پردہ ،ایک اسلامی حکم۔۔۔۔ڈاکٹر طفیل ہاشمی

اسلامی شریعت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے نسب کو تحفظ حاصل ہو۔ ہر پیدا ہونے والے بچے کا یہ حق ہے کہ اسے معلوم ہو کہ اس کی ماں کون ہے اور اس کاباپ کون ہے تاکہ نسب اور نسل محفوظ رہے،اس کے لیے  اسلام نے جہاں بدکاری پر سخت سزا رکھی ہے، وہیں ایسے قوانین بھی بنائے ہیں جو سماج میں کھلم کھلا بے حیائی اور چوری چھپے کی جنسی دوستیوں کو راہ نہ بنانے دیں۔ اس مقصد کے لیے اسلام نے جہاں شرم و حیا کی تعلیم دی، وہیں عفت و عصمت کو یقینی بنانے کے لیے مسلم سماج میں پردے کے کچھ ضوابط بھی دئیے۔ بدقسمتی سے تمام اسلامی تعلیمات کی طرح پردے کے احکام میں بھی افراط و تفریط نے راہ پا لی اور۔۔
شد پریشان خواب من از کثرت تعبیر ہا
خیال ہوا کہ کتاب اللہ کے مطالعے سے پردے کے بارے میں جو کچھ مجھے سمجھ آیا وہ آپ کے ساتھ شیئر کیا جائے۔

قرآن نے اس حوالے سے پہلا حکم مرد کو دیا کہ وہ اپنی نگاہوں کو آوارہ نہ ہونے دے اور اپنی پاک دامنی کا تحفظ کرے کیونکہ مرد اگر خود کو بچا کر رکھے تو دوسرا فریق receiving end پر ہونے کے باعث حدود سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ بدقسمتی سے ہمارے سماج میں جب بھی پردے کی بات کی جاتی ہے تو مرد کی آوارہ مزاجی کہیں زیر بحث نہیں آتی اور اسے لگام دینے کے لیے کسی طرح کے اقدامات کا ذکر نہیں ہوتا۔

اسلام میں پردہ کی کیا حیثیت ہے؟
پردہ اسلامی شریعت کا مقصد نہیں، یہ ذریعہ ہےنسب کے تحفظ، نسل کی پاکی، دل و نگاہ کی پاک دامنی، ستر پوشی اور زیب و زینت کا۔
اسی لیے
یہ موقع، محل، حالات اور اسباب کی بنا پر کم زیادہ ہوتا رہتا ہے
میاں بیوی میں بالکل نہیں ہوتا
عمر رسیدہ خواتین میں واجبی سا ہوتا ہے
محرم افراد میں محدود پیمانے پر
جتنی ضرورت بڑھتی جائے گی، پردہ بڑھتا جائے گا
جتنی کم ہوتی جائے گی پردہ کم ہوتا جائے گا

خواتین کے لئے پردے کے درجات
تمام شرعی احکام کی طرح خواتین کے لئے پردے کے تین درجات ہیں
1۔ضروری پردہ :ناف سے گھٹنے تک نیز سینے اور پیٹھ کا ڈھانپ کر رکھنا ہر خاتون کے لیے ضروری ہے، خواہ وہ ورکنگ ویمن ہو اور کھیتوں کھلیانوں اور بھٹوں پر کام کرتی ہو۔
2۔معمول کا پردہ :چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کے سوا سارے بدن کو مع سر ڈھانپ کر رکھنا اور دوپٹے کا پلو سینے پر ڈالنا معمول کا پردہ ہے جو اجنبی مردوں کی موجودگی میں لازم ہے تاہم محرم رشتہ داروں کے سامنے صرف ضروری پردہ لازم ہے۔
3۔تحسینی پردہ :جہاں آوارہ نگاہی یا لائن مارنے بلکہ چھیڑ چھاڑ کا اندیشہ ہو تو حالات کے مطابق چہرے کا پردہ، بڑی چادر یا کوئی بھی دوسری احتیاط کر لینا چاہیے۔
سورہ أحزاب کی آیت یدنین علیھن من جلابیبھن کا تعلق خاص حالات سے ہے
نیز یہ کہنا کہ سر ڈھانپنے کا قرآن نے حکم نہیں دیا درست نہیں، فلیضربن بخمرھن علی جیوبھن کا مطلب ہی یہی ہے کہ جو اوڑھنیاں سروں پر رکھ کر پیچھے لٹکا دی جاتی ہیں انہیں سامنے پھیلا لیا کریں۔ خمار سر کی اوڑھنی کو کہتے ہیں۔ صرف برا bra پہن لینے سے قرآن کا مقصد حاصل نہیں۔۔
غض بصر
اگر آپ کو مغربی ممالک میں جانے یا رہنے کا موقع  ملا ہے تو آپ کو قرآن کے لفظ غض بصر کا معنی سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے۔
آپ کسی “اجنبی” مرد یا خاتون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یا ٹکٹکی باندھ کر نہیں دیکھ سکتے، یہ Sexual harassment ہے۔
اس کا یہ مفہوم ہر گز نہیں کہ آپ راستہ، گزرتے ہوئے لوگوں، اشیاء کو اچھی طرح دیکھیں بھی نہیں اور لوگوں سے یا چیزوں سے ٹکراتے جائیں۔۔اس کا یہ مطلب ہے کہ نگاہوں کو معمول پر رکھیں۔

ولا یبدین زینتھن
ہر خاتون ایک عمر میں سراپا گل و گلزار اور جام مئے ہوتی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا کہ اس کے کون کون سے اعضاء یا نشیب و فراز زینت ہیں، ممکن ہی نہیں۔ یوں بھی اس میں ہر بندے کی رائے دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے یہ نہیں کہا کہ خواتین کے اعضاء زیب و زینت پر کمبل ڈال دیا جائے۔ اگر یہی مطلوب ہوتا تو قدرت اپنے تخلیقی فیچرز میں تبدیلی کر دیتی۔ اللہ کو معلوم ہے کہ لاکھ پردے کے باوجود بھی حسن بولے گا اور خوشبو پھیلے گی، یہ شرعا مطلوب بھی ہے کہ یہی باہمی ازدواجی تعلق کی اساس ہے جو مطلوب شرعی اور مقصد شریعت ہے۔
قرآن کے الفاظ پر غور کریں تو یبدین۔۔۔ ابدا سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے کسی شے کو محنت اور کوشش سے ظاہر اور نمایاں کرنا
یعنی خواتین اپنی زیب و زینت کو نمایاں کرنے سے پرہیز کریں
یہ مطلب نہیں کہ قدرتی زیب و زینت پر کالک مل کر خود کو بد زیب کر لیں۔

پردے کے بارے میں الجھن کے اسباب
قرآنی احکام کی تشریح کرنے والے لوگ مختلف پس منظر اور سماج سے تعلق رکھنے کی وجہ سے قرآنی آیات کو اپنی روایات پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں،مثلاً۔۔
جن علماء کا تعلق اشرافیہ سے ہے، گاڑی ان کے بنگلے میں کھڑی رہتی ہے، خواتین دروازے سے نکلتی اور گاڑی میں بیٹھ جاتی ہیں۔ جب تانگے ہوتے تھے تو تانگہ گھر پر آتا تھا، اس کے پیچھے پردہ بندھا ہوتا تھاتاکہ راستے میں بھی کسی کی نظر نہ پڑے۔ برصغیر کے مغلیہ بادشاہ اپنے قلعوں کے حرم سرا اس طرح تعمیر کرتے تھے کہ اوپر سے پرندہ بھی نہ گزرے۔ایسے علماء کرام نے آیات قرآنی کی تفسیر سے اپنے سماجی روایات کو مستحکم کیا ہے۔

جن اہل علم کا تعلق غریب اور دیہاتی پس منظر سے ہے،جہاں خواتین گھاس کاٹتی ہیں، پنگھٹ سے پانی بھر کر گاگریں سروں پر رکھ کر لاتی ہیں، جنگل سےلکڑیاں کاٹ کر لاتی ہیں، چاول کی فصل لگاتی اور گندم، دھان وغیرہ کاٹتی ہیں، جو بھٹوں پر کام کرتی ہیں، کارخانوں میں مزدوری کرتی ہیں۔۔ان کے لیے ہم نے اسلام کی ایسی تصویر کشی کی ہے کہ وہ یا تو یہ سمجھیں کہ اسلام صرف دولتمندوں کے چونچلے ہیں۔
یا خود کو ہر لمحہ آلودہ گناہ گردانیں۔

کسی بھی بڑے عالم دین سے پوچھیں کہ ان کے گھر جو “ماسی” صفائی کرنے آتی ہے، اس کے لیے شرعی پردہ کیا ہے
آسان ترین دین کو مشکل تر کر کے عام لوگوں کو، جن کے لیے اسلام میں سب سے زیادہ کشش تھی اسلام سے متنفر کر رہے ہیں۔
اگر زیادہ وضاحت سے جاننا چاہیں تو مختصر یہ ہے کہ
ہر خاتون یوں رہے کہ دیکھنے والے کو یقین ہو کہ یہ خاتون approachable یا accessible نہیں ہے۔

ڈاکٹرطفیل ہاشمی
ڈاکٹرطفیل ہاشمی
استاد، ماہر علوم اسلامی، محبتوںکا امین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *