حال حوال کی تحاریر
حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

ذرائع ابلاغ اور حواس باختہ ریوڑ۔۔۔۔حبیب کریم

سرکاری و غیرسرکاری مین سٹریم میڈیا یعنی ریڈیو، ٹیلی وژن، اخبارات سے جُڑے رہنا سب سے بے فائدہ سرگرمی اور وقت کا مکمل ضیاع ہے۔ موجودہ دور میں چاہے میڈیا کسی بھی ملک یا ریاست کا ہو _ وہ اہم←  مزید پڑھیے

بلوچستان کے طلبا تعلیم کے حق سے کمتر کیا مانگیں؟۔۔۔۔۔ظریف رند

بلوچ طلبا حسبِ معمول اپنے اپنے کیمپسز میں علم کے زیور سے آراستہ ہونے کی بجائے سڑکوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہیں اور محکمہ تعلیم و ذمہ دار دفاتر پر دستک دے دے کر مایوسی کے بعد پچھلے ایک←  مزید پڑھیے

اور اب۔۔ ہزارگی کلچر ڈے۔۔۔۔۔۔ظفر معراج

معلوم نہیں ہزارہ قوم کے دوستوں نے کلچر کے نام پہ کون سی پوشاک پہنی، کون سے ساز بجائے، کس دھن پر کون سا رقص کیا۔ کس در، کس دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر فخریہ طور پر تصویر بنوائی۔←  مزید پڑھیے

استاد امام بخش مستانہ کا فن اور زندگی۔۔۔۔۔تحریر: گلزار گچکی /ترجمہ: عبدالحلیم

بلوچی میوسیقی کی دنیا سریلی اور پُرسوز آواز کا جادو جگانے والوں سے زرخیز اور بھری پڑی ہے. غزل اور گیت کی گائیکی کے منفرد اسلوب ہوں یا بلوچی کلاسیکل کا فن اس میں کانوں میں رس گھولنے والوں کی←  مزید پڑھیے

حُبِ وطن کی منزل۔۔۔۔غلام رسول بلوچ

گزشتہ پچھتر سالوں سے جو سلوک سرکارِ پاکستان کی طرف سے باشندگانِ بلوچستان کے ساتھ روا رکھا ہے، اس پر ہمارے اہلِ دانش، اہلِ سیاست حتیٰ کہ اہلِ وطن بھی ایک حد تک رنجیدہ اور ناراض ہیں۔ لیکن حقیقت میں←  مزید پڑھیے

انسداد منشیات کا عالمی دن اور ہماری صورت حال۔۔۔۔خلیل رونجھو

انسداد منشیات سے شعور و آگاہی کے مقصد کے تحت دنیا بھر میں ہر سال 26 جون کو منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد معاشرے میں منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والی تباہی کے بارے←  مزید پڑھیے

بلوچستان سے کچھ تشنہ سوال۔۔۔۔یعقوب بگٹی

کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی بلوچستان پاکستان کا شاید وہ واحد صوبہ ہے جو ہزاروں نعمتیں ہونے کے باوجود بھی احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ کہیں←  مزید پڑھیے

بلوچ و بلوچی علم کے ایک عہد سے ملاقات۔۔۔۔۔ناصر رحیم سہرابی

کسی ایسے شخص کے بارے میں گمان کیجیے جو گزشتہ ایک صدی کی تاریخ کا چشم دید گواہ ہو۔ جس نے ہماری زندگیوں پر اثرانداز ہونے والے اہم واقعات اپنے سامنے ہوتے دیکھے ہوں۔ جو ہمارے استادوں کے استاد کے←  مزید پڑھیے

سوشلسٹ کا سگریٹ۔۔۔۔آذر مراد

مجھے مارکس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی میں مارکسزم کے ان سارے نقاط سے واقف ہوں جن کو ہماری پرجوش نسل ہر گلی چوراہے اور محلے میں ہاتھوں میں مہنگی سگریٹ لیے اور آنکھوں پر ربن←  مزید پڑھیے

ڈرامہ گاریں کلدار پر ایک نظر۔۔۔۔۔جاوید حیات

کوئی بھی ڈرامہ یا تھیٹر ویڈیو میں مکمل نظر نہیں آتا، جس طرح وہ آڈیو میں اپنے جلوے بکھیرتا ہے. افسانے کو فلم یا ڈرامے کی صورت میں پیش کرنا بھی بڑی مہارت کا کام ہے. بلوچی ڈرامہ “گاریں کلدار”←  مزید پڑھیے

انقلاب اور ٹوپی۔۔۔۔آزر مراد

سوال: چی گویرا کون تھا؟ جواب: چی گویرا صرف ایک انسان کا نام نہیں ہے اور چی گویرا کو صرف ایک انسان تک محدود رکھنا بھی زیادتی ہوگی. چی گویرا ایک نظریہ، سوچ، فکر، عہد، وقت یا پھر ایک پورا←  مزید پڑھیے

قصہ کراچی یونیورسٹی کے بلوچ آسمانی مفکروں کا۔۔۔۔آزر مراد

پسماندہ علاقوں میں رہنے کے یوں تو کافی نقصانات ہیں لیکن ان میں سے سب سے بڑے نقصان کا اندازہ تب ہوتا ہے جب اس علاقے کا کوئی نوجوان اور گرم خونی لڑکے کا کسی شہر میں جانے کا اتفاق←  مزید پڑھیے

بلوچ طلبا کی جبری گمشدگیوں‌ کا معاملہ۔۔۔۔سراج بلوچ

ہر قوم کا مستقبل اُس کا  طابعلم  طبقہ ہوتا ہے۔ یہ انتہائی حساس اور باشعور طبقہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے قوم کے مستقبل جیل خانوں میں بند ہیں۔ مہذہب قومیں اور مہذہب معاشرے اپنے پڑھے لکھے اور باشعور طبقے←  مزید پڑھیے

سلگتے بلوچستان کا ہمدرد کون؟۔۔۔۔کاظم بلوچ

بلوچستان جس کا نام آتے ہی ذہن و گمان میں پسماندگی، درماندگی، لاچارگی، بھوک و افلاس کا خاکہ ابھرتا ہے۔ جہاں آج کے تیز رفتار ترقی کے دور میں بھی ایک سماجی، معاشی طور ایک گُھپ اندھیرے، سناٹے و خوف←  مزید پڑھیے

جمہوری شعور اور آزادی۔۔۔غلام رسول بلوچ

کسی قوم کے سیاسی اوبار کی ذمہ داری حکومت اور رعایا دونوں ہی پر عائد ہوتی ہے۔ جیسا راجہ ویسی پرجا، خیر یہ ایک پرانی کہاوت ہے لیکن اسی کی طرح یہ بھی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ عوام کا←  مزید پڑھیے

بلوچستان کا سقراط۔۔۔۔اسد بلوچ

جہالت کہانیوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ شعور کی قاتل ہے، اسے روشنی کے ساتھ ازل سے عداوت ہے، بھلا جہل کب روشنی کا وار سہہ سکا ہے۔ آج نہیں زمانہ قدیم سے یہی چلن چلا آ رہا ہے۔ آپ←  مزید پڑھیے

اساتذہ کی بھرتی کا ناقص طریقہ کار؛ اسباب و سدباب۔۔۔۔عابد میر

بلوچستان میں گریڈ سترہ یا اس سے بالائی سطح کے سکول و کالج اساتذہ کو بھرتی کرنے کا اختیار بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے پاس ہے۔ یہ ادارہ اب تک اپنی ساکھ کو بچائے رکھنے میں خاصی حد تک کامیاب←  مزید پڑھیے

پَب جی گیم، ایک خطرناک معاشرتی بگاڑ۔۔۔اکرم بلوچ

پب جی (Player Unknown’s Battle Grounds ، in short PUBG) ایک ویڈیو گیم ہے۔ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی نے ویڈیو گیمز تک پہنچ کو سستا اور آسان بنایا ہے۔ اس گیم سے معاشرہ کا ہر فرد واقف ہوگا۔ اس گیم کو←  مزید پڑھیے

بلوچستان میں قتل کیے گئے اساتذہ۔۔۔۔عابد میر

سن 2005ء سے شروع ہونے والی بلوچستان کی حالیہ سیاسی شورش یہاں کے تعلیمی ڈھانچے پر بھی اثرانداز ہوئی۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران درجنوں اساتذہ قتل کیے جا چکے ہیں۔ جب کہ سیکڑوں کی تعداد میں ڈر اور خوف←  مزید پڑھیے

احمقوں کی معیشت۔۔۔۔۔تحریر: عاصم سجاد اختر/انگریزی سے ترجمہ: فرید مینگل

“درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی”، یہ مقولہ ریاست پاکستان کی پالیسیوں کے لیے مکمل مناسب ہے۔ اور شاید سماجی و معاشی اصلاحات کے لیے تو بالخصوص موزوں ہے۔ لیکن ریاست کی موجودہ معاشی غیریقینی پر چیخ و پکار←  مزید پڑھیے