دوبئی کے غریب

دور دیس آ جانے کے بعد پہلے پہل تو ہم  نے بھی یہی  سوچا تھا کہ شیخ رشید کی طرح اپنی زندگی   میں ایک خانہ خالی بھی رکھیں گے کہ بقول شیخ صاحب کے زندگی میں ایک آدھ خانہ خالی بھی رہنا چاہیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا –

مگر  ہمارے ذہن  میں وہ خانہ شادی والا نہیں بلکہ ساحل سمندر پر   کبھی نہ جانے والا خانہ تھا-   ساحل سمندر کی زیارت کو ایک انتہائی کفرانہ فعل شمار کرتے تھے نیز ہمیں ہمارے  ہی کچھ  اکابرین جن میں ہمارے کئی دوستوں کے والد  اور چند اپنے رشتے دار شامل تھے انہوں نے اس کفریہ فعل سے ہمیشہ پرہیز کی تلقین، تلقین شاہ بن کر فرمائی تھی-  beach کی زیارت کے سب سے زیادہ مضمرات جو مجھے گنوائے گئے تھے ان میں ایمان کو لاحق خطرات سب سے زیادہ تھے – البتہ جن حضرات نے ہمارے دور جاہلیت میں ہمیں یہ مضمرات گنوائے تھے وہ خود کہا کرتے تھے کہ یقین کرو میاں ہم نے بارہا وہاں جا کر دیکھا، پرکھا ہے، سوچا ہے، سمجھا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ساحل سمندر ایمان کے ضائع ہونے کا سبب ہے،-مجھے تو ان ناصحوں کی محققانہ طباع و خصائل پر رشک آتا تھا – خیر انسان خطا کا پتلا والا جملہ ہم پر  شروع سے ہی صادق آتا رہا تھا  تو  یہی کار بار دگر ہمارے ساتھ ہو  گیا_ سو  ہونی  کو  کون ٹال سکتا ہے اور میں مسکین  تو ایسی چیز کو خیر  بالکل بھی  نہیں  ٹال سکتا تھا- میں اور   میرا  ہی ایک دوست ایکدوسرے کی منت سماجت کرکے ایکدوسرے کے ایمان کی مضبوطی کے  سہارے ساحل سمندر  پر جا پہنچے-مگر  یہ جو سادگی ہمیشہ  سے دامن گیر رہی  ھے یہاں وہی سادگی تھی کہ  جیسے ہی  ساحل سمندر  کے بیچوں بیچ  پہنچے تو اپنے حواس کو گمشدہ پایا- اسکی اہم اور معقول وجہ  یہ تھی کہ اتنی  تعداد میں مرد و زن بے لباس، اور اوندھے منہ لیٹے ہوئے  ہماری  بے گناہ آنکھوں نے کبھی ایسے منظر کی زیارت باسعادت نہ کی  تھی – 

پھر کچھ لمحوں بعد ہوش  و حواس واپسی بحال ہوئے تو پی کے( pk) کی مانند ہم  بھی ایں  گولہ کی حرکات وسکنات و ملبوسات کو دیکھنے، پرکھنے، سمجھنے کی کوشش میں غرق ہوتے چلے  گئے –  تو حولے حولے چن سجناں کی مانند beach کے عقدے ھمارے عقیدے پر گراں گزرنے لگے پھر بھی ھلا جلا کر دیکھا تو تا حال  ایمان کو کوئی گزند نہ پہنچی تھی –  سو نفس مطمئنہ ھو کر کھلی آنکھوں اور بندھی ہوئی پینٹ اور سلگاءے ھوءے سگریٹ کے ساتھ چلتے رھے کہ منزل آ بھی چکو – کئی  ایک برقعہ پوش خواتین اور انکے بچوں کے نیک سیرت ابا جانوں کو سمیت لباس کے بھی داخل در پانی پا کر اطمینان قلب و ایمان ہوا –

گویا کہ بے لباسوں کا بھی ایمان قائم و دائم رھا اور لباس والوں کا ایمان بھی کما حقہ   باقی رھا- پھر بھی  دو تین مقامات دوران مشاہدہ ایسے آئے جہاں ھمارے قدم ڈگمگاے، ھاتھ لڑکھڑاءے، اور نین للچاءے مگر بھلا ھو میری ان فیسبکی ریاضتوں کا کہ وقت پر مذکورہ امتحان پر بزور ایمان قابو پا لیا ورنہ ایں سعادت بزور دوست نیست-دو گھنٹے کی beach گردی، میں زیادہ تر عوام کو دوسروں کی منکوحوں و اپنی غیر منکوحوں کی تصویریں بناتے ھوئے دریافت کیا – گوری چمڑی والے تو اس طرح دو انچ کپڑوں میں ریت پر لمے پڑے تھے جیسے صدیوں سے beach کے بیچ میں رھتے ہوں البتہ ایشیائی چمڑی والے کی منکوحہ و غیر منکوحہ پر کسی نامحرم کی چشم نیک پڑ جاتی تھی تو وہ تلملا اٹھتا تھا بلکہ بلبلا اٹھتا تھا مگر بےسود تھا کہ بےشمار نامحرم تھے اور وہ ٹھہرے اکیلے اپنی منکوحہ و غیر منکوحہ کے ساتھ سو پنگا انکو عام آدمی کے حالات سے بھی دوچار کر سکتا تھا اس واسطے ھلکی مسکراہٹ دے کر وہ  اپنا غم غلط کرتے دیکھا-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *