وہارا امباکر کی تحاریر

دنیا کی وضاحت ، سائنس کا سفر ۔۔۔وہاراامباکر

قدیم یونان کے دانشوروں سے جدید دنیا کے سائنسدانوں تک، ایک بڑا طویل سفر ہے۔ جب ہم اس کی تاریخ پڑھتے ہیں تو ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے۔ کیوں؟ آخر یہ کام کیا کیوں جاتا رہا ہے؟ آخر وہ←  مزید پڑھیے

پاپ کارن۔۔وہارا امباکر

دھماکہ کسی بھی طرح کا ہو، اچھی چیز نہیں سمجھی جاتی لیکن کچن میں خشک مکئی کے دانوں میں ہوتے چھوٹے چھوٹے دھماکوں کی بات فرق ہے۔ سخت خول والا ہر چھوٹا سے دانہ بہت سی کاربوہائیڈریٹ، پروٹین، آئرن اور←  مزید پڑھیے

مُور کا قانون۔۔وہاراامباکر

“بہت سے لوگ بہت بار یہ پیشگوئی کرتے رہے ہیں کہ یہ سب ایسے نہیں جاری رہ سکتا اور ہر ایک نے اس کی الگ الگ وجوہات بتائیں۔ ان سب میں یہ چیز مشترک رہی ہے کہ یہ سب غلط←  مزید پڑھیے

سونا، گہرا ترین مقام، بھوت اور آفاقی تصادم۔۔۔وہارا امباکر

انسان کی سونے کی چاہت پرانی ہے اور اس کا سب سے بڑا گڑھ جنوبی افریقہ کا شہر جوہانسبرگ ہے۔ اس شہر کا دوسرا نام ایگولی ہے، جس کے معنی سونے کے شہر کے ہیں۔ اس کے ساتھ وٹواٹرسٹرینڈ آرک←  مزید پڑھیے

بنگلہ دیش ۔ آزادی سے ترقی تک (قسط 8)۔۔۔وہاراامباکر

بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان چٹاگانگ کے ریڈیو پر 26 مارچ 1971 میں کیا گیا تھا۔ اس سے دو روز بعد یہ اعلان کیا گیا کہ میجر ضیا نے نئی حکومت بنا لی ہے جس میں صدر کا عہدہ←  مزید پڑھیے

بنگلہ دیش ۔ جنگ (قسط 7) ۔۔وہارا امباکر

مشرقی پاکستان میں 1970 میں اپوزیشن کی طاقتور تحریک ابھری۔ 1971 کی خانہ جنگی میں کئی پیراملٹری گروپ ایک دوسرے سے بھی لڑتے رہے اور دہشتگردی میں بھی ملوث رہے۔ اس میں دیہی علاقوں سے ماوٴاسٹ گروپ بھی تھے۔ ان←  مزید پڑھیے

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک ۔ طوفان (قسط6) ۔۔وہاراامباکر

مشرقی پاکستان میں 12 نومبر 1970 کو ایک سائیکلون ٹکرایا۔ اس نے آٹھ ہزار مربع میل کے علاقے پر تباہی مچائی۔ یہ اس علاقے میں صدیوں بعد آنے والی اتنی بڑی قدرتی آفت تھی۔ ڈھائی لاکھ لوگ اس میں لقمہ←  مزید پڑھیے

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک ۔ ملٹری (قسط5) ۔۔وہارا امباکر

تقسیمِ ہندوستان میں برٹش انڈین آرمی کا بھی بٹوارہ ہوا۔ جنگِ آزادی میں کردار کی وجہ سے بنگالی فوج کا قابلِ ذکر حصہ نہیں تھے۔ برٹش جنرل کی مارشل ریس کی نسل پرست پالیسی کی وجہ سے پاکستان آرمڈ فورسز←  مزید پڑھیے

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک ۔ انگریز قبضہ اور پنجابی اسٹیبلشمنٹ (قسط 4) ۔۔وہارا امباکر

برِصغیر کا بڑا علاقہ عسکری فتوحات کے ذریعے متحد کرنے والے بادشاہ چندرگپت موریا کے پوتے اشوکا تھے۔ مغلیہ دور میں اکبر اور اورنگزیب کے ادوار میں بھی بڑا علاقہ ایک حکمران تلے رہا لیکن تاریخ میں زیادہ تر یہاں←  مزید پڑھیے

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک ۔ ترقی کی دہائی (قسط 3)وہاراامباکر

پاکستان میں جمہوری روایات پنپ سکنے میں ناکامی کی ایک وجہ اس کی نازک سیکورٹی صورتحال رہی اور ایک اس کا ثقافتی یا نسلی تنوع۔ لیکن سب سے بڑی وجہ اس کی ابتدائی برسوں کی سیاست تھی جو جمہوری ڈویلپمنٹ←  مزید پڑھیے

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک ۔ ابتدائی برس (قسط 2)۔۔۔وہارا امباکر

جب اگست 1947 کو پاکستان کی پیدائش ہوئی تو اسے بہت بڑے مسائل کا سامنا تھا۔ سوا کروڑ لوگوں نے نقل مکانی کی۔ مسلمان انڈیا سے پاکستان آئے جبکہ ہندو اور سکھ آبادی نے دوسری سمت جانے کا انتخاب کیا۔←  مزید پڑھیے

بنگلہ دیش ۔ اعلانِ آزادی (قسط اول) ۔۔۔۔۔وہارا امباکر

“یہ ریڈیو بنگلہ دیش ہے۔ اب آپ خودمختار اور آزاد بنگلہ دیش کے شہری ہیں۔ تمام سننے والوں کو آزادی مبارک”۔ بنگلہ دیش میں ہر سال 26 مارچ کو عام تعطیل ہوتی ہے۔ یہ دن بنگلہ دیش کا یومِ آزادی←  مزید پڑھیے

انجام ۔۔( 13،آخری قسط) وہارا امباکر

شام میں، ترکی کی سرحد کے قریب ادلب کا علاقہ تھا، باریشا کا دیہات۔ 26 اکتوبر 2019 کو رات کی تاریکی میں آپریشن کیلا میولر جاری تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیلا میولر امریکہ سے تعلق رکھنے والی چھبیس سالہ انسانی حقوق کی←  مزید پڑھیے

پائلٹ۔۔ (قسط12) وہارا امباکر

نوٹ: اس مضمون کے کچھ حصے کمزور دل افراد کے لئے مناسب نہیں۔ عرب دنیا میں جذبات کو آگ لگا دینے والا کام مشرقی شام میں 3 جنوری 2015 کی سرد صبح کو ہوا۔ رقہ میں ایک تباہ شدہ عمارت←  مزید پڑھیے

خلافت کا قیام۔۔ (قسط11) وہاراامباکر

زیدان الجبیری، رامادی کے قریب رہنے والے ایک قبائلی راہنما تھے جن کا بھیڑیں پالنے کا بڑا فارم تھا۔ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ ان کا امریکیوں پر اعتماد کب ختم ہوا تھا۔ جب عراق پر امریکہ نے حملہ←  مزید پڑھیے

جب رقہ فتح ہوا۔۔ (قسط10)وہارا امباکر

شام کے مشرقی صوبائی دارالحکومت رقہ دریا کنارے آباد ایک تاریخی شہر ہے جہاں بیرونی حملہ آور آ کر قبضہ کرتے رہے ہیں، یونانی، رومی، فارسی، منگول، عثمانی اور دوسرے۔ اب جہادیوں کی باری تھی۔ 2013 کے موسمِ گرما میں←  مزید پڑھیے

داعش ۔ سیاہ جھنڈوں کی آمد ۔۔ (قسط9)وہارا امباکر

 ابراہیم البدری کی سپیشلائزیشن فقہ میں تھی۔ 2003 تک انکا کیرئیر خاموشی سے چل رہا تھا۔ اگر امریکہ عراق میں نہ آیا ہوتا تو ایک ناقابلِ ذکر زندگی ہوتی۔ نہ وہ افغانستان گئے۔ نہ زرقاوی کی طرح زندگی تشدد کے←  مزید پڑھیے

داعش ۔ پسِ منظر ۔۔(قسط 8)وہارا مباکر

موصل کے قریب دولت اسلامیہ فی العراق کے سربراہ ابھی اس پوزیشن پر نئے تھے۔ پچھلے کمانڈرز کے برعکس یہ جنگجو نہیں بلکہ سکالر تھے۔ اپنی پی ایچ ڈی بغداد یونیورسٹی سے کی تھی۔ ڈاکٹریٹ اسلامک لاء میں کی تھی۔←  مزید پڑھیے

تاریخِ عراق کا اِک باب ختم ہوا ۔۔(قسط 7)وہارا امباکر

عراق میں انتخابات 30 جنوری 2005 کو ہو چکے تھے۔ القاعدہ کی دھمکی کہ وہ اس دن عراق کو خون سے نہلا دیں گے، کارگر نہیں رہی تھی۔ اگرچہ الیکشن کے دن ملک بھر پولنگ سٹیشنوں پر کئے جانے والے←  مزید پڑھیے

شادی کے مہمان(قسط 6)۔۔وہارا امباکر

ساجدہ الرشاوی جب فجر کی نماز کے لئے اٹھی تھی تو اسے یقین تھا کہ یہ اس کا دنیا میں آخری دن ہے۔ علی کچھ گھنٹوں بعد اس کے پاس پہنچ گیا۔ دونوں اگلے کام کی تیاری کرنے لگے جس←  مزید پڑھیے