جونکیں۔۔روبینہ فیصل

پہلے جن باتوں پر دل کڑھتا تھا اب قہقے لگانے کو دل کرتا ہے ۔
ایک کہانی سنیں ایک 27,28سال کی گوری کالی ( mix breed) لڑکی میری لائبریری میں دوست بنی ۔ ان لوگوں کو ہم بہت پر کشش اور خو بصورت لگتے ہیں ، بات اس کی اداسی اور  میری تعریف( ہر انسان سے کچھ زیادہ ہی میری کمزوری ) سے شروع ہو ئی اور ہماری دوستی تک جا پہنچی ۔اس لڑکی کا نام لورین ہے۔ میں ایک نثری شاعری کی کتاب پڑھ رہی تھی جو کینیڈا امریکہ میں ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہے ۔ میں اس کی مقبولیت کا راز پانے کے لئے اسے پڑھ رہی تھی کیونکہ ہمارے ہاں تو ایسی شاعری کو شاعری ہی نہیں کہا جاتا اور وہ شاعرہ یہاں اسی طرح کی غیرشاعری کر کے لاکھوں ڈالر کما رہی ہے ۔
روپی کور کا محبوب اسے چھوڑ کر خسارے میں رہا ہو گا ، کیوں کہ ایسے کم بخت ایک چھوڑ دوسری کے پیچھے دوڑ میں ہی ساری زندگی برباد کر دیتے ہیں اور پھر بھی خالی ہاتھ ہی رہتے ہیں۔گھاٹا ہی گھاٹا ۔۔نہ محبت ملتی ہے نہ کوئی اور فائدہ مگر دوسری طرف اس لڑکی نے اپنے دل کے نقصان کو پیسے کے فائدے میں کیسے تبدیل کیا ۔ تو سوچیئے اگر کو ئی کسی کا دل توڑ جائے تو دل توڑنے والے پر لعنت ڈالیں کیونکہ ایسے مطلبی لوگ آپ کی زندگی کے مزید ایک لمحے کے بھی مستحق نہیں ہو تے اور ایسے بزنس پر غور و غوض کریں

تو بات ہو رہی تھی ، کتاب کی ، لورین کی اور میری بے وقت ہنسی کی ۔میری تعریف اور کتاب دیکھنے کی خواہش( جو میں پڑھ رہی تھی) کے بعد وہ اپنی کہانی بغیر کسی فل سٹاپ یا کومے کے سنانے لگی ۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ اسے ایک تیس پینتس سال کے آدمی نے دھوکہ دیا ہے ۔ وہ اس کی گرل فرینڈ کی حیثیت سے رہ رہی تھی  اور وہ اس بات پر حیران تھی کہ وہ عین اسی وقت ایک عدد منگتیر کو بھی رکھے ہو ئے تھا ۔لورین کا دل بھرا پڑا تھا ، شاید  وہ اپنی ہو نے والی اس بے عزتی کو اپنے کسی قریبی دوست یا والدین کے ساتھ شئیر نہیں کر سکتی تھی یا اس نے شاید  میرے چہرے پر ازلی مہربانی اور اپنا ئیت محسوس کر لی تھی اسی لئے پہلی ہی ملاقات میں اپنا دل میرے سامنے کھول کر رکھ دیا ۔ اپنے موبائل فون کو میرے آگے کھسکاتے ہوئے ٹیکسٹ میسج کی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی :
“یہ دیکھو ، جس وقت یہ انسان اپنی اسی منگتیرکے ساتھ شادی کر رہا تھا ، عین اسی وقت مجھے یہ محبت کے پیغامات بھیج رہا تھا “۔
وہ مجھ سے پو چھ رہی تھی “کیا کوئی اتنا جھوٹا اور منافق بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی وقت پر دو عورتوں کو بے وقوف بنا سکے؟ “
میں نے کہا” پہلے یہ بتاؤ کہ تمھیں اس کے دھوکے کا کیسے پتہ چلا”؟ بڑی معصومیت سے کہتی :
“فیس بک سے( سبحان اللہ میں تو آگے ہی کہتی تھی ، محلے کی مائی کا کام اب فیس بک کرتی ہے ) ۔

  یہ بھی پڑھیں  سو لفظوں کی کہانی” بیٹی”۔۔مدثر ظفر

جب اس عورت نے جس کے ساتھ اس نے شادی کی تھی اپنی تصویریں وال پر لگائیں تو ہمارے کسی مشترکہ دوست کی نظر پڑ گئی، تو جب میں نے پو چھا تو ڈھٹائی سے بولا کہ ہاں میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا ، یہ سب ایسے ایسے ہے اور یہ میری منگتیر ہے اور جتنے سال بتائے وہ اتنے ہی سال تھے ، جتنے سال سے میں اس کے ساتھ relationshipمیں تھی “۔
اور بڑے چونکا دینے والے انداز سے جیسے میرے سر پر کوئی بم پھوڑ رہی ہو بولی :” روبینہ کیا کوئی انسان اتنا دھوکے باز اور جھوٹا ہو سکتا ہے ؟”
میں نے بڑے سکون سے کہا : “کیوں نہیں ہوسکتا بالکل ہو سکتا ہے ، اس میں ایسا کون سا کوئی حساب کا مشکل کلیہ شامل ہے جس کے لئے بہت  زیادہ ذہانت یا خداداد صلاحیت کا ہو نا لازمی ہے ۔ ہمارے پاکستان میں تو ایسے پھٹیچر بھرے پڑے ہیں ۔” فخر سے میرا سینہ  ذرا تن سا گیا۔
میرا سکون دیکھ کر اب حیران ہو نے کی باری اُس کی تھی ۔ میں نے جب اس کے چہرے پر حیرانی دیکھی تو سوچا ، اسے اور غشیاں دوں ۔ میں نے کہاتمھیں ایک چھوٹی سی مثال دیتی ہوں : 
” پاکستان میں ایک صوبہ سندھ ہے ، وہاں پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ایک سرکلر جاری ہوا ہے کہ:
‘ تمام پولیس آفیسرز اپنی بیویوں کی ٹھیک ٹھیک تعداد تھانے میں رپورٹ کریں ، کیونکہ جب کوئی ایک پولیس والا مر جاتا ہے تو اس کی پنشن لینے بہت سی بیوائیں اپنے اپنے نکاح نامے اٹھائے  تھانے پر ہلہ بول دیتی ہیں اور مرنے کے غم کے ساتھ ساتھ جو ان پر دھوکوں کے بم پھوٹتے ہیں تو ان سب کو سنبھا لنے کے لئے پو لیس کی نفری تھوڑی پڑ جا تی ہے ۔ اب لورین کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔
مگر ابھی بھی وہ اپنے غم کو کسی طور کم تر درجے پر رکھنے کو تیا ر نہیں تھی بولی : ‘مگر وہ مجھے اپنی soul mateکہتا تھا۔”
میں نے کہا “کسی پیار اور دوستی کی ترسی عورت کے لئے کیا اس سے عمدہ لفظ کوئی اور ہو سکتا ہے ؟ “
سوچتے ہو ئی بولی ۔۔” نہیں ۔۔اگر میں نے بھی کسی کو شادی شدہ یا منگنی شدہ ہو نے کے باوجود الو بنا نا ہو تو یہی لفظ استعمال کر وں گی۔”
میں نے اسے بات جلدی سمجھنے کی خصوصیت پر دل کھول کرمبارکباد دی ،جس سے اس کا چہرہ پہلے خوشی سے تمتمایا پھر مرجھا گیا ۔۔
میں نے کہا” اب کیا ہوا ؟ 
بولی : “لیکن ایسی ذہانت کا کیا فائدہ جس کے ہو نے کے باوجود میں دھوکہ کھا گئی اس بات پر رہ رہ کر غصہ آتا ہے اور دل کرتا ہے کہ کسی طرح وہ تین چار سال اپنی زندگی سے نکال دوں ۔”
میں نے کہا اپنی زندگی سے وہ سال تو نہیں نکال سکو گی مگراسے محبت نہیں محبت کا وہم سمجھ کر بھول جاؤ  ۔ اور اس کی قبر بنا دو ۔ اس پر کتبہ لگا دو یہاں محبت کا وہم سوتا ہے ۔ وہ ہنسنے لگی ۔۔ ہنستے ہنستے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔کہنے لگی : 
“میں پچھلے چار ماہ سے اداسی کے گھیرے میں تھی ، کبھی  وہ یاد آتا تھا ، کبھی  وہ دھوکہ یاد آتا تھا ، کبھی  اپنی بے عزتی ۔۔ کونسلنگ بھی کروائی جیسی یہاں جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کے لواحقین کی ہو تی ہے ، سائکلوجسٹ کے پاس بھی جا تی رہی ہوں ، اپنی قریبی دوست کے گلے لگ کر رو بھی چکی ہوں ۔اپنی دادی سے بھی اپنا غم بانٹ چکی ہوں ۔۔ لیکن مجھے کہنے دو آج تم سے بات کر کے مجھے لگا میں نے مردہ مکمل طور پر دفنا دیا ہے ۔”
میں نے کہا ‘تم نے چونکہ پھر میری تعریف کر دی ہے تو میں شوخی ہو کر تمھیں ایک اور پتے کی بات بتانا چاہتی ہوں ,’ ایسے لوگ زندگی میں اس طرح آتے ہیں جیسے دیہاتوں میں لوگ اپنا گندا خون صاف کر وانے کے لئے اپنے جسم پر زہریلی جونکیں چمٹا لیتے ہیں ،جو ان کا گندا خون چوس لیتی ہیں ۔۔ تو ایسے دھوکے باز اور جھوٹے لوگ بھی ایسے ہی پیراسائٹس ہو تے ہیں جو دوسروں کا گندا خون چوس کر زندہ ہو تے ہیں ۔ ان کی زندگی کی بقا اور خوشی کا پیمانہ ہی یہی ہے ۔ سو ان بیچاروں کو بھی معاف کر دو اور سوچو تمھارا گندا خون صاف ہو گیا ۔۔ ایک نئی زندگی شروع کر و، مگر یہ سمجھ کر کہ اب کوئی جونک تم سے خود سے نہیں آچمٹے گی بلکہ تمھاری مرضی ہو گی تو چمٹے گی ۔۔ اپنے دل کے دروازے اب سوچ سمجھ کر کھولنا ۔۔۔ ورنہ ایسی ہی جونکوں کی “زندگی “کا سبب بنتی رہو گی اور تمھیں ایک زندگی میں ایک ہی جونک کافی ہے”۔
وہ ہنسنے لگی ، میں نے اسے روپی کور کی کتاب تحفے میں دے دی ، لورین بولی “یہ تو بیس ڈالر کی ہے’.
میں نے کہا مگر میری طرف سے تمھیں تحفہ ہے ، جونکوں سے بچنے کے باقی طریقے اس کتاب میں ہیں ۔تمھیں ابھی اور بہت جینا ہے اورمیں منیرنیازی کو یاد کر تے ہو ئی بولی : “زندگی کے اس دریا میں ایک جونک پار کر ؤ تو دوسری تیار کھڑی ملتی ہے 
.پھر میں نے اس سے اجازت لی کہ”: کیا میں اس کے اس دل شکن تجربے کو اپنے اردو قارئین کے لئے کالم کا حصہ بنا سکتی ہوں اور کیا اس کے لئے اپنی زبان میں نظمیں لکھ سکتی ہوں ۔تاکہ دیسی عورتوں کو پتہ چلے کہ خوابوں کی دنیا کہیں بھی بر باد ہو سکتی ہے “.
اس نے خوشی خوشی اجازت دی اور کہا “میں ان نظموں کو انگلش میں ترجمعہ بھی کروں گی تاکہ کینیڈین، امریکن عورتوں کو بھی پتہ چلے کہ ان کے ساتھ ہو نے والے دھوکوں سے کہیں بڑے دھوکے دنیا کے دوسرے کنارے پر ہو رہے ہیں اور زندگی پھر بھی رواں دواں رہتی ہے جیسے کسی کے مر نے کے بعد ۔”

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *