عامر زرین کی تحاریر

ڈوبتا سُورج- موروثی روایتوں کا امیں مرقعء سُخن/پروفیسر عامر زریں

سہیل ساجدؔ سٹونز آبادی ، ایک صاحبِ فکر ، پُر تنوع اور فعال تخلیقی شخصیت ہیں۔ انہیں خُدائے بزرگ و برتر نے فہم و دانش اور ادرا ک جیسی نعمتیں اورشعری سُخن کا ہنر مرحمت فرمایا ہے۔ وہ ایک صاحبِ←  مزید پڑھیے

‘‘گوہر ِ افشاں’’ایک فکری اور شعوری ارتقاء/پروفیسر عامر زرین

مختلف اصنافِ ادب ذہنی، قلبی اور فکری سطح پر تجربوں کا تخلیقی اظہار ہوتی ہیں۔معیاری اورصحت مندتحریریں زندگی کے مترادف اثر رکھتی ہیں۔اُردو ادب میں مضمون نگاری کی صنف انفرادی اور اجتماعی تجربات کے روایتی اظہار کے لئے مستعمل ہے←  مزید پڑھیے

منّور عزیز- ایک نستعلیق شاعر/پروفیسر عامر زرین

اُردو ادب کے گلستان ِ سُخنوری میں منّور عزیز ایک معتبر اورجُداگانہ اسلوب کے حامل شاعر ہیں۔ موصوف اپنے لہجے کے دھیمے پن اور اعلیٰ  درجے کی زبان دانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ اُن کی شاعری کا جُداگانہ وصف چند←  مزید پڑھیے

چُرائے ہوئے لوگ، چُرائے ہوئے خواب/پروفیسر عامر زریں

انسانی اسمگلنگ، ایک ہولناک سماجی برائی ہے۔ اس ناجائز اور ناپسندیدہ کاروبار کو جدید انسانی غلامی کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔ اس میں اسمگل کیے گئے شخص کی مرضی کے خلاف کسی قسم کی مزدوری یا تجارتی جنسی عمل←  مزید پڑھیے

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے/ ضیا ء محی الدین

ضیاء محی الدین جہانِ ادب و فن کا ایک روشن و درخشاں ستارہ تھا، جن سے دُنیا نے اُردو زبان، اس کے تلفظ اور درست ادائیگی کے حوالے سے سیکھی۔وہ 20 جون 1931ء کو لائل پور، ( موجودہ :فیصل آباد)،←  مزید پڑھیے

یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ/پروفیسر عامر زریں

سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف طویل علالت کے بعد 5 فروری 2023ء کو 79 برس کی عمر میں فوت ہوگئے۔ وہ کافی عرصہ سے عرب امارات کے امریکن ہاسپٹل دبئی میں زیر علاج تھے۔اُن کی وفات پر مُلک میں ملی←  مزید پڑھیے

سالِ نو اور پاکستان کی معاشی صورتِ حال/پروفیسر عامر زریں

رواں سال (2022 ء) اپنے ہنگامہ خیز شب و روز کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ ماضی کی دھُند میں معدوم ہونے کو ہے۔مُلکِ خُداداد سماجی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی نشیب و فراز میں بفضلِ ذاتِ خُداوندی اپنے وجود کو قائم←  مزید پڑھیے

‘‘اہرامِ آرزو’’ (افسانوی مجموعہ) – زندگی کا دوہرا ظہور/پروفیسر عامرزرّیں

آصف عمران، عصرِ حاضر میں اسلوب وبیان، کہانی پن اور احساسِ تجمیت کی عمدہ نگارشات کے حامل ایک کہنہ مشق افسانہ نگار ہیں۔ ‘‘اہرامِ آرزو’’ آصف عمران کے افسانوں کو تیسرا مجموعہ ہے جس میں 13 خوب صورت افسانوں کو←  مزید پڑھیے

مُجھ کو دیارِ غیر میں مارا وطن سے دُور/پروفیسر عامر زرین

18 دسمبر 1990ء کو جنرل اسمبلی نے تمام مہاجر مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کے حقوق کے تحفظ کے بین الاقوامی کنونشن پر ایک قرارداد منظور کی۔تارکین وطن /مہاجرین کے عالمی دن کو لاکھوں تارکین وطن کی طرف سے←  مزید پڑھیے

نذیر قیصر-تیسرا حرف /پروفیسر عامر زرین

نذیر قیصرؔدورِ حاضر میں جدید غزل کے نمائندہ شاعر، دانشور، ادیب اور صحافی ہیں۔ نذیر قیصرؔ صاحب کی ادبی تخلیقات اور خدمات کے بارے میں‘‘ لکھنا ’’تو شاید آسان لفظ ہے لیکن ‘‘احاطہ کرنا’’ انتہائی مُشکل ہے۔درجن بھرسے زائد اُردو،←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر شاہد ایم شاہد-ایک ہمہ جہت نثر نگار/عامر زریں

ڈاکٹر شاہد ایم شاہد ایک نوجوان نثر نگار ہیں۔ ادبی حلقو ں میں وہ ایک کالم نویس، مضمون نگار (طبی اور ادبی) اختصار یہ نویس،مبصر اور فن شخصیت نگار کی حیثیت سے اپنی ایک جداگانہ پہچان رکھتے ہیں۔پیشہ کے لحاظ←  مزید پڑھیے

کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں/پروفیسر عامر زریں

عالمی یوم خوراک(World Food Day) یک بین الاقوامی دن ہے۔ یہ دن دُنیا بھر میں بھوک افلاس سے نمٹنے کے لئے عملی اقدامات کی آگاہی کا دن ہے۔ ہر سال یہ دن دنیا بھر میں 16 اکتوبر کو منایا جاتا←  مزید پڑھیے

احساسِ تحفظ۔۔پروفیسر عامر زریں

احساسِ تحفظ۔۔پروفیسر عامر زریں/ عورتیں معاشرے کی تعمیر میں ایک ماہرِ تعمیرات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک عورت معاشرے میں کتنے ہی رشتوں میں مرد کی زندگی پُر آسائش بنائے ہوئے ہیں۔←  مزید پڑھیے

آزمائش (افسانہ)۔۔پروفیسر عامرزرین

آزمائش (افسانہ)۔۔پروفیسر عامرزرین/  روزینہ کے لئے یہ ماحول ناقابلِ برداشت تھا۔لیکن اس حا لتِ مجبوری اور بے بسی میں وہ کیا کرسکتی تھی۔یہ فلاحی سینٹر کسی قید خانہ سے کم نہیں تھا۔ لیکن ایک عورت اور وہ بھی بے گھر ہوتے ہوئے ،لیکن یہاں اُسے کسی حد تک تحفظ تھا←  مزید پڑھیے

رالف رسل-انگریز اُردو دان۔۔/تحریر-پروفیسر عامرزرین

کسی بھی مُلک و قوم یا علاقہ کی زبان وہاں کی تہذیب و تمدن کا ایک اہم جُز تصور کی جاتی ہے۔لسانی اعتبار سے زبان کسی بھی معاشرے میں ایک فرد کے دوسرے فرد سے گفتگو ،رابطہ اور طبقہ کی←  مزید پڑھیے

بوڑھا نیم اور ماسٹر جی۔۔پروفیسر عامرزرین

گاؤں میں ہمارے گھر کے صحن میں نیم کا بوڑھا درخت تھا۔ جہاں کبھی دو کالی اور ایک بھوری گائے باندھی جاتی تھیں۔ لیکن بعد ازاں نہ جانے کیوں یہ سب جانور بیچ دیئے گئے ۔ اب گرمیوں کی چھٹیوں←  مزید پڑھیے

آغا گُل کا سبالٹرن فکشن۔۔پروفیسر عامرزرین

آغا گُل اُردو زبان و ادب کا معتبر نام ہے۔عصر ِ حاضر کے افسانہ نگاروں میں آغا گُل جداگانہ تشخص کا حامل ہے۔یوں تو آغا گُل نے فکشن میں نت نئے تجربات کئے ہیں مگر اس کا اہم ترین پہلو ‘‘ سبالٹرن فکشن’’ ہے۔←  مزید پڑھیے