• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آیت اللہ سیستانی: جمہوریت کے نگہبان (قسط دوم) – – – حمزہ ابراہیم

آیت اللہ سیستانی: جمہوریت کے نگہبان (قسط دوم) – – – حمزہ ابراہیم

(عرضِ مترجم: یہ مضمون پروفیسر کارولین سايج کی کتاب ”پیٹریاٹک آیت اللہ ز“ کے دوسرے باب کا ترجمہ ہے۔ حوالہ جات آن لائن نسخے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ آیت اللہ سیستانی کے نمائندے حامد الخفاف کی تدوین کردہ کتاب ”النصوص الصادرہ“، طبع ششم، بیروت، سنہ 2015ء کے حوالے مضمون میں شامل کئے گئے ہیں۔)

آیت اللہ سیستانی کے ان بیانات کا ڈرامائی اثر ہوا۔ انہوں نے اہم جمہوری بیانیے کو عوامی حلقوں میں زیر بحث بنا دیا اور اکثر اوقات بریمر کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ بریمر کا ہر اہم فرمان پر دستخط کرنے کا خصوصی اختیار صدام حسین کے اس مشہور قول کی یاد دلاتا تھا کہ ”اگر میں کاغذپر لکھ دوں تو وہ قانون ہو گا۔“ [6] ایک وائسرائے کے طور پر بریمر ایک دستخط کے ساتھ پرانے قوانین کو منسوخ اور نئے قوانین کا اطلاق کر سکتا تھا۔ [7]عراقی عوام آمرانہ متلون مزاجی کے عادی تھے لیکن آیت اللہ سیستانی جمہوری آئین کی پابند حکومت (مشروطہ)قائم کرنے کا عزم کر چکے تھے۔ انہیں پتا تھا کہ آمریت کے خاتمے کیلئے انہیں سیاسی رقابت اور عوامی شمولیت، سماجی ذمہ داریوں،موثر انتخابات،اور نئی ریاست کی عوامی مقبولیت پر زور دینا اور ان میں التوا کی صورت میں پیدا ہونے والے خطرات سے آگاہ کرتے رہنا تھا۔

julia rana solicitors

ریاست میں تحول پر تحقیق کرنے والے عقلاء کے روایتی خیال کی پیروی کرتے ہوئے بریمر یہ سمجھ رہے تھے کہ جمہوریت کی طرف جانے میں انتخابات سے آغاز کرنا خطرناک ہو گا۔ بریمر کا منصوبہ ایک فری مارکیٹ والی سرمایہ دارانہ جمہوریت قائم کرنا تھا۔بریمر کے اقدامات میں ریاستی کاروباروں کو عوامی ملکیت میں دینے کی تجویز بھی شامل تھی۔ انہوں نے کہا: ”اگر ہم ان کی معیشت کی اصلاح نہ کریں تو ہمارے سیاسی تحول کے منصوبے جتنے بھی اچھے ہوں، کام نہیں کریں گے۔ “ انہیں ایک فری ٹریڈ زون بنانے کا خیال بھی تھا جس سے عالمی برادری کو فائدہ ہو۔ مجوزہ نمونے میں یہ فرض کیا گیا تھا کہ ایک نئی تاجر برادری کی مدد سے سرمایہ داری کی طرف حرکت ایک متوسط طبقہ پیدا کرنے کو یقینی بنائے گی۔ یہ طبقہ سیاسی اصلاحات اور جمہوریت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انتخابات کے بجائے بازار کو اہمیت دی جا رہی تھی۔ [8]

اس عمل کے نتیجے میں، کہ جسے سیموئیل ہنٹنگٹن نے جمہوریت کی تیسری لہر کہا تھا، 1990ء کی دہائی تک دنیا میں سو کے قریب نوزائیدہ جمہوریتیں وجود میں آ چکی تھیں۔ ان سب میں انتخابات ہوتے تھے لیکن وہ ”آزاد جمہوریتیں“ نہیں تھیں کیوں کہ ان میں مہذب آزادیوں اور انسانی حقوق کا کما حقہ خیال نہیں رکھا جاتا تھا۔ فرید ذکریا جیسے نقادوں نے اس نکتے کو اٹھایا کہ انتخابات پر زور دینے سے ترقی پذیر دنیا میں ”بے روح جمہوریت“ کو فروغ ملتا ہے۔ پس انتخابات کو التواء میں ڈالنا ہو گا۔یہ بیانیہ غیر سیاسی آزادیوں کا احترام کرنے والی آمریت کو ایسی جمہوریت پر فوقیت دیتا تھا جس میں مہذب آزادیوں پر قدغن لگائی جائے۔ زکریا نے آگے چل کر کہا کہ سعودی عرب کی طرح کی ریاستوں کو یکدم جمہوری بنانے کا نتیجہ ”جیفرسن کی جمہوریت“ نہیں بلکہ ”طالبان کی ملائیت“ ہو گا۔ انہوں نے عرب حکمرانوں کو آمر قرار دیا لیکن ایسے آمر جو انتخابات سے برآمد ہونے والے حکمران سے زیادہ لبرل، بردبار اور تکثر پسندتھے۔ انہوں نے خاص طور پر اس خدشے کی نشاندہی کی کہ اخوانی جماعتیں انتخابات میں شامل تو ہوں گی لیکن ان کو جمہوریت کے بغض میں ”ایک ووٹ، ایک بار“ کا نمونہ بنا کر رکھ دیں گی۔ عبوری دور سے گزارنے والے معاشروں کی مثال کے طور پر انہوں نے بوسنیا کی صورت حال کو آزادیوں کی ضمانت دینے والی جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جہاں ڈیٹون کے امن معاہدے کے ایک سال بعد لوگ ووٹ دینے گئے اور اس عمل کا نتیجہ نسلی تعصبات کو بڑھاوا دینے کی صورت میں نکلا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی تیمور اور افغانستان میں قومی ریاست کی تشکیل کو لمبے عرصے تک طول دینے کا عمل ایک بہتر نمونہ ہے۔انہوں نے عبوری دور کیلئے پانچ سال تجویز کئے جن میں سیاسی اصلاحات اور اداروں کی تعمیر کا عمل مکمل کیا جائے اور پھر قومی سطح پر کثیر الجماعتی انتخابات کرائےجائیں۔ [9] وہ عراق میں التواء کے قائل تھے، جسے مقامی آبادی اور عراق کے امور کے ماہرین مسائل کی جڑ سمجھ رہے تھے۔ زکریا کے موقف کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ مغربی دنیا میں فردی آزادیوں اور جمہوریت کے درمیان ایک مضبوط تعلق بن چکا تھا جو دنیا کے دوسرے حصوں میں وجود نہیں رکھتا تھا۔

یہ محتاط سوچ امریکی حلقوں میں عام تھی اور ریاست میں تبدیلی کے عمل کے آیت اللہ سیستانی کی خواہش کے مطابق مکمل طور پر عراقی بننے میں رکاوٹ تھی۔ مثال کے طور پر ایک سابقہ انتظامی عہدیدار نے کسی نجی بیان میں کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس کردوں اور سنی عربوں کو ویٹو کی طاقت دے کر عراق میں شیعہ ملائیت (ولایتِ مطلقہٴ فقیہ) کا راستہ روکنا چاہتا ہے۔ اس نے کہا، ”یہاں جیفرسن کی جمہوریت نہیں بننے والی“ اور ”یہ سوچنا حماقت ہو گی کہ عراقی لوگ (اخوانی) اسلام کی ملاوٹ کے بغیر ایک آئین لکھ سکتے ہیں اور ایک جمہوریت بنا سکتے ہیں۔“ [10] پس اگرچہ علمی حلقوں میں فرید زکریا کے تصور کا بہترین انداز میں رد کیا جا چکا تھا، لیکن ہنوز مقتدر حلقوں میں اور عملی میدان میں یہ احساس حاوی تھا کہ آزادی ناکام ہو جائے گی۔ مفروضہ یہ تھا کہ عراق کی شیعہ اکثریت کو آزاد چھوڑ دیا گیا تو وہ ایک مذہبی سیاست دان کے پیچھے لگ کے ایک ”بے روح جمہوریت“ قائم کریں گے۔ وہ اس بات سے غافل تھے کہ وہاں طاقت کسی ایک جگہ مرکوز نہ تھی اور اگرچہ شیعوں میں مذہبی سیاسی عزائم رکھنے والی جماعتیں تھیں لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ سب ایک ہی ہدف رکھتی تھیں۔تعمیرِ نو کے سارے منصوبوں پر انسداد کی سوچ چھائی ہوئی تھی۔ اس میں شیعیت کو یکساں اور بسیط فرض کیا گیا تھا اور یہ سمجھا جا رہا تھا کہ شیعوں کی سب جماعتیں (اخوان المسلمین کی طرح) مذہبی عقائد کا سیاسی استعمال کرتی تھیں۔ ان خیالات کو سمجھنے کیلئے خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ”بے روح جمہوریت“ کی بار بار دہرائی جانے والی بات کہ جس میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ شیعہ تحرک ”تھامس جیفرسن کی جمہوریت“ کا الٹ ہے، کئی مغالطے لئے ہوئے ہے۔

کیا عراقی عوام امریکہ دشمنی پر مبنی ایرانی نظام کو اپنا لیں گے؟ کیا وہ اقلیتوں کے حقوق کا احترام کریں گے؟ممکن ہے کہ بریمر کے ذہن پر یہ سوال چھائےہوں لیکن آیت اللہ سیستانی ان پر غور کرنے کو تیار نہ تھے۔آیت اللہ سیستانی کا انتخابات کے بارے میں عقیدہ، جسے انہوں نے عوامی مقبولیت کے ساتھ بھی جوڑ دیا، ان محققین کی آراء سے ہم آہنگ تھا جو جمہوری عمل کا دوسرا رخ دیکھ رہے تھے۔مثلاً مارک پلاٹنر صاحب کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور مہذب آزادی میں  تاریخی طور پر کوئی رشتہ وجود نہیں رکھتا ہے۔ مہذب آزادیوں کے احترام کے نظریئے کی جائے پیدائش جدید انگلستان ہے کہ جس میں انیسویں صدی تک ووٹ ڈالنا ایک بڑے محدود حلقے کا حق سمجھا جاتا تھا۔ پلاٹنر صاحب جان لاک کی کتاب ”سیکنڈ ٹریٹائز آف گورنمنٹ“ کو انسانی مساوات اور اکثریت کی رائے کے احترام پر زور دینے کی وجہ سے فردی آزادیوں کے احترام کی سوچ کا مصدر مانتے ہیں۔پس سیاسی طاقت کا ماٴخذ آزادی اور برابری سے ہمکنار ہونے والے افراد کی رضایت ہے۔لاک کے فکری نظام میں سیاسی ڈھانچے اور طرزِ حکومت کے انتخاب میں سب کی مرضی شامل ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ مہذب آزادی کا نظریہ”عوام کی حاکمیت پر بے چوں و چرا یقین رکھتا ہے “، یہی نکتہ آیت اللہ سیستانی بار بار اٹھا رہے تھے۔ [11] پلاٹنر صاحب انتخابات کی بنیاد رکھنے پر زور دیتے ہیں کیوں کہ کلی طور پر جن ممالک میں انتخابات باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں وہ فردی آزادیوں کے احترام میں ان سے بہتر ہیں جن کے ہاں ایسا نہیں ہوتا، اور جن ممالک میں سماجی آزادیوں کا احترام کیا جاتا ہے ان میں انتخابات میں دھاندلی کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب جمہوری ادارے بن جائیں تو مہذب آزادی اور انتخابی جمہوریت میں ایک اٹوٹ رشتہ اور قریبی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ [12] ریاستوں کو جمہوریت کی منزل حاصل کرنے کیلئے مغرب کے راستوں پر چلنا ضروری نہیں ہے۔ پلاٹنر صاحب کو اس بات سے اتفاق نہیں تھا کہ کچھ خاص عبوری مراحل میں مغربی ممالک کو ”مرحلہ وار جمہوریت“ کی حمایت کرنی چاہئیے۔ کسی اصول کے تحت بھی انتخابات پر قدغن کو قبول نہیں کیا جا سکتا اور انتخابات کے سوا حکمران کے تعین کا کوئی اور جائز طریقہ نہیں ہے۔اسی طرح اس مفروضے کی بھی کوئی بنیاد نہیں کہ اگر مسلمان معاشروں کو آیت اللہ سیستانی کے بتائے ہوئے طریقے پر اپنے ادارے بنانے کی آزادی دی جائے تو وہ انسانی حقوق کے تحفظ کو ووٹ نہیں دیں گے یا شخصی آزادیوں کے تحفظ کی طاقت نہیں رکھتے ہوں گے۔ان بحثوں سے مستشرقین کے تعصب کی بو آتی ہے اور اس لب و لہجہ کی جو برطانوی استعماری دور کی  پالیسی ساز گرٹروڈ بیل نے اپنے باپ کے نام خط میں استعمال کیا ہے کہ اقتدار ان ”عجیب و غریب لوگوں“ کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ آیت اللہ سیستانی اس قسم کے مفاہیم کے دوبارہ احیا کے خلاف ڈٹ گئے۔

2 جولائی 2003ء میں آیت اللہ سیستانی ایک بار پھر سیاسی منظر نامے پر ظاہر ہوئے اور انتخابات کے طریقۂ کار کے بارے میں ایک مفصل بیان جاری کر کے متحیر کر دیا۔ جون میں جاری کئے گئے فتوے کے ضمن میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ ووٹ دینے والوں کی اہلیت اور نمائندگان کے انتخاب کے بارے میں وہ کیا کہنا چاہیں گے۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ مجلسِ آئین ساز کے ارکان ”ووٹ کی اہلیت رکھنے والے عراقی شہریوں کی مرضی سے منتخب ہونے چاہئیں“ اور یہ کہ ”ووٹنگ کی شرائط و مقررات کا تعین کر کے سب پر شفاف انداز میں ایک جیسا اطلاق کیا جائے۔“ آگے چل کر انہوں نے کہا کہ مشرقی تیمور میں اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی اسی قسم کے انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا اور اس بات پر تعجب کا اظہار کیاکہ ”عراق کے معاملے میں اس قسم کا بندوبست کیوں نہیں کیا جا سکتا؟“ انہوں نے واضح کیا کہ”بلا واسطہ انتخابات کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔“آئین کی اشاعت کے بعد انتخابات ہونے کا انتظار کرنا ممکن نہیں ہو گا کیوں کہ ایک ایسی مجلس کے ہاتھوں لکھا گیاآئین ”جو عوام کی طرف سے منتخب نہیں کی گئی، قابلِ قبول نہیں ہو گا۔“انہوں نے کہا کہ ان کا کام تو بس ”عراقی عوام کو کسی تاخیر یا لیت و لعل کے بغیر حقِ حکمرانی واپس دلوانے کا راستہ ہموار کرنا ہے ۔“ [13] [النصوص الصادرہ، صفحہ 40، 41]

آیت اللہ سیستانی کے فتوے سے بریمر کے قدم لڑکھڑا گئے، اگرچہ وائسرائے کو آیت اللہ سیستانی کی غیر رسمی طاقت کا درست اندازہ  لگانے میں کئی ماہ اور لگے۔ 13 جولائی 2003ء میں سی پی اے نے پچیس ارکان پر مشتمل عراقی گورننگ کونسل کا اعلان کیا جسے عراقی ریاست کی تعمیرِ نو کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس میں ملک کے بڑے نسلی اور مذہبی گروہوں کی نمائندگی تھی (تیرہ شیعہ، پانچ سنی عرب، پانچ سنی کرد، ایک آشوری مسیحی اور ایک ترکمانی)۔ بعد میں تین خواتین کو بھی شامل کیا گیا۔اگرچہ اس کا مقصد عراقی عوام کی نمائندگی کرنا تھا، اس میں فرقہ وارانہ اور نسلی تنوع کی عکاسی کی گئی۔ مزید یہ فرض کیا گیا تھا کہ سیاسی نمائندگی یوں حصوں میں بٹی ہونی چاہئیے۔خلاصہ یہ کہ عراقی گورننگ کونسل دراصل عراق کے بارے میں خود عراقی عوام کے بجائے سی پی اے کے زاویۂ نگاہ کی ترجمانی کرتی تھی۔ شاید بریمر کا خیال تھا کہ اس طرح کی ”نمائندہ“ مجلس ایک مقبول بندوبست ہو گی۔ وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہوئے تھے۔ پچیس میں سے چوبیس ارکان آیت اللہ سیستانی سے ملنے نجف چلے گئے اور ہر ایک نے ان کی اس بات کو مان لیا کہ انتخابات سے پہلے کوئی عبوری آئین نہ لکھا جائے۔

آیت اللہ سیستانی اور دوسروں کے دباؤ کے نتیجے میں بریمر کو یہ ماننا پڑا کہ عراقی گورننگ کونسل محض ایک عبوری حکومت ہو گی جس کا کام موقت طور پر انتظامی معاملات کو سنبھالنا اور سی پی اے اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے ساتھ ایک مشاورتی اور تعاونی کردار ادا کرنا ہو گا۔سی پی اے کے چھٹے فرمان کے مطابق سی پی اے اور عراق گورننگ کونسل کو تمام معاملات میں باہمی تعاون اور مشاورت سے چلنا تھا۔ عراقی گورننگ کونسل، جو بظاہر عراق کی آبادی کی نمائندگی کرتی تھی، نےانتخابات کے انعقاد، آئین لکھے جانے اور مستقل حکومت کے بننے تک ملک کا انتظام سنبھالنا تھا۔ لیکن جلد ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ ایسے مقبول ادارے بنانا مشکل تھا جن کی جڑیں عراقی معاشرے میں پیوست ہوں اور امریکی تسلط کے زیر سایہ ریاست سازی کا عمل مشکلات میں گھرا رہے گا، اور اس پہ طرّہ یہ کہ آیت اللہ سیستانی ان مسائل پر نکتہ چینی کریں گے۔ اگرچہ رسمی طور پر طاقت بریمر کے ہاتھ میں تھی لیکن غیر رسمی سیاست ان سوالوں کے گرد گھومتی تھی۔

آیت اللہ سیستانی کی دلچسپی نئی ریاست کی عوامی مقبولیت میں تھی۔ جیسا کہ اپنی کتاب کے چوتھے باب میں میں اشارہ کر چکی ہوں، وہ سیاست کی تفصیلات سے خود کو دور رکھتے تھے، اور امریکہ، کہ جس کو ہمیشہ وہ ”قابض طاقت“ کہتے تھے، سے بھی فاصلہ قائم رکھتے تھے۔ اس عرصے میں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہیں عراقی گورننگ کونسل میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور کیا وہ امریکہ سے مذاکرات کر رہے ہیں؟ ان کے دفتر نے اس کونسل میں شرکت کے امکان کو رد کیا اور کہا کہ ”مرجع عالی اور قابض حکومت کے درمیان اس کونسل کی تشکیل یا عراق سے تعلق رکھنے والے کسی موضوع پر کوئی رابطہ نہیں ہے“ اور یہ کہ ان تک اس کونسل کے بارے میں ”کوئی معلومات نہیں پہنچائی گئیں۔“ [14] [النصوص الصادرہ، صفحہ 42]

دوسرے بیانات میں آیت اللہ سیستانی نے کہا کہ وہ ”امریکہ کے مقاصد کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں۔“ [15] [النصوص الصادرہ، صفحہ 33]جب بھی پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے بش انتظامیہ سے بات چیت کی ہے تو ان کا جواب نفی میں تھا۔ در حقیقت انہوں نے کبھی امریکہ کا نام استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ”قابض طاقت“ یا ”قابض حکومت“ کی اصطلاح استعمال کی۔انہوں نے کئی مواقع پر واضح کیا کہ یہ القاب ان کا فتویٰ نہیں تھے بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رسمی اصطلاحات تھیں (جنہیں بریمر بھی استعمال کر چکے تھے)۔ [16] [النصوص الصادرہ، صفحہ 45]وہ اکثر امریکی اقدامات پر تبصرہ کرنے یا امریکیوں کو اپنی غلطیوں کی اصلاح پر مشورہ دینے سے گریز کرتے تھے۔ وہ امریکہ کے بارے میں بہت کم بولے، اسی طرح جیسے انہوں نے مقتدیٰ الصدر یا جہادی گروہوں کو رسمی شناخت دینے سے انکار کیا تاکہ وہ اپنی حد میں رہیں۔

آیت اللہ سیستانی کی فکر میں اقوام متحدہ کا ادارہ کافی نمایاں ہے۔ (عرض مترجم: اس کی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ بین الاقوامی امورِ حسبہ کی مدیریت کرتا ہے)۔ اپنے تمام بیانات میں آیت اللہ نے واضح کیا کہ ”عبوری دور میں عراق کے امن اور استحکام کی ذمہ داری اقوام متحدہ پر ہے“ اور یہ کہ عراقیوں کو اپنے ملک پر ”حقِ حاکمیت“ لوٹانے کو ممکن بنانے کے مراحل پر ”نظارت“ اور ”نگرانی“ کے سلسلے میں اس ادارے کا کردار بہت اہم ہے۔ [17] [النصوص الصادرہ، صفحہ 58] انہوں نے ہمیشہ تصریح کی کہ عراق میں موجود تمام افواج کو ”اقوام متحدہ کی چھتری تلے“ ہی کام کرنا چاہئیے۔ [18] [النصوص الصادرہ، صفحہ 65] چونکہ سلامتی کونسل نے حملے اور قبضے کی اجازت نہیں دی تھی، لہذا آیت اللہ سیستانی کیلئے اس بات کی کوئی اہمیت نہ تھی کہ بعد میں اقوام متحدہ نے عراق میں اپنے اہلکار بھیجے۔ جب بھی ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکی موجودگی کی تائید کرتے ہیں تو وہ کہتے ”ہم کیسے قبضے کی تائید کر سکتے ہیں؟“ [19] [النصوص الصادرہ، صفحہ 71] اور یہ کہ وہ امریکی افواج اور اس کے اتحادیوں، جیسے پولینڈ، کی افواج میں ”کسی فرق کے قائل نہیں ہیں۔“ [20] [النصوص الصادرہ، صفحہ 63] یہ سب عراق کیلئے اس وجہ سے اجنبی تھے کہ یہ ایک ایسے فوجی حملے کا حصہ بنے جسے آیت اللہ خود اور عالمی برادری ناجائز سمجھتی تھی۔ جب عراق میں جاپانی فوج کی ممکنہ آمد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آیت اللہ سیستانی نے جواب میں کہا: ”عراقی عوام اس کی آمد کو اسی صورت خوش آئند سمجھ سکتے ہیں اگر یہ عمل اقوام متحدہ کی چھتری تلے انجام دیا جائے“ اور اگر یہ ”عام انتخابات کیلئے حالات کو سازگار بناتی ہیں۔“ [21] [النصوص الصادرہ، صفحہ 47] (لیکن جاپان نے بھی اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر اپنے دستے بھیجے۔) آیت اللہ نے ہمیشہ اقوام متحدہ کو قانونی اعتبار کی علامت کے طور پر پیش کیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

آیت اللہ سیستانی سے بار ہا عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے وقت اور اس میں اقوام متحدہ کے کردار کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ وہ معمولاً اس بات سے آغاز کرتے کہ روزِ اول سے ہی امریکی موجودگی ناجائز تھی، جس کی وجہ سے کسی بھی دورانیے کا قبضہ جائز نہیں ہے۔ اگر ملک کے تحفظ کیلئے بیرونی افواج کی ضرورت ہے تو آیت اللہ سیستانی کے نزدیک یہ کام اقوام متحدہ کے ”زیرِ سایہ“ ہونا چاہئیے۔ [22] [النصوص الصادرہ، صفحہ 65] اس کے علاوہ کوئی طریقہ جائز نہ ہو گا۔ وہ عراق میں فرانس کے کردار سے راضی تھے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے راستے سے کام کیا تھا جو ان کے مطابق ”عراقی عوام کے مفادات سے ہم آہنگ تھا۔“ [23] [النصوص الصادرہ، صفحہ 65]  پروفیسر جولیون ہوورث نے بھی فرانس کو اس کی عالمی معاہدے کرنے کی صلاحیت اور اقوام متحدہ کی مرکزیت پر زور دینے اور عراق پر حملے سے پہلے تفتیش کے عمل کیلئے عالمی برادری کی حمایت اکٹھی کرنے  کی وجہ سے ”بین الاقوامی قانون کا مدافع“ قرار دیا تھا۔ [24] آیت اللہ سیستانی نے عراق کی بابت اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں پر بھی بہت توجہ دی۔ انہوں نے یہ استدلال قائم کیا کہ چونکہ اقوام متحدہ نے نئی عراقی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا، اسے یہاں کے سیاسی عمل پر اس وقت تک نظارت بھی کرنی چاہئیے جب تک اس کو استحکام اور عوامی مقبولیت حاصل نہ ہو جائے۔ [25] [النصوص الصادرہ، صفحہ 101]  یہاں اور دوسرے مواقع پر ان کی زبان میں ابہام تھا لیکن ایک خاص منطق ان کے بیانات میں مشترک تھی: مشروعیت تبھی حاصل ہو گی جب سیاسی ڈھانچہ ”ہر فرقے اور نسل سے تعلق رکھنے والے عراقیوں کی منشا“ کے مطابق قائم ہو جائے گا۔ [26] [النصوص الصادرہ، صفحہ 22] (جاری ہے)

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply