تنگ پگڈنڈی۔۔۔محمد افضل حیدر

وہ ہر روز آٹھ بجے دفتر کے لیے نکلتا تھا اس کا دوست زین اور وہ ایک ہی فلیٹ میں رہتے تھے زین ایک ٹیلی کام کمپنی میں انجینئر تھا. وہ رات دیر سے فلیٹ پر آتا اور صبح تاخیر سے کام پہ جاتا. روحان لندن کے ایک نجی بنک میں اسسٹنٹ منیجر کی پوسٹ پہ کام کرتا تھا. اس دن بینک پہنچ کر اس نے اپنے لیپ ٹاپ کو آن کیا اور کل کی میل چیک کرنے لگا.اس کے بعد پروگریس رپورٹ نکال لی اور کام میں مصروف ہوگیا.اسی دوران اس کے موبائل فون پر پاکستان کے ایک غیر مانوس نمبر سے کال آنے لگی .اس نے فون اٹھایا تو دوسری طرف اس کے ماموں خالد تھے. ان کی آواز میں لغزش اور بے چینی تھی روحان پتر! اگر ہو سکے تو ایک دو دن میں پاکستان لوٹ آنا.بھائی صاحب کی طبیعت انتہائی خراب ہے. کل رات انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے. ابھی بھی وہ آئی سی یو میں ہیں.ڈاکٹرز نے کہا ہے آپ سب ان کے لیے دعا کریں.تمہاری ماں اور بہن بے حد پریشان ہیں,تمہاری ماں نے اصرار کیا کہ میں تمہیں اطلاع کردوں.کال کٹنے کے بعد اس نے گہری سانس لی..اپنا کمپیوٹر سیٹ بند کیا اور اپنے باس کے دفتر جا کر ساری بات اس کے گوش گزار کی.اس کا باس جرمن تھا اور کام کی وجہ سے اس کی خاصی عزت کرتا تھا.اس نے کہا تم فوراً پاکستان جاؤ تمہاری فیملی کو تمہاری ضرورت ہے.

اس دن طبیعت میں بوجھل پن کی وجہ سے وہ دفتر سے جلد واپس اپنے فلیٹ آگیا.نک ٹائی کو تھوڑا ڈھیلہ کرکے اس نے جوتے اور جرابیں اتاریں.کچن کیبن میں جاکر الیکٹرک کیٹل سے کافی کے لئے پانی گرم کیا. کافی کے جار سے ایک چمچ کافی کھولتے ہوئے پانی میں ڈالی اور کافی کے مگ میں چمچ ہلاتا فلیٹ کی بالکونی میں پڑی ایزی چیئر پر آکر بیٹھ گیا.اس کا فلیٹ لندن کے کم پوش علاقے میں تھا.سامنے میونسپل کارپوریشن کی کثیر منزلہ بلڈنگ اور نیچے دو رویہ کشادہ سڑک تھی ,جہاں سے چھوٹی بڑی گاڑیاں فراٹے بھرتے ہوئے گزر رہی تھیں. اوپر شفاف نیلا آسمان اور لندن کا بھیگا موسم ہمیشہ کی طرح اس شام کو بھی یادگار بنا رہا تھا.وہ یہاں بہت کم بیٹھتا تھا.دفتر سے فراغت پانے کے بعد کچھ دیر آرام کرتا اور پھر لندن کی روشن گلیوں اور جاگتے چوراہوں پر اپنی اداس شاموں کو کھیلنے کودنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتا.

اس شام اس کا کہیں جانے کے لئے دل نہیں چاہا.اس نے کافی کا مگ پاس پڑی شیشے کی ٹیبل اور ٹانگیں سامنے سٹیل کی گرل پر رکھ دیں, ایزی چئیر سے ایک دو بار خود کو جھولا دیا اور پھر آنکھیں میچ کر سوچ کی کسی گہری کھائی میں غرق ہوگیا.

روحان ہاشم گزشتہ پانچ برس سے لندن میں مقیم تھا. چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد کچھ عرصہ وہ فیصل آباد کے ایک مقامی بینک میں کام کرتا رہا.ایک دوست کی معرفت اسے لندن آنے کا موقع ملا اور پھر یہیں کا ہوکر رہ گیا. اس کا تعلق فیصل آباد کے ایک نواحی گاؤں سے تھا. والدین کا اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے ہمیشہ سب کی آنکھ کا تارا رہا. پیدا ہونے پر پورے گاؤں میں مٹھائی بانٹی گئی اور خوشیوں کے شادیانے بجائے گئے. ماسٹر ہاشم کے ہاں شادی کے پندرہ سال بعد اولاد ہوئی تھی.وہ اس دن بہت زیادہ خوش تھے,ننھے روحان کی پیدائش پر گھر میں شادی کا سا سماں تھا.یہ خوشی محض ہاشم خان کی نہیں تھی بلکہ اس بچے کی آمد پر پورا گاؤں خوش تھا. جو تحفے تحائف ماسٹر صاحب کے گھر میں آ رہے تھے ان کا شمار ممکن نہیں تھا.ماسٹر ہاشم خان کا شمار گاؤں کے متمول افراد میں ہوتا تھا.اپنے علاقے کے واحد ماسٹر ڈگری ہولڈر تھے.اپنی ڈگری کے ابتدائی ایام میں گاؤں کے سرکاری سکول میں بچوں کو حساب پڑھاتے رہے مگر جلد ہی سرکار کی نوکری سے اکتا گئے اور ملازمت چھوڑ کر زمین داری اور پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہوگئے.ملازمت چھوڑے زمانہ بیت گیا مگر ساتھ لگا ماسٹر جی کا سابقہ ہمیشہ کے لیے نام کا حصہ بن گیا.پورے علاقے میں ان کی عزت تھی لوگوں کے اصرار پر ناظم کا الیکشن بھی لڑ چکے تھے.گاؤں کا نمبردار ان ہی کی برادری کا تھا,مگر لوگ اس کی بجائے اپنے فیصلے ماسٹر جی کے پاس لے کر آتے اور ان کو ہی اپنا نمبردار اور پنچ مانتے.عزت ,وقار پیسہ, نام ہر چیز تھی کمی تھی تو صرف اولاد کی. شادی کو پندرہ برس بیت گئے تھے مگر بیوی کی گود اور گھر کا آنگن بچے کی کلکاریوں کے بغیر سونا تھا.ماسٹر جی ہر وقت رنجیدہ رہتے کہ میرے مرنے کے بعد میری جائیداد, کاروبار آخر کس کے کام آئے گا. دس سال تک مسلسل پورے ملک کے درباروں درگاہوں,پیروں فقیروں,طبیبوں کے ہاں آتے جاتے رہے کہ کہیں سے ان کی سنی جائے.ایک دن اللہ نے سن لی اور گھر کا سونا آنگن ننھے مہمان کی کلکاریاں سے چہک اٹھا. روحان شروع دن سے ہی ذہین اور سب کی آنکھ کا تارا تھا. والدین سے لے کر رشتہ داروں تک سب اس سے والہانہ محبت کرتے تھے.کچھ اس میں ماسٹر صاحب کی شرافت اور نیک نامی کا بھی دخل تھا کہ ان کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے سب ہی روحان کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کیے رکھتے. وقت تیزی سے کروٹ بدلتا رہا. روحان نے گاؤں کے سرکاری سکول سے میٹرک کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کر لیا.. اس کے بعد اس کو کالج کی پڑھائی کے لیے قریبی شہر بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو انہوں نے بیٹے کے لیے شہر میں ایک ذاتی مکان خریدا اور اپنی بڑی بہن جو کہ بیوہ ہونے کے سبب کافی عرصے سے ان کے گھر ہی مقیم تھیں کو ساتھ بھیجا تاکہ اس کا پوری طرح سے خیال رکھا جا سکے.خود بھی وہ کاروباری معاملات سے فراغت کے بعد ہفتے میں دو تین بار شہر کا چکر لگا لیتے اور ضرورت کی تمام چیزیں وہاں پہنچا آتے..کالج کے بعد یونیورسٹی تک کا سفر اس نے نہایت کامیابی سے طے کیا.یونیورسٹی سے سی اے کرنے کے بعد اس کے من میں جاب کا خیال شدت کے ساتھ مچلنے لگا.گھر والوں نے اس کی خواہش کے آگے سر خم تسلیم کرلیا.اس نے ایک مقامی بنک میں کیشیئر کی ملازمت اختیار کرلی.ماسٹر صاحب کے چھوٹے بھائی اجمل پانچ سال پہلے ایک ٹریفک حادثے میں اللہ کو پیارے ہوگئے تھے. وہ ان کی اچانک موت پر کافی دکھی رہتے تھے. روحان کے لڑکپن کےدنوں میں انہوں نے اس کی منگنی اجمل کی سب سے چھوٹی بیٹی سدرہ سے کردی تھی.منگنی کے ٹھیک پانچ سال بعد اجمل حمید اس دنیا سے رخصت ہوگئے. سدرہ اور اس کی ماں جمیلہ کو حاجی صاحب اپنے گھر لےآئے اور انہیں اپنے خاندان سے بھی بڑھ کر عزیز رکھا. روحان کو سدرہ سے ذرا بھر بھی التفات نہیں تھا.وہ اسے اپنی چھوٹی بہن آمنہ کی طرح ہی سمجھتا.روحان کی بینک میں نوکری کے بعد ماسٹر صاحب سدرہ اور اس کے رشتے کے حوالے سے فکرمند سے رہنے لگے.انہیں اپنے مرحوم بھائی سے کیے گئے وعدے کا مکمل احساس اور پاس تھا. وہ گاہے بگاہے جمیلہ کو یقین دلاتے رہتے تھے کہ روحان کی رضامندی ان کی ذات سے جڑی ہے.وہ اس کو شادی کے لیے جب کہیں گے وہ فوری مان جائے گا.انہیں اس کی سعادت مندی پر کوئی شک نہ تھا.گرمیوں کی ایک حبس زدہ شام وہ بیٹے کو دھان کی فصل دیکھنے ساتھ زمینوں پر لے گئے.کھیت سے گھر کی جانب جانے والی ایک چھوٹی سی پگڈنڈی پر بیٹے کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر وہ گویا ہوئے دیکھو بیٹا!”تمہیں پتہ ہے میں دل کا مریض ہوں.آئے روز یہ بیماری اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہے.ہر وقت یہ خیال میرے دامن گیر رہتا ہے کہ اپنے حصے کی زندگی کب کا جی چکا ہوں.اللہ نے شاید کسی خاص فریضے یا مقصد کی تکمیل کے لیے مجھے زندہ رکھا ہوا ہے.تم میری زندگی اور تمام تر تمناؤں کا حاصل ہو. تمہارے ہونے کے احساس سے مزید جی اٹھنے کی خواہش سینے میں مچلنے لگتی ہے. مگر یہ بھی سچ ہے کہ سب کچھ ہماری مرضی سے نہیں ہو سکتا. بیٹا! میرے کندھے اور ضمیر پر بوجھ ہے جو اتارنا چاہتا ہوں.تمہارے مرحوم چچا کو ان کے مرنے سے پہلے میں نے زبان دی تھی کہ سدرہ کو اپنی بیٹی سے بڑھ کر عزیز رکھوں گا اور اپنی بہو بناؤں گا. میں اپنے مرحوم بھائی سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا چاہتا ہوں.سدرہ کو تمہارے عقد میں دینا چاہتا ہوں,وہ بچپن سے تم سے منسوب ہے اس نے تمہارے علاوہ کبھی کسی اور کے متعلق نہیں سوچا. مجھے پوری امید ہے تم اپنے مرحوم چچا سے کیا گیا میرا عہد نبھاؤ گے. میں اولاد کے ساتھ زور زبردستی کا ہرگز قائل نہیں.زندگی تم نے گزارنی ہے اس لئے تم سے تمہاری مرضی پوچھے بغیر میں کبھی بھی آگے نہیں بڑھ پاؤں گا. میرے بچے میں شادی کے لیے تمہاری چھوٹی سی ہاں کا منتظر ہوں.”

والد کی گفتگو کے دوران وہ بار بار ماتھے سے اپنا پسینہ صاف کرتا اور ہونٹوں کو بھینچتا رہا.وہ اس تنگ سی پگڈنڈی سے نیچے ایک چھوٹے سے گھاس کے ٹکرے پر اتر گیا اور کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر قدرے سرد لہجے میں گویا ہوا.
” دیکھیں ابو میں بالکل بھی توقع نہیں کر رہا تھا آج دھان کی فصل دکھانے کے بہانے آپ مجھ سے اس طرح کی کوئی بات کریں گے.اگر یہی کچھ کہنا تھا تو گھر پر ہی کہہ لیتے خواہ مخواہ غلط بیانی کی آپ نے. اگر یہی بات آپ مجھ سے میرے کالج یا یونیورسٹی کے دنوں میں کر لیتے تو فضول میں آپ اور سدرہ کو اتنا لمبا انتظار نہ کرنا پڑتا.اور ہاں! آپ یہ بار بار اپنے مرنے کی بات کرکے مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں کیونکہ یہ آپ والا پرانا اور دقیانوسی قسم کا زمانہ نہیں ہے جب بڑے ایسی جذباتی اور غیر منطقی سی باتیں کرکے اولاد کو اپنے زیر اثر کر لیتے تھے.ویسے بھی آپ کو کچھ نہیں ہے اور آپ کہیں نہیں جا رہے کم از کم مجھے آپ ہرگز بیمار نہیں لگتے.فرض کریں کوئی بیمار ہو تو بھی اس کو اپنی بیماری کو بطور نفسیاتی ہتھیار کے استعمال نہیں کرنا چاہیے. دوسرا یہ کہ میں نے سدرہ کو کبھی کسی اور نظر سے نہیں دیکھا اس کے لیے میرے دل میں ویسے ہی جذبات ہیں جیسے کہ چھوٹی کے لئے ہیں . اس کے ساتھ میری منگنی کرنے سے پہلے کاش آپ ایک بار سوچ لیتے کہ آپ کتنا غلط فیصلہ کرنے جا رہے ہیں. ایک بچے کی معصومیت کا فائدہ اٹھاکر کوئی اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ اتنی آسانی کے ساتھ اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر کرلے.یہ اس کی بہت بڑی زیادتی ہے. چھوٹے چھوٹے بچوں نے بھی کل کو بڑا ہونا ہوتا ہے ان کے سینے میں بھی جذبات احساسات ہوتے ہیں. بچے کوئی بھیڑ بکری تھوڑی ہوتے ہیں جو ایک کھونٹی سے کھول کر دوسری پہ باندھ دیا جائے.اس بیچاری کے ساتھ بھی سراسر زیادتی کی گئی.اگر وہ بے آسرا نہ ہوتی تو اس پہ صدائے احتجاج ضرور بلند کرتی.خیر! رہی بات میری شادی کی تو اس کے حوالے سے میں نے بالکل بھی نہیں سوچا.میری ساری توجہ اپنے کیریئر پر ہے.میں اس جاب کو حتمی نہیں سمجھتا.مستقبل قریب میں ملک سے باہر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں. وہاں جا کر اپنے آپ کو سیٹل کروں گا. اپنا کیریئر بناؤں گا.جب مجھے لگے گا کہ میں اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہوں تب ہی واپسی کا فیصلہ کروں گا اور تب کسی سے شادی کا بھی سوچوں گا.مجھے امید ہے آپ میری باتوں کو مثبت لیں گے اور انہیں سمجھنے کی کوشش کریں گے.میرے خیال میں اب ہمیں گھر جانا چاہیے”
اس کی باتوں کے دوران ماسٹر جی کے قدم لڑکھڑا سے گئے اور وہ پگڈنڈی کے کنارے بیٹھ گئے.ایک دو بار گہری سانس لی اور بولے
” میں تمہاری باتیں سن کر حیرت میں مبتلا سا ہو گیا ہوں میرے بچے.ایک باپ کا دل اپنی اولاد کے لئے کیسے دھڑکتا ہے تم یہ سمجھ نہیں پائے. میں نے تمہیں خدا سے مانگنے کے لیے زندگی میں جتنے جتن کیے آج تم نے شاید اس کا حق ادا کر دیا ہے.میں بھی کتنا بھولا اور کم فہم ہوں.میرا بیٹا اتنا بڑا اور سمجھدار ہوگیا کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا.انگلی پکڑ کر اسی پگڈنڈی پر چلنے والا آج اس سے انگلی چھڑا کر بھاگنے کی کوشش میں ہے. مجھے تعجب کے بجائے خوشی ہے کہ کروڑوں کی جائیداد اور زمینوں کا مالک آج باپ کے سامنے اپنا کیریئر بنانے کی بات کررہا ہے. باقی رہی بات سدرہ سے شادی کی تو وہ تمہیں کرنا پڑے گی آخر میں نے اپنے مرحوم بھائج کو زبان دی ہے.میں اس کے ساتھ کیا وعدہ توڑ کر اس کی روح کو ایذا نہیں پہنچانا چاہتا”
” ابو!چاچو سے وعدہ آپ نے کیا تھا میں نے نہیں.بڑوں کے ایسے یکطرفہ فیصلے بچوں کی زندگیوں کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتے ہیں.میں جب اس لڑکی کے لئے ایسی کوئی سوچ ہی نہیں رکھتا تو پھر شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.ایسے رشتے جو اپنی نہیں کسی کی خواہشات کی وجہ سے پروان چڑھیں کبھی دیر پا ثابت نہیں ہوتے.”
ماسٹر صاحب اپنے اکلوتے بیٹے کے منہ سے ایسی کڑوی باتیں سن کر سخت صدمے میں آگئے.وہ اب تک روحان کے حوالے سے نہایت خوش فہمی میں مبتلا تھے.وہ کبھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرے گا.اس تنگ پگڈنڈی پر چلتے وقت ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے دماغ میں بکھری ہوئی سوچ نے طلاطم برپا کر رکھا تھا.دل مضمحل اور لہجے سرد تھے.وہ تہیہ کر چکے تھے آئندہ اپنے اس بیٹے کے سامنے رشتوں کے اس پاس کی کبھی بھیک نہیں مانگیں گے.

وقت کچھوے کی رفتار سے آگے بڑھتا رہا.حاجی صاحب نے روحان سے بول چال کافی حد تک محدود کر لی.وہ رشتوں میں احترام اور وقار کے قائل تھے.روحان  کی اس دن کی باتوں سے وہ اندر ہی اندر بے حد دکھی تھے.انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ناز و نعم میں پلا ان کا اکلوتا بیٹا ان سے اتنےترش لہجے میں ایسی کڑوی باتیں کرے گا.وہ بیٹے کی سعادت مندی کے حوالے سے خاصی خوش فہمی کا شکار تھے.اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ روحان میڑک کے بعد پڑھائی کے لیے شہر چلا گیا.باپ بیٹے کا آپس میں میل جول نہ ہونے کے برابر تھا.ماسٹر صاحب جب بھی شہر والے گھر جاتے وہ پڑھائی کا بہانہ بنا کر ان سے بہت محدود گفتگو کرتا,یا پھر دوستوں کے ساتھ باہر گھومنے چلا جاتا.ان کے ذہن میں کبھی بھی یہ خیال نہ آیا کہ وہ ان کے ساتھ ایسی سرد مہری برتے گا.اس واقعہ کے ٹھیک دو ماہ بعد روحان ایک دوست کی وساطت سے دوبئی اور وہاں سے لندن چلا گیا. ماں نے لاکھ سمجھایا مگر وہ نہ روکا.ماسٹر صاحب نے انتہائی بے التفاتی سے اسے الوداع کہا.لندن جانے کے بعد اس نے گھر والوں سے رابطہ کافی محدود کر لیا تھا.کبھی کبھار ماں سے بات کرلیتا.باپ کا حال چال پوچھتا مگر بات کبھی نہ کرتا.پانچ سال ڈھلتے سورج کی طرح چپکے سے گزر گئے.
آج اس بالکونی میں ایزی چیئر پر بیٹھے اسے احساس ہو رہا تھا کہ آگے بڑھنے کے شوق میں وہ بہت کچھ پیچھے چھوڑ کر آگیا تھا.اس نے اپنوں سے دور ہونے کا فیصلہ کتنی آسانی کے ساتھ اور کتنے سستے میں کر لیا تھا.اس نے کافی کے مگ کو ٹیبل سے اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا تو وہ بھی رشتوں کی طرح ٹھنڈی پڑ چکی تھی.زین دفتر سے آ چکا تھا.روحان نے ماموں خالد کے فون سے متعلق اسے آگاہ کیا.زین نے اس کی ڈھارس بندھائ اور کہا تمہیں فوری واپس جانا چاہیے.اس نے اپنا لیپ ٹاپ   آن کرکے فوری دستیاب فلائیٹ کا پتہ کیا.ایک دوست کے توسط سے صبح چار بجے کی فلائیٹ میں سیٹ کا انتظام ہو گیا.زین نے سامان کو سمیٹنے میں اس کا ساتھ دیا.وہ رات بارہ بجے ہی ائیر پورٹ کے لئے نکل گیا.ائیر پورٹ کے مرکزی لاؤنج میں لوگوں کا خاصا رش تھا.دیواروں کے ساتھ لٹکے لاؤڈ سپیکروں سے مخلوط آوازیں گونج رہی تھیں. وہ وہاں ایک خالی سیٹ دیکھ کر بیٹھ گیا.اسی اثنا موبائل پر بجنے والی میسیج ٹون نے اس کو پتلون  کی جیب سے موبائل نکالنے پر مجبور کیا.وہ ایک وٹس ایپ وائس میسیج تھا.
“مجھے ابھی زین نے بتایا تم پاکستان جا رہے ہو.ہم الگ ہوگئے اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے میں تمہارے حوالے سے مکمل طور پر بے خبر ہو جاؤں گی.مجھے تم سے اور تمہاری فیملی کے ساتھ ہمدردی ہے. ہم الگ ہوگئے ہم نے ہونا تھا کیونکہ جن رشتوں میں بڑوں کی مرضی اور دعا شامل نہ ہو وہ دیر پا نہیں ہوتے.تمہیں لندن کی شہریت اور مجھے تم چاہیے تھے.تم جیت گئے میں اور ہمارا رشتہ ہار گیا.میں شاید ابھی تم سے یوں رابطہ نہ کرتی مگر یہ نہ کرتی تو اپنے آپ کو کبھی معاف نہ کر پاتی.میرے پاس تمہاری ایک امانت ہے.جس کو اس وقت تم تک پہنچانا میرا فرض ہے. یہ امانت چار ماہ پہلے تمہاری غیر موجودگی میں مجھ تک پہنچی,میں نے اس کو پڑھا اور تم تک نہیں پہنچایا. میں نے غلط کام کیا جس پر نادم ہوں.ہو سکے تو مجھے معاف کردینا.میں نے ایسا کیوں کیا یہ تمہیں خط پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا.میں وہ خط تمہیں بھیج رہی ہوں.اپنا خیال رکھنا.خدا حافظ
کچھ لمحے بعد ہاتھ سے لکھی گئی تحریر کا عکس اس کے موبائل کی سکرین پر موجود تھا.
روحان ہاشم!
امید ہے تم خیریت سے ہوگے.خط لکھنے کی وجہ رابطوں میں موجود سات سمندر پار کی وہ دوری ہے,جہاں تک کوئ آواز کوئی صدا نہیں پہنچتی.تم سے بہت باتیں کرنا چاہتا ہوں. وہ باتیں جو پانچ سال سے میرے سینے میں ٹیس بن کر مچل رہی ہیں.آج اس تکلیف بھرے بوجھ کو اتار پھینکنا چاہتا ہوں.آزاد ہوکر مرنا چاہتا ہوں.گذشتہ پانچ سال میرے لئے نہایت ہنگامہ خیز تھے.اس دوران میں نے اپنی ذات میں بہت توڑ پھوڑ ہوتے دیکھی,کئی رشتوں کو پامال ہوتے دیکھا,خونی رشتوں میں موجود جذباتیت کے اندھے کھیل کو بے نقاب ہوتے دیکھا.میں نے دیکھا کہ اولاد کے ساتھ باپ کا تعلق انتہائی کمزور بنیادوں پر استوار ہوتا ہے. بے اعتمادی اور خودغرضی کا ہلکا سا تھپیڑا بھی اس کی بنیاد ہلا دینے کے لئے کافی ہے. میں نے یہ محسوس کیا کہ رشتے خون سے بڑھ کر احساس کے ہیں.خون کی حیثیت علامتی اور واجبی ہے,جسے دوسروں کو دھمکانے کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر برتا جاتا ہے. کیسے ہو سکتا ہے کہ باپ اپنے خون سے محبت کرے اور بیٹا صرف کھلواڑ۔۔ میرے خیال میں قصور تمہارا, میرا یا خون کا نہیں بلکہ ان توقعات کا ہے جو ہم انجانے میں ایک دوسرے سے وابستہ کرلیتے ہیں.
آج تمہیں یہاں سے گئے پانچ سال دو مہینے چودہ دن اور چھ گھنٹے تک کا عرصہ بیت گیا. تم بھی پڑھ کر ہنسو گے کہ بڈھا شاید سٹھیا گیا ہے جو اس نے دنوں اور گھنٹوں کا حساب بھی کر رکھا ہے.آہ! کیا کیا جائے بیٹے! باپ جو ہوں, باپ بدبخت ہوتے ہی ایسے ہیں, بلا کے رجائی,قدامت پسند اور روایتی قسم کے. تم تو جدید دور میں پلنے بڑھنے والے ایک روشن خیال اور اعتدال پسند سوچ کے نمائندہ ہو. تم نے اس بے کار سے بڈھے کی ان روایتی باتوں کو بالکل بھی دل پر نہیں لینا,اس کی عادت ہے تمہارے معاملے میں شروع سے ہی ایسا ضدی ,خوش گمان  تھا.بھلا سات سمندر پار جانے والے اکلوتے بیٹے سے پانچ سال,دو مہینے,چودہ دن اور چھ گھنٹوں کے بعد کوئی ایسی باتیں کرتا ہے جیسے یہ کم بخت اور خبطی بڈھا کر رہا ہے.خیر! تم اس کی یہ باتیں دل پر مت لینا بیچارہ بیمار ہے.اب کاغذ کی اس سطر پر لفظوں پر پھیلی سیاہی میرے ہاتھ کے پسینے کی وجہ سے ہے ایسا ہرگز مت سمجھنا کہ یہ میرے آنسوؤں کے گرنے کی وجہ سے پھیلی ہے یا میں رو رہا ہوں.میں کیوں روؤں بھلا.ہاشم خان اتنا کمزور تھوڑی ہے.کوئی باپ بھلا اپنے بچوں کے سامنے بھی روتا ہے. مجھے نہیں یاد پڑتا میں زندگی میں کبھی رویا ہوں. ہاں! شاید ایک مرتبہ. جب تم پیدا ہوئے تھے.میرے خیال میں خوشی کے آنسو تھے تبھی آنکھوں سے ٹپک پڑے.میں نے دیکھا تھا تمہاری ماں بھی رو رہی تھی.وہ پگلی تو اب بھی روتی رہتی ہے. بہت سمجھاتا ہوں کہ مت رویا کرو تم سے مہینے میں ایک بار فون پہ بات کرتا تو ہے اب اس سے زیادہ وہ بیچارہ کیا کرے. مجھ سے تو وہ بھی نہیں کرتا. مجھے کبھی روتا ہوا دیکھا. پتہ نہیں کیا ہے اسے پھر بھی چپ نہیں کرتی.کہتی ہے ماں ہوں صبر نہیں ہوتا. میں کہتا ہوں باپ پر صبر کرنا فرض ہے کیا اس بدبخت کے سینے میں دل نہیں ہوتا. تمہاری بہن بھی کبھی کبھی تمہاری تصویر الماری سے نکال کر رونا شروع کر دیتی تھی اسے بھی یہی کہتا رہا زندہ لوگوں کو نہیں روتے.شاخ سے اُڑا ہوا پنچھی رستہ بھول بھی جائے تو کبھی ناہکبھی واپس لوٹ آتا ہے..دونوں ماں بیٹی تم سے بہت محبت کرتی ہیں.میں پتہ نہیں کرتا بھی ہوں کہ نہیں.ابھی فیصلہ نہیں کر پایا. سدرہ بھی کبھی کبھی بہت اداس ہوتی تھی,اسے حوصلہ بھی دیتا تھا اور آس بھی کہ تم بہت جلد لوٹ کر آؤ گے. وہ مجھ سے بار بار پوچھتی تھی کب. میں کہتا تھا یہ تو میں بھی نہیں جانتا.ناراض ہوکر تھوڑی گیا ہے جو واپس نہیں آئے گا. اچھا یہ کتنی حیرانی والی بات ہے نا بیٹے.! کہ میں تیرے حوالے سے سب کو حوصلہ دیتا رہا جبکہ مجھے کسی نے بھی حوصلہ دینے کی کوشش نہیں کی.
میرے خیال میں کافی بوڑھا ہو گیا ہوں اب پہلے جتنا مضبوط نہیں رہا.کمر جھک کر کمان ہوگئی ہے.الحمدللہ خودداری ابھی قائم ہے. بغیر سہارے کے چلتا ہوں.البتہ نیند آج کل بہت کم آتی ہے.
انتظار کی طوالت بھی صبر و استقامت کا دوسرا نام ہے. پانچ سال کے انتظار کی تڑپ اب ہجر کی لذت بن چکی ہے. اس لیے تمہیں میرے ان لفظوں سے پریشان ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے. ہم اب اس لذت کے عادی بن چکے ہیں.
میرے بیٹے! مجھے یاد ہے آج سے پانچ برس پہلے میں اور تم ہمارے کھیت سے گھر کی جانب ایک تنگ سی پگڈنڈی پر چل رہے تھے تو وہاں تمہاری کچھ باتوں سے میرے مستحکم قدم لڑکھڑا گئے تھے اور میں اس تنگ پگڈنڈی سے نیچے کھیت میں گر گیا تھا. میرے بچے! میں ابھی بھی اسی پگڈنڈی کے ساتھ پھیلی دھان کی فصل میں گرا پڑا ہوں.ان پانچ برسوں میں مجھے وہاں سے کوئی اٹھانے نہیں آیا. تمہاری ماں بہن اور سدرہ بھی میرے آس پاس کہیں گری پڑی ہیں.وہ بھی تنگ پگڈنڈی کے تنگ فیصلوں کی بھینٹ چڑھ گئیں. معاف کرنا بیٹے تمہارا وقت بہت قیمتی ہے. میں نے فضول میں بات کو اتنا بڑھا دیا.اوپر جتنی بھی باتیں کی گئیں وہ میں نےنہیں ایک ہارے اور بکھرے ہوئے شکست خوردہ باپ نے کیں.انہیں دل پر مت لینا خواہ مخواہ پریشانی ہوگی. پچھلے دنوں تمہارے ایک جاننے والے سے رابطہ ہوا تو معلوم پڑا میرے بچے نے وردہ ریاض نامی پاکستانی نژاد برطانوی لڑکی سے شادی کر لی ہے. یقین مانو مجھے ذرا بھی حیرت اور پریشانی نہیں ہوئی.مجھے اندازہ تھا کہ مستقل دیار غیر میں رہنے کے لئے تمہیں ایسے ہی کسی آسرے کی ضرورت تھی. میں خوش اور مطمئن اس بات پہ ہوں کہ تمہارے لا یعنی سے انتظار کی سولی پر لٹکی بیچاری سدرہ کو آزادی مل گئی.اب کم از کم ہم اپنے فیصلوں میں مکمل طور پر آزاد ہیں.ایک چھوٹی سی خلش رہے گی میرے اس دل میں کہ تمہیں اپنے ہاتھ سے سہرا نہیں باندھ پایا.مگر کوئی بات نہیں اس پر بھی پریشان مت ہونا یہ خواہش میں سدرہ اور آمنہ کی شادی پر اپنے دامادوں کو سہرا باندھ کر پوری کر لوں گا.
میں سدرہ اور آمنہ کی شادی کے بعد سکون کے ساتھ مرنا چاہتا ہوں.میں اپنے اوپر واجب تمام قرض اتارنا چاہتا ہوں.میں نے کچھ فیصلے کئے ہیں.تمہیں اس لئے بتا رہا ہوں تاکہ بے خبری کا کوئی شکوہ نہ رہے.سدرہ کی شادی تیرے ماموں زاد راحیل کے ساتھ اور آمنہ کی نسبت سدرہ کے بھائی نوید کے ساتھ طے پا گئی ہے.اور آخری بات یہ کہ میں نے اپنی تمام زمین جائیداد ابھی دو دن پہلے کچہری جا کر تیری ماں بہن اور سدرہ کے نام کردی ہے. میرے خیال میں میری تمام جائیداد کا حقیقی وارث ان سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہو سکتا.لوگ کہتے رہے بیٹے کے ہوتے ایسا مت کرو مگر میں ضدی باز نا آیا.لوگوں سے کہا میرے جتنا انتظار کرتے تو پھر اندازہ ہوتا پاس ہونے اور دور رہنے والے میں کتنا فرق ہوتا ہے.
اور ہاں! ایک آدھ مہینے کے بعد میرے مرنے کے حوالے سے تمہیں ایک فون آئے گا.اس پر زیادہ جذباتی مت ہونا اور نہ ہی واپس آنے کا بے وقوفانہ فیصلہ کرنا,تجہیز و تکفین محض چند ہی گھنٹوں کا کام ہے یہاں میرے بہت سارے اپنے ہیں جو یہ سب کر لیں گے.اب اس فضول کام کے لئے بندہ لندن سے واپس آئے تو اچھا نہیں لگتا,اور ویسے بھی لوگوں کی کڑوی کسیلی باتیں تمہارے دل پر بہت گراں گزریں گی. لوگ تو یہ بھی کہیں گے اس موت کا سبب تم ہو. کس کس کا منہ بند کرو گے کس کس کو روکو گے اس لیے وہیں رہنا یہاں مت آنا زمانہ بہت ظالم ہے.

ہاشم خان

خط کے اختتام پر اس نے ایک طویل سرد آہ بھری اور لاؤنج کی چھت کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا.دیواروں کے ساتھ لٹکے سپیکروں کی آوازوں نے وہاں ایک طوفان سا برپا کر رکھا تھا. ہر لاؤڈ سپیکر پر وہاں سے روانہ ہونے والی  مختلف اطراف کی پروازوں کے سلسلے میں اعلانات جاری تھے. وہ آوازوں کے اس جنگل میں خود کو تنہا اور ویران محسوس کر رہا تھا. اس کا دل رونے کو چاہ رہا تھا مگر آنسوؤں کا ذخیرہ اس کی فریب زدہ پتلیوں میں کہیں اٹک کر رہ گیا تھا. اس نے ایک لمبی سرد آہ بھری اور اپنا سر گھٹنوں پر جھکا لیا,اسی اثنا میں ساتھ والی نشست پر رکھے اس کے موبائل نے پھڑ پھڑانا شروع کردیا. ماموں خالد کی اداس اور بھرائی ہوئ آواز نے اسکی سماعتوں کا تعاقب کیا. “بیٹے!بھائی صاحب نہیں رہے “

محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں.عرصہ دراز سے کالم , اور افسانہ نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں..معاشرے کی نا ہمواریوں اور ریشہ دوانیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں.. جب گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو پھر لکھتے ہیں..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *