وہارا امباکر کی تحاریر

شیئر کریں مکڑی کا جالا ۔۔۔وہارا امباکر

سوال: وہ کیا ہے جو فولاد سے مضبوط، انسانی بال سے باریک اور کپڑے سے زیادہ لچکدار ہے؟ جواب: مکڑی کے جالے کا تار سوال: تو پھر ہم اس کی مدد سے اب تک سپائیڈرمین کی طرح عمارتوں سے جھولتے←  مزید پڑھیے

اُڑنے والے ڈاکٹر۔۔۔وہارا امباکر

کیا آپ میموگرام دیکھ کر پہچان سکتے ہیں کہ چھاتی کا سرطان کس کو ہے اور کس کو نہیں؟ ساتھ لگی تصاویر ان کی مثالیں ہیں۔ اگر آپ تربیت یافتہ پیتھالوجسٹ یا ریڈیولوجسٹ نہیں تو آپ کا جواب نفی میں←  مزید پڑھیے

گراما کی خلیج اور گندی دیواریں ۔ میں بھی تو ہوں ۔۔۔۔ وہارا امباکر

اس دنیا میں ہم سب اپنے نشان چھوڑتے ہیں۔ لیکن کچھ بھی بدل دینا یا اس چیز کا احساس ہونا کہ کچھ بدل دیا ہے۔ یہ ایک بات نہیں۔ بہت بار  یہ محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ پر اثرانداز ہونا←  مزید پڑھیے

سیلفی کا آغاز کیسے ہوا؟ – وہارا امباکر

آپ کے سامنے بہت سی تصاویر رکھی ہیں۔ کیا آپ ان میں سے اپنی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ کیسے؟ اس کی وجہ ٹیکنالوجی ہے۔ وہ ٹیکنالوجی جو آج ہر گھر میں ہے اور جس نے معاشروں کی ہیئت بدل دی۔←  مزید پڑھیے

فروزن کھانوں کے ذائقے ۔ سائنس سے بزنس – وہارا امباکر

آج سے سو سال قبل کلارنس برڈزآئی نے اپنے خاندان سمیت انتہائی سرد ٹندڈرا کے علاقے لیبراڈور میں رہائش اختیار کی۔ ہر چیز سرد لیکن مقامی انیوٹ کی طرح برڈزآئی نے بھی زندگی گزارنا سیکھ کیا۔ برف میں سوراخ کر←  مزید پڑھیے

معقولیت۔۔۔وہارا امباکر

“میں ماننا نہیں، جاننا چاہتا ہوں”۔ یہ فقرہ کئی مرتبہ کارل ساگان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ درست نہیں۔ کارل ساگان اس طرح کی سطحی اور بے کار باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ ایسے فقرے کئی سوڈوریشنلٹ استعمال←  مزید پڑھیے

گوشت۔۔۔وہارا امباکر

کوئی بھی پرائمیٹ گوشت خور نہیں۔ چمپینزی کچھ گرام دیمک یا کبھی کبھار کسی چھوٹے جانور کو ہڑپ کر جاتے ہیں لیکن زیادہ چربی یا کولیسٹرول والی خوراک انکی صحت تباہ کر دیتی ہے۔ پنجرے میں بند ایسے پرائمیٹ جن←  مزید پڑھیے

اندر کا وکیل۔۔۔وہارا امباکر

اگر آپ وکیل ہیں تو معذرت لیکن وکیل اکثر لطیفوں میں نظر آتے ہیں۔ وکیلوں کی پسندیدگی زیادہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وکیل سچ کا متلاشی نہیں ہوتا۔ یہ اس کے پیشے کا مقصد نہیں ہے۔ وکیل←  مزید پڑھیے

مجسم برائی کا واہمہ ۔ ظالم دنیا۔۔۔۔وہارا امباکر

بامیسٹر نے انسانی ظلم اور تشدد پر کتاب لکھی ہے۔ جس میں برائی کو مظلوم اور ظالم، دونوں کی نظر سے دیکھا ہے۔ ان کے مطابق گھریلو تشدد سے لے کر بڑے پیمانے پر ہونے والے قتلِ عام تک نہ←  مزید پڑھیے

شیشہ ۔ ہر اہم چیز نمایاں نہیں ہوتی۔۔۔ وہارا امباکر

سلیکون اور آکسیجن سے مل کر بننے ولا سلیکا ریت کا سب سے بڑا جزو ہے اور دنیا میں وافر مقدار میں کوارٹز کی صورت میں موجود ہے۔ یہ ایک کرسٹل کی صورت میں ہوتا ہے۔ برف کو پگھلائیں تو←  مزید پڑھیے

وہمی کبوتر۔۔۔وہارا امباکر

بی ایف سکنر نے 1947 میں کبوتروں کے ساتھ بہت طرح کے تجربات کئے جو جانوروں کی نفسیات سمجھنے کے لئے بڑا اہم قدم تھا۔ ان میں سے ایک تجربے میں پنچرے میں بند کبوتروں کے آگے ایک بٹن لگا←  مزید پڑھیے

کیا مستقبل سبز ہے؟۔۔۔۔وہارا امباکر

ہم اپنی تاریخ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بدلتے آئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی دو طرح کی رہی ہے۔ سبز اور گرے۔ سبز ٹیکنالوجی میں بیج اور پودے ہیں، باغ اور کھیت، گھوڑے اور بکریاں، دودھ اور پنیر، شہد اور ریشم،←  مزید پڑھیے

ایجادات کا گڑھ۔ ساتھ والا کمرہ۔۔۔۔۔وہارا امباکر

زندگی کی پیچیدگی کہاں جنم لیتی ہے؟ اچھوتے خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ زبانیں کہاں سے بدلتی ہیں؟ نئی رسمیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں؟ ایجادات کہاں سے آتی ہیں؟ ان سب کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے←  مزید پڑھیے

جاپانی کون ہیں؟۔۔۔۔وہارا امباکر

یہ سوال جاپانیوں کے اپنے بارے میں امیج اور اپنی شناخت کے لئے بڑا اہم ہے اور بہت حساس بھی۔ جاپانی یہ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ سارے جاپانی کلچرلی اور بائیولوجیکلی ایک جیسے ہیں۔ ان میں لسانی یا←  مزید پڑھیے

معدومیت کی دریافت۔۔۔۔وہارا امباکر

ڈائنوسار کے کھلونے سے کھیلنے والا چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کہ دنیا میں ایسے جاندار موجود رہے ہیں جو اب نہیں۔ چند صدیاں پہلے تک ایسا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ارسطو کے “جانوروں کی←  مزید پڑھیے

کورو، سست وائرس اور پاگل گائے ۔ کچھ نوبل انعام۔۔۔۔۔۔وہارا امباکر

آخر میں آ کر مریض چھوٹی سے چھوٹی بات پر ہنس پڑتا تھا۔ ہنس ہنس کر دہرا ہو جاتا تھا، گر پڑتا تھا۔ اس سے پہلے کی علامات سستی، سردرد، جوڑوں کا درد وغیرہ تھیں اور چلتے ہوئے بے ڈھنگی←  مزید پڑھیے

سوچ کیا ہے؟۔۔۔وہارا امباکر

جانوروں کے پاس دماغ کیوں ہے؟ اس کا جواب کار پوپر کے الفاظ میں یہ ہے کہ “زندگی مسائل کا حل تلاش کرنے کا نام ہے”۔ پوپر کے یہ الفاظ بائیولوجی کے نقطہ نظر کے عکاس ہیں، جس میں جانوروں←  مزید پڑھیے

جینیات کی ابتدا۔۔۔۔۔وہارا امباکر

رف اور آگ۔ یہ انجام ان دو سائنسدانوں کے کام کا تھا جنہوں نے جینیات کی پہلی بڑی دریافتیں کی تھیں۔ ان دونوں میں کئی چیزوں کی مماثلت تھی۔ دونوں کی موت کسی کے لئے خبر نہیں تھی، کوئی آنکھ←  مزید پڑھیے

چند پہیلیاں ۔ سوچ کی لچک۔۔۔۔۔وہارا امباکر

اگر آپ پہیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو پہلے آپ کے حل کرنے کے لئے چار سوال۔ ایک شخص کتاب پڑھ رہا ہے کہ بجلی چلی جاتی ہے۔ کمرے میں گھپ اندھیرا ہو گیا ہے لیکن وہ شخص کتاب پڑھنے←  مزید پڑھیے

سائیکل سے مریخ تک۔۔۔۔وہارا امباکر

کیرالہ کے ساحل پر مچھیروں، جھونپڑیوں، ناریل کے درختوں کے گاوٗں پر ڈاکٹر وکرم کی نظر پڑی۔ یہ تھمبا کا گاوٗں تھا جو خطِ استوا کے قریب ہے اور یہاں پر خطِ استوا کے الیکٹروجیٹ زمین سے 110 کلومیٹر اوپر←  مزید پڑھیے