پہلا سانحہ مخبر۔۔۔ پاکستانی قوم کی ایک بیٹی سے زیادتی ہوئی ہے۔۔ ملائیت۔۔۔ جینز شرٹ میں ملبوس تھی ؟ مخبر۔۔۔ جی ہاں ملائیت۔۔۔ شلوار قمیض پہنتی ناں،اسی کا قصور ہے! دوسرا سانحہ مخبر۔۔۔ملت کی ایک اور بیٹی سے درندگی کا← مزید پڑھیے
اگر میں اپنے اسکول کے دور کو یاد کروں تو اس زمانے میں ہم بچوں کی دنیا میں بس چند گنے چنے ملک ہی تھے۔ بھارت ملک نہیں تھا دشمن تھا۔ مگر ہندوستان کا ذکر اچھے لفظوں میں ہوتا تھا← مزید پڑھیے
اٹھارہویں صدی میں اور انیسویں صدی کے پہلے نصف میں کپاس کے سودے ایک فزیکل جنس کے طور پر ہوتے تھے۔ تاجر اس کی قیمت ریشے کی لمبائی، رنگ، صفائی اور الاسٹسٹی جیسی چیزوں پر لگاتے تھے۔ جب کاروبار بڑھا← مزید پڑھیے
اقبال پارک واقعے کے بعد اکثر دیسی دانشوروں کی طرف سے ایک بازگشت مسلسل سننے کو ملی کہ لڑکی ٹک ٹاکر تھی۔ لہذا جو ہوا اسی کی ایما پر ہوا۔ ہر طرح کی تاویلیں دی گئیں۔ اگرچہ بہت سے لوگوں← مزید پڑھیے
آپ پوچھیں گے کہ میری عینک کہاں گئی ؟ اور فرض کرتے ہیں کہ آپ نہیں بھی پوچھتے۔۔ تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں آپ کو نہیں بتاؤں گا ۔ اس عینک کی کہانی بہت غریب← مزید پڑھیے
نوٹ: یہ سلسلہٴ مضامین پروفیسر ڈینس ہرمن کے مقالے کا اردو ترجمہ ہے جو اقساط کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ اس سلسلے کی آخری قسط ہے۔اصلی نسخے اور حوالہ جات کو دیکھنے کیلئے اس لنک کو کلک← مزید پڑھیے
ہمارے ہاں مرد حضرات کا عمومی رویہ یہ نظر آتا ہے کہ خواتین کے حوالے سے ان کا سلوک یا رد عمل خواتین کے لباس، میک اپ وغیرہ سے متعین ہو گا۔ جس خاتون کو وہ فیشن ایبل خیال کریں تو گویا اب ان پر اس کے حوالے سے اخلاقیات و اقدار کی تمام قیود ساکت ہو گئیں۔ اب وہ مکمل آزاد ہیں کہ جھٹ سے اپنا سفلی وجود اندر سے برآمد کریں اور جو چاہیں کر گزریں۔ گویا ان کی ساری اخلاقیات اس خاتون کے لباس وغیرہ کے ہاتھوں گروی ہیں۔← مزید پڑھیے
مینار پاکستان آج سے 80 پچاسی سال پہلے اس مینار پاکستان میں پاکستان کا تصور قبول کیا گیا تھا اس وقت ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت نے ایک مسلمان مملکت کا خواب دیکھا اور عہد و پیمان باندھے← مزید پڑھیے
اس برس یوم ِ آزادی پہ گریٹر اقبال پارک میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک دوشیزہ جو وہاں اپنے دوستوں کے ہمراہ ویڈیو بنانے گئی تھیں، ان پر ہجوم ٹوٹ پڑا، اقرار الحسن اور یاسر شامی← مزید پڑھیے
وزیر ِ اعظم پاکستان عمران خان کہتے ہیں کہ پاکستان، افغانستان کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر سختی سے کاربند رہے گا۔ افغانستان سے انخلاءکا امریکی فیصلہ درست ہے ‘ تمام لسانی اور سیاسی گروہوں کی نمائندگی← مزید پڑھیے
جدید مسائل عموماً اجتہادی نوعیت کے ہوتے ہیں اور فقہاء کے درمیان فکر و نظر کا اختلاف مسائل کے حکم میں اختلاف کا باعث بنتا ہے۔ ان مختلف فیہ مسائل میں سے ایک مسئلہ انسانی اعضاء کی پیوند کاری (Transplantation← مزید پڑھیے
جنہوں نے بھی پچیس تیس ہزار تالی بان کو ساڑھے تین لاکھ جدید ہتھیاروں سے لیس تربیت یافتہ فوج کے مقابلے میں کامیاب کرایا ہے انہوں نے کالی پگڑی والوں کو جلتے توے پر بٹھا دیا ہے ۔ ابھی کامیابی← مزید پڑھیے
جون 1999ء میں صرف دو شوق عروج پر تھے۔ ایک انگلینڈ میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ کے میچ دیکھنا دوسرا ایک ہفت روزہ اخبار“ ضرب مومن“ پڑھنا۔ یہ اخبار جمعہ کے دن آتا تھا۔ اسلامی تاریخ اور بنیادی دینی احکامات← مزید پڑھیے
وہ ایک جیولرز شاپ تھی جس میں بے پناہ رش تھا‘ خریدار اپنے من پسند زیورات کی جانچ کر رہے تھے اور دکاندار بڑے اطمینان سے گاہکوں کو نمٹا رہا تھا۔ دکان کے باہر اسلحہ سے لیس کوئی محافظ موجود← مزید پڑھیے
بین الاقوامی تعلقات کے مضمون میں ہنری کسنجر کا ایک کوٹ بہت مشہور ہے ، “امریکہ کا کوئی دوست یا دشمن مستقل نہیں ہے، سوائے اس کے مفادات کے ” ۔ ملکوں کے تعلقات مفادات سے جڑے ہوتے ہیں اور← مزید پڑھیے
کیا علاج کا یہ پہلو اتنا ہی گیا گزرا ہے کہ لوگوں کی زندگی کے دکھوں، پریشانیوں اور محرمیوں کا مداوانہ کر سکے ؟ پاکستان میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جو سائیکو تھراپی یا کونسلنگ سے بیزار ہیں انکے← مزید پڑھیے
سنہ 1922 میں یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے سائنسدان ہسپتال کے وارڈ میں داخل ہوئے۔ اس وارڈ میں موجود تمام بچوں کو ذیابطیس تھی اور اس وجہ سے سب بچے کومہ کی حالت میں تھے ۔ پاس ہی بیٹھے ان بچوں← مزید پڑھیے
میرے شاعری کو پسند کرنے کے اپنے معیار ہیں ۔لکھنے والا کتنا جذباتی ہے، اس کے احساسات کیسے ہیں، اس کی تکنیکی صلاحیتوں کا لیول کیا ہے، اگر ان سب پہ پورا اترتا ہے تو اس کے ہاں ،ان معیارات← مزید پڑھیے
عالمی تجارت کا دِل لیورپول تھا لیکن یہ عالمی کپاس کی تجارت کا ایک گروپ ہی تھا۔ یہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ گجراتی کسان سے اولڈہیم کی سپننگ مل تک، مانچسٹر کے کارخانے سے استنبول کے بازار تک،← مزید پڑھیے
کسی لہجے میں بولو لیکن اردو بولو تو سہی۔ راستہ دشوار ہے اور پڑھنے والا ستمگر، کوئی بات نہیں مونس تو ہے ناں، مونس کا مطلب ہوتا ہے ساتھ۔ جب کوئی اپنی زبان بول رہا ہوتا ہے تو یوں لگتا← مزید پڑھیے