اردو - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 21 )

نظم کہانی۔۔۔(4)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گیلاتیا سے کون بچے گا (۱) کیا مورت تھی جس کے خال و خد چہرے کی وضع، بناوٹ شکل و صورت پتھر کی اک سِل سے یوں اُبھرے، جیسے اس کے اندرصدیوں سے مخفی ہوں اور اب جاگ اُٹھے ہوں←  مزید پڑھیے

آخری ہچکی۔۔۔فراست محمود

وہ آخری ہچکی کہ جس سے پہلے کائنات ساری ہری بھری تھی دنیا ساری سجی ہوئی تھی رگوں میں چلتی سانسوں سے زندگی ساری مہک رہی تھی شفقت پدری کی حسین چادر سر پہ میرے تنی ہوئی تھی زمانے کی←  مزید پڑھیے

آدم شیر کے افسانے۔۔۔غلام حسین ساجد

اُردو افسانے کی روایت ایک سو سولہ برس پر محیط ہے اور راشد الخیری سے آدم شیر تک تکنیک اور طرزِ اظہار کے کتنے ہی اسلوب آزمائے جا چکے۔ پریم چند کی حقیقت نگاری سے سریندر پرکاش کی علامتی کتھاؤں،←  مزید پڑھیے

معیشت تباہ،خارجہ پالیسی بے وقار اور قومی خزانہ کنگال ہوچکا ہے۔۔۔اسد مفتی

ہمارے معاشرے میں جرائم کی رفتار جس تیزی سے بڑھ رہی ہے،اس سے دو ہی نتیجے اخذ کیے جاسکتے ہیں، پہلا نتیجہ یہ کہ انتظامیہ اور حکومت اس رفتار کو خاطر میں نہیں لاتی،لہذا ان کے نزدیک کوئی تشویشناک بات←  مزید پڑھیے

جمہوری غلام۔۔۔۔اعظم معراج

زمانہ قدیم سے انسان اپنے سے کمزور انسانوں کو غلام بنا کر رکھنے کا شوقین رہا ہے ۔زمانہ قدیم کا طاقتور انسان دوسرے انسانوں کو جانوروں کی طرح زینجروں میں باندھ کر اور کبھی ہتھیاروں کے اشاروں پر نچاتا رہا←  مزید پڑھیے

عبدالستار کا تیسرا ادبی محبت نامہ۔۔۔

پیارے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آداب و تسلیمات میں آپ کے ساتھ آپ کی مشہور ومعروف آٹو بائیو گرافی(The Seeker)جسے میں The Bible of Humanityکہتا ہوں کے حوالے  سے کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے میں ایک اعتراف کرنا←  مزید پڑھیے

پردہ ،ایک اسلامی حکم۔۔۔۔ڈاکٹر طفیل ہاشمی

اسلامی شریعت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے نسب کو تحفظ حاصل ہو۔ ہر پیدا ہونے والے بچے کا یہ حق ہے کہ اسے معلوم ہو کہ اس کی ماں کون ہے اور اس←  مزید پڑھیے

سر زمین پاکستان میں انضمام کے بعد بھی قبائلی عوام کی زندگی مسائل کا شکار ۔۔ غیور شاہ ترمذی

یقیناً پاکستان سے قبائلی عوام کو بہت محبت ہے مگر بقول قبائلی علاقوں کے دوستوں کے “اس ملک کے ذمہ داروں نے ہمیں دل سے اپنا شہری آج تک تسلیم نہیں کیا۔ اس ملک کے حاکموں نے آج تک ہمیں←  مزید پڑھیے

اتنی گھٹن ہو گی تو یہی کچھ ہوگا ۔۔۔منور حیات سرگانہ

اس بار قصور کا آٹھ سالہ فیضان نشانہ بنا ہے۔اس سے پہلے اسلام آباد کی فرشتہ،اس سے بھی پہلے زینب اور دوسرے سینکڑوں ہزاروں بچے اور بچیاں۔نوے کی دہائی میں سیریل کلر جاوید اقبال کا معاملہ سامنے آیا تھا،جس نے←  مزید پڑھیے

بازارِ حُسن کی اِک اور اَن کہی سسکتی محبت۔۔۔رمشا تبسم

رنگین روشنیوں میں ہجوم کے درمیان بے چین کھڑا وہ بازار حُسن کی اونچی اونچی عمارتوں اور کھڑکیوں کو دیکھ رہا تھا۔اسکی نگاہوں میں شدید انتظار اور کچھ چمک سی تھی ,ایسی چمک جو کسی کی آنکھوں میں عرصے بعد←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیا کے خدا۔۔۔عارف خٹک

اگر آپ کی فین فالونگ پانچ ہزار سے تجاوز کر جائے،یا دس تک کا ہندسہ چُھو لے،تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا،کہ آپ اپنے ہم خیال دانش گردوں کا ایک جھمگٹا  بنائیں اور کسی بھی انسان کی عزت←  مزید پڑھیے

جمہوریت کس مرض کی دواء ہے۔۔۔یاسر پیرزادہ

ہمارے ملک میں جمہوریت کے خلاف مقدمہ بنانا سب سے آسان کام ہے، کہیں کوئی بے گناہ تھانے میں مارا جائے، کوئی غریب عورت اسپتال کی سیڑھیوں پر بچہ پیدا کرتے ہوئے مر جائے، کہیں کسی بوسیدہ عمار ت کی←  مزید پڑھیے

ایک درد بھری داستان۔بلا عنوان۔۔۔۔۔حسن نثار

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک مسائلستان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں تو چار قدم پیچھے پلٹ جاتے ہیں، ایک اینٹ رکھتے ہیں تو 6 اینٹیں گر جاتی ہیں، اک جگہ پر آگ بجھاتے←  مزید پڑھیے

بچوں کے حقوق اور ہم سب۔۔۔عمران علی

بچے قوم کا مستقبل اور حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں،اقوام عالم نے بچوں کے حقوق کی فراہمی کے حوالے سے بہت بڑے اور موثر اقدامات کیے ہیں لیکن دوسری جانب اگر ہم اپنا تجزیہ کریں اور اپنا موازنہ مہذب اقوام سے←  مزید پڑھیے

شاہ دین کے جوتے – وہارا امباکر

روشنیوں سے جگمگاتا اور آوازوں سے بھرا شہر ایک عجیب شے ہے۔ توانائی، بہتات، کلچر اور طاقت کی علامت، انسانوں سے بھری، شور مچاتی بستیاں ہیں۔ کسی رش والی جگہ پر لوگوں کے سروں کے سمندر نظر آئیں گے۔ آپ←  مزید پڑھیے

بیلنس مونئیر اور نائلہ ،ایک ظلم کی دوداستانیں ۔۔۔راحیلہ کوثر

بچپن میں ہم جینا سیکھ رہے ہوتے ہیں اور ڈھلتی عمر زندگی نبھانے کا دور ہوتی ہے۔ جبکہ جوانی حسن، خواب،چاہتوں، مسکراہٹوں اور نئی ا’منگوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ یہ دور زندگی کو بھرپور جینے کا   ہوتا ہے۔←  مزید پڑھیے

پرانے  لاہور میں عزاداری۔۔حمزہ ابراہیم

بیسویں صدی کے ادیب، مولوی نور احمد چشتی،   نے لاہور کی تہذیب کے بارے میں  اپنی کتاب ”یادگارِ چشتی“   (سنِ تصنیف  1859ء) میں  اس صدی  کے  لاہور میں عزاداری کا نقشہ  بھی پیش کیا ہے۔  ذیل میں اس کتاب سے←  مزید پڑھیے

گنگو تیلی سے مودی تیلی تک ۔ انسانیت سے بے بہرہ ایک جنونی کی کہانی/راجہ محمد احسان

ہندوستان کے علاقے مدھیا پردیش کا ایک ضلع بھوپال جو کہ ایک ہندو راجہ بھوج پال کے نام پر ” بھوج پال” سے بگڑ کر بھوپال بن گیا۔ بھوج پال کے راجہ کو عرف عام میں راجہ بھوج کہا جاتا←  مزید پڑھیے

مقصد کسی مسلک کی دلآزاری نہیں۔۔۔عبدالرؤف

میں نے پچھلے سال بھی مکالمہ پر اک کالم لکھا تھا جس کا مرکز و محور صرف اور صرف عوام الناس کی تکلیف کا مداوا کرنا تھا نا کہ کسی مسلک یا فرقے کی دلآزاری ۔۔۔محرم الحرام جہاں اسلامی سال←  مزید پڑھیے

ماں تجھ سا کوئی کہاں۔۔۔قسط 1/فوزیہ قریشی

اک دل کا درد ہے کہ رہا زندگی کے ساتھ اک دل کا چین تھا کہ سدا ڈھونڈتے رہے۔۔ ہمارا دماغ اس وقت بھی کام کرتا ہے جب ہم سو رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہر کام میں دماغ کی ایک←  مزید پڑھیے