مکالمہ، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 213 )

ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑی،اولمپین راؤ سلیم ناظم سے خصوصی انٹر ویو

ہاکی کا ایک اہم نام جن کے نام کے ساتھ ہمیں ہاکی کی تاریخ کا روشن دور یاد آ جاتا ہے۔ ہاکی جہاں ہمارا قومی کھیل ہے وہیں پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پاکستان کے پاس ہاکی کے چار ولڈ کپ ہیں۔ دنیا میں کسی اور ملک کے پاس یہ اعزاز نہیں ہے۔ سلیم ناظم صاحب بھی اسی دور میں ہاکی کھیلے۔اولمپکس کھیلے اور اس ٹیم کا حصہ رہے۔جن کے سینو ں پہ جیت کے یہ تمغے پاکستان کی شان بن کر سجے ہوئے ہیں۔←  مزید پڑھیے

دُہائی ہے حضور دُہائی۔۔سیّد کلیم اللہ شاہ بخاری

دُہائی ہے حضور دُہائی۔۔کلیم اللہ شاہ بخاری/پیٹرول کی قیمت کا موازنہ اگر ہمسایہ یا یورپی ممالک سے کیا جائے تو فوراً  اعتراض داغ دیا جاتا ہے، کہ وہاں کی فی کس آمدنی اور عوام کی قوتِ  خرید زیادہ ہے اس لیے یہ موازنہ غلط ہے۔ بندہ پوچھے کہ کیا تیل پیدا کرنے والے ممالک تیل بیچتے وقت فی کس آمدنی اور قوت خرید دیکھ کر تیل کی قیمت لگاتے ہیں ؟←  مزید پڑھیے

کوانٹم سے آگے (24) ۔ متوازی کائناتیں/وہاراامباکر

کوانٹم مکینکس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ یعنی کہ ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کوانٹم مکینکس اپنی اصل شکل میں مکمل ہے تو اس کا مطلب کیا ہو گا؟ یا تو رئیلزم کو الوداع کہہ دینا ہو گا یا پھر اس کا جو مطلب رہ جائے گا، ایوریٹ نے اپنے پیپر میں اس کا بتایا تھا۔ اس کو کوانٹم مکینکس کی مینی ورلڈز تشریح کہا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان گنت متوازی حقیقتوں میں سے ایک کا تجربہ کرتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

عورت اور تاریخ کا رویّہ۔۔حمزہ جلال

تاریخ عورت کیخلاف ایسے لرزہ خیز واقعات کا مجموعہ ہے۔ مذہب اور مذہبی لوگوں، دونوں نے ہر مقام پر عورت کا استحصال کیا ہے۔ اگر کوئی مذہب یہ دعویٰ  قائم کرتا ہے کہ وہ عورت کو مرد کی طرح ہی انسان سمجھتا ہے تو اسے ہیگل کے اس قول کہ " حقیقی عقلی ہے اور عقلی حقیقی " Ideal is real and real is ideal پر عمل کرکے اپنی اپنی مذہبی تاریخ کو تنقیدی جائزے کیلئے  کھلا چھوڑنا ہوگا۔←  مزید پڑھیے

ربیع الاوّل اور ہماری ذمہ داری۔۔شہزاد سلیم عباسی

ربیع الاوّل میں شافع المذنبین، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔آپ کے آنے سے کفر و جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھٹ گئے۔ فہم و فراست،عقل و دانست اور علم و ہنر کیساتھ ساتھ ترقی و ترویج کے بڑے راز کھلے←  مزید پڑھیے

ایک انقلابی کی سرگزشت(1)۔۔دیپک بُدکی

میری بوڑھی آنکھوں نے اسّی بہاریں اور اسّی پت جھڑ دیکھے ہیں۔ بہار تو خیر نام کے لیے آتی تھی ورنہ جن دنوں میں چھوٹا تھا میں نے کہیں چمن میں گُل کھلتے دیکھے ہی نہیں۔ ہر طرف سیلاب، سوکھا،←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی” سے ایک اقتباس-جدیدیت کا منظر نامہ۔ دہلی (۱۹۷۵) کے حوالے سے(2)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دہلی کے یہ پھبتی باز، بیکار، آوارہ اردو شاعر اور افسانہ نگار جو سارا دن کناٹ پلیس میں ایک یا دو میزوں کو قابو کیے بیٹھے رہتے تھے، میرے قیام کے دوران خبروں اور افواہوں کا بہترین ذریعہ تھے۔←  مزید پڑھیے

حضور ﷺکی پرورش اور شام کا پہلاسفر۔۔گُل بخشالوی

حضورﷺنے 8ماہ کی عمر میں پہلی گفتگو فرمائی ۔آپﷺاپنے رضاعی بہن بھائیوں کیساتھ کھیلتے تھے اور تین برس کی عمر میں ان کےساتھ بکریاں چرانے بھی جاتے رہے ۔آپﷺ کی ولادت کے چوتھے یا پانچویں سال وہیں شق ِ صدر کا واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد حلیمہ آپﷺ کو مکہ چھوڑ گئیں ۔←  مزید پڑھیے

اللہ مالک ہے۔۔محمد وقاص رشید

اللہ مالک ہے۔۔محمد وقاص رشید/میں خاکزاد کو دیکھ رہا تھا، فوتگی پر آنے والے ہر شخص کو وہ پانی دیتا تھا، چائے پیش کرتا تھا اور اگلا مہمان آنے تک ایک پرانی چارپائی کے کونے پر جا کر بیٹھ جاتا←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی” سے ایک اقتباس- سطروں کی تراش کے بارے میں(1)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ایک خاص موضوع جس پر میں نے عرق ریزی کی حد تک کام کیا ، وہ اردو میں صنف غزل کے منفی اثرات کی وجہ سے آزاد نظم (یعنی بلینک ورس۔۔فری ورس نہیں ، جسے آج کل نثری نظم کہا جاتا ہے ) میں رن ، آن سطروں سے لا تعلقی کا رویّہ تھا←  مزید پڑھیے

زانی مرد اور عورت کی سزا ۔۔خرم خان

زانی عورت ہو یا زانی مرد، سو (اِن کا جرم ثابت ہو جائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کوسو کوڑے مارو اور اللہ کے اِس قانون (کو نافذ کرنے) میں اُن کے ساتھ کسی نرمی کا جذبہ تمھیں دامن گیر نہ ہونے پائے، اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر فی الواقع ایمان رکھتے ہو۔←  مزید پڑھیے

نظام کوزہ گر اور تازہ مٹی۔۔محمد وقاص رشید

نظام کوزہ گر پہلے یہاں پر رہنے والوں کو بھوک تقسیم کرتا ہے،اسکا ماننا ہے کہ ہڈیوں پر زیادہ ماس نہ ہو تو مٹی خستہ حاصل ہوتی ہے ۔مدقوق جسموں کی یہ خاک بھٹی میں اس لیے جلدی پک کر تیار ہوتی ہے کہ پہلے سے انہیں بخت کی دھوپ نے جھلسا رکھا ہوتا ہے←  مزید پڑھیے

کیا بزنس سکول کاروبار کو درست پڑھا رہے ہیں ؟۔۔تحقیق و تحریر: عاطف ملک

بزنس سکولوں نے کاروباری اخلاقیات کے کورسز بنا کر پڑھانے شروع کیے ہیں مگر کیا یہ کورسز اس طرح کے واقعات کا سدباب کر سکتے ہیں؟ خصوصاً اگر بزنس سکولوں میں پڑھائی جانے والی تھیوریاں ہی ایسے واقعات کی ذمہ دار ہوں۔ اس کی ایک مثال ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جینسن اور روچسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر میکلنگ کی دی گئی ایجنسی تھیوری ہے جو دنیا بھر کے کاروباری سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے۔←  مزید پڑھیے

راگنی کی کھوج میں ۔۔نجیبہ عارف/تبصرہ:۔۔عاصم کلیار

راگنی کی کھوج میں ایک بے قرار روح متلاشی متلاشی شاید ازل سے ہی روح کے سفر میں منزلیں  سیراب اور راستے گرد ہوۓ جاتے ہیں چشم بینا سے دیکھنے پر باطن کی عریانی اور کمینگی سے خود شرمندگی محسوس ہوتی ہے←  مزید پڑھیے

مناظرہ۔۔حسان عالمگیر عباسی

اوّل تو مناظرہ فتنوں کو دعوت دینے والی بیہودہ سرگرمی ہے، بالخصوص جس معاشرے میں  برداشت کا لیول  آٹے میں نمک کی طرح ہو ،وہاں ایسی بیہودگی عقل و فہم کے بالکل خلاف ہے۔ ہمارے ہاں مناظرہ ایک روایت ہے←  مزید پڑھیے

کوانٹم سے آگے (22) ۔ Collapse/وہاراامباکر

کوانٹم مکینکس کی روایتی تشریح بتاتی ہے کہ ویو فنکشن پھیلا ہوا ہے اور جب پیمائش کی جاتی ہے تو یہ کولیپس ہو کسی جگہ پر مل جاتا ہے۔ اور یہاں پر ایک مسئلہ ہے۔ کیونکہ “پیمائش کس کی اور کب ہو رہی ہے؟” اس سوال کا جواب صرف اور صرف ہم دیتے ہیں! ←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (5)۔۔مرزا مدثر نواز

گئے دنوں کی یادیں/میں اور میرے ہم عمر زندگی کے جس حصے سے گزر رہے ہیں‘ ایسا کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارے زمانے میں اس اس طرح ہوتا تھا۔ بچپن و لڑکپن کی حسین یادویں ہک جن کو قلمبند کرنے کا مقصدذہن میں محفوظ فولڈرز کو کھول کر کچھ لمحات کے لیے خوشی محسوس کرنا جیسے پرانی تصویروں والے البم کو دیکھ کر ماضی کے لمحات کو یاد کیا جاتا ہے←  مزید پڑھیے

افغانستان طالبان اور عالمی سیاست (حصّہ دوم)۔۔۔ڈاکٹر محمد علی جنید

افغانستان عہد وسطی میں  ترکوں کے علاوہ انکے نسلی رشتہ داروں مغلوں کے بھی زیر اثر رہا ہے، چونکہ افغانستان یا خراسان کا علاقہ وسطی ایشیا کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا اور مشرقِ  وسطی ٰ کے علاقوں سے سرحدی طور پر تعلق  رکھتا چلا آیا ہے←  مزید پڑھیے

کوانٹم سے آگے (21) ۔ عجیب سائنسدان؟/وہاراامباکر

کوانٹم مکینکس کی تشریح کوپن ہیگن میں طے ہو چکی تھی۔ متبادل تشریحات مسترد کر دی گئی تھیں۔ ڈی بروئے اپنی تشریح کے بارے میں ہار تسلیم کر چکے تھے۔ صرف آئن سٹائن اور شروڈنگر بچے تھے جو ابھی تک پوری طرح قائل نہیں ہوئے تھے لیکن ان کے اختلاف کا اثر نہیں تھا۔←  مزید پڑھیے

ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

آج صبح ہی صبح ایک صاحب کی میسنجر پر کال آئی۔ کہنے لگے کہ ایک ماہ قبل اپنی تحریر میں مکان کی تقسیم کے حوالے سے آپ نے قانونی ضابطہ کار کا ذکر کیا تھا۔ میرا بھی فیصل آباد میں←  مزید پڑھیے