نذر حافی کی تحاریر

چلتے ہو تو تفتان کو چلیے۔۔نذر حافی

رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ہے۔ بلوچستان کے سب سے بڑے ضلع کو چاغی کہتے ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکے بھی یہیں کئے گئے تھے۔ یہاں پر جنگلی حیات کی مشہور شکارگاہیں بھی ہیں۔←  مزید پڑھیے

جنّت البقیع-آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیؐ سے۔۔نذر حافی

عید الفطر کے ایّام ہیں۔ مسلمان عیدالفطر کی خوشیوں میں مگن ہیں۔ سوچا کہ آئیے اسپِ تخیّل پر سوار ہو کر دیارِ نبیﷺ کو چلتے ہیں۔ دیارِ نبیﷺ سے ہر مسلمان، عشق کرتا ہے۔ عید کے ایّام ہوں یا غم←  مزید پڑھیے

ابنِ مُلجم یا شطرنج کا مُہرہ۔۔نذر حافی

تاریخِ اسلام میں 21 رمضان المبارک یومِ سیاہ ہے۔ ایک رِقّت آمیز اور غم انگیز دِن۔ اُس کے بعد قافلہ بشریت منحرف ہوگیا۔ مسلمانوں سے صراط مستقیم چھوٹ گیا۔ انسانیت کے کعبے کو گرا دیا گیا، ہدایت کے چراغ کو←  مزید پڑھیے

با اَدب با ملاحظہ ہوشیار ۔۔نذر حافی

ذہانت کے اپنے آداب ہوتے ہیں۔ اُن آداب کی کُنجی نظم و ضبط ہے۔ اُمور کو بروقت انجام دینے سے بہتر کوئی ذہانت نہیں ہوسکتی۔ حمایت کرنی ہو یا مخالفت، تنقید کرنی ہو یا تعریف، دوستی نبھانی ہو یا دشمنی،←  مزید پڑھیے

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند۔۔نذر حافی

انجینئر مرزا محمد علی ایک منفرد آدمی ہیں۔ اُن کی انفرادیت دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنا ہے۔ ایسے اعترافات سچ بولے بغیر نہیں ہوسکتے۔ سچ بولنے کیلئے بھی ہُنر چاہیئے۔ اسی لئے سچے لوگ ہر جگہ کم ہوتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

پاکستانی معیشت-مجھے ہے حکمِ اذاں۔۔نذر حافی

گذشتہ کالم تو آپ نے پڑھا ہی ہوگا۔ عنوان تھا اچھائی پر مبنی مستقبل کی امید۔ آج برائی پر مبنی مستقبل کی بات کرتے ہیں۔ یعنی آج ہمارے پاس بات کرنے کو کچھ رہ ہی نہیں گیا۔ یہ دور سازشی←  مزید پڑھیے

پاکستان اور اچھائی پر مبنی مستقبل کی امید۔۔نذر حافی

جھگڑا چھوٹا سا ہے۔ بصارت اور بصیرت کی لڑائی ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی سانحہ ہو جائے تو میرا ایک دوست مجھے تعزیتی پیغام ضرور بھیجتا ہے۔ اس کی کسی نہ کسی سطر میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ←  مزید پڑھیے

عیدِ نوروز کے ساتھ اسلام کا برتاؤ۔۔نذر حافی

عیدِ نوروز ایک بین الاقوامی تہوار ہے۔ 2010ء میں اقوامِ متحدہ نے بھی اسے ایک انٹرنیشنل ایونٹ قرار دے دیا ہے۔ قدیم فارس سے اس کا رواج چلا آرہا ہے۔ شروع سے ہی لوگ اسے مذہبی دن کے بجائے ایک←  مزید پڑھیے

پرندوں کا یکساں قومی نصاب۔۔نذر حافی

آج پھر صبح ہونے کی دیر تھی۔ دیوار پر پھر شور تھا۔ پرندے چہک رہے تھے۔ چمگادڑیں رات کی جدائی کا نوحہ کر رہی تھیں۔ کبوتروں نے غول در غول غُل مچا رکھا تھا۔ دیوار کے نیچے ایک تاریک غار←  مزید پڑھیے

مسجدِ اقصیٰ، بابری مسجد اور پشاور مسجد۔۔نذر حافی

غُلامی کیا ہے!؟ یہ صرف کشمیری ہی بتا سکتے ہیں۔ کشمیر کہ جہاں انسانوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔ جہاں کے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنے کاروبار، باغات، فصلیں، تجارت، تحفظ، عزت و ناموس سب کچھ پامال ہوتے دیکھیں۔←  مزید پڑھیے

عقائد کا اختلاف اور سانحہ پشاور۔۔نذر حافی

میرا آج کا کالم مولوی اسماعیل مرحوم کے نام ہے۔ مولوی اسماعیل مرحوم ایک مشہور دیوبندی مناظر تھے۔ فیصل آباد والے آج بھی انہیں اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ شیعوں کے ساتھ مناظرے کرتے کرتے بعد←  مزید پڑھیے

یکساں نصابِ تعلیم اور ہارس ٹروجن تھیوری۔۔نذر حافی

ہارس ٹروجن تھیوری صرف یونانیوں تک محدود نہیں۔ یہ نسل در نسل ہماری اس دنیا میں چل رہی ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک حملہ آور بادشاہ جب کئی سال تک ایک قلعے کو←  مزید پڑھیے

درسی کُتب سے آگے کی سوچیے۔۔نذر حافی

ہم کسی بھی مسئلے پر اکٹھے نہیں ہوتے۔ اب سنگل نیشنل کریکولم کو ہی لے لیجئے۔ اس کی اہمیت کا سب کو اعتراف ہے، لیکن یہ اعتراف اپنے ہمراہ شدید اختلافات، اعتراضات اور تحفظات کو لئے ہوئے ہے۔ ویسے یہ←  مزید پڑھیے

مسئلہ کشمیر اور تلخ حقائق۔۔نذر حافی

مجلسِ مذاکرہ جاری تھی۔ موضوع تھا “خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سَحَر پیدا۔” اس مصرعے کی روشنی میں محقق محمد بشیر دولتی نے مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالی۔ اُن کی گفتگو کا مرکزی خیال یہ تھا کہ آج←  مزید پڑھیے

بونوں کے سماج میں اقرارالحسن جیسے لوگ۔۔نذر حافی

سانحہ تلمبہ ابھی بالکل تازہ تھا۔ مقتول کا کفن بھی میلا نہ ہوا تھا۔ اس کی کٹی ہوئی انگلیوں سے خون رِس رہا تھا۔ میرے کالم کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی۔ گذشتہ کالم کو ابھی چند گھنٹے←  مزید پڑھیے

سانحہ تلمبہ اور نشانیاں۔۔نذر حافی

رانا مشتاق ایک عام آدمی تھا۔ صرف عام ہی نہیں بلکہ ذہنی معذور بھی تھا۔ اس کے باوجود وہ میرے کالم اور میڈیا و سوشل میڈیا کی زینت بن گیا ہے۔ آج اُس کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی←  مزید پڑھیے

یومِ یکجہتی کشمیر وغیرہ وغیرہ۔۔نذر حافی

یومِ یکجہتی کشمیر ہم سب مناتے ہیں۔ ہر سال 5 فروری کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کسی زمانے میں دن منانے کو بدعت و خرافات کہا جاتا تھا، دن منانے پر لڑائی اور پٹائی بھی ہوا کرتی←  مزید پڑھیے

کالم پڑھنے سے طلاق ہو جانے کا بِل۔۔نذر حافی

خبریں بھی چھوٹی اور بڑی ہوتی ہیں۔ سُپر لیڈ، لیڈ اور اداریے میں ہر خبر کو جگہ نہیں ملتی۔ کچھ خبریں تو اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ انہیں ڈھونڈنے کیلئے خوردبین کی ضرورت پڑتی ہے۔ خبروں کے بڑے اور چھوٹے←  مزید پڑھیے

سانحہ مری اور بدمذہبوں کا بیانیہ۔۔نذر حافی

مری جنّت ارضی ہے۔ جنّت سے تو ہمیں عشق ہے۔ ہمیں صرف جنت میں جانے کا عشق نہیں بلکہ دوسروں کو بھیجنے کا بھی ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ہمارے کچھ مسلمان بھائیوں نے جنّت میں جانے کیلئے←  مزید پڑھیے

اسلامی سال- کتنا اسلامی ہے ؟۔۔نذر حافی

اسلام میں قرآن مجید اور سنّتِ رسولﷺ ہی کسوٹی ہیں۔ اسلامی امور کو اِسی میزان پر جانچا جاتا ہے۔ جب ہم کسی بھی شئے کے بارے میں اسلامی یا غیر اسلامی کا حکم لگاتے ہیں تو اُس کو اسی ترازو←  مزید پڑھیے