مرِزا مدثر نواز کی تحاریر
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

گئے دنوں کی یادیں (5)۔۔مرزا مدثر نواز

گئے دنوں کی یادیں/میں اور میرے ہم عمر زندگی کے جس حصے سے گزر رہے ہیں‘ ایسا کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارے زمانے میں اس اس طرح ہوتا تھا۔ بچپن و لڑکپن کی حسین یادویں ہک جن کو قلمبند کرنے کا مقصدذہن میں محفوظ فولڈرز کو کھول کر کچھ لمحات کے لیے خوشی محسوس کرنا جیسے پرانی تصویروں والے البم کو دیکھ کر ماضی کے لمحات کو یاد کیا جاتا ہے←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (4)۔۔مرزا مدثر نواز

نوّے کی دہائی کی یادیں : بچے اتنے صاف ستھرے نہیں ہوتے تھے جتنا کہ آجکل کے‘ صرف چھوٹا سا جانگیا پہنے‘ چہروں پر مختلف نشانات سجائے گلیوں میں دندناتے پھرتے‘ مٹی یا ریت میں لوٹ پوٹ ہو رہے ہوتے تو کبھی نالیوں میں اپنے ہاتھ مار رہے ہوتے‘←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (3)۔۔مرزا مدثر نواز

اساتذہ کی آمد سے پہلے کچھ بچے کھیل کود میں مصروف ہو جاتے جو زیادہ تر پکڑن پکڑائی (پنجابی میں چھو چھوان) ہی ہوتا‘کچھ گھر کا کام صبح آ کر کسی کی نقل کر کے لکھ رہے ہوتے‘ کچھ کل←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (2)۔۔مرزا مدثر نواز

تختی، قلم اور دوات کے ساتھ سلیٹ کا تعارف بھی ضروری ہے، سلیٹ لوہے کی بنی ہوئی کالے رنگ کی ایک چھوٹی شیٹ ہوتی ہے جس پر ایک خاص قسم کے سفید پتھر (جو سلیٹی کہلاتا ہے) سے لکھا جاتا←  مزید پڑھیے

گئے دنوں کی یادیں (1)۔۔مرزا مدثر نواز

ضرار نے پنجاب کے ضلع گجرات کے ایک گاؤں میں آنکھ کھولی، اس کا سن پیدائش 1983 ہے، بہن بھائیوں میں اس کا تیسرا نمبر ہے، وہ کُل دو بہنیں اور تین بھائی ہیں۔ اس کا گھرانہ ایک غریب و←  مزید پڑھیے

آخر تمہیں آنا ہے۔۔مرزا مدثر نواز

ان کے والد نے بہت زیادہ جائیداد بنائی‘ جو جمع پونجی ہوتی اس سے مزید زمین خرید لی جاتی۔ کام کاج کے سلسلے میں دونوں بھائی بھی یورپ چلے گئے‘ زندگی خوشحالی سے مزید خوشحالی کی طرف رواں دواں ہو←  مزید پڑھیے

خاتون سے دست درازی۔۔مرزا مدثر نواز

وہ ایک جیولرز شاپ تھی جس میں بے پناہ رش تھا‘ خریدار اپنے من پسند زیورات کی جانچ کر رہے تھے اور دکاندار بڑے اطمینان سے گاہکوں کو نمٹا رہا تھا۔ دکان کے باہر اسلحہ سے لیس کوئی محافظ موجود←  مزید پڑھیے

سوال کرنے دیجیے۔۔مرزا مدثر نواز

میرے ہم عمر اور میں جس دور میں سکول میں پڑھتے تھے‘ ان دنوں استاد کے احترام کے ساتھ ساتھ ان کا رعب و دبدبہ بھی دل میں موجود ہوتا تھا۔ سکول کے اوقات کے بعد استاد اور شاگردوں کے←  مزید پڑھیے

نوری آبشار۔۔مرزا مدثر نواز

ہارون الرشید سیاحت کا دلدادہ ہے، وہ اور اس کے ہم خیال ساتھی اکثر و بیشتر کسی بھی خوبصورت سیاحتی مقام کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔ ہم نے انہیں آوارہ گرد کا خطاب دیا ہوا ہے۔ شمالی علاقہ جات،←  مزید پڑھیے

وہ بھی جنسی ہراسگی کا شکار ہوا۔۔مرزا مدثر نواز

شمشاد (فرضی نام) انجینئرنگ کا طالبعلم تھا‘ شریف النفس‘ شوخ‘ چنچل‘ ہنستا مسکراتا‘ شرمیلا‘ خوبصورت نظر آنے کا شوقین‘ سب کچھ جانتے بوجھتے اور سمجھتے ہوئے نسوانی خصوصیات ظاہر کرنے والا۔ ہو سکتا ہے کہ زنانہ ماحول میں زیادہ وقت←  مزید پڑھیے

بہو یا مال و دولت۔۔مرزا مدثر نواز

وہ ایک ادارے میں اچھی پوسٹ پر ملازمت کرتا تھا‘ زندگی کے شب و روز اچھے انداز میں کٹ رہے تھے۔ ادارے نے رضا کارانہ علیحدگی کی سکیم متعارف کروائی تو موصوف نے اسے اپنانے کے  لیے اپنی رضا مندی←  مزید پڑھیے

سنگین مسئلہ۔۔مرزا مدثر نواز

اسے کراچی شہر سے بے پناہ محبت ہے اور اس شہر کا دلدادہ ہے‘ زمانہ طالبعلمی میں اسے جب بھی کراچی جانے کا موقع ملتا‘ اس کا بیگ تیار ہوتا اور وہاں جا کر وہ خوب لطف اندوز ہوتا تھا۔←  مزید پڑھیے

بے بسی۔۔مرزا مدثر نواز

پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ایسا ملک ہے جو رنگ و نسل و قومیت و زبان کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاََایک نظریہ لاالہ الااللہ کی بنیاد پر وجود میں آیا(حالانکہ ایک طبقہ اس بات کو بھی تسلیم نہیں←  مزید پڑھیے

بادشاہت،جمہوریت اور عہدِ نبوی کا نمونہ(تیسرا،آخری حصّہ)۔۔مرزا مدثر نواز

آپﷺ جو پیغمبر ہونے کے علاوہ ایک امیر کی حیثیت بھی رکھتے تھے‘ لوگوں نے اس حیثیت سے آپ پر جو سخت سے سخت اعتراض کیا‘ آپ نے اس کو کس حلم اور عفو سے سنا اور معاملہ کا فیصلہ←  مزید پڑھیے

بادشاہت، جمہوریت اور عہد نبوی کا نمونہ (حصہ دوم)۔۔مرزا مدثر نواز

اس وقت کی شاہانہ حکومتوں میں بادشاہ اور شاہی خاندان کے افراد قانون کی زد سے مستثنیٰ تھے مگر یہاں یہ حال تھا کہ ہر قانون الہیٰ کی تعمیل کا اصل نمونہ اس کا رسول اور اہل بیت تھے اور←  مزید پڑھیے

بادشاہتٗ جمہوریت اور عہد نبوی کا نمونہ (حصہ اوّل)۔۔مرزا مدثر نواز

تاریخ کے بند دریچوں میں جھانک کر قدیم بادشاہتوں کا مطالعہ کیا جائے تو اس دور کو خوش قسمت تصور کیا جا سکتا ہے۔ گو دنیا آج بھی مکمل جمہوری نظام میں نہیں ڈھل سکی اور آمرانہ ذہنیت ہی غالب←  مزید پڑھیے

ظالم نہ بنیں۔۔مرزا مدثر نواز

حجاج بن یوسف کا بڑا رعب اور دبدبہ تھا‘ وہ لوگوں سے یہ توقع رکھتا تھا کہ سبھی اس کا ادب کریں اور اس کے حضور غلاموں کی طرح کھڑے رہیں۔ ایک شخص اس قسم کے آداب کا قائل نہ←  مزید پڑھیے

میں بہتر ہوں (دوسری،آخری قسط)۔۔مرزا مدثر نواز

ایک نجومی کو خیال آیا کہ وہ کیوں نہ اس باکمال عالم سے تعلیم حاصل کرے جس کے شاگردوں میں بو علی سینا جیسے معروف افراد شامل تھے۔ وہ اس خواہش کی تکمیل کے لئے سفر پر نکلا اور طویل←  مزید پڑھیے

کیا یونہی دن گزر جائیں گے۔۔مرزا مدثر نواز

زندگی کتنی مختصر ہے اس بات کا اندازہ عموماََ اس وقت ہوتا ہے ،جب اس کا بیشتر حصہ گزر چکا ہوتا ہے۔ ایک جاننے والے کے والد صاحب نے تقریباً سو سال کی عمر پائی،وہ بتاتے ہیں کہ ان کے←  مزید پڑھیے

ہمارا ہیرو راجہ داہر ہے۔۔مرزامدثر نواز

جس معاشرے میں اسلام کا ظہور ہوا وہ ایک نسل پرست خیالات کا حامل تھا، جس میں حسب و نسب کو تفاخر کی علامت اور قابل عزت و احترام سمجھا جاتا تھا۔ عرب شعراء آباؤ اجداد کے حسب و نسب←  مزید پڑھیے