غربت ،غلامی سے مزدوری تک کا سفر/نصیر اللہ خان

قارئین !یوم مزدور پر کچھ لکھنے سے پہلے مزدور کے حالت زار کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔انیسویں صدی کے اوائل میں بہت سی قوموں نے غلاموں کی تجارت اور غلامی کو ختم کرنا شروع کیا۔ سنہ1833 میں برطانیہ نے غلامی کے خاتمے کے لئے قانون سازی کرکے اپنی کالونیوں میں غلامی کو غیر قانونی قرار دیا۔ سنہ1848 میں فرانس نے اپنی کالونیوں میں غلامی کا خاتمہ کیا۔جبکہ سنہ 1863 صدر ابراہم لنکن نے آزادی کے بعد اعلان کیا کہ کنفیڈریٹ ریاستوں میں تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جائے گا۔اوراس طرح سنہ 1865 میں امریکی آئین میں تیرھویں ترمیم نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں غلامی کو باضابطہ طور پر ممنوع قرار دے دیا۔ جبکہ سنہ1888 برازیل امریکہ کا آخری ملک تھا جس نے غلامی کو ختم کیا۔ تاہم اس سے قبل پوری دنیا میں غلامی باقاعدہ ایک”ادارے“ کے طور پر کام کررہا تھا۔ لیکن بد قسمتی ہے کہ غلامی اور جبری مشقتش) بیگار( کی مختلف شکلیں آج بھی بدستور موجود ہے اور آج بھی دنیا کے کچھ حصوں میں اسی طرح غلام مزدور مزدوری کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہوئے برقرار ہیں۔

دراصل امر واقعہ یہ ہے کہ انیسویں صدی کے اوائل تک غلاموں کی ضرورت ختم ہوئی تھی جب” غلام “سرمایہ دار مملکتوں کیلئے بے چینی،تقسیم اور نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوا ۔ جب سے دنیا کے مہذب افراد) مذہبی ،دانشور فلسفیوں(اور ریاستوں نے غلاموں پر ترس کھاتے ہوئے اس ادارے کو منہدم کیا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کو عام انسان کیساتھ مبینہ طور پریکساں طور پر قرار دیئے گئے جوکہ سرمایہ دار ممالک اور اشرافیہ کی ضرورت تھی اور ہے۔ اس لئے اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے مذہبی، مترقی دانشور اور نظریات نے اپنا کام دکھانا شروع کیا۔ جب دنیا میں انڈسٹریل ترقی کا دور دورہ شروع ہوا تو سرمایہ داروں کو ہنرمند افراد کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جس کیلئے باقاعدہ طور اسکول ، مدرسے،اور ٹریننگ سنٹرز کھولے گئے ۔ اور کارخانوں میں وہی مزدوروں کو ٹریننگ دیکر اونے پونے پر ملازمت پر رکھ دیا جاتا تھا جبکہ اصل سرمایہ سے زائد فائدہ کا حقدار سرمایہ دار ہی ٹہرا۔اس ضمن میں نظام تعلیم ایسا مرتب کیا گیا جس سے نسل انسانی کے بنیادی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے برعکس پسماندہ رکھنا مقصود تھا۔ جس میں تخلیقی سرگرمی عنقا تھی۔ اس کیساتھ ساتھ جعلی جمہوری نظام کی داغ بیل ڈالی گئی جس نظام میں ازاد منڈی ، ترسیل اور مطالبہ اشیاء پر بنیاد رکھی گئی ہے۔دراصل اس نظام میں اشرافیہ اور سرکار شاہی ہی اصل مفادات کا حقدار تھا۔ تھانہ، عدالت اور انصاف کا نیا نظام دراصل ، مزدور،غرباء اور ملازمین کو رام کرنے کیلئے کھڑا کیا گیا۔ عدالت اور تھانہ میں مزدور اور غریب کے لئے انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے مترداف ہے۔ ہسپتالوں پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری کا تحفظ کیا گیا اور اس میں ان افراد اور کمپنیوں کو متعارف کروایا گیا جس سے نظام صحت جو کہ خالصتاً خدمت کیلئے بنایا جانا چاہئے تھا سراسر اپنی ذاتی فائدے اور اغراض کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ پولیس اور فوج ،عوام پر مسلط کئے گئے۔ لوٹ مار، رشوت خوری، سود خوری کرکے عوامی خزانے)وسائل رزق و مال (کو بے دریغ لوٹنا شروع کیا گیا اور جو سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے۔ کروڑوں غریب افراد کو ریاست کے دسترس سے لیکر اپنے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔ جو کہ وہی محروم طبقات خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ حتی کہ بچوں، بھوڑوں اور خواتین کو بھی نہ بخشا گیا۔ در حقیقت دنیائی زندگی ان کیلئے جہنم نما بنا دی گئی ہے۔ اس کھوکھلے نظام میں جس طرح اصلاحات کے ج جز وقتی پروگرام متعارف کئے جاتے ہے وہ درحقیقت اشرافیہ حکمرانوں کے گناہوں اور جرائم کو ختم کرنے کے بہانے ہیں۔ جس کے نتیجے میں جو طبقاتی نظام وجود میں آیا اور جسمیں مالدار اور غریب، مزدور کا امتیاز سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بے یار و مددگار غریب مزدور کو روزگار اور چھت میسر ہے اور نہ ہی تعلیم کی اہمیت سے ہی واقف ہے۔ وہ غریب مزدور’ صحت کے انصاف کا تصور کرسکتا ہے اور نہ ہی دوائی خریدنے کی طاقت اور سکت رکھتا ہے۔ اس نظام میں نظام انصاف در اصل بے انصافی اور لا قانونیت کی آماجگاہ بن چکی ہے جو کہ بشمول پولیس و دیگر سیکورٹی کے ریاستی ادارے طاقتور اشرافیہ کو تحفظ دینے کیلئے کام میں لائے جاتے ہیں۔ غریب کے پاس سودا سلف خریدنے کی سکت ہے اور نہ ہی رہائش دینے کا ”کرایہ “مالک مکان کو دے سکتا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ بجلی اور سوئی گیس اور پانی کا بل اتنا بڑھا دیا گیا کہ باقی ہر چیز سے اس کی قیمت زیادہ ہے۔ ملاوٹ اور زہر الود خوراک کھاناان کا مقدر بن چکا ہے، مزدور کوصاف پانی پینے تک میسر نہیں۔ انٹرنیٹ، موبائیل، گاڑی وغیرہ عیاشیوں کے ذمرے میں نظر آتی ہے جس سے مزدور کا کوئی سروکار نہیں۔ہزاروں مزدور ہر سال کوئلے کے کانوں میں دم گھٹ کر مر جاتے ہیں جس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس ضمن میں ملک اور قوم کیلئے سوچنا دراصل اشرافیہ، حکمران سرمایہ داروں کے آلہ کاروں کا من پسند مشغلہ بن چکا ہے۔ وسائل رزق پر تمام تر اجارہ داری ‘اشرافیہ کا صوابدید بنا دیا گیا۔ طاقت اور انصاف کا توازن خطرناک حد تک غیر منصفانہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات میں جو نیا”ادارہ“بنایا گیا ہے وہ”غریب مزدور “ہے اور جو کہ غریب مزدور ایک منظم منصوبے کے تحت جعلی جمہوری نظام کا حصہ بنا دیا گیا ہے اورسرمایہ داراور جاگیر دار جس کا استحصال کرتے ہیں ۔کارخانوں، بھٹہ فیکٹریوں وغیرہ جیسی جگہوں میں مزدور کے اوقات کار 10 تا 16 سولہ گھنٹہ پر محیط ہوتا ہے۔ عام مزدوری ،غریبی اور مالداری جیسے امتیازات اورروئیے اس بوگس نظام کا خاصہ ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ غریبی جیسے ” ادارے “پر مذہبی، سیاسی اور دانشور طبقات غور کرے۔ جدید ریاستیں اور ادارے اس لئے عمل میں لائیں گئیں تھی کہ عام انسانوں یعنی معاشرے کے محکوم، محروم، فقراء، مساکین، یتیم، بیوہ، بوڑھے پسماندہ افراد غریب مزدور کے معیار زندگی کو بلند کیا جاسکیں اور جو دنیائی جہنم ان غریب لاچاروں پر بزور مسلط کیا گیا ہے ان کو ختم کرتے ہوئے وسائل رزق کی منصفانہ تقسیم کا قرینہ ڈھونڈ لیا جائیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

میں سمجھتا ہوں کہ وہ وقت دور نہیں جب غریب مزدور اپنے حق کیلئے کھڑے ہوجائے اور مطالبہ کرے کہ خدا کی زمین میں ان کو ایک گز کا ٹکڑا کیوں نہیں ملا۔ کیوں ان کو بنیادی انسانی حقوق میسر نہیں ؟ کیا خدا کی زمین صرف چند ایک انسانوں کے لئے بنائی گئی ہیں ؟ کیاخدا کی پیدا کردہ وسائل رزق میں ان غریب مزدوروں کا حق اس دنیا میں پیدا نہیں کیا گیا ہے ؟ کیا یہ خدائی انصاف ہے؟ ہر گز نہیں ! کیا مذہبی دنیا مزدوروں کو ان کی اوقات یا د کرواتے ہوئے نہیں کہتے کہ غریبی ان کا مقدر ہے ؟ ہر گز نہیں ، کیا بزور، دھونس دھاندلی اور چالاکی کے ذریعے مزدوروں کا حق نہیں چھینا جارہا ہے؟۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدائی انصاف ہر گز نہیں ہوسکتا ہے۔ مسلسل جھوٹ اور فریب کے ذریعے ایک ایسا خود ساختہ نظام بنادیا گیاہے جس میں مزدور کو ہر وقت ان کی اوقات یاد کروائی جاتی ہے۔ اسلئے تمام دنیا کی مزدوروں اور محکوم قوموں کو “ایک تنظیم” اور “ایک راہنماء”کے تابع جدوجہد شروع کرنی ہوگی اور اس بوگس نظام کو کچلنا ہوگا ۔

Facebook Comments

نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply