• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سر زمین پاکستان میں انضمام کے بعد بھی قبائلی عوام کی زندگی مسائل کا شکار ۔۔ غیور شاہ ترمذی

سر زمین پاکستان میں انضمام کے بعد بھی قبائلی عوام کی زندگی مسائل کا شکار ۔۔ غیور شاہ ترمذی

یقیناً پاکستان سے قبائلی عوام کو بہت محبت ہے مگر بقول قبائلی علاقوں کے دوستوں کے “اس ملک کے ذمہ داروں نے ہمیں دل سے اپنا شہری آج تک تسلیم نہیں کیا۔ اس ملک کے حاکموں نے آج تک ہمیں دیگر شہریوں جیسے حقوق نہیں دئیے۔ ہم بار بار اس ملک میں ضم ہو جاتے ہیں اور پھر باہر نکالے جاتے ہیں۔ کبھی ہماری لیویز کو پولیس میں ضم کر دیا جاتا ہے اور پھر باہر نکال دیا جاتا ہے۔ کبھی ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لئے ہمارا کوٹہ ڈبل کر دیا جاتا ہے اور پھر واپس لے لیا جاتا ہے- کبھی ہمارے علاقوں میں 3G, 4G بحال کرنے کا اعلان کر دیا جاتا ہے اور پھر اس فیصلے کو واپس لیا جاتا ہے- کبھی کیڈٹ کالج کا اعلان ہوتا ہے اور پھر اس کو متنازعہ بنا کر فنڈ واپس لیا جاتا ہے- کبھی ہمیں انگریز کے کالے قانون سے آزاد کر دیا جاتا ہے مگر پھر ہمیں واپس انہی زنجیروں میں جکڑ لیا جاتا ہے- یہ سلسلہ ہمارے ساتھ پچھلے 70 سالوں سے جاری ہے- کبھی ہمیں غیور کہا جاتا ہے اور کبھی ہمیں اتنا  بے غیرت بنا دیا جاتا ہے کہ لاکھوں خاندان بے گھر ہو جاتے ہیں۔ آج بھی قبائلی علاقوں میں لاہور, اسلام آباد, کراچی, ملتان, فیصل  آباد, کوئٹہ, پشاور جیسی ترقی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ آج بھی ان علاقوں میں دہشت گردوں اور غنڈوں  کا راج ہے۔ آج بھی ان علاقوں میں سڑکوں، ہسپتالوں اور سکولوں جیسی بنیادی ضروریات کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ہم آخر کس سے امید رکھیں؟ کس  کو حاکم تصور کریں؟ کس کو اپنے بنیادی مسائل کا ذمہ دار گردانیں ؟ یہ ہمیں بھی نہیں معلوم کیونکہ ہم اب سول حکومت اور فوج فیصلوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ اب ہمیں نہیں معلوم کہ کس سے فریاد کریں اور کس کے سامنے اپنا دکھ اور درد بیان کریں”؟-

قبائلی علاقہ جات کا جغرافیائی اور موجودہ سیاسی تعارف:-

پیارے دوست اور بھائی میر افضل خاں طوری کے قلم سے نکلے قبائلی علاقہ جات کی  عوام کے ان شکوہ شکایات کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ قبائلی علاقہ جات ہیں کیا؟- صوبہ خیبر پختونخوا  سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات 27 ہزار 220 مربع کلومیٹر کے علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں- ایک محتاط تخمینے  کے مطابق قبائلی علاقہ جات کی کُل آبادی 50 لاکھ کے نزدیک ہے جو پاکستان کی کل آبادی کا اڑھائی فیصد سے کچھ زیادہ بنتا ہے- مغرب میں قبائلی علاقہ جات کی سرحد  افغانستان سے ملتی  ہے ، جہاں ڈیورنڈ لائن انہیں افغانستان سے جدا کرتی ہے جبکہ قبائلی علاقہ جات کے مشرق میں پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا  نیز جنوب میں صوبہ بلوچستان ہے- قبائلی علاقہ جات میں 7 ایجنسیاں/اضلاع ہیں جن میں خیبر ایجنسی, کُرم ایجنسی, باجوڑ ایجنسی, مہمند ایجنسی, اورکزئی ایجنسی, شمالی وزیرستان, جنوبی وزیرستان کے علاوہ پشاور، ٹانک، بنوں، کوہاٹ, لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ 6 سرحدی علاقے بھی موجود ہیں- قبائلی علاقہ جات کے اہم شہروں میں پارہ چنار، میران شاہ, میرعلی، باجوڑ، وانا اور درہ بازار شامل ہیں-

قیام پاکستان سے لے کر گزشتہ سال تک قبائلی علاقہ جات کی آئینی حیثیت کچھ ایسی تھی کہ نہ تو انہیں ملک کا باقاعدہ حصہ سمجھا جاتا تھا اور نہ ہی ان کی کوئی  جداگانہ حیثیت تھی- قبائلی علاقہ جات چاروں صوبوں سے الگ ایک علیحدہ حیثیت رکھتے تھے اور انہیں وقاق کے زیر انتظام علاقہ جات کہا جاتا تھا جہاں لوگوں پر پاکستان کے قانون کی بجائے انگریز وائسرائے جیسا قانون لاگو تھا- فرق صرف یہ تھا کہ زمینی خدا جیسے اختیارات کے مالک اس حکومتی عہدے دار کو وائسرائے کی بجائے پولیٹیکل ایجنٹ کہا جاتا تھا- یہ پولیٹیکل ایجنٹ اپنے اختیارات کے اندھادھند استعمال میں کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا تھا- ایک زوردار افواہ تھی کہ سنہ 2010ء تک بطور پولیٹیکل ایجنٹ تعنیاتی کے ریٹس 20 کروڑ سے 30 کروڑ سالانہ کے درمیان تھے ، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس پوسٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کس قدر ہوتی ہو گی- جمہوریت پسند قبائلی عوام کی طویل جدوجہد کے بعد بالآخر 25 مئی 2018ء کو ہونے والی ایک آئینی ترمیم کے ذریعے  ان علاقوں کی قبائلی حیثیت ختم کر کے ان 7 قبائلی اضلاع کو صوبہ خیبر پختونخوا  میں صنم کر دیا گیا تھا- اس انضمام کے بعد قبائلی علا قہ جات میں پہلی مرتبہ ہونے والے پُرامن تاریخ ساز انتخابات کا سہرا پاکستان فوج کے سر جاتا ہے- ان الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے 16، جمعیت علماءاسلام نے 15, جماعت اسلامی نے 14، عوامی نیشنل پارٹی نے 13، پاکستان پیپلز پارٹی نے 12، پاکستان مسلم لیگ نون نے 5 اور قومی وطن پارٹی نے 10 امیدواروں کو اپنی پارٹی ٹِکٹیں جاری کیں جبکہ باقی 200 امیدواروں نے  آزاد نشستوں پر الیکشن لڑے- تمام جماعتوں کی زبردست انتخابی مہم کے باوجود بھی آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا۔ نتائج کے مطابق آزاد امید واروں نے 6، پاکستان تحریک انصاف نے 5، جمعیت علماءاسلام (ف) نے 3, عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی نے ایک ایک نشست حاصل کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی, قومی وطن پارٹی اور مسلم لیگ نون کا کلین سویپ ہو گیا-

کچھ عرصہ پہلے کے قبائلی علاقہ جات کا تصور:-

آج سے کچھ عرصہ پہلے تک قبائلی علاقہ جا ت جانے کا نام سنتے ہی دل دہل جاتا تھا- ایک عام تصور یہ تھا کہ قبائلی علاقوں میں ماحول پر ہر وقت خوف و ہر اس طاری رہتا تھا- جہاں ہر وقت گولیاں  چلنے کی آوازیں کانوں پر دستک دیتی رہتی تھیں- جہاں حد ِ نگاہ گولہ بارود کے فلک بوس شعلے دیکھنے کو ملتے تھے- جہاں لوگوں کی قسمت کے سارے فیصلے ملکوں کے جرگے کے ذریعے ہی کیے جاتے تھے- جہاں بچوں کے کندھوں پر بستوں کی بجائے بندوقیں نظر آتی تھیں اور جہاں کے بچے سکول و کالج میں پڑھنے کی بجائے اسلحہ وغیرہ کی فیکٹریوں یا دوکانوں پر ہی دکھائی دیتے تھے۔ جہاں زندگی گزارنا دشوار تھا اور نظام زندگی درہم بر ہم تھا۔ جہاں طالبان, لشکر جھنگوی جیسی کالعدم اور دہشت گرد تنظیموں کی شکل میں پاکستان دشمن عناصر امن و امان کی فضا کو سبوتاژ کرنے کے لئے ہمہ وقت تخریبی کاروائیوں میں مصروف عمل رہتے تھے- جہاں لوگ اپنے بنیادی حقوق اور اس علاقے کے مکین اپنی بنیادی سہولتوں سے محروم تھے- جہاں عام طور پر خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا معیوب سمجھا جاتا تھا اور بچیوں کو تعلیم دلوانا بڑا جر م سمجھا جاتا تھا (ابھی بھی زیادہ تر علاقوں میں یہ صورتحال برقرار ہے)- یہ وہ علاقے ہیں جہاں امن کی فاختہ نالاں ہو کر کہیں دور وادیوں میں جا کر اپنا مسکن بنا چکی تھی- یہ وہ علاقہ ہے جہاں ملک اندرونی خانہ جنگی کا شکار تھا اور یہاں دہشت گرد اپنے مضبوط ٹھکانے بنا چکے تھے جنھیں افواج پاکستان نے آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن رَدّالفساد کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچایا جس میں بہت سے فوجی جوانوں نے جام شہادت نوش کیا مگر بہر حال پاک فوج اور قبائلی عوام کے اتحاد نے بلند حوصلوں کا مظاہر ہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو مار بھگایا۔

قبائلی علاقہ جات میں ترقیاتی پروگراموں سے متعلق حکومتی دعوے:-

دہشت گردوں کے تسلط سے آزادی کے بعد حکومتی دعوؤ ں کے مطابق قبائلی علاقہ جات کے عوام کی سماجی و معاشی بہبود کے لئے تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، سڑکوں کی تعمیر، مسجدوں اور ڈیموں کی تعمیر جیسے لگ بھگ 768 چھوٹے بڑے منصوبوں پر محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 1.7 ارب امریکی ڈالر (272 ارب روپے) سے زائد رقم خرچ ہوچکی ہے- رسل و رسائل کی بہتری کے لئے پشاور – طورخم روڈ، ڈیرہ اسماعیل خان۔ وانا۔ انگور اڈہ روڈ، میران شاہ۔ غلام خان روڈ، مکین۔ رزمک۔ میران شاہ روڈ اور ان جیسی مجموعی طور پر کل 7,636 کلومیٹر طویل متعدد شاہراہوں اور چھوٹی بڑی سڑکوں کی مرمت اور کشادگی کی گئی ہے جس کی وجہ سے سفر کے دورانیہ میں اوسطاً ایک تہائی تک کمی واقع ہوئی ہے- تعلیم کے فروغ کے لئے پرائمری سے لے کر انٹرمیڈیٹ کی سطح تک 5,516 غیرفعال علمی درسگاہوں کو فعال بنایا گیا اور بیشتر کی تعمیرِنو کی گئی ہے- ان اداروں میں 16,140 نئے اساتذہ تعینات کیے گئے جس سے تعلیمی معیار میں بہتری آئی اور سکولوں میں داخلوں کے رحجان میں 300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے- ڈگری کالج کھجوری اور کیڈٹ کالج وانا جیسے بہترین کالجز قائم کئے گئے جو پاک فوج میں شمولیت کے لئے معیاری پود مہیا کر رہے ہیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی حالیہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں کمیشن حاصل کرنے والے فاٹا کے 31 آفیسرز انہی کوششوں کا حاصل ہیں- طبی سہولیات کی مد میں 3,013 چھوٹے بڑے ہسپتال اور ہیلتھ یونٹ قائم کئے گئے ہیں ان میں میران شاہ ہسپتال قابلِ ذکر ہے۔ ان طبی مراکز کی وجہ سے لوگوں کو 5,384 نوکریاں میسر آئی ہیں اور تقریباً 13 لاکھ لوگ علاج معالجے کی سہولیات سے مستفید ہو چکے ہیں۔ پانی کی کمیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے پینے کے صاف پانی کی 736 سکیمیں لگائی گئی ہیں۔ گومل زام اور کندی وام جیسے ڈیم تعمیر کئے گئے جن سے کثیر آبادی بجلی حاصل کر رہی ہے اور زراعت میں استفادہ کیا جا رہا ہے- بچوں کے لئے پارک بنائے گئے ہیں اور نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ کے لئے 17 نئے اسٹیڈیم تعمیر کئے گئے ہیں- یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور برطانوی میڈیا کی کرکٹ ٹیموں نے میران شاہ میں میچ کھیلا اور نوجوانوں میں سے ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے کرکٹ کے ٹرائل کا انعقاد کیا گیا۔ ہنر اور پیشہ ورانہ مہارت کی ترویج کے لئے وزیرستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اور اس جیسے کئی دیگر ادارے قائم کئے گئے جہاں سے 5,850 مرد اور عورتیں تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ زراعت اور صنعت و حرفت کے لئے چھوٹے پیمانے کی کپاس کی صنعتیں قائم کی گئیں اور اچھی گلہ بانی سے متعلق لوگوں کو آگاہ کیا گیا۔ قبائل کی مذہبی اُنسیت اور لگاؤ کے پیش نظر 50 سے زائد مساجد تعمیر کی گئیں۔ تجارت کے فروغ کے لئے میر علی مارکیٹ جیسی 7 بڑی مارکیٹیں قائم کی گئی ہیں جن کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں کو خاطر خواہ فروغ ملا ہے- ان تمام اقدامات میں نوجوانوں کو کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا گیا اور 14,000 نوجوانوں کو مختلف روزگار فراہم کئے گئے- 5,000 کو بیرونِ ملک تعلیم اور کام کے لئے ویزے جاری کرائے گئے اور آرمی پبلک سکولوں میں 1,500 نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کالعدم اور دہشت گرد تنظیموں سے ہمدردی رکھنے والے 3,080 مردوں اور عورتوں کو ڈی ریڈی کلائز (Deradicalise) کر کے دوبارہ پرامن زندگی کی جانب لوٹایا گیا۔

وہ کچھ مسائل جن کے حل کے لئے فوری توجہ کی ضرورت ہے:-

قبائلی عوام میں دیگر پاکستانی عوام کی طرح سیاسی شعور میں نہایت قابل ذکر اضافہ ہوا ہے- قبائلی علاقوں کے نوجوان طبعاً  بہت محنتی بھی ہیں اور جس شعبہ میں بھی وہ داخل ہو جائیں وہاں اپنی محنت سے بہت جلد اپنا ایک الگ مقام بنا لیتے ہیں- یہی معاملہ ان کے یہاں سیاسی شعور کے حوالے  سے ہے- جب ہماری حکومت یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ پاکستان بھر میں بےگھر لوگوں کے لئے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کرے گی تو قبائلی پزھے لکھے نوجوان آپریشن ضربِ عضب, آپریشن رَدّالفساد اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران قبائلی عوام کے تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر کا کہیں ذکر نہ ہونے پر سراپا احتجاج ہو جاتے ہیں- وہ کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت اس بات کی وضاحت کرے کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں اگر ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی عمل کرنے سے قاصر ہیں تو وہاں پر تعمیر نو کا کام کون کرے گا؟- حکومتی دعوؤں کے مطابق 5,516 تعلیمی اداروں کی تعمیر نو کافی نہیں ہے بلکہ ان سے کئی گنا زیادہ تباہ حال تعلیمی ادارے فعال و بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے- ابھی بھی کئی لاکھ قبائلی عوام عارضی قیام گاہوں میں مقیم ہیں لہذا قبائلی علاقوں میں زندگی کی تمام سہولیات و ضروریات کی فراہمی یقینی بنا کر تباہی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لاکھوں قبائلیوں کی باعزت ان کے گھروں کی واپسی کا ٹائم فریم دیا جانا نہایت ضروری ہے- سیاسی راہنما اور نوجوان قبائلی علاقوں میں ایکسپلوسو مائنز کی موجودگی اور ان کی وجہ سے بیشتر قیمتی جانوں کے ضیاع پر سراپا احتجاج ہیں- قبائلی عوام کا مطالبہ ہے کہ ان مائنز کی صفائی کا عمل بغیر کسی تاخیر کے مکمل کیا جائے تاکہ بے گناہ معصوم انسانی جانیں لقمہ اجل بننے سے بچائی جا سکیں- سیاست سے وابستہ قبائلی راہنما پختونوں کے بلاک شناختی کارڈز پر بہت تشویش زدہ ہیں اور کہتے ہیں کہ ملکی زرمبادلہ کمانے کے لئے لاکھوں پختون مختلف ممالک میں محنت مزدوری اور کاروبار کر رہے ہیں لیکن ان پختونوں کے بلاک شناختی کارڈز کا مسئلہ تاحال اٹکا ہوا ہے- بدقسمتی یہ ہے کہ سٹریٹیجک اداروں میں قبائلی علاقہ جات سے وابستہ نوجوانوں کو مستقل ملازمت نہیں دی جاتی جبکہ انہیں ان اداروں میں چلنے والے ترقیاتی منصوبوں میں ملک کے دوسرے شہریوں کی طرح ڈیلی ویجز پر عارضی مزدوری کے مواقع بھی حاصل نہیں ہیں- کئی قبائلی اضلاع کو آج تک بجلی سے محروم رکھا جا رہا ہے اور باقی علاقوں میں 18 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے- قبائلی عوام کا شکوہ ہے کہ وزیر اعظم اور دیگر مقتدر حلقے کئی بار قبائلی اضلاع کا دورہ کر چکے ہیں لیکن کئے گئے اعلانات میں سے کسی کو بھی عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا- قبائلی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا  میں انضمام کے بعد بھی انتظامی، مالی و عدالتی اصلاحات کے حوالہ سے قومی اور صوبائی ایوانوں میں خاموشی ہے-

قبائلی علاقوں کے دوستوں سے تفصیلی گفت و شنید اور مکالمہ کے بعد راقم کا تجزیہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو ترجیحی و جنگی بنیادوں پر انضمام کے بعد اعلان کردہ اصلاحات کو عملی جامہ پہنا کر بحالی و تعمیر کے کام میں تاخیر سے گریز کرنا چاہیے- یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت آئینی اختیار میں تبدیلی کرے جبکہ آئین میں گورنر کے اختیارات موجود رہیں- این ایف سی ایوارڈ کا اجرا تاحال ممکن نہیں ہوا جس سے چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھتاجا رہا ہے- اس لئے ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کی غرض سے 9ویں این ایف سی ایوارڈ کا اجراء کیا جائے اور اس میں فاٹا کے لئے خاطر خواہ حصہ مختص کیا جائے- پاک افغان تجارتی راستوں کی بندش برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ ہے- اس لئے اگر ان راستوں کو کھولنے کے لئے کرتارپور راہداری جیسا رویہ اپنایا جائے تو ملکی برآمدات وسطی ایشیا تک جا سکتی ہیں جس سے ایکسپورٹ میں تیزی آئے گی- یہ طے ہے کہ اگر حزب اقتدار قبائلی علاقوں کے ان اہم مسائل کے حل پر خوصی توجہ دے تو قبائلی عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد بحال ہو گا اور حالات یکسر تبدل ہو سکتے ہیں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *