• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تو اور تیری شاہی نوکری جلتے تندور میں۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

تو اور تیری شاہی نوکری جلتے تندور میں۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

خطا ہو گئی تھی تو سزا بھی ملنا تھی۔ قادر الکلام  تھے  مافی الضمیر عمدہ سے عمدہ انداز میں  بیان کر کے دوسروں کی  طرح  معافی کا پروانہ لے سکتے تھے۔ دل مگر مانا نہیں۔۔ ارشاد ہوا کوئی وجہ ہے تو بتاؤ۔  کوئی  معقول  وجہ تھی نہیں ۔خاموشی نے سب کہہ دیا ۔ دربار ِ رسالت سے مقاطع یعنی سوشل بائیکاٹ  کی سزا  تا اطلاع ثانی سنا دی گئی ۔  یہاں سے ایمان و سرفروشی کی ایک عجیب داستان شروع ہوتی ہے ۔ آیئے آپ بھی سنیں ۔

واقعہ ہے جلیل القدر صحابی رسول  حضرت کعب بن مالکؓ کا ۔آپ  غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوسکے۔ جن دنوں رسول اللہ  ﷺ  غزوہ تبوک کے لئےنکلےوہ  شدید گرمی کے دن تھے ۔  ویران صحرا کا لمبا سفراور بڑے لشکر سے سامنا تھا ۔ آپ ﷺ نے چلنے سے قبل  حالات  کی نزاکت اور اہمیت اچھی طرح  سب پر واضح کر دی تھی تاکہ خوب تیاری کر لیں اور کوئی عذر باقی نہ رہے، لشکر روانہ ہوا ۔

حضرت کعب   ؓکے پا س سواری  اچھی تھی۔  خیال تھا کہ وہ  کسی وقت بھی قافلے سے جا ملیں گے۔پر صرف ارادے  ہی باندھتے رہے۔   لشکر  رواں رہا اور چلتے چلتے تبوک پہنچ گیا لیکن کعب شامل نہ ہوسکے۔

پھر وہ دن آگیا جب غزوہ کے بعد واپسی ہوئی۔ مسجد نبوی میں دربار لگا ۔پیچھے رہ جانے والے آنے لگے اور  عذر بیان کرکے معافی کے طلب گار ہوئے ۔رحمۃ للعالمین  ﷺ نے سب کو معاف فرمایا اور دوبارہ بیعت لی ۔

کعبؓ کی باری آئی ۔ ارشاد ہوا کیا کہتے ہو ۔ عرض کیا کوئی عذر نہیں ۔فرمایا جاؤ پھر ۔ جب  اللہ تعالیٰ تمہارے بارہ میں کوئی فیصلہ کرے گا تب ہی  بات کریں گے۔اس لمحے کے بعد گویا کائنات ہی پلٹ  گئی ۔ لوگ کترانے لگے۔ زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہو گئی ۔ اپنے بیگانے ہوگئے ۔ کوئی بات کرنے کا بھی  روا دا رنہ تھا ۔

کعب پڑھے لکھے  اور معروف آدمی تھے مقاطع کی خبر دور  دورتک جا پہنچی ۔پھر ایک دن   شام سے بادشاہ غسان کا خط لے کر سفیر  آپ کی خدمت میں  آ پہنچا۔لکھا تھا معلوم ہو اہے کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔ تم ایسے ذلت آمیز سلوک کے حقدار نہیں ۔ ہمارے پا س آجاؤ کہ ہم عزت افزائی کریں گے۔ اعلیٰ منصب اور  شرف سے نوازیں گے۔ ظاہر ہے شرط صرف ایک ہی تھی کہ  والی ریاست مدینہ سید ولد آدم ﷺ سے لا تعلقی کرکے آجاؤ۔ خط دیکھ کر کعب ؓ کے  تن بدن میں آگ لگ گئی ۔ قریب جلتے تندور کے پا س گئے  ۔ خط اس جلتے تندور میں ڈالا اور سفیر کو کہہ دیا تمہارے بادشاہ کو  اور تمہاری  خلعت شاہی  کو میرا یہی جواب ہے ۔

ہر زمانے میں شمع ایمان  کی حفاظت کی  خاطر جان ہتھیلی پر رکھ کر چلنے  واے  کعب  جیسے دیوانوں کو ایوانوں کی چمک کب خیرہ کر سکی۔  لاشے سمیٹتے اور قبرستان بھرتے رہے پر  ایمان کی دولت انہوں نے کبھی رہن نہ رکھی۔ ہر حاکم ِ’’شام ‘‘کو   زبانِ حال وقال سے یہی پیغام دیتے رہے کہ تمہارے ناپاک دماغ میں یہ  بےہودہ سوچ  آئی بھی کیسے کہ  ہمیں سید ولد آدم ﷺ سے جدا کر پاؤ گے۔ایمان کے بدلے  ملنے والے کسی لالچ کسی عہدے کسی شاہی خلعت کی وقعت ایک مری ہوئی مکھی جتنی بھی نہیں۔جو جواب کعب نے بادشاہ  غسان کو دیا تھا وہی جواب  آج بھی ہے ۔  پربادشاہ کا سر غرور نہیں جانتا کہ جب ایمان کھڑا ہوتا ہے تو پھر وہ فرعون سے بھی لڑ جاتا ہے۔تب  چند  غریب دیہاڑی دار شعبدہ باز بھی اتنی طاقت  پا جاتے ہیں کہ فرعون جیسے خود ساختہ خداؤں کی  آنکھو ں میں آنکھیں ڈال کر  کہہ دیتے ہیں۔ جا   توجو کر سکتا ہے کر  لے ہم تو ایمان لےآئے ۔ پتا نہیں دور حاضر میں پھر لوگوں کو بادشاہ غسان بننے کا شوق کیوں ہے؟

Avatar
Ch. Naeem Ahmad Bajwa
محبت کے قبیلہ سے تعلق رکھنے والا راہ حق کا اایک فقیر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *