کُھلی تاریخ(1)-راجہ قاسم محمود

ڈاکٹر حنا جمشید کا تعلق تعلیم و تدریس کے ساتھ ہے۔ ناول نگاری کے ساتھ تحقیق و تدوین اور تنقید کے میدان میں بھی آپ نے قدم رکھا ہے۔ “کھلی تاریخ” ڈاکٹر حنا کا پی ایچ ڈی مقالہ ہے۔ جس میں اُردو کے ادبی متون کی نوتاریخی قرات کی روشنی میں پاکستان کی تاریخ کو بیان کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔تقریباً تین سو صفحات پر مشتمل یہ مقالہ جہلم بک کارنر نے شائع کیا ہے۔
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے بقول ڈاکٹر حنا جمشید صاحبہ نے ایک مشکل موضوع کا انتخاب کیا ہے اور اپنے موضوع کے ساتھ انہوں نے انصاف کیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر انوار احمد اور ڈاکٹر اشتیاق نے بھی مصنفہ کو سراہا ہے۔
کتاب کے شروع میں ڈاکٹر حنا جمشید صاحبہ نے بتایا کہ اس کتاب کا مقصد پاکستان کی تاریخ کی تفہیم اور اس کا غیر جانبدار مطالعہ ہے جو کہ ہماری ادبی متون میں موجود ہے۔ تاریخ کے بارے میں ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ ہمیشہ سے ان کی دلچسپی کا موضوع رہی ہے۔ میرے خیال سے اس کتاب کا ایک پہلو تو وہ ہی ہے جو ڈاکٹر صاحبہ نے بیان کیا ہے مگر اس کے ساتھ یہ کتاب اُردو ادب کی بھی ایک اجمالی تاریخ ہے پھر یہ کتاب اُردو ادب کے چند اہم ناولوں ، افسانوں اور کچھ شعری کلاموں پر تبصرہ بھی ہے جس میں ان منتخب کردہ متون میں چھپے معنی کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کا تاریخی ربط بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب ایک طرف پاکستان کی سیاسی تاریخ سے بحث کرتی ہے تو دوسری جانب ادیبوں کے ذہنی رجحانات اور ان کی تخلیقات کو بھی موضوع گفتگو بناتی ہے.یہ کتاب چھے ابواب پر مشتمل ہے۔
پہلے باب میں ڈاکٹر صاحبہ نے نوتاریخیت ، اس کی ابتداء اور پھر مغربی لٹریچر سے اس کا اُردو ادب میں آنا ، ادب اور تاریخ کا تعلق اور پھر متحدہ ہندوستان اور پھر پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے ادبی متون کے رجحانات کا ذکر کیا ہے۔
نوتاریخیت دراصل ایک ادبی نظریہ ہے جس کے مطابق کسی بھی ادب کی درست تفہیم کے لیے اس وقت کی تاریخ ،ثقافت اور سماجی پس منظر کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
نوتاریخیت کی مباحث کا آغاز مغرب میں اسی کی دہائی میں ہوا جبکہ اُردو میں یہ مباحث ایک دہائی بعد ہوئی۔ اس کے پیچھے ایک سوال تھا کہ آیا ایک عہد کا معروضی مطالعہ دوسرے عہد میں ممکن ہے کیونکہ ہر عہد کی ایک سوچ اور فکر ہوتی ہے۔ پھر تاریخ بھی مکمل بیان نہیں ہوتی ہر مورخ کا اپنا رجحان اور تعصبات ہوتے ہیں پھر وہ بہت سے واقعات سے صرف نظر کرتا ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آئی کہ تاریخ ایک زندہ موضوع ہے یہ صرف ماضی کے واقعات کا بیان نہیں بلکہ اس بارے مختلف حقائق اور نکتہ نظر وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں یوں اس کی مباحث زندہ رہتی ہیں۔
ادیب بھی کیونکہ اس سماج کا فرد ہوتا ہے اور وہ باقی لوگوں کی نسبت سماجی ڈھانچے اور اس کی بنت کے بارے میں زیادہ حساس ہوتا ہے تو یقیناً وہ اپنے عہد کے تعصبات اور افکار سے متاثر ہوتا ہے یہ سب چیزیں اس کے شعور کو متاثر کرتی ہیں جس کی جھلک اس کی تخلیق پر پڑتی ہے۔ اس لیے کسی بھی ادبی شہ پارے کو اس کے تاریخی و ثقافتی پس منظر میں سمجھنا چاہیے، نوتاریخیت کا مقدمہ یہ ہی ہے۔
کچھ ماہرین کی اس کے برعکس یہ رائے ہے کہ ادبی تخلیقات زمانے کی قید سے آزاد ہوتی ہیں اور ان کو زمانے میں مقید کر کے ان کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہے۔
اس بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کچھ ادبی متون واقعی ایسے ہوتے ہیں جو کے زمانے کی قید سے آزاد ہوتے ہیں اور ان کی حیثیت ایک ادبی شہکار کی ہوتی ہے لیکن یہ بات ہر ادبی متن کے لیے نہیں کی جا سکتی۔ اُردو کے تناظر میں دیکھا جائے تو شاعری کے بارے میں یہ بات کی جا سکتی ہے کہ اس کا عرصہ لمبا ہوتا ہے اور زمانے کے بدلنے کے باوجود اس کو اپنے حال سے متعلق کیا جا سکتا ہے لیکن وہ افسانے اور ناول جو کہ لکھے ہی کسی خاص واقعہ یا عہد سے متاثر ہو کر لکھے گئے ہوں ان کو ان کے سماجی و تاریخی پس منظر سے کیسے کاٹا جا سکتا ہے اور پھر ماضی کی بہت سی باتیں موجودہ زمانے کا موضوع نہیں رہتی۔
ادیب معاشرے کا فرد ہوتا ہے اور سماجی حالات اس کے اوپر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں اور اس کا اظہار وہ اپنی تحریروں میں بھی کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی تحریروں میں سے تاریخی حقائق کو سامنے لانا ایک مشکل کام ضرور ہے مگر اس سے ہم کو تاریخ کی تفہیم میں مدد ملتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے وضاحت کی ہے کہ ادبی متن کو تاریخی و سیاسی متن کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔لیکن ادب ان سے متاثر ضرور ہوتا ہے۔ پھر تاریخ کے اوپر مقتدر حلقوں کا کنٹرول ہوتا ہے اور اپنے زیرِ اثر وہ بہت سے حقائق کو منظر عام پر سامنے لانے سے روکتے ہیں جو ان کے مفادات سے ٹکرائے۔ یہاں مورخ کے لیے چند معاملات پر حدود طے کر دی جاتی ہیں کہ یہاں بات نہیں ہو سکتی۔ اس کو آج بہت آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے ہمارے ہاں سائفر ، رجیم چینج آپریشن اور پھر حالیہ انتخابات میں مقتدرہ کی جانب سے نتائج میں تبدیلی حال کے اور آج کے واقعات ہیں مگر بہت سے حقائق لوگ جانتے ہوئے بھی ذکر نہیں کر سکتے۔ سائفر جیسے معاملے پر اگر تحقیق کی آزادی دی جائے تو آپ کی مقتدرہ کے مفادات پر براہ راست ضرب پڑتی ہے اس لیے وہ کبھی بھی اس کے مکمل حقائق کو بیان کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ البتہ ادیب کا میدان دوسرا ہوتا ہے وہ اپنی ادبی تخلیق میں بین السطور کئی حقائق کو ذکر کر جاتے ہیں جس پر غور وفکر کیا جائے تو کئی حقیقتیں اور کھل جاتی ہیں جو کہ آپ تاریخ کے فہم کو بھی زیادہ بہتر بناتی ہیں۔
ایسا نہیں کہ مورخ ہی کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں ادیب بھی اپنے تعصبات رکھتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بیان واقعہ میں مقتدر اشرافیہ کی وکالت کرتے ہوئے قاری کی ذہن سازی کریں۔ لیکن ایسی چیزوں کی جب حقیقت کھلتی ہے تو وہ اپنی وقعت آپ کھو دیتی ہے۔ ناقد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس بات پر کڑی نظر رکھے اور جہاں بھی کوئی تحریر حقائق کی بجائے کسی طاقتور کی وکالت کر رہی ہو اس کو سامنے لائے۔
ایسا نہیں کہ ادیب کو لازماً غیر جانبدار ہونا چاہیے، اس کا ایک نظریہ اور سوچ ہوتی ہے جس کا وہ اظہار بھی کرتا ہے مگر اپنے سوچ کی بیان کرنے کے ساتھ اس کو سچائی کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنی تحریروں میں وہ حتی الامکان اس ہی چیز کو بیان کرے جو کہ حقائق سے میل کھاتی ہو۔
ڈاکٹر حنا جمشید صاحبہ کا یہ مقالہ دراصل ایک ایسی ہی کوشش ہے جس میں انہوں نے اُردو کے چند منتخب ادیبوں جن کا سیاسی شعور پختہ ہے کی تحریروں کی روشنی میں تقریباً ایک صدی میں متحدہ ہندوستان اور پاکستان میں ہونے والے کچھ اہم واقعات کی تاریخ ذکر کریں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے سعادت حسن منٹو ، قرۃ العین حیدر ، عبداللہ حسین ، مستنصر حسین تارڑ ، شوکت صدیقی ، غلام عباس، یوسفی ،فیض، جالب، احمد فراز کے ساتھ ساتھ کمال احمد رضوی اور ڈاکٹر طاہرہ اقبال کی تخلیقات کا انتخاب کیا ہے اور ان کی تحریروں سے تاریخی واقعات کی تفہیم کی کوشش کی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ ڈاکٹر صاحبہ منٹو کے سیاسی شعور سے متاثر دکھائی دیتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ منٹو کا بے باک انداز بھی ہے اور اپنی زندگی میں ہونے والے واقعات پر جس طرح انہوں نے افسانے کا موضوع بنایا وہ ان کے شعور کی پختگی کا پتہ دیتا ہے۔ باقی ادیبوں کی تخلیقات پر بھی ڈاکٹر صاحبہ نے سیر حاصل گفتگو کی ہے اور ان سے بھی سماجی و سیاسی حالات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ منٹو کے منتخب افسانوں کے علاوہ ڈاکٹر صاحبہ نے شوکت صدیقی کے ناولز خدا کی بستی اور جانگلوس سے، مستنصر حسین تارڑ کے راکھ اور قلعہ جنگی، ڈاکٹر طاہرہ اقبال کے نیلی بار،عبداللہ حسین کے اداس نسلیں اور نادار لوگ ، عینی کے آگ کا دریا اور آخر شب کے ہمسفر اور نیلم احمد بشیر کے طاوس فقط رنگ کے ساتھ ساتھ حبیب جالب ، فیض احمد فیض اور احمد فراز کی شاعری کے ذریعے سے مختلف تاریخی واقعات ان کی محرکات اور ان کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ یوں ایک طرف جہاں ہم تاریخی واقعات کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہیں وہاں ان ادبی تخلیقات کا بھی ایک جائزہ سامنے آتا ہے کہ ہمارا یہ ادبی ورثہ کتنا اہم اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور یہ اُردو کا ایک عظیم اثاثہ ہے۔
دوسرا باب تقسیم ہند سے پہلے اور تقسیم کے وقت کے سیاسی و سماجی محرکات اور فسادات کے بارے میں ہے۔ اس میں ڈاکٹر صاحبہ نے انگریزی سامراج کے استحصال اور مظالم پر ایک نظر ڈالی ہے جس نے اس خطے کی صورتحال کو تبدیل کیا۔ اس سے ایک طرف تو طبقاتی تقسیم میں اضافہ ہوا دوسرا حاکم اور رعایا میں ایک نفرت اور ناپسندیدگی کا ایسا تعلق قائم ہوا جو آخر تک قائم رہا۔ رعایا کمزور تھی مگر اس کے دل میں انگریز سرکار کے خلاف زہر بھرتا گیا۔ اس کا اظہار بھی کہیں ہوا، دوسری جانب انگریز سرکار نے اپنے تاثر کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اس نے ہمیشہ طاقت کے نشے میں مبہوت ہو کر اپنے مفادات کو ترجیح دی اور اس خطے کے باسیوں سے کبھی دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھایا اگر کبھی ایسا ہوا بھی تو فقط اس میں اپنے مفادات پوشیدہ تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اس عہد استعمار کے کچھ واقعات اور افسانوی متن میں ان کا نوتاریخی جائزہ لیا ہے۔
ان میں ۱۸۶۶ میں آنے والا قحط بنگال جس نے تقریباً پچاس لاکھ جانیں لے لیں ایک اہم واقعہ ہے۔ اس سانحہ کو بیشتر انگریزی مورخین محض ایک تاریخی واقعہ کی صورت میں نقل کرتے ہیں، ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ اس سانحہ کے پیچھے برطانوی استعمار کی ہوس تھی جس نے بنگال کے کسان کو مجبور کیا کہ وہ مسلسل کپاس کاشت کرے تاکہ برطانوی صنعتوں کو خام مال ملتا رہے اس سے گندم کی قلت پیدا ہوئی جس سے بنگال کی تاریخ کا شدید قحط پڑا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے کرشن چندر کے افسانے “ان داتا” کہ نوتاریخی قرات کے ذریعے اس سانحے پر گفتگو کی ہے اور بتایا ہے وہاں کی مقامی آبادی کی مفلسی کا نوحہ لکھا جو کہ استعماری پالیسیوں کی وجہ سے موت کی بھینٹ چڑھ گئی۔ قرۃ العین حیدر نے آگ کا دریا میں بھی بنگال میں ہونے والے قحط اور سامراجی پالیسیوں پر بات کی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح انہوں نے اس خطے کو غربت کی پستیوں میں دھکیل ڈالا۔
سانحہ جلیانوالہ باغ بھی اس عہد کا ایک بڑا سانحہ ہے۔ جس میں انگریز سرکار نے درندگی کی ایسی تاریخ نقل کی کہ آج بھی جب اس کی تفصیلات پڑھیں تو بندہ کانپ جاتا ہے کہ اس ظلم و بربریت کا آخر کیا جواز تھا۔ سعادت حسن منٹو نے کئی افسانے اس سانحے پر لکھے جیسے کہ تماشا ، ۱۹۱۹ کی ایک بات ، دیوانہ شاعر وغیرہ جن کا ڈاکٹر صاحبہ نے نوتاریخی جائزہ لیا ہے اور برطانوی عہد کے اس بدترین واقعے کو ذکر کیا ہے۔ اس سانحے کو اداس نسلیں میں عبداللہ حسین نے بھی ذکر کیا ہے اور مچھلی فروش کی زبانی اس بیان کیا ہے۔
سامراجی دور میں جہاں نوآبادکاروں نے مقامی آبادیوں کا استحصال کیا تو وہاں مقامی لوگوں میں چاپلوسوں کا ایک طبقہ وجود میں آیا جس نے سامراج کا آلہ کار بن کر اپنے ذاتی فوائد سمیٹے، ان کو چاپلوسی کے بدلے انگریز نے زمینیں عطا کیں اور پھر کسی علاقے میں محدود اختیار بھی دیا جس کو بنیاد بنا کر انہوں نے الگ سے مقامی آبادی پر ظلم ڈھائے اور ان کا معاشی استحصال کیا۔ اداس نسلیں میں روشن آغا کا کردار کچھ ایسا ہی ہے۔ اس مقتدر اشرافیہ کی منافقت کو قرۃ العین حیدر نے بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔
ڈاکٹر صاحبہ نے یہاں جناح اور ان کی جدوجہد پر بھی گفتگو کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے لئے کس قدر سنجیدہ تھے مگر اس کے ساتھ انہوں نے گاندھی یا کانگریس کی حاکمیت کو کبھی قبول نہیں کیا۔ کانگریسی قیادت کے رویے سے وہ مایوس ہوئے جس کے بعد انہوں نے تقسیم کا مطالبہ کیا۔ قائدِ اعظم اور تقسیم ہند کے جواز کے بارے میں ڈاکٹر صاحبہ نے اور بھی کافی مفید گفتگو کی ہے اور حالات کا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا ہے۔ڈاکٹر صاحبہ نے اس سلسلے میں ایسے مصنفین کے اقتباسات پیش کیے ہیں جن کے بارے میں یہ خیال ہرگز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مطالعہ پاکستان سے متاثر تھے۔
جنگ عظیم دوئم بھی ایک اہم موضوع ہے جس کو اداس نسلیں میں جا بجا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ آگ کا دریا میں بھی اس کو حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سامراج کے مفادات کے لیے کیسی مقامی لوگوں کو جنگ کی بھٹی میں دھکیلا گیا جن کو معلوم نہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کی جان کس لیے لے رہے ہیں اور کیوں مر رہے ہیں۔
ڈاکٹر حنا جمشید صاحبہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایسا نہیں کہ انگریزوں کی آمد سے پہلے برصغیر میں کسی قسم کے مسائل نہیں تھے مگر انگریزوں کی آمد سے ان مسائل میں اضافہ ہوا بالخصوص طبقاتی تقسیم بہت وسیع ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ انگریز سرکار نے اپنے آپ کو مستحکم کرنے کے برصغیر میں مذہبی منافرت کا بیج بویا تاکہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر خود سکون سے حکومت کریں۔ ہندو اور مسلم برصغیر میں برسوں سے رہتے تھے اور باوجود مذہبی اختلاف کے ان کے اندر رواداری اور برداشت پائی جاتی تھی۔ آگ کا دریا میں چمپا جو مسلم لیگ کی نمائندگی کرتی ہے جب اپنے استاد بنیر جی سے ہندو مسلم شناخت پر بات کرتی ہے تو بتاتی ہے کہ اس نے پہلے ان باتوں پر کبھی غور نہیں کیا۔ منٹو کا افسانہ دو قومیں جس میں مختار اور شاردا مختلف مذہب ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ اداس نسلیں سے بھی ایک اقتباس نقل کیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مذہبی منافرت اور کشیدگی وہاں کے لوگوں کے لیے نئی تھی مگر وہ اس سے متاثر ضرور ہو رہے تھے۔
تقسیم ایک اہم اور بنیادی واقعہ ہے جس نے برصغیر کا نقشہ بدل دیا۔ تقسیم کے حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ انگریزوں نے عجلت میں اس کا فیصلہ کیا اور کانگریسی رہنماؤں کو خوش کرنے کے لیے تقسیم کے فارمولے میں بھی ردوبدل کیا اس حوالے سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ریڈ کلف کے منفی کردار کا مصنفہ نے ذکر کیا ہے۔ تقسیم سے سب زیادہ متاثر پنجاب ہوا یہاں پر فسادات کے نتیجے میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد کی کتاب ‘پنجاب کا بٹوارہ’ سے ڈاکٹر صاحبہ نے دونوں اطراف کے لوگوں کی کہانی ذکر کی ہے جس میں اس بٹوارے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کو ذکر کیا ہے۔ سکھ مسلم فسادات بھی اس ہی بٹوارے کا المیہ ہے منٹو نے اپنے افسانے ‘ٹھنڈا گوشت ‘ اور ‘بو’ میں اس ہی المیے کو بیان کیا ہے۔ جبکہ منٹو کا ہی ایک اور افسانہ ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘ تقسیم کے المیہ کو بیان کرتا ہے جہاں ایک شخص کی شہریت ہی ایک دن میں بدل جاتی ہے پھر یہ تقسیم کی ناانصافی کو بھی ذکر کرتا ہے۔مصنفہ نے مختلف پہلوؤں سے اس المیے پر افسانوں کی روشنی سے گفتگو کی ہے۔ تقسیم میں انگریزوں کی غیر ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ ساتھ ناانصافی بھی ایک دکھ ہے جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو اول روز سے کشیدہ کر دیا جن میں مسئلہ کشمیر اب تک حل طلب ہے۔منٹو نے اس مسئلہ پر بھی لکھا ہے اور ان کا افسانہ آخری سیلوٹ اس ہی تنازعہ کو موضوع بنایا گیا ہے جس نے دو نوزائیدہ مملکتوں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا حالانکہ تقسیم کے نتیجے میں جو ان کے اپنے مسائل تھے وہ ابھی حل نہ ہوئے تھے۔ منٹو کا ایک اور افسانہ ‘ٹیٹوال کا کتا’ بھی اس ہی موضوع پر ہے جس کے مرکزی کردار صوبیدار ہرنام سنگھ اور صوبیدار ہمت خان ہر شے کو پاکستانی اور ہندوستانی کی نظر سے دیکھتے ہیں چاہے وہ زمین کا خطہ ہو یا پھر ایک بے زبان کتا۔
ہجرت کے دکھوں میں کو عبداللہ حسین نے اداس نسلیں میں نعیم کی زبانی ذکر کیا ہے جس سے قاری اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ کیسا کربناک اور تکلیف دہ واقعہ تھا۔ پھر ناصر کاظمی نے ذپنی شاعری اور انتظار حسین نے اپنے ناول ‘بستی’ اور ‘تذکرہ ‘ میں اس ہی دکھ کو موضوع بنایا ہے۔ یہ غیر معمولی واقعہ تھا جس نے ہمارے ادیبوں کے شعور کو متاثر کیا اور ان قلم نے اپنے اپنے انداز میں اس کو بیان کیا۔اس کے علاوہ کرشن چندر کا افسانہ ‘پشاور ایکسپریس ‘ اور منٹو کا افسانہ ‘کسر نفسی’ بھی ہجرت کے دکھوں کے بارے میں ہیں۔ مصنفہ نے ان کا بھی نوتاریخی جائزہ لیتے ہوئے اس مسئلہ کو مزید واضح کیا ہے۔
پاکستان کو اپنے ابتداء سے ایک بڑا مسئلہ مہاجرین کی آبادکاری کا بھی پیش آیا۔ یہ لوگ ہندوستان کے مختلف حصوں سے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آئے اور پھر بہت سے لوگ ہجرت کرتے ہی موت کے منہ میں چلے گئے۔ مہاجرین کی آبادکاری کے حوالے سے ڈاکٹر طاہرہ اقبال نے اپنے ناول نیلی بار کے پہلے باب میں اس کی جو منظر کشی کی ہے وہ حقیقت سے کافی قریب محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ گوکہ مذہبی موافقت کے باوجود مقامیوں میں سے کئی لوگوں نے مہاجرین کو خوشدلی سے قبول نہیں کیا۔ پھر ہجرت کرنے والوں کے دل میں سے بھی اپنے علاقوں کی محبت نہیں نکل سکی۔
حکومت نے مہاجرین کے لیے مہاجر کیمپ بنائے جس میں مفلسی اور لاچارگی کی ایک اور تصویر سامنے آتی ہے۔ پھر مہاجرین کی امداد کے نام پر سامان میں ہیرا پھیری اور فنڈز میں خورد برد کے واقعات بھی پیش ائے۔ مہاجر کیمپوں میں جو اِنسانیت سوز واقعات پیش آئے اس پر منٹو نے اپنا افسانہ ‘کھول دو’ لکھا ۔ مصنفہ کہتی ہیں کہ یہ مہاجرین کیمپوں میں ہونے والا یہ انسانیت سوز ایک واقعہ نہیں بلکہ یہ استحصال ایک نوزائیدہ مملکت کے اس تلخ سماجی و سیاسی عہد کی منظر کشی ہے۔
جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply