• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ناقابل اشاعت کالم ۔ ریپ میں عورت کا قصور۔۔ذیشان نور خلجی

ناقابل اشاعت کالم ۔ ریپ میں عورت کا قصور۔۔ذیشان نور خلجی

اندازہ تو تھا کہ کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے لیکن اتنا زیادہ ہو جائے گا اس کا اندازہ تب ہوا جب ایڈیٹر صاحب نے اس پر ‘ناقابل اشاعت’ کا ٹھپہ لگایا۔
ویسے آپس کی بات ہے اگر یہ کالم ناقابل اشاعت ہے تو پھر میرا ماننا ہے دراصل یہ معاشرہ ہی اتنا بدبودار اور غلیظ ہو چکا ہے کہ ہم اس مقدس معاشرے کی خصوصیات کسی کے سامنے بیان کرنے کی جرأت ہی نہیں رکھتے۔

ریپ کیوں ہوتا ہے؟ اس کے محرکات کیا ہیں؟ پاکستانی عورتوں کا اس میں کیا کردار ہے جو جنسی ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی ہیں؟ اس طرح کے چند سوالات آج کے کالم میں زیر بحث آئیں گی۔
سب سے پہلے تو یہ نوٹ کر لیں کہ پاکستان میں ہر عورت جنسی تشدد کا نشانہ نہیں بنتی۔ یہ مٹھی بھر عورتوں کا گروہ ہے جنہیں مردوں کی طرف سے اس طرح کے شغل کا سامنا رہتا ہے۔ کیوں؟ اس کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں جن کا تعلق سراسر انہی عورتوں سے ہے۔

سب سے پہلے تو یہ کہ یہ عورتیں آزاد خیال ہوتی ہیں۔ ان کا نام بھی کوئی رومانوی قسم کا ہوتا ہے جیسا کہ شبنم وغیرہ۔ اب اگر یہاں ان کا نام کوئی اصغری یا اکبری ٹائپ ہوتا تو کسی مرد کے جذبات، اگر ان کو دیکھ کر جاگ بھی گئے ہوتے تو کم از کم ان کا نام جان کر لازمی سو جانے تھے۔ اب آپ ہی بتائیں اس میں قصور کس کا ہوا؟ پوتر و پاک مرد کا جو اس کی طرف نظر بھر بھر کر دیکھ رہا تھا یا اس بے حیاء عورت کا؟

اور اس سے بھی پہلے، میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پہلا قصور ہی عورت کا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ وہ عورت کے روپ میں پیدا ہی کیوں ہوئی؟ وہ مرد بھی تو پیدا ہو سکتی تھی۔ اب یہاں کچھ نا خلف پکار اٹھیں گے کہ جی، یہاں تو بچوں کو کوئی نہیں بخشتا۔ بلکہ بے چارے گدھوں کا بھی منہ کالا کیا جاتا ہے۔ تو ان کے حضور صرف اتنا عرض کروں گا کہ یہ سب لہو گرم رکھنے کے بہانے ہیں۔ ورنہ ایک نازک اندام حسینہ کے ہوتے ہوئے کون کافر بچوں اور گدھوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھتا ہے۔ اب اہل دانش کو خود اندازہ کر لینا چاہئیے کہ مرد کا کسی بچے یا جانور سے فائدہ حاصل کرنا، دراصل اس میں بھی عورت کا ہی قصور ہے۔ کیوں کہ وہ آسانی سے میسر آ جاتی اور مرد کے سکون کا سامان کرتی تو یہ بھلا کیوں ان معصوموں کے ساتھ منہ کالا کرتا۔ اب بے سکونی اور ہیجان میں تو کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے نا۔

اس کے علاوہ عامہ کی رائے میں یہ عورتیں عموماً عزت دار گھرانوں سے تعلق نہیں رکھتیں۔ یہاں میں حاجی صاحبان سے تھوڑا اختلاف کروں گا۔ میرے خیال میں یہ بھی عزت دار گھرانوں سے ہی تعلق رکھتی ہیں یا پھر جو اپنے تئیں عزت دار بنے ہوئے ہیں انہیں اندازہ ہی نہیں کہ ان کی عزت کہاں سے چرائی جا رہی ہے کیوں کہ وہ خود جو دوسروں کی عزت جانچنے پر معمور ہوئے بیٹھے ہیں تو پھر اپنی عزت کا خیال کیسے رکھیں۔ سو ان کے حضور صرف یہی عرض کروں گا۔ عزت مآب جناب عالی ! ایسا کیجئے دوسروں کو چھوڑیں پہلے اپنے گھر کی خبر لیں اور اپنے نکے مضبوط کریں۔

اب چونکہ یہ طے ہو چکا کہ یہ عورتیں عزت دار خاندان سے بھی نہیں ہوتیں لہذا یہ اکیلے ہی منہ اٹھائے، جب دل کیا، جہاں دل کیا، نکل کھڑی ہوتی ہیں۔ نہ دن کا وقت دیکھتی ہیں نہ رات کا۔ اب خود اندازہ لگائیں۔ رات کا سمے ہے ایک عورت اکیلے کہیں جا رہی ہے۔ کوئی با حیاء مرد اسے اکیلا پا کر بھلا کیسے اپنے جذبات پر قابو رکھ سکتا ہے؟ آپ ہی بتائیں ایک شیر جب کسی جوان اور لذیذ قسم کی جل تھل کرتی بکری کو دیکھے گا تو کیا اس کا شکار نہیں کرے گا؟ ظاہری سی بات ہے کرے گا۔ اب اگر وہ بکری واویلا کرے کہ شیر نے مجھے چیر کے رکھ دیا اور لیر و لیر کر دیا تو اس میں بکری کا ہی قصور ہے نا۔ نہ وہ اتنے پیارے بدن کے ساتھ شیر کے سامنے آتی، نہ ہی شیر اس کی دعوت اڑاتا۔

اور یہاں تو اس طرح کی بکریوں نے لباس بھی ایسے بے ہودہ قسم کے پہنے ہوتے ہیں کہ شیر تو شیر، کتے بھی ان پر پل پڑتے ہیں۔ بلکہ کتے تو ایک طرف رہے، میرا مشاہدہ ہے کہ کتے کے بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ اور جن بے چاروں، حسرت کے ماروں سے کچھ نہیں بن پڑتا وہ اس طرح سے رالیں ٹپکاتے ہیں جیسے کوئی نومولود ماں کا دودھ پینے کے بعد رالیں بہاتا ہے۔ شاید انہیں اس عورت کو دیکھ کر اپنی ماں کی یاد آ جاتی ہے۔ اور یہ کچھ غلط بھی تو نہیں، کیوں کہ اس فاحشہ عورت اور ان کی ماں کی جسمانی خصوصیات میں رتی برابر فرق نہیں ہوتا۔ یقین مانیں ہو بہو وہی چھاتیاں ہوتی ہیں جو ان کی ماؤں کے جسموں میں پیوست ہوتی ہیں۔

دوستو ! کچھ زیادہ ہی ہوگیا ہے۔ چلیں، بات کو سمیٹتا ہوں۔ سچ یہ ہے کہ میں ایک بے حیاء اور بے شرم قسم کا مرد ہوں اسی لئے وکٹم بلیمنگ کر رہا ہوں۔ اگر مجھ میں ذرا برابر بھی شرم ہوتی تو میں یہ سب کچھ نہ کہتا کیوں کہ مجھے شرم دلانے کے لئے تو آج کی یہی خبر کافی ہے۔

بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ میں ایک با اثر شخص نے گھر میں گھس کر 12 سالہ نابالغ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
یہ خبر پڑھ کر مجھے اپنے خیالات پر تھوڑی سی شرم محسوس ہو رہی ہے اور میں سامنے رکھے پانی کے گلاس میں ڈوب کر مرنے لگا ہوں۔ لیکن اگر آپ مہا بے شرم ہیں تو یہ تھوڑا سا، صاف ستھرا پانی آپ کا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ لہذا ایسا کیجیے، باہر کا راستہ لیں اور کسی ابلتے گٹر کی تلاش کریں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *