور پرانے سکول ماسٹر نے مداخلت کی جو نیوٹن کا جینئیس پہچانتے تھے۔ انہیں کیمبرج کے ٹرینیٹی کالج 1661 میں بھجوا دیا گیا۔ یہاں ان کا واسطہ اس وقت کی سائنسی فکر سے پڑا۔ وہ فکر جس کے خلاف انہوں نے بغاوت کرنی تھی اور اسے الٹا دینا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیمبرج نیوٹن کا گھر پینتیس سال سے زیادہ عرصے کے لئے رہا۔ یہ نیوٹن کے فکری انقلاب کا گراونڈ زیرو تھا۔ اس کو اکثر ایسے دکھایا جاتا ہے کہ انہیں مختلف وقتوں میں مختلف چیزوں کی آمد ہوئی لیکن یہ ایک طویل جدوجہد ہے۔ جیسے خندق میں بیٹھ کر لڑی جانے والی جنگ۔ ایک کے بعد اگلی فکری جھڑپ جس میں آہستہ آہستہ علاقے پر قبضہ کیا جاتا رہا اور اس کے لئے بڑی قیمت دینا پڑی جو وقت اور توانائی کی صورت میں تھی۔ کوئی بھی کمتر جینئیس یا کمتر جنونی اس میں کامیاب نہ ہو پاتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیوٹن جب کیمبرج گئے تو گھر سے ملنے والی رقم کافی نہیں تھی۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے سوشل سٹرکچر کے سب سے نچلے زینے پر تھے۔ انہوں امیر طلبا کے بوٹ پالش کرنے ہوتے تھے، بال بنانے ہوتے تھے، ان کو کھانا اور مشروبات پہنچانے ہوتے تھے۔ ان کے کمرے صاف کرنے ہوتے تھے۔ تا کہ وہ کھانا کھا سکیں اور پڑھ سکیں۔ یہ آسان نہیں ہو گا کیونکہ یہی وہ لڑکے تھے جو نیوٹن کو تنگ بھی کیا کرتے تھے۔

گلیلیو کی کتاب کو 1661 میں لکھے گئے بیس سال سے زائد ہو چکے تھے لیکن وہ کیمبرج کے نصاب تک نہیں پہنچی تھی۔ ابھی ارسطو کی کاسمولوجی، ارسطو کے ایتھکس، ارسطو کی منطق، ارسطو کا فلسفہ، ارسطو کی فزکس، ارسطو کا علم البیان پڑھائے جاتے تھے۔ انہوں نے نصاب کی تمام کتابیں پڑھیں لیکن کوئی بھی ختم نہیں کی۔ گلیلیو کی طرح انہیں بھی ان سے اختلاف تھا۔

نیوٹن نے اس تعلیم سے جو چیز سیکھی، وہ فطرت کے سوالات کے بارے میں منظم اور مربوط فکر کا طریقہ تھا۔ اور ساتھ ان کی بے مثال لگن تھی۔ نیوٹن کو چونکہ زندگی میں کوئی اور دلچسپی نہیں تھی، اس لئے وہ ہفتے میں سات دن اور روز سولہ سے اٹھارہ گھنٹے کام کر سکتے تھے اور ان کی یہ عادت کئی دہائیوں تک رہی۔

نیوٹن نے ارسطو کے جوابات کو مسترد کر کے نئی فکر کی طرف طویل سفر کا آغاز 1664 میں کیا۔ ان کے نوٹس ہمیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا سٹڈی کا پروگرام خود بنایا جس میں یورپ کے جدید مفکرین کے بڑے نام تھے جن میں کیپلر، گلیلیو، ڈیکارٹ بھی تھے۔ نیوٹن اگرچہ بہت امتیازی نمبروں سے نہیں لیکن 1665 میں گریجویشن کر چکے تھے اور سکالر کا ٹائٹل مل گیا تھا اور ساتھ چار سال کے لئے پڑھنے کے لئے سکالرشپ بھی۔

اور پھر 1665 کی گرمیوں میں طاعون کی زبردست وبا آئی۔ کیمبرج کا تعلیمی ادارہ بند ہو گیا اور یہ 1667 کی بہار تک نہ کھلا۔ نیوٹن اپنی والدہ کے گھر چلے گئے اور وہاں تنہائی میں کام کرنے لگے۔ کچھ مورخین 1666 کو نیوٹن کا بڑا سال کہتے ہیں جہاں انہوں نے کیلکولس ایجاد کیا، حرکت کے قوانین معلوم کئے اور سیب گرتے دیکھ کر گریویٹی کا قانون دریافت کیا۔ اس سال انہوں نے بہت کچھ کیا ہو گا لیکن یہ ایسے بالکل بھی نہیں ہوا۔

گریویٹی کی یونیورسل تھیوری ایک آئیڈیا نہیں تھا جو اچانک آ جاتا۔ یہ ایک بڑی باڈی آف ورک تھی جو ایک نئی سائنسی روایت کی بنیاد بنی۔ اس سے زیادہ یہ کہ نیوٹن اور سیب کی کہانی سائنس کے طلبا کے لئے مضر ہے۔ اس سے یوں ظاہر ہوتا ہے جیسے سائنس میں ترقی اچانک مل جانے والی بڑی بصیرت سے ہوتی ہے۔ جیسے کسی کے سر پر کوئی شے لگے اور وہ موسم کا حال بتانے لگے۔ نیوٹن کے بڑھنے کے لئے ان کے سر پر کئی اشیا لگیں (نہیں، سیب یا ڈنڈا نہیں) اور کئی برسوں کی ذہنی مشقت کے بعد وہ ان خیالات کو پراسس کر کے ان کو ٹھیک سمجھنے کے قابل ہوئے۔

اور یہ آسان کام نہیں، تکلیف دہ ہے۔ تاہم تکلیف تو فٹبال کھیلتے وقت بھی ہوتی ہے اور یہ اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک آپ کو تکلیف کھیل سے زیادہ پسند نہ ہو۔

SHOPPING

(جاری ہے)

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *