آئی ایم سوری۔۔عارف انیس

گوروں کے دیس میں میں قدم رکھنے کے بعد دو سب سے زیادہ سننے والے جملے “آئی ایم ساری” اور “تھینک یو” ہیں. اس سے کافی کوفت پیدا ہوتی ہے کیونکہ وطن عزیز میں دونوں کے استعمال کی نوبت کم آتی ہے. بعد میں معلوم ہوا کہ انگلستان دنیا میں “آئی ایم سوری” کے استعمال کے اعتبار سے سر فہرست ہے. جہاں جائیں، ٹرین میں سوار ہوں، بس میں چڑھیں، بازار میں نکلیں، لفٹ میں گھسیں، کونے کونے سے معافی چاہتا /چاہتی ہوں کہ آوازیں آتی ہیں، شروع میں حیرانی ہوئی مگر پھر سوچا ان گوروں نے دنیا بھر کو جم کر لوٹا اور ان کی استحصالی سامراجیت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا تو شاید یہ وہی آبائی قرض ہے جو چکانے کی کوشش کی جارہی ہے. تحقیق کے مطابق ایک گورا دن میں 8-10 مرتبہ معافی کا خواستگار ہوتا ہے. کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ نہیں، یہ گورے کا کلچر ہے، بات بے بات معافی چاہنا اور شکریہ ادا کرنا، شکر ہے ہم لوگوں میں یہ دونوں عادتیں کم پائی جاتی ہیں.
ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ سوری کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے. یہ بھی ایک بڑا سوال ہے کہ کسی کی معافی میں، واقعی کتنی معافی موجود ہے. بعض اوقات سوری بس ایک خودکار فعل بن جاتا ہے اور اپنی قدروقیمت کھو بیٹھتا ہے. کچھ ماہرین تو یہ کہتے ہیں کہ جس طرح بے جا خوبصورتی کی مدح سرائی( جو اپنی خوب عادت ہے) کی طرح جابجا آئی ایم سوری بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہے. اسی طرح بارہا معافی مانگنے والے کی عزت خواہ مخواہ کم ہوجاتی ہے اور یہی نہیں، اس رویے سے مستقبل میں مانگی جانے والی معافی پر بھی اثر پڑتا ہے کہ اسے سنجیدہ نہیں لیا جاتا.
چلیں یہ تو خودکار سوری کی بات تھی، مگر اب ہم سنجیدہ معاملات کی طرف چلتے ہیں. ہم سب غلطیاں کرتے ہیں، دل توڑتے ہیں، اپنی حدود سے بڑھتے ہیں، خودغرض ہوجاتے ہیں اور وہ کچھ کر جاتے ہیں، کہ جاتے ہیں، جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے. اب اگر آپ ایک سوچتا سمجھا، دھڑکا دل اور دماغ رکھتے ہیں اور احساس ہو کہ مجھ سے زیادتی ہوگئی( نفسیاتی تحقیق کے مطابق بمشکل ٪25 لوگوں کو یہ “محسوسمنٹ” ہوتی ہے، ٪75 ویسے ہی موج میں رہتے ہیں اور انہوں نے جو کیا وہ صحیح کیا ہوتا ہے، یعنی اپنے دیسی فارمولے کے حساب سے “تن کے رکھ. ڈھیٹ صدر ٹرمپ کا فارمولا بہت کارآمد ہے” میں کبھی سوری نہیں کرتا کیونکہ میں ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہوں  ). اب اگر آپ ٪25 میں شامل ہیں تو پھر کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ایسی معافی مانگنا چاہتے ہیں جو ٹوٹے دلوں جو جوڑ دے تو پھر کچھ خاص کرنا پڑے گا. اب الفاظ کا کم اور اعمال کا کردار بڑھ جائے گا. یاد رکھیں محرابین کی شہرہ آفاق تحقیق کے مطابق جذباتی معاملات میں ویسے بھی الفاظ کے اثرات، سو میں سے بس صرف ٪7 رہ جاتے ہیں. ایسی معافی کے لیے آپ کو صحیح معنوں میں نادم ہونا پڑے گا. معافی مانگ کر پتلی گلی سے بھاگنے کی بجائے، جس سے معافی مانگی جارہی ہے اس سے بھرپور بات کرنی پڑے گی. بات سننی پڑے گی، جس چیز نے اسے دکھ پہنچایا ہے، اسے سمجھنا پڑے گا، احساسات ہر مرہم رکھنا پڑے گا. صرف یہ کہنا کہ میں نے غلطی کی، معافی چاہتا ہوں، کافی نہیں ہے. یہ نفسیاتی فرار کی کوشش ہے. اس لیے نادم تفصیل سے ہونا چاہیے. ان تمام باتوں کو یاد کریں اور یہ ندامت بدن بولی سے ظاہر بھی ہونی چاہئے. اس طرح کی معافی آپ کے رشتے پر ایک نیا پل باندھ سکتی ہے.
سب سے گھٹیا معافی وہ ہوتی ہے جس میں کہا جاتا ہے “اگر آپ کو برا لگا ہو تو معافی چاہتا ہوں”. یا یہ کہ میرا مطلب یہ نہیں، وہ تھا، یا میں تو یہ کہنا چاہ رہا تھا مگر آپ سمجھ نہیں سکے، یہ معافی مانگنے سے زیادہ اپنی ضد اور جہالت پر اصرار کے برابر ہے. معافی کسی بھی طرح کے اگر مگر کے بغیر مانگنی چاہیے اور اس وقت کسی بھی طرح کے دلائل دینے سے پرہیز کریں، کیونکہ اس طرح معافی مانگنے کی کوشش ایک مباحثے میں بدل سکتی ہے. تحقیق کے مطابق ٪80 فیصد جوڑوں میں اس طرح کے مباحثے عام ہوجاتے ہیں جو پھر ان کے رشتوں کے جوڑوں میں بیٹھ جاتے ہیں.
سو باتوں کی ایک ہی بات یے، چاہے معافی خالق سے مانگی جائے، یا مخلوق سے، یہ جاننا لازمی ہے کہ معافی میں کتنی “معافی” موجود ہے، ورنہ اس معافی کو معاف نہیں کیا جاسکتا.

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply