شاہ دین کے جوتے – وہارا امباکر

روشنیوں سے جگمگاتا اور آوازوں سے بھرا شہر ایک عجیب شے ہے۔ توانائی، بہتات، کلچر اور طاقت کی علامت، انسانوں سے بھری، شور مچاتی بستیاں ہیں۔ کسی رش والی جگہ پر لوگوں کے سروں کے سمندر نظر آئیں گے۔ آپ جن لوگوں کو جانتے ہیں، ان کی فہرست بنانا شروع کریں۔ یہ فہرست کتنی لمبی ہے؟ یہ دو سو افراد سے زیادہ نہیں ہو گی۔ دو سو کا سائز پتھر کے زمانے کی بڑی آبادی کا سائز ہوا کرتا تھا۔ ان لاکھوں کروڑوں لوگوں میں ہر کوئی گمنام ہے۔ ان میں سے بہت تھوڑے لوگوں سے واقف ہے۔ شہر اجنبیوں کی بستیاں ہیں۔

ایک شہر یا ریاست جہاں پر اجنبی بستے ہیں، اس کو ایک یونٹ کے طور پر کیسے کنٹرول کیا جائے، کیسے اس پر حکومت کی جائے؟ اس کو کنٹرول کرنے والا بھی ان میں سے بہت ہی تھوڑی تعداد سے ذاتی طور پر واقف ہے۔ یہ سیاستدانوں کا پانچ ہزار سال پرانا مسئلہ ہے۔ جب ہم نے قبیلوں اور گاؤں سے بڑی آبادیوں میں رہنا شروع کیا۔ دنیا کے پہلے بڑے پُرہجوم شہر اور بستیاں زرخیز دریاؤں کے کنارے بسے۔ دجلہ، فرات اور دریائے سندھ کے کنارے، اور دریائے نیل کے کنارے، ساتھ لگی تصویر دریائے نیل کے کنارے بسنے والے ایک لیڈر کے جوتے کا لیبل ہے جس نے بڑی بستیاں بسانے اور ان کو کنٹرول کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا تھا۔ جواب بڑا سادہ تھا۔۔ طاقت!

یہ پانچ ہزار سال پرانا ہاتھی دانت سے بنا لیبل ہے جس کی ایک طرف بادشاہ کا  جوتا بنا ہے اور دوسری طرف یہ تصویر۔ اسے مصر کے فرعونوں میں سے ایک ابتدائی بادشاہ، شاہ دین کا آئی ڈی کارڈ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس لیبل پر ہاتھی دانت میں نقش کھودے گئے ہیں۔ جہاں یہ کھودے گئے، وہاں پر سیاہ گوند سے پالش کی گئی ہے۔ سفید پر یہ سیاہ نقش بڑی واضح تصویر بناتے ہیں۔

فرعونوں سے پہلے مصر ایک منقسم علاقہ تھا۔ بحیرہ روم کی ساحلی پٹی پر شرقاً غرباً  آبادیاں اور دریا کنارے شمالاً  جنوباً  آبادیاں۔ دریائے نیل کی وجہ سے فصلیں اچھی ہوا کرتی تھیں اور آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا اور اضافی فصلوں سے تجارت۔۔ لیکن یہ زرخیز زمین نیل کے سیلابی علاقے تک محدود تھی۔ یہ زمین کس کی ملکیت ہو، کون اس پر کاشت کرنے کا حق رکھے۔ اس محدود زمین پر تلخ لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔ ایک لڑائی کے بعد دوسری،یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب  تک دریا کنارے رہنے والوں نے سمندر کنارے رہنے والوں کو شکست نہ دے دی۔ یہ تین ہزار قبلِ مسیح سے پہلے کی بات ہے۔ متحدہ مصر دنیا کے پہلے معاشروں میں سے تھا جسے جدید ریاست کہا جا سکتا ہے۔ اس کے پہلے بادشاہوں میں سے ایک شاہ دین تھے جن کو کنٹرول کرنے اور کوآرڈینیشن کے ان تمام مسائل کا سامنا تھا جیسا کہ آج کی کسی ریاست کو ہوتا ہے۔

شاہ دین کے سینڈل کوئی عام جوتے نہیں تھے۔ یہ سٹیٹس کی علامت تھے۔ ان سینڈلوں کو سنبھالنے والے کا ایک الگ درباری عہدہ ہوا کرتا تھا۔ اس پر بنی تصویر ایک نشان ہے اس تکنیک کا جس سے شاہ دین کا اس علاقے پر کنٹرول تھا۔ یہ تکنیک اس قدر کامیاب رہی کہ کئی جگہوں پر آج تک استعمال ہوتی ہے۔

اس تصویر میں ایک طرف اس سینڈل کے مالک کو دکھایا گیا ہے۔ سر پر سجی ہوئی بڑی شاہی ٹوپی،ایک ہاتھ میں بھاری ڈنڈا، دوسرے میں کوڑا۔ ایک بااختیار بادشاہ رعب سے کھڑا اپنے دشمن پر ضرب لگاتا ہوا جو گھٹنوں کے بل اور خوفزدہ ہے۔ یہ تصویر ہمارے پاس دنیا کے کسی بھی بادشاہ کی پہلی تصویر ہے۔ اس میں بادشاہ اپنے آپ کو کمانڈر انچیف کے طور پر ظاہر کرنا چاہتا ہے جو دشمنوں کو فتح کر رہا ہے۔ طاقتور بادشاہ اور آج کے طاقتور حکمران کی تصویر میں فرق ہو گا لیکن طاقت کا تاثر دینے میں نہیں۔

اس لیبل کو بنانے والے پر اہم ذمہ داری تھی۔ اپنے لیڈر کو ناقابلِ شکست دکھانا اور یہ تصور ابھارنا کہ شاہ دین ہی مصریوں کے اتحاد کی علامت ہے۔ کیونکہ امن و امان کی گارنٹی دے سکتا ہے۔ آج کی جدید ریاست میں بھی ہم امن و امان قائم رکھنے کے لئے حکومت کی طرف دیکھتے ہیں۔ دنیا کی کسی بھی پُرامن ریاست میں تشدد، ڈنڈے اور گولی کا مکمل کنٹرول اور اختیار ریاست کے پاس ہوتا ہے۔ مصریوں کو اکٹھا رکھنے کے لئے ان کی شناخت بنانا تھی۔ یہ لیبل ایک پیغام ہے کہ جو اس شناخت سے ہٹے گا، اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

یہ پیغام صرف تصویروں کے ذریعے نہیں، الفاظ کے ذریعے بھی ہمیں ملتا ہے۔ ہاتھی دانت میں لکھے اس دور کے الفاظ سے ہمیں اس بادشاہ کا نام پتہ لگا ہے اور ساتھ اپنے دشمنوں کے لئے رونگٹے کھڑے کر دینے والے پیغام، “وہ اب اس زمین سے مٹ جائیں گے”۔ سیاسی پروپیگنڈہ کے تمام حربے ان میں موجود ہیں۔ ایک پُرسکون اور پُراعتماد حکمران جو کہ ایک شکست خوردہ اور بگڑی شکل والے دشمن کے سامنے ہے۔ ایک لیبل میں دائیں طرف لکھا ہے “مشرق سے آنے والے دشمن کا پہلی بار صفایا”۔ دشمن کے نیچے ریتلی زمین سے اور لیبل پر دی گئی  سمت سے اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن صحرائے سینا سے تھا۔

شاہ دین نے جتنے علاقے کو اکٹھا کر لیا تھا، وہ اس دور کے لئے حیران کن تھا۔ نیل کی وادی سوڈان تک اور مشرق میں سینا تک سب مصر کے فرعون کے کنٹرول میں تھے۔ اس پر آرکیولوجست ٹوبی ولکنسن لکھتے ہیں۔

“یہ مصر کی تاریخ کے شروع کا دور تھا جب ایک قوم بن رہی تھی۔ علاقائی طور سے زیادہ نفسیاتی طور پر۔ بادشاہ اور وزیر طریقے ڈھونڈ رہے تھے کہ لوگوں کو اپنے بادشاہ کی پورے دل و جان کے ساتھ حمایت کرنے پر کیسے آمادہ کیا جائے۔ انہوں نے وہ طریقہ ڈھونڈ لیا، جو کہ تاریخ میں عالمی لیڈر ڈھونڈتے آئے ہیں، کہ کسی بھی قوم کو اکٹھا کرنے کا سب سے زیادہ موثر طریقہ ایک مشترکہ دشمن سے جنگ ہے۔ وہ دشمن چاہے اصلی ہو یا اسے خود گھڑا گیا ہو۔ اکٹھے مل کر دوسروں سے جنگ نے مصری قومیت اور شناخت کو اور فرعون حکومت کو مضبوط کیا”

لوگوں کے دل و دماغ بیرونی خطرے کے نام پر کنٹرول کرنا اب بھی ایک عام سٹریٹجی ہے۔ اور جو ہتھیار دوسروں کے لئے بنائے جاتے ہیں، وہ خود اپنے اندر سے اٹھنے والی مخالفت کی سرکوبی کے لئے بھی کام آتے ہیں۔ ہتھیاروں سے بیرونی خطرے سے حفاظت اور اندرونی متحرک پولیس جو سب کو ایک لائن پر رکھے۔ جدید ریاست کا یہ اپریٹس شاہ دین کے دور میں بن چکا تھا۔ اپنے لوگوں پر مکمل کنٹرول نے ان پراجیکٹس کو ممکن بنایا جو ہمیں اس دور میں نظر آتے ہیں۔ شاہ دین کا عظیم مقبرہ جس میں گرینائٹ پتھر سینکڑوں میل دور سے لائے گئے (اور اس وقت جب ابھی پہیہ بھی نہ تھا)۔ اس کے بعد بننے والے اہرامِ مصر جیسے پراجیکٹ صرف اس لئے ممکن ہو سکے کہ مصر کے فرعون اپنی رعایا کو ذہنی اور جسمانی دونوں طریقے سے کنٹرول کرتے تھے۔ شاہ دین کے جوتے کا یہ لیبل ایک چھوٹا سا نشان ہے اس ماسٹرکلاس کا، جو سیاست کی طاقت ہے۔ اس نے اجنبیوں کی بڑی بستیاں بسنا اور ریاست کا تصور ممکن کیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *