آدم شیر کے افسانے۔۔۔غلام حسین ساجد

اُردو افسانے کی روایت ایک سو سولہ برس پر محیط ہے اور راشد الخیری سے آدم شیر تک تکنیک اور طرزِ اظہار کے کتنے ہی اسلوب آزمائے جا چکے۔ پریم چند کی حقیقت نگاری سے سریندر پرکاش کی علامتی کتھاؤں، دوندراسر اور احمد جاوید کی تجریدیت، اسد محمد خاں اور مرزا حامد بیگ کی تہذیبی مکاشفت، سمیع آہوجہ اور ذکاء الرحمن کی جدلیاتی پیکار سے نکھرتی معنویت اور غلام عباس، راجندر سنگھ بیدی اور اس دور کے دیگر بڑے ناموں کے ساتھ رفیق حسین اور محمد سلیم الرحمن کی بے مثل انفرادیت اس بات کا بخوبی احساس دلاتی ہے کہ اردو غزل کی کلوننگ زدہ شباہت کے برعکس افسانے کی دنیا میں بہت تنوع ہے۔ اس میں بیانیے کے کئی تجربے کیے جا چکے ہیں اور ہر سطح کے قاری کی تسکین کا سامان ہے۔

مَیں فکشن کا قتیل ہوں اور اردو فکشن کی شاید ہی کوئی معقول کتاب ایسی ہوگی جو میری نظر سے نہ گزری ہو۔ اس پر میری خوش بختی کہ عصرِ حاضر کے سبھی اہم (پاکستانی، انڈین) فکشن لکھنے والوں سے میری یاد اللہ رہی ہے اور اُن کے کام اور اسلوب پر بات چیت بھی ہوتی رہی ہے۔ اِس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ میں ہر نو کی مرعوبیت سے پاک ہوں اور نقصان یہ کہ میں کسی بھی لکھنے والے کو اسی کے کام کے حوالے سے تسلیم کرتا ہوں اور اس پر عمر اور ادبی استقامت کی کوئی قدغن نہیں۔

آدم شیر کو بھی مَیں نے ”اِک چُپ، سو دُکھ“ پڑھ کر تسلیم کیا۔ زبان و بیان، موضوعات اور اسلوب کے حوالے سے یہ کوئی بڑی کتاب نہیں کہ اس عہد کی نسل کے متعدد فکشن نگار اس روایت کی پرداخت میں حصہ لے رہے ہیں اور اسی ڈسکورس سے متعلق ہیں جو عصرِ حاضر کے جبر، مغائرت اور بے چہرگی کا استعارہ ہے مگر اپنے زاویہ ء نظر، اُس کے اظہار، اُس کی فکری اور بصری امیجری، اُس کی نمو، استحکام اور معنوی جہتوں کے حوالے سے یہ ایک مختلف کتاب ضرور ہے اور یوں لگتا ہے جیسے آدم شیر حقیقت کی ظاہری نہیں، خفی جہت کو لائق اِعتنا جانتے ہیں اور اسے ایک آساں کوش مکاشفے کی طرح اپنے قاری پر عیاں کرنا چاہتے ہیں۔ اس معنویت کو استحسانی صورت دینے کے لیے وہ یاد اور امکان کی قوسوں کو ایک دوسرے میں ضم کر کے ایک حرکی دائرہ مکمل کرتے ہیں اور یہ قوسین موجود اور فردا کی شباہت کا آئینہ بناتی ہیں۔ یعنی آدم شیر وقت کی مقناطیسی کشش کی دونوں جہتوں کو آزماتے ہیں اور قربت اور دوری کے مابین ایک تخیلی منظر نامے کو متحرک رکھتے ہیں۔
”بستی بستی خاک چھان کر لوٹا تو دیوار دیکھ کر اُس کی آنکھیں چمک اُٹھیں کہ اس کے لیے پرانے منظر میں نیا چہرہ نمودار ہو چکا تھا۔ اُس نے ایک انجان مسرت کے ساتھ پلنگ پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں کہ اَن دیکھے جہاں میں پہنچ جائے لیکن خیال کی وادی میں دیکھے مناظر امڈ آئے اور اسے صحراؤں کے بیچوں بیچ نخلستان، سمندروں میں سانس لیتی مخلوقات، پہاڑوں کے غار اور آبی ڈھلوانیں، سبزے سے ڈھکی چٹانیں، ہری اور پیلی کھیتیاں، نگر نگر میں بھانت بھانت کی بولیاں، کچے پکے مکان، کنکریٹ کے منتظر اونچے نیچے راستے، فضا میں اُڑتے جہاز، نظر کی پکڑ میں نہ آنے والی ریل کی پٹڑیاں اور ٹیڑھی میڑھی سڑکیں، ان پر دوڑتی، رعب جماتی، چمچماتی گاڑیاں، مال بردار ٹرک اور ٹرالے اور زندگی کا بوجھ ڈھوتے چھکڑے یاد آئے۔“ (عالمِ تِمثال ص ۸۲)

تخلیقی دماغ کی یہ شاخ در شاخ پھوٹنے والی لپک نئی نہیں مگر آدم شیر سے پہلے کم ہی کسی نے اسے اس جامعیت کے ساتھ مجتمع کیا ہوگا۔ وجہ یہ کہ لکھنے والا عام طور پر مستقیمی پیش رفت کو روا رکھتا ہے۔ کسی پھلجھڑی یا شہابیے کی بصارت کو خیرہ کر دینے والی ہزار پایہ دمک کی کم ہی تجسیم کرتا ہے۔ آدم شیر کے افسانوں میں مؤخر الذکر تکنیک کو برتا گیا ہے اور منظرنامہ شجریاتی کیفیت لیے ہے، جس کی نسبت کہیں یاد سے ہے تو کہیں خیال سے، جس کے ہاتھ آنے والے لمحوں کے ہاتھ میں ہیں۔

مجھے خبر ہے، میں قدرے گنجلک ہو رہا ہوں مگر سمیع آہوجہ، ذکاء الرحمن یا سریندر پرکاش کی تفہیم ایک مانوس بیانیے میں کیسے کی جا سکتی ہے۔ دور کیوں جائیں، یہ مسئلہ کافکا، بورخیس، کنڈیرا، کلونیو اور پامک کی تفہیم میں بھی سدِ راہ ہوتا ہے اور آدم شیر کی بظاہر سادہ کہانیوں کی پرتیں کھولنے میں بھی۔۔۔ اگرچہ خالد فتح محمد نے حکم لگایا ہے کہ ”اس کے یہاں تصوراتی، ماورائی اور جادوئی دنیا کی کہانیاں نہیں۔ وہ ان گٹروں، گلیوں اور محلوں کا جاروب کش ہے، جہاں سیلن، بیماری، تعفن اور افلاس پلتے ہیں۔“ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اُس کا بیانیہ بھی اُتنا ہی سادہ اور براہ راست ہے اور کیا اُسی میں ایک دائرہ بناتی سریت موجود نہیں اور اگر ہے تو اس کی جاروب کشی ایسی مانوس کیسے رہی اور اُسی میں ایک جدلیاتی جہت کیسے پیدا ہوئی؟

یہ بھی نہیں کہ آدم شیر کے موضوعات گنجلک ہیں یا زبان نامانوس اور فوری ابلاغ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ”اک چپ، سو دکھ“ کو پڑھیں تو اِس کی نثر اور بیانیے میں ایک ٹرگنو میٹک نسبت محسوس ہوتی ہے۔ جملے ایک خاص طرح کی کیفیت کو ہوا دے کر ایک اور طرح کی کیفیت میں اُتر جاتے ہیں۔ مناظر تیزگام بیل کی طرح بڑی سرعت سے نمو کر کے متنوع سمتوں میں لہرانے لگتے ہیں اور سارے میں کچھ ایسے پیٹرن بکھر جاتے ہیں، جیسے برسوں سے بارش کی ترسی زمیں کے بدن پر ابھرتے ہیں۔ مجید امجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ معمولی اشیا میں جاودانیت پیدا کرتے ہیں۔ آدم شیر بھی عدم توجہ کے شکار مناظر سے ایک معنویت سے بھرا جہاں تخلیق کرتا ہے، جس میں ہماری ذات اور بستیوں کے رنگ دمکتے ہیں۔

آدم شیر کا مسئلہ اُس کے لوگ ہیں، اُس کے شہر ہیں اور اُس کا سماج ہے۔ اس کے افسانوں کے جلی موضوعات ناانصافی، جہالت، ظلم، غربت اور ناطاقتی کے حصار کو توڑنا ہے اور وہ بڑی درد مندی کے ساتھ شیطانی چکر کو توڑنے کا متمنی ہے۔ ”دبدھا“، ”ہیولا“، ”غیر دلچسپ کہانی“، ”اک چپ، سودکھ“ کا مشترک موضوع دھتکارے یا معاشرتی نسیان کا شکار بچے ہیں، جو کہیں غربت کے ہاتھوں سرمہ ہو رہے ہیں تو کہیں موجود کی خود غرضی کی وجہ سے معدومیت کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور شاید یہ وہ موضوع ہے جو آدم شیر سے پہلے کم ہی کسی کی توجہ کا حامل رہا ہے۔ ”دس ضرب دو برابر صفر“، ”شکم گزیدہ“، ”بھکاری“اور ”صحرا اور ڈوبتا چاند“ کا موضوع بھوک اور ناداری اور اس سے پیدا ہونے والا عذاب ہے، جس کی سب سے کڑی صورت ”کھلے پنجرے کا قیدی“ میں نظر آتی ہے اور کردار کا ذاتی المیہ قاری کا المیہ بن جاتا ہے۔

”جب مجھے یہ پنجرہ لگتا ہے، تب میں اِس کی سلاختیں دیکھتا ہوں۔ اِس میں سلاخیں صرف حصار بنانے کے لیے استعمال نہیں ہوئیں بلکہ اندر بھی کئی سلاخیں ہیں جنہوں نے مختلف خانے بنا رکھے ہیں۔ یہ صنعتی امیروں کا خانہ ہے، وہ بڑے بڑے تاجروں کا خانہ ہے، اِس میں سرکاؤ کے کماؤ پوت رہتے ہیں، اُس میں سرکار خود رہتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی میں کہاں رہوں؟ میرے لیے جو خانہ بنایا گیا، یہ رہنے کے لائق نہیں۔ اس کی سلاخیں گول گول پائپ والی نہیں، چپٹی ہیں اور دونوں طرف تلوار کی دھار سی ہے۔ ان کو پکڑ کر ہلانا چاہوں تو ہاتھ زخمی ہو جائیں۔ ایک خانے سے دوسرے میں جانے کی کوشش کروں تو جسم کا کوئی حصہ گھایل ہو جائے۔“ (کھلے پنجرے کا قیدی، ص ۵۴۱)

یہ صارفین کے ڈسے معاشرے کا المیہ ہے اور انجام سے بے خبر تباہی کی طرف بڑھتی دنیا کا بیانیہ۔۔۔ اسی سے مجھے ساقی فاروقی کی شاہکار نظم ’خالی بورے میں زخمی بلا‘ یاد آئی، آپ بھی پڑھیے۔
”جان محمد خان
سفر آسان نہیں
دھان کے اس خالی بورے میں جان الجھتی ہے
پٹ سن کی مضبوط سلاخیں دل میں گڑی جاتی ہیں
اور آنکھوں کے زرد کٹوروں میں چاند کے سکے چھن چھن گرتے ہیں
اور بدن میں رات پھیلتی جاتی ہے
آج تمہاری ننگی پیٹھ پر
آگ جلائے کون، انگارے دہکائے کون
جدوجہد کے خونیں پھول کھلائے کون
میرے شعلہ گر پنجوں میں جان نہیں
۔۔۔ آج سفر آسان نہیں
تھوڑی دیر میں یہ پگ ڈنڈی ٹوٹ کے اک گندے تالاب میں گر جائے گی
میں اپنے تابوت کی تنہائی سے لپٹ کر سو جاؤں گا
پانی پانی ہو جاؤں گا
اور تمہیں آگے جانا۔۔۔اک گہری نیند میں چلتے جانا ہے
اور تمہیں اس نظر نہ آنے والے بورے
اپنے خالی بورے کی پہچان نہیں
جان محمد خان۔۔۔ سفر آسان نہیں
”اِک چُپ، سو دُکھ“ اِسی خالی بورے میں حبس دم کے شکار لوگوں کا نوحہ ہے، جس کی نہایت واضح صورت اُن کے افسانے ”خوش بخت نوحہ“ میں دکھائی دیتی ہے۔ اِس افسانے میں جو سوال اٹھائے گئے ہیں، وہ نئے نہیں اور موجود کی جبریت اور شقاوت کو معدوم کرنے کے لیے ان کا اٹھاتے رہنا ضروری ہے کہ اس شیطانی چکر سے نکلنے کا پہلا قدم ظالم کی شناخت کرنا ہے اور آدم شیر نے اپنی کتاب کے متعدد افسانوں میں اِسی فرض کو ادا کیا ہے۔

زبان اور لفظیات کے اعتبار سے ”اِک چُپ، سو دُکھ“ پیچیدگی سے پاک ہے۔ جملوں میں ایک لاشعوری انسلاک ہے جو متنوع زمانی ابعاد پر محیط ہے مگر ابہام نہیں۔ تکنیک کہیں معروضیت اور کہیں خود رو تخیلی مکاشفے کی حامل ہے اور افسانوں کے مجموعی ڈھانچے کو تقویت دیتی ہے۔ کہیں کہیں کوئی تجرباتی لفظ بھی برتا گیا ہے مگر ایک مانوس معنویت کے سائے میں رہ کر، جس سے بیانیے کی تاثیر مجروح نہیں ہوتی۔ ’اِک چُپ، سو دُکھ“ ایک عمدہ پیش رفت ہے جو ممکن ہے آگے چل کر ایک مثال بن جائے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *