وہارا امباکر کی تحاریر

ایجادات کا گڑھ۔ ساتھ والا کمرہ۔۔۔۔۔وہارا امباکر

زندگی کی پیچیدگی کہاں جنم لیتی ہے؟ اچھوتے خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ زبانیں کہاں سے بدلتی ہیں؟ نئی رسمیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں؟ ایجادات کہاں سے آتی ہیں؟ ان سب کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے←  مزید پڑھیے

جاپانی کون ہیں؟۔۔۔۔وہارا امباکر

یہ سوال جاپانیوں کے اپنے بارے میں امیج اور اپنی شناخت کے لئے بڑا اہم ہے اور بہت حساس بھی۔ جاپانی یہ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ سارے جاپانی کلچرلی اور بائیولوجیکلی ایک جیسے ہیں۔ ان میں لسانی یا←  مزید پڑھیے

معدومیت کی دریافت۔۔۔۔وہارا امباکر

ڈائنوسار کے کھلونے سے کھیلنے والا چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کہ دنیا میں ایسے جاندار موجود رہے ہیں جو اب نہیں۔ چند صدیاں پہلے تک ایسا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ارسطو کے “جانوروں کی←  مزید پڑھیے

کورو، سست وائرس اور پاگل گائے ۔ کچھ نوبل انعام۔۔۔۔۔۔وہارا امباکر

آخر میں آ کر مریض چھوٹی سے چھوٹی بات پر ہنس پڑتا تھا۔ ہنس ہنس کر دہرا ہو جاتا تھا، گر پڑتا تھا۔ اس سے پہلے کی علامات سستی، سردرد، جوڑوں کا درد وغیرہ تھیں اور چلتے ہوئے بے ڈھنگی←  مزید پڑھیے

سوچ کیا ہے؟۔۔۔وہارا امباکر

جانوروں کے پاس دماغ کیوں ہے؟ اس کا جواب کار پوپر کے الفاظ میں یہ ہے کہ “زندگی مسائل کا حل تلاش کرنے کا نام ہے”۔ پوپر کے یہ الفاظ بائیولوجی کے نقطہ نظر کے عکاس ہیں، جس میں جانوروں←  مزید پڑھیے

جینیات کی ابتدا۔۔۔۔۔وہارا امباکر

رف اور آگ۔ یہ انجام ان دو سائنسدانوں کے کام کا تھا جنہوں نے جینیات کی پہلی بڑی دریافتیں کی تھیں۔ ان دونوں میں کئی چیزوں کی مماثلت تھی۔ دونوں کی موت کسی کے لئے خبر نہیں تھی، کوئی آنکھ←  مزید پڑھیے

چند پہیلیاں ۔ سوچ کی لچک۔۔۔۔۔وہارا امباکر

اگر آپ پہیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو پہلے آپ کے حل کرنے کے لئے چار سوال۔ ایک شخص کتاب پڑھ رہا ہے کہ بجلی چلی جاتی ہے۔ کمرے میں گھپ اندھیرا ہو گیا ہے لیکن وہ شخص کتاب پڑھنے←  مزید پڑھیے

سائیکل سے مریخ تک۔۔۔۔وہارا امباکر

کیرالہ کے ساحل پر مچھیروں، جھونپڑیوں، ناریل کے درختوں کے گاوٗں پر ڈاکٹر وکرم کی نظر پڑی۔ یہ تھمبا کا گاوٗں تھا جو خطِ استوا کے قریب ہے اور یہاں پر خطِ استوا کے الیکٹروجیٹ زمین سے 110 کلومیٹر اوپر←  مزید پڑھیے

درختوں کی گھڑی۔۔۔وہارا امباکر

کئی طرح کے درخت ہیں جو خزاں میں اپنے پتے گرا دیتے ہیں جبکہ بہار میں واپس سرسبز ہو جاتے ہیں۔ اس عام سے لگنے والے منظر پر جب گہرائی میں غور کریں تو یہ اپنے اندر بڑا اسرار رکھتا←  مزید پڑھیے

تین غلط سچ ۔ بچوں کی تربیت ۔۔۔۔وہارا امباکر

ٹھیس نہ لگ جائے ان آبگینوں کو۔۔۔۔ قدیم دانائی کا فقرہ ہے، “جو مارتا نہیں، وہ مضبوط کر دیتا ہے”۔ کسی کو جھٹکا لگے اور وہ ٹوٹ جائے، اس کو نازک کہتے ہیں۔ کسی کو جھٹکا لگے اور اس کو←  مزید پڑھیے

خزاں کے رنگ۔۔۔وہارا امباکر

گرمی ختم ہو رہی ہے۔ درخت اپنے سبز پتوں کو زردی میں بدلنے لگے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ تھک گئے ہیں اور موسم کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اب آرام کا وقت ہے۔ جیسے بھالو←  مزید پڑھیے

آسٹریلیا کی آبادی کیوں کم ہے؟۔۔۔۔وہارا امباکر

آسٹریلیا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے۔ انڈیا کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ اور پاکستان سے نو گنا بڑا ملک، جس کی آبادی اڑھائی کروڑ ہے۔ اتنا بڑا ملک اتنا غیر آباد←  مزید پڑھیے

چاکلیٹ ،کیمسٹری۔۔۔۔۔وہارا امباکر

ڈارک چاکلیٹ کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھیں اور کچھ دیر رکھا رہنے دیں۔ کچھ دیر کو اس کے سخت کونے زبان اور منہ میں محسوس ہوں گے۔ اس کو چبانے کا دل کرے گا لیکن نہیں، ذرا ٹھہر چائیں۔←  مزید پڑھیے

اینگکور ۔ عروج و زوال۔۔۔۔وہارا امباکر

آج سے ایک ہزار سال پہلے ایک تہذیب اپنے عروج تک پہنچی تھی۔ اس کا دارالحکومت دنیا کا سب سے بڑا اور زیادہ آبادی والا شہر تھا۔ یہ جنوب مشرقی ایشیا میں خمیر کی سلطنت کا دارالحکومت انگکور تھا۔ ان←  مزید پڑھیے

ٹرین کے سفر میں آوارہ سوچیں۔۔۔وہارا امباکر

چلتی ٹرین میں آپ کھڑکی سے باہر منظر دیکھ رہے ہیں۔ ذہن میں ایک سوال ابھرا، عام سے سوال سے نکلتی سوچوں کی زنجیر ہمیں دنیا کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتی ہے۔ آئیں، اب مل کر سوچیں۔ دنیا←  مزید پڑھیے

عیدی ۔ سائنس کی نگاہ سے۔۔۔۔وہاراامباکر

عید کا ایک مزا اور ایک روایت عیدی ہے۔ اس پر ملنے والے نئے اور کڑکتے نوٹ، جن کی اپنی ہی مہک اور آواز ہوتی ہے۔ اس کی خاص وجہ ان کا میٹیریل ہے جو کاغذ کی سب سے للچا←  مزید پڑھیے

حیاتیاتی ارتقا ۔ چند غلط فہمیاں۔۔۔۔۔۔وہارا امباکر

“جو آج حقیقت تسلیم نہیں کرتا، اس کے پاس ماضی تو ہو سکتا ہے، مستقبل نہیں” پہلی غلط فہمی ۔ ارتقا ۔ تھیوری یا فیکٹ؟ تمام جانداروں کا ایک مشترک جد سے نکل کر ایک لمبے عرصے میں زندگی کی←  مزید پڑھیے

دودھ۔۔۔وہارا امباکر

بیس کروڑ سال قبل زندگی میں ایک نئی جدت آئی۔ یہ جدت سفید سیال مادے کی تھی جس کو ماں نے اپنے بچوں کو پلانا شروع کیا۔ جانداروں کی یہ قسم ممالیہ کہلاتی ہیں ۔ پلاٹیپس، گینڈا، ہپوپوٹامس، انسان یا←  مزید پڑھیے

سمندر کی گہرائیوں میں۔۔۔۔وہارا امباکر

فروری 1977 کو ایک اچھوتے طرز کی گاڑی “ایلون” سمندر کی گہرائیوں کی طرف روانہ ہوئی۔ اس میں تین سائنسدان سوار تھے۔ اتنی چھوٹی گاڑی کہ یہ تینوں اپنے بازو نہیں پھیلا سکتے تھے لیکن اتنی مضبوط کہ یہ غیرمعمولی←  مزید پڑھیے

کچھ تصویریں، مریخ سے۔۔۔وہارا امباکر

اس وقت مریخ خلائی پروگرام کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ ان میں سے کئی مشن وہ ہیں جو مریخ کی سطح پر ہیں، کئی وہ جو اس کا مطالعہ اس کے گرد سے کر رہے ہیں۔ کئی اس کی تصاویر←  مزید پڑھیے