• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • افغانستان طالبان اور عالمی سیاست (حصّہ دوم)۔۔۔ڈاکٹر محمد علی جنید

افغانستان طالبان اور عالمی سیاست (حصّہ دوم)۔۔۔ڈاکٹر محمد علی جنید

مرفوع نہیں ہے،مگر ابن مسعودؓ والی روایت ہم دیکھتے ہیں کہ یزید بن ابی زیاد کوفی جو محدثین کے نزدیک ضعیف ہے کہ سبب حجت کے قابل نہیں رہتی  ہے۔اسی طرح مستدرک حاکم کی ایک روایت کو  امام ذہبیؒ نے عدم موافقت  اختیار کرتے ہوئے ضعیف قرار دیا ہے،ایک روایت احمد و بہیقی والی کو رشدین بن سعد کے ضعیف ہونے کے سبب جمہور نے ضعیف کہا ہے۔غرض یہ کہ یہ روایت  اور اسکی جمیع اسناد  کوئی خاص علمی بنیادوں پر قابل حجت   نہیں ہیں۔واضح رہے یہاں خراسانی جھنڈے زیرِ  بحث ہیں ناکہ امام مہدی کی آمد زیرِ  بحث ہے، ان کا بالوجود  ہونا صحیح احادیث سے ثابت ہے ،چنانچہ  داعش سے طالبان تک  اسے منطبق کرنا علمی کم اور جذباتی رومانی بحث زیادہ محسوس  ہوتی  ہے۔

خراسانی شر کا معاملہ:

tripako tours pakistan

خراسان شروع سے آخر تک شر کا علاقہ رہا  ہے جیسے افغانستان کی خانہ جنگی سے ظاہر ہے،ہارون الرشید کی وفات کے بعد بھی  خراسان مامون الرشید اور اسکے فارسی نسل حامیوں کا گڑھ رہا تھا جبکہ بغداد نجیب الطرفین ہاشمی امین الرشید  اور  عباسی سلطنت کا دارالخلافہ تھا، اس دور میں بھی خراسانی لشکر نے بغداد کو تخت و تاراج کیا تھا،اب کیا ہر دور میں ایسی بغاوتوں اور فوجوں کی نقل و حمل کو سیاہ جھنڈے والی روایت سے ثابت کیا جاتا رہے گا ؟چنانچہ  بنو امیہ کے آخری دور میں خوارج سے نمٹنے میں مشغول مروان بن محمد نے خراسان کو فراموش کردیا  تھا ،جس کی قیمت اسے بنو امیہ کے  اقتدار کے خاتمہ کی صورت میں چکانی پڑی۔

وہاں ابو مسلم خراسانی   نےپروپیگنڈے کے ذریعہ جو بغاوت کھڑی  کی تھی اس میں عربوں میں موجود زمانہ قدیم سے چلی آرہی یمنی و مضری کشمکش نے اور زور پیدا کردیا تھا جسے ،عباسی داعی ابو مسلم خراسامی اصفہانی نے اور تیز کردیا ،یوں خراسان سے نکلنے والے ان لشکروں نے عباسی سلطنت کی بنیاد رکھ دی تھی  چنانچہ ابن اثیر کا بیان ہے کہ :

ابو مسلم نے علی بن کرمانی یمنی اور شبل بن طمان کو مرو   اموی  گورنر نضر بن سیار سے لڑنے بھیجا،جو یمنی مضری مسئلہ میں مضری قبائل کی حمایت کے سبب ،کرمانی یمنی کی موت کا ذمہ دار قرار دیا گیا،حالانکہ اسکا قتل بھی ابو مسلم کی بنو امیہ کے خلاف سارشی حکمت عملی کے سبب عمل میں آیا تھا   یوں   نضر بن سیار ان تینوں متحدہ لشکروں کا سامنا نہیں کرسکا جو خراسان کی فتح کے لئے اسکے خلاف آئے تھے ۔ابومسلم نے اسے اوّل  ورغلانا چاہا کہ ہم  سے مل جاؤ، فائدے میں رہو گے،مگر درپردہ وہ عربی اقتدار کو ختم کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا، نضر نے بتایا جاتا ہے کہ زمانہ کی نبض پہچان کر اس سے زبانی اطاعت گزاری کا وعدہ  بھی کرلیا تھا، مگر جب ابو مسلم کا داعی لاحظہ  وہاں پہنچا اور  اس نے جب عرب نسل  نضر بن سیار کی حالت دیکھی تو اسے بڑا افسوس و غم ہوا، اس نے اشارتاً آیت قرآنی پڑھ کر  اسے اسکی مستقبل کی  موت سے خبردار کرنے کی جسارت کی  ،چنانچہ   اس نے سیار کو  قرآنی  آیات میں  موسیؑ کو پیش نظر رکھتے  ہوئے سیار پر منطبق کرکے کہا کہ:

لوگوں (فرعونی درباری) نے تیرے متعلق مشورہ کرلیا ہے کہ تجھے قتل کردیں اس لئے  تو نکل، بیشک میں تو ایک نصیحت کرنے والا ہوں۔(قرآنی مفہوم)

نضر قرآنی آیت سے  ابو مسلم کی دغا بازی پہچان گیا  چنانچہ نضر نیشا پور سے رے نکل گیا جہاں اسکی وفات ہوئی جبکہ ابو مسلم خراسانی نے داعی  لاہظہ بن قریظہ عربی کو مدد کے شک پر قتل کرادیا یوں،خراسان سے  جھنڈے نکلے اور عباسی سلطنت کی بنیاد بنے ۔

(ابن اثیر:الکامل:صہ:۵۷۰ تا ۵۹۰:جلد ۵)

افغانستان ماقبل دور جدید:

افغانستان عہد وسطی میں  ترکوں کے علاوہ انکے نسلی رشتہ داروں مغلوں کے بھی زیر اثر رہا ہے، چونکہ افغانستان یا خراسان کا علاقہ وسطی ایشیا کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا اور مشرقِ  وسطی ٰ کے علاقوں سے سرحدی طور پر تعلق  رکھتا چلا آیا ہے اور اسکی سرحدیں موجودہ پاکستان کی شمال مغربی سرحدوں،بلوچستان ،ایران سے بھی جاملتی ہیں ،اسی تناظر میں افغانستان گریٹ گیم اور بفر اسٹیٹ دونوں ہی سیاسی ااصطلاحات کا تختہ مشق بنتا نظر آتے  ہیں ۔

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ متوکل عباسی سے قبل ہی مامون کے دور سے طاہری خاندان خراسان پر جڑیں گاڑ چکا تھا،مامون خراسان چھوڑ کر بغداد پر قابض ہوا ،اسکا بھائی سابقہ خلیفہ امین الرشید ہلاک کردیا گیا اور طاہری خاندان جو مامون کی فوجی کمانداریت کر رہے تھے وہاں گورنری سے خودمختاری کی طرف گامزن ہوتے گئے اور ایک وقت آیا خراسان مرکز سے کٹ  کر اسی خاندان کے نام ہوگیا ،مرکز بس نام کا یہاں سے تعلق رکھتا ملتا ہے۔

،چنانچہ متوکل عباسی کی ہلاکت کے بعد ترکوں کی درباری سازشوں،عروج ،فوج کے ریاست کی سیاست میں بڑھتے کردار اور بیجا مداخلت نے جہاں عباسی خلفا کی تخت نشینی کو ایک کھیل تماشے میں بدل کر رکھ دیا تھا وہیں ساتھ ساتھ کئی خاندانوں کو جو مختلف صوبوں پر بطور امیر و عامل مرکز کی طرف سے مقرر تھے خود مختار ہونے کا موقع فراہم کردیا تھا۔اگر برصغیر کی بابری سلطنت کی حالت کو عالمگیر کی ۱۷۰۷ عیسویں میں وفات کے بعد سے بہادر شاہ اوّل سے بہادر شاہ دوئم تک ۱۸۵۷ تک بغور  دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کریں تو بخوبی اندازہ ہوگا کہ نراجیت،عدم مرکزیت،اخلاقی پستی ،مرہٹہ عروج،ہندو بنگالی قوم پرستی کے احیا ،ناد شاہی اور ابدالی حملوں نے عملاً مغل سلطنت کو سرے سے ۱۷۳۹ عیسویں تک فنی طور پر  ختم کردیا تھا، مابعد جو کچھ جنگ آزادی ۱۸۵۷  تک دیکھنے کو ملتا ہے وہ بس رسمی اختیار سے محروم ایک کٹھ پتلی بادشاہت کے ماسوا کچھ نہ  تھا، ورنہ  انگریز تو ۱۷۵۶ تک ہی ہندوستان کی غالب قوت،اور سیاسی اقتدار کے مالک تھے،ویزلے برادران نے اسے ۱۸۰۰ تک مزید کامل و تکمیل شدہ کردیا تھا،مغل حکمران خود کمپنی کا وظیفہ خوار  تھا۔

ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے عباسی خلفا  ء کا حال ذرا ہمارے  ان  مابعد عالمگیر کے کٹھ پتلی مغل  حکمرانوں سے کافی بہتر تھا،کیونکہ عباسی حکمران ان سے اخلاق کردار ،علم  ،فہم و فراست میں کچھ بہتر ہوا کرتے  تھے،جب خلیفہ مضبوط آتا تھا تو حالت بہتر ہوجاتی تھی اور جب خلیفہ نالائق ہوتا تھا،امیر الامرا ء من مانیاں کرنے لگتے تھے،ان سب کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود ۱۶۵۷ عیسویں تک عباسی خلفا  ء حکومت سنبھال  گئے،اس تناظر میں عباسی خلفا ء مغلوں اور عثمانیوں سے کافی بہتر ثابت ہوئے۔

خراسان جیوپولیٹیکل (سیاسی ارضی جغرافیہ ) محل ِ وقوع کے لحاظ سے ہمیشہ سے ایک خاص اہمیت کا حامل رہا ہے،جبکہ سازشوں ،بغاوتوں،پہاڑوں اور صحرا کی وسعتوں  نے اسے مزید دو آتشہ بنا کر رکھا ہوا تھا۔

معلوم پڑتا ہے کہ خوارزم شاہی کے زوال میں مگن چنگیز خان جلال الدین خوارزم شاہ کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں سے گزرا ہوگا ،چنانچہ ۱۲۱۹ تا ۱۲۲۱ عیسویں کے دوران چنگیز خان نے اسکی راہداری مشرق وسطی میں تباہی پھیلانے کے لئے استعمال کی تھی،اور شمال مشرق سے یہاں وارد ہوا تھا،اور اسکے کئی علاقے چنگیز خانی سلطنت میں شامل کردیے گئے تھے۔

سلطنت دہلی کے دور میں بھی اندازہ ہوتا ہے کہ برصغیر میں خراسان کے افغانی علاقوں سے مغل غارت گروں کا سامنا مسلسل اس دور کے جلیل القدر مدبر حکمرانوں نے کیا  تھا جن میں التمش،بلبن،علاوالدین خلجی وغیرہ کے نام خاص الخاص ہیں۔

موجودہ افغانستان سے متعلق کچھ باتیں:

جہاں تک اسکے موجودہ  محل اور وقوع کا تعلق ہے تو موجودہ جدید جغرافیائی افغانستان زمینی طور پر ایک مقید و محدود(لینڈ لاکڈ) ملک رہا  ہے،جسکے چاروں طرف کوئی سمندر اور بندرگاہ موجود نہیں ہے،مختلف ملکوں نے اسکی سرحدوں کو اپنے حصار میں باندھا ہوا ہے،جس نے مجبوراً اس ملک کو اپنی ضروریات کے لئے اپنے پڑوسیوں بالخصوص پاکستان پر دارومدار کرنا سکھادیا ہے،اسکے جنوب مشرق میں پاکستان واقع ہے،دوسری طرف مغرب میں ایران،شمال مشرق میں چین،شمال میں ترکمانستان،ازبکستان اور تاجکستان واقع ہیں۔

اس ملک پر مختلف وقتوں میں صدیوں سے مختلف ممالک یا تو جزوی یا کلی طور پر قابض رہے ہیں یا انکا یہاں کی حکومتوں پر غلبہ و اثر رہا ہے،چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سکندر اعظم کی یونانی سلطنت سے ،ایرانی حکومت تک،امویوں،عباسیوں،غزنویوں،غوریوں،سلاطین دہلی سے مغل حکومت تک (جزوی کابل اور ملحقہ علاقوں )  اور مابعد ،انگریزوں،صفوی ایرانیوں اور امریکیوں  نے بھی  صدیوں سے اس خطہ کی سیاست،ریاست،معیشت اور فکر پر غلبہ و اقتدار قائم کیا  ہوا ہے۔

اسکا رقبہ ۶،۵۲،۸۶۴ کلومیٹر مربع کے قریب بیان کیا جاتا ہے،جبکہ نسلی تناظر میں یہاں آباد مختلف لسانی و نسلی گروہوں میں سے خاص الخاص درجِ ذیل ممالک ہیں:

ہزارہ (۹) فیصد

تاجک(۲۷) فیصد پشتون ۴۲ (۴۵) فیصد
ازبک(۹) فیصد ایماقی(۴) فیصد ترکمانی (۲) فیصد
بلوچی(۲) فیصد دیگر اقلیتی نسلیں(۴) فیصد اندازاً

 موجودہ ریاست افغانستان کی تاریخ:

ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخی طور پر کوئی خودمختار یکساں خاندان کے زیر سایہ وسیع امارت کا حامل افغانستان نامی ملک تاریخ میں ہمیں    دیکھنے کو نہیں ملتا ہے،چنانچہ جب ہندوستان میں مرہٹہ،انگریز اور یورپی اقوام مغل سلطنت کے وسائل،علاقہ جات ،صوبہ جات ،تجارت ،ریاست پر قبضہ کے لئے باہم دست و  گریبان تھی ،اسی دوران نادر شاہ کے پشتون معتمد احمد شاہ ابدالی نے دہلی کی نادر شاہی مارا  ۱۷۳۹ میں وقوع پذیر ہوئی تھی میں ہندوستان کی مغل سلطنت کے زوال کو بھانپ لیا تھا،دہلی میں  اس لوٹ مار اور قتل و غارت گری نے نادر شاہ اور اسکے کمانداروں کو مالا مال کردیا تھا اور مغل سلطنت اپنے صدیوں کے اثاثہ جات،ہیرے جواہرات،عزت و وقار سے محروم ہوچکی تھی،سمجھیں کہ بہت حد تک  نادر شاہی حملہ نے ہی احمد شاہ رنگیلا دور اقتدار میں مغل سیاسی اقتدار کا خاتمہ کردیا تھا۔

درانیوں کا افغانستان:

بعد ازاں نادر شاہ کے قتل  کے بعد سے  سردار ابدالی ہندوستان کے شمال مغربی سرحدی علاقہ جات ،پنجاب وغیرہ سے لیکر کابل تک کا مالک بن چکا تھا،پانی پت کی تیسری لڑائی نے اسکی مالی و سیاسی حالت کو مزید مضبوط کردیا تھا،مرہٹوں سے مغلوں تک سے وہ بہت کچھ مال و دولت سمیٹ کر ساتھ لیکر واپس  چلا گیا تھا، بلکہ زبر دستی  مجبور مغل شہزادی بھی اسکے خاندان کی زینت بن چکی تھی  جبکہ اسکے مقرر کردہ نمائندے پنجاب اور شمال مغربی علاقوں سے خراج و تاوان وصول کیا کرتے تھے۔

ان پر پے  در پے  کامیابیوں اور مال و دولت    نے اسکو معاشی  و سیاسی طور پر اتنا مستحکم کردیا تھا کہ وہ یورپ و ایشیا میں رونما  ہونے  والی سیاسی بیداری اور سیاسی نظریات کی ترویج سے آگاہ ہوکر ایک بڑی وسیع افغان سلطنت کو قائم کرنے  کے قابل ہوگیا تھا، سچ تو یہ ہے کہ درانی کوئی پہلا فرد نہیں تھا جس نے وسیع افغانستان کے  خواب کی تکمیل کی طرف اوّل قدم اٹھایا تھا اس سے قبل ہم دیکھتے ہیں صفویوں اور مغلوں میں  اس خطے کے علاقہ جات پر قبضہ کی تگ و دو اور کشمکش جاری و ساری تھی،جب مغل عالمگیر کے بعد خود کو سنبھالنے کے قابل نہ  رہے اور سیاسی مذاق بن کر رہ گئے تو صفویوں کو یہاں کوئی روکنے ٹوکنے والا  موجود نہیں تھا مگر ہوتک خاندان نے صفویوں کے اقتدار اور غلبہ کو نا صرف جوابِ دعویٰ (چیلنج) پیش کیا بلکہ ان کے مقابل سلطنت قائم کرنے کے بھی قابل ہوگئے۔

میروبس خان نے پشتون سلطنت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی جدوجہد کا آغاز کیا اور ۱۷۰۹ میں اس ہوتکی سردار نے صفویوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور ۱۷۱۹ تا ۱۷۲۹ تک وہ ایرانی افواج کو دھکیلتے ہوئے اصفہان تک قابض ہوگئے تھے،جب نادر شاہ نے صفوی اقتدار کو ختم کرکے اپنی سلطنت کی داغ بیل ڈالی تو اس نے ہوتکوں کو مسلسل شکست دینا شروع کیا اور تمام مقبوضہ علاقہ جات  ان سے واپس لے لئے۔ حد تو یہ کہ وہ ۱۷۳۸ تک قندھار و غزنی بھی واپس لینے کے قابل ہوگیا،اسکے ایک سال بعد وہ ہندوستان کی دولت سمیٹنے اسکے علاقوں میں نمودار ہوا۔فشاری سلطنت کے اس بانی کی موت ۱۷۴۸ میں اسکے  قتل پر متنج ہوئی۔

احمد شاہ ابدالی نادر شاہ کا ایک  قابل ذہین اور شجاع کماندار تھا جو اسکے ساتھ کئی جنگوں اور فتوحات میں شامل رہ چکا تھا،اس نے دہلی کے قتل عام میں نادر شاہ کا ساتھ حصہ لیکر خطہ میں عدم مرکزیت،امرا ء کی باہم کشمکش،مغل بادشاہ کی بے بسی اور زبوں  حالی  کا بخوبی مطالعہ و مشاہدہ کیا تھا،چنانچہ  یہاں اس نے روہیلہ پٹھانوں  کی پشت پناہی شروع کی،جو  روہیل کھند کے زوال تک وہ افغان حکمرانوں کے زیر نگر تھے۔چونکہ افغانستان مسائل کا گڑھ اور وسائل نمو و بالیدگی سے  محروم خطہ تھا جب ہی  شمال مغربی علاقوں ،پنجاب پر درانی اقتدار نے آمدنی کا ایک معقول نظام قائم کئے رکھا جس سے انکی سلطنت کے معاملات چلتے رہے،رنجیت سنگھ کی سکھ حکومت جب پنجاب اور شمال مگربی سرحدی علاقوں پر قابض ہوگئی اور احمد شاہ کی وفات ہوگئی تو درانی اقتدار سیاسی بنیادوں کے ساتھ معاشی طور پر مزید کمزور و قلاش ہوتی گئی،بر صغیر کی دولت سے قائم سلطنت آہستہ آہستہ ڈوبنے لگی۔

بتایا جاتا ہے کہ نادر شاہ کی موت کے بعد احمد شاہ کی خداداد صلاحیتیں اور بہادری کو دیکھتے ہوئے درانی قبیلہ کے لویا جرگہ نےاسے اپنا سردار اعلیٰ  چن لیا تھا،ابدالی نے  اس سرداری کو بعد ازاں  ایک وسیع پشتون سلطنت میں بدل کر رکھ  دیا، جو قندھار سے شروع ہونے والی سلطنت  کابل تک جاپہنچی وہاں سے ہندوستان اور ایران کے کئی علاقوں تک  محیط ہوئی۔یعنی مشہد، باجگزار دہلی ،پنجاب،کمشیر،شمال مغربی سرحدی علاقہ سب اسکے زیر ِ سایہ تھے۔

پانی پت کی تیسری جنگ نے احمد شاہ ابدالی کی مالی و سیاسی حالت کو ۱۷۶۱ میں مزید مضبوط کردیا تھا،درانی کے بعد وہی ہوا جو نظام کے بغیر شخصیت پرست اداروں و حکومتوں میں ہوتا چلا آیا ہے،بانی رخصت ہوا تو اسکے جانشین اسکے مقابل  نااہل ثابت ہوئے،یوں ۱۷۷۲ تا ۱۸۳۲ تک کا درانی دور جس نے عظیم افغانستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا تھا،ٹوٹنے  و بکھرنے لگا،خانہ جنگی کا شکار ہونے لگا   چنانچہ  ابدالی جانشین  ایوب شاہ کے  ۱۸۳۲ میں قتل نے اس تابوت  میں آخری   کیل ٹھونک دی۔ اسکے بعد کا دور سمجھیں افغانستان میں مغربی اقوام اور انکے اثر و نفوذ کا دور تھا،اب سمندر پار کے گورے مقامی گوروں کے معاملات کو متاثر کرنے اور انکو مغلوب کرنے کے لئے کمر بستہ ہوچکے تھے وہ ہندوستان میں اپنے اقتدار کے ایران،روس اور دیگر یورپی اقوام سے بچانے کے لئے اس راہداری پر قابض ہونا چاہتے تھے،یہاں دیگر اقوام،اور فاتحین کی آمد کا سلسلہ اختتام پذیر کرنا چاہتے تھے۔ یوں افغانستان انہوں نے ایک علاقہ حد فاضل ( بفر اسٹیٹ ) بنا کر رکھنے کی حکمت عملی کا آغاز کردیا۔

Advertisements
merkit.pk

(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply