نگارشات    ( صفحہ نمبر 380 )

عارف خٹک کی “چھٹکی”۔۔ڈاکٹر فاخرہ نورین

عارف خٹک کی بنیادی پہچان محبت ہے، پڑھنے والوں نے اس کے زورقلم کے نتائج واقعات کے تڑکے دار بیان، جزئیات کے ساتھ جغرافیائی اور رسوماتی تفصیلات سے بھرپور خاکہ نگاری جو کبھی کبھی خاکہ اڑانے کی کوشش بھی بن←  مزید پڑھیے

ہماری انٹرٹیمنٹ “پارری” گرل۔۔محمد منیب خان

شہرت اور دولت کی تمنا کسے نہیں ہوتی؟ البتہ دولت اور شہرت کے حصول کے لئے اپنایا جانے والا راستہ شخصیت کے کردار کا غمازہوتا ہے۔ راستے کا انتخاب ہی مسافر کی سوچ کا عکاس ہوتا ہے۔ شہرت اور دولت،←  مزید پڑھیے

چوالیس ہزار روپے کی بریانی کی پلیٹ۔۔منصور ندیم

کسی بھی شخص کا تعلق برصغیر سے ہو اور وہ بریانی پسند نہ کرتا ہو، ایسا شائد ممکن نہیں، بریانی کا مغلوں کے دور میں آغاز ہوا تھا، مغل   اپنے شاہی کھانے عموماً  عوام سے الگ دکھانے کے لئے←  مزید پڑھیے

چُھٹکی۔۔عائشہ رانا

چُھٹکی،ایک کتاب ہی نہیں عارف خٹک صاحب کی طرف سے عشق کرنے والوں کے لیے تحفہ اور غیر معیاری بڑھتی ہوئی، چپھتی کتابوں کے لیے  پیغام ہے کہ دل سے جو چیز نکلتی ہے واقعی اثر رکھتی ہے ۔ کتاب←  مزید پڑھیے

مذہبی اجارہ داری کا طلسم۔۔نعیم اختر ربانی

عالمی قوتیں جب ملک پاکستان کو تسخیر کرنے کے خواب دیکھتی ہیں۔ اپنے دائرہ اختیار اور شکنجے میں لانے کی بابت غوروخوص کرتی ہیں۔ اس پر اندرونِ خانہ یا کلی حکمرانی کا تہیہ کرتی ہیں۔ تو پاکستان کا سب سے←  مزید پڑھیے

لامارک کا انتقام۔۔وہاراامباکر

بائیولوجی کا لفظ 1800 میں ایجاد ہوا. اس لفظ کو ایجاد کرنے والے اور اس کو باقاعدہ الگ سائنسی کا شعبہ بنانے والے سائنسدان لامارک تھے۔ کیچووں پر تجربات کرنے کے شوقین لامارک اس سے پہلے غیرفقاریہ جانوروں کا لفظ←  مزید پڑھیے

نیم جماعتی۔۔حسان عالمگیر عباسی

اوّل تو اس نام سے ہی تنقید کے چشمے پھوٹنے کا خدشہ ہے حالانکہ ساتھی بھائیوں کا نظریاتی مخالفین کو نونی، جماعتی اور یوتھیا حتٰی کہ  پپلا کہنے میں بھی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ اس میں ویسے برائی ہی کیا←  مزید پڑھیے

تیسری دنیا کے انسان کا کھتارسس/یورپین قوموں کی دوراندیشی یا ارتقاء کا نتیجہ۔۔اعظم معراج

گزرے زمانوں میں یورپین قومیں وسائل اور نئی منڈیوں کی تلاش میں دور دیسوں کو نکلیں، ظلم وستم کیے۔ کہیں سے غلام حاصل کیے کہیں ذہنی غلامی نسلوں کی نس نس میں بھری ،زمانے بدلے، انہی کے ساتھ آئے انسان←  مزید پڑھیے

ہائے ٹھرک۔۔عارف خٹک

شارخ خان کی ڈر فلم تب دیکھی جب ساتویں جماعت تازہ تازہ پاس کی تھی۔ ہم نے فوراً سے پیشتر اپنی متوقع محبوبہ کا نام “کرن” رکھ دیا۔ انتھک محنت کے بعد چچا تلاوت خان کی منجھلی بیٹی کو پٹانے←  مزید پڑھیے

معصوم عورتوں کو قتل کرنے والے کا بھیانک انجام ۔۔ غیور شاہ ترمذی

ناہید بی بی، ارشاد بی بی، عائشہ بی بی، جویریہ بی بی اور مریم بی بی وہ پانچ غریب خواتین تھیں جنہیں خواتین کی دستکاری سکھانے والے مرکز میں 16 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ کے ساتھ تربیت کے لئے 3←  مزید پڑھیے

خانم کونیکا۔۔۔۔ لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا/نذر حافی

خانم کونیکو کا تعلق جاپان سے ہے۔ جنگ اُنہیں سخت ناپسند ہے، انہوں نے اپنے بچپن میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے مناظر دیکھ رکھے ہیں، انہیں جنگ کی وحشت، دربدری اور نہتے لوگوں کی موت کا پہلے سے تجربہ ہے۔←  مزید پڑھیے

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور ہماری ترجیحات۔۔سید عمران علی شاہ

دنیا جس رفتار سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے وہ نا صرف حیران کن ہے بلکہ کسی حد تک تشویشناک بھی ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ترقی کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگر اس برق←  مزید پڑھیے

امت کی غلامی کے 100 ہجری سال۔۔غزالی فاروق

اس رجب 1442 ھ کو مسلمانوں کی آخری اسلامی ریاست یعنی  خلافت عثمانیہ  کو ختم ہوئے  100 ہجری سال پورے ہو رہے  ہیں ۔ خلافت عثمانیہ اس  عظیم اسلامی  ریاست  کا تسلسل تھی جس  کے زیر سایہ مسلمان  مجموعی طور←  مزید پڑھیے

تامل ٹائیگرز کے دیس میں (بارہواں حصہ)۔۔خالد ولید سیفی

ہوٹل کی لابی کا اندرونی حصہ دیدہ زیب ہے، بالائی منزل سے زینوں سے اترتے ہی دائیں طرف کاؤنٹر اور بائیں طرف دیوار پر ایک بورڈ آویزاں ہے جس میں سیاح یادگاری کلمات لکھ لیتے ہیں۔ کاؤنٹر کے بالکل سامنے←  مزید پڑھیے

پاکستانی مسیحی کا کھتارس ۔۔اعظم معراج

کسی آرٹیکل کی تیاری کے لئے ریسرچ کرتے ہوئے پتہ چلا کہ  قیام پاکستان سے لے کر اب تک کی پندرہ دفعہ  بننے والی اسمبلی میں تقریباً 45بارقومی اسمبلی کی سیٹوں پر 28مسیحی ممبر قومی اسمبلی بنے۔ مجھے یقین ہے←  مزید پڑھیے

سعودی عرب، جازان میں شریفہ کی کاشت ۔۔منصور ندیم

میری کراچی کی پیدائش ہے، ہم اس وقت گلشن اقبال میں رہتے تھے ہمارے گھر میں پپیتا اور شریفہ لگے ہوئے تھے ، ہمارے پنجاب سے آنے والے کئی رشتے داروں کے لئے   پپیتا اور شریفہ دونوں ہی نئے←  مزید پڑھیے

آئی ایم سوری۔۔عارف انیس

گوروں کے دیس میں میں قدم رکھنے کے بعد دو سب سے زیادہ سننے والے جملے “آئی ایم ساری” اور “تھینک یو” ہیں. اس سے کافی کوفت پیدا ہوتی ہے کیونکہ وطن عزیز میں دونوں کے استعمال کی نوبت کم←  مزید پڑھیے

بہو یا مال و دولت۔۔مرزا مدثر نواز

وہ ایک ادارے میں اچھی پوسٹ پر ملازمت کرتا تھا‘ زندگی کے شب و روز اچھے انداز میں کٹ رہے تھے۔ ادارے نے رضا کارانہ علیحدگی کی سکیم متعارف کروائی تو موصوف نے اسے اپنانے کے  لیے اپنی رضا مندی←  مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ تمہارا وقت گزر جائے۔۔۔اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

رک کیوں گئے؟ چلتے کیوں نہیں؟ تمہارے پیروں کی وہ تیزی کیا ہوئی؟ کیا تمہارے قویٰ سچ  کمزور ہوگئے یا تم پر سستی غالب آگئی؟ تمہاری  چاپ کی وہ دھمک جس کے تصور سے زمین آج بھی کانپ جاتی ہے←  مزید پڑھیے

​دریا در کوزہ سیر یز(1)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مر زا غالب کے مصارع پر مبنی مختصر نظمیں جو تفسیر و تاویل عقدہ کشائی اور معنی و مفتاح کی کلیدہیں۔ پردہ ء ساز لے، سُر ، الاپ تھے، مگر “منہ بند” ہم بھی تھے اخفا میں تھا سکوت بباطن←  مزید پڑھیے