پرانی باتیں نئے منظر

اللہ تبارک و تعالیٰ وقتاً فوقتاً ایسی ہستیاں پیدا فرماتا رہتا ہے جن کی بصیرت و بصارت اور عقل و فہم عام انسانوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے ان کی آنکھیں حال میں بیٹھ کر مستقبل کے نظارے دیکھ لیتی ہیں اور ان کی زبان سے کبھی کبھی اشاروں میں تو کبھی واضح طور پر مستقبل کے منظر نامے جاری ہو جاتے ہیں جو اکثر اس وقت تو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتے لیکن وقت ان کی باتوں پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کی کہی ہوئی باتیں قوم کے لیے مشعلِ راہ بھی ہوتی ہیں اور عبرت انگیز بھی ۔ پچھلے چند دنوں سے جو ملکی سیاسی منظر نامے پر حوادث رونما ہو رہے ہیں انھیں دیکھ کر مجھے ایک درویش صفت ہستی واصف علی واصف کے صوفیانہ نثر پاروں کے کچھ باب یاد آ گئے جو آج سے لگ بھگ دو دہائی پہلے نوائے وقت اخبار کی زینت بن چکے ہیں اور بعد میں ان کا مجموعہ "حرف حرف حقیقت"کے نام سے چھپ چکا ہے، جنھیں پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی مستقبل بین نگاہوں نے یہ واقعات پہلے ہی دیکھ کر تبصرہ فرما دیا ہو۔

قارئین کے ذوق کے لیے انہی نثرپاروں سے دو باب پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں جن کا سیاق و سباق چاہے کچھ بھی رہا ہو مگر موجودہ حالات کی صحیح ترجمانی ان ابواب میں برسوں پہلے کی جا چکی ہے۔ واصف صاحب اپنے ایک نثر پارے "جھڑکی نہ دو"میں رقمطراز ہیں۔۔۔" ہم سمجھتے ہیں کہ بیلٹ بکس ہمارے لیے قوتِ نافذہ ہے اس لیے ہم بیلٹ بکسوں کے ساتھ کھیل کرتے رہتے ہیں اور پھر۔۔۔۔۔ قدرت ہمارے ساتھ کھیل کرتی ہے اور جب ہم معزول ہو جاتے ہیں تو ہم اپنی آتش نوائیوں اور شعلہ بیانیوں کو اپنے لیے مرتبہ ساز مان لیتے ہیں اور اس طرح ہم بھول جاتے ہیں کہ اصل طاقت کیا ہے اور اس کا اصل سرچشمہ کیا ہے؟"

" کہانی" کے نام سے ایک اور نثر پارے میں واصف علی واصف مرحوم حضور داتا صاحب کا ایک واقعہ لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ"داتا صاحب اپنے ساتھیوں سمیت سفر پر روانہ تھے۔ حج ہی کا سفر تھا۔ ایک آدمی کو قافلے کا امیر بنا دیا گیا تھا۔ راستے میں قزاقوں نے قافلے کو روک لیا اور اپنے سردار کے روبرو پیش کر دیا۔ سردار نے کہا جو کچھ ہے حاضر کر دو۔ سب نے سب کچھ حاضر کر دیا۔ سردار نے پھر کہا، ان سب کی تلاشی لو ، تلاشی لینے پر امیرِ قافلہ کے پاس خفیہ جیب میں سے کچھ اشرفیاں برآمد ہوئیں۔ ڈاکوؤں کے سردار نے حکم دیا، اسے قتل کر دو، داتا صاحب نے مداخلت کی اور کہا۔۔ یہ نہیں ہو سکتا ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔ سردار نے کہا عجیب آدمی ہو ۔۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سچے آدمیوں کا امیر جھوٹا ہو، اسے چھوڑ دو واپس جانے کے لیے اور تم اپنا سفر جاری رکھو۔ ہم لوگ ڈاکو نہیں ہیں، ہم تو سرکاری ڈیوٹی والے لوگ ہیں۔ دودھ پانی الگ کرنے والے، حاجیوں کو توکل کی منزل عطا کرنے والے۔ آئندہ یاد رکھنا سالارِ کارواں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صادق ہو، امین ہو، جھوٹے سالاروں نے ہی ملت کا بیڑہ غرق کر رکھا ہے".

قارئینِ محترم مندرجہ بالا ابواب پڑھیں اور موجودہ سیاسی منظر نامے کو سامنے رکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ ابواب انہی حالات کو مدِ نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں اور قوم کو نہ صرف دھاندلی کرنے والوں کے انجام اور ان کے ردِ عمل سے آگاہ کیا ہے بلکہ صاف طور پر نصیحت فرمائی ہے کہ اگر منزلِ مقصود پر پہنچنا چاہتے ہو تو تمھارے امیر اور حکمران صادق اور امین ہونے چاہییں۔ مستقبل قریب میں پھر قوم کو اپنے نمائندے اور امیر چننے کا موقع ملنے والا ہے اس بار قوم کو آنکھیں کھول کر رکھنی پڑیں گی تا کہ بیلٹ بکسوں کے ساتھ مذاق نہ کیا جا سکے، بیلٹ بکسوں کے ساتھ مذاق دراصل رائے دہندگان کی رائے کے ساتھ مذاق ہے دھاندلی قوم کی مجموعہ سوچ پر قوم کے مجموعی فیصلے پر شب خون ہے۔ اسی طرح قوم نے اپنے لیے امیرِ کارواں صادق اور امین چننے میں خطا کی تو شاید قدرت بار بار ہماری اصلاح کے لیے" ڈیوٹی والے" نہ بھیجے ۔۔اس لیے قوم سے التجا ہے کہ وہ قدرت کے دیے ہوئے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر سے خطا ہو اور خطا کے جرم میں ان سے حقِ رائے دہی چھین لیا جائے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی رائے دینے کا حق چھینا گیا تو دوبارہ ملنے میں اسے کم از کم ایک دہائی تو لگ ہی جائے گئی۔

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *