ہما کی تحاریر

پاکستانی کورونا، مذہب، سیاست اور افواہیں۔۔ہما

آئیے کورونا کے دنیا میں ظہور پذیر ہونے کے بعد پاکستان میں پہنچنے کا تھوڑا بہت جائزہ لیتے ہیں۔ کورونا کی ابتداء پاکستان کے  پڑوسی ملک چائنہ سے ہوئی جس سے پاکستان کے انتہائی قریبی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔←  مزید پڑھیے

الٰہی رحم فرما ۔۔۔ہما جمال

الہی ضبط ٹوٹا ہے تو بے ربط سی فریاد کرتے ہیں الٰہی ملتمس ہیں رحم کی فریاد کرتے ہیں الہی کرتے رہے برباد خودی نفس کے ہاتھوں پڑے تھے غفلتوں میں اڑے تھے مستیوں میں ہاں یہ اقرار کرتے ہیں،←  مزید پڑھیے

بھوک کا دن۔۔ہما

ہم سب جانتے ہیں کہ کرونا وائرس اور اس کی تباہ کاریوں سے سب سے پہلے متاثر ہونیوالا ملک چائنہ بہت زیادہ مالی اور جانی نقصان اٹھانے کے بعد اب بہتری کی جانب گامزن ہے۔جب تک یہ مہلک مرض صرف←  مزید پڑھیے

بدگمانی۔۔ہما جمال

اسکول لائف میں جب دوستوں سے ناراضگی ہوجاتی تھی تو طرح طرح کے اشعار اور اقوال نقل کرکے ڈائری میں لکھا کرتے تھے، ایک قول جو سب دوستوں کی ڈائری میں لکھا ہو ا تھا وہ یہ تھا کہ دوستی←  مزید پڑھیے

تجھ جیسی عورت۔۔ہما

تجھ جیسی عورت پر کوئی مرد تھوکتا بھی نہیں ہے۔۔ یہ الفاظ ہیں معروف رائٹر خلیل الرحمان قمر کے جن کے لفظ دو ٹکے کی عورت(میرے پاس تم ہو)اور سیکنڈ ریٹ عورت(کاف کنگنا کی ہیروئن )ایشال فیاض کیلئے پہلے ہی←  مزید پڑھیے

یہ ہو کیا رہا ہے؟۔۔ہُما جمال

اداروں کا نقشہ بگڑ سا گیا ہے ملک و ملت کا بیڑہ غرق ہورہا ہے، محافظ نے ہے تھاماسیاست کا ڈنڈا جہاں منصفوں کا زِیر و زَبر ہورہا ہے یہ ہو کیا رہا ہے؟ نمائندہ عوامی و سیاسی مقبول ہوکر←  مزید پڑھیے

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔۔ہُما جمال

کل نفس ذائقتہ الموت، ہر متنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے (القرآن) دنیا میں کوئی نفس (انسان)اپنی زندگی کی میعاد نہیں جانتا کہ وہ کتنی عمر لکھوا کر لایا ہے، بعض لوگ لمبی عمر جیتے ہیں لیکن جب اعمال←  مزید پڑھیے

پیاری رمشا۔۔۔ہُما جمال

پیاری رمشا تبسم امید کرتی ہوں کہ اپنے نام کی طرح ہنستی مسکراتی زندگی سے چھیڑ خانی میں مصروف ہوگی، آج تم سے بذریعہ خط ہمکلام ہونے کا موقع ملا ،تو سوچتی ہوں اپنے وہ تمام اظہار جو تمہاری تحریروں←  مزید پڑھیے

ہمارے خواب یکساں ہیں ۔۔۔ہُما جمال

میں بڑا ہوکر فوجی بنوں گا! یہ الفاظ تھے 6سالہ اسمٰعیل کے، جس سے میں اس کے سکول ،اس کی کلاس اور مستقبل میں اس کے ارادے کے متعلق پوچھ رہی تھی، معصومیت، شوخی، شرارت، ہکلاہٹ، چمچماتی آنکھیں، اور ان←  مزید پڑھیے

سورج کی غربت۔۔ہما جمال

ایک اور سال بیت گیاانسان صدیوں پرانا ہوچکا لیکن اسکی رِیت نہ بدلی۔۔2019 اختتام پذیر ہوا، لیکن شروع ہونے سے ختم ہونے تک اس سال کے سورج نے دنیا پر ہزاروں تماشے دیکھے،کہیں زندگی کو بیزار دیکھا، کہیں زندگی کو←  مزید پڑھیے

عارضی تعلق۔۔۔ہُما

وہ ایک عارضی سا تعلق،رُوح کی دھجیاں اُڑا گیا دور جدید کی سب سے خطرناک ایجاد عارضی تعلق ہیں۔۔۔ یہ سطر نظر سے گزری  تو کچھ پل کو   بہت سے تعلق ذہن میں گھومنے لگے۔۔۔پہلے وقتوں میں انسان کیلئے←  مزید پڑھیے

امت فرقیہ پر افسو س کیوں؟۔۔۔۔ہما

نفرتوں کو بوکر بھی انتظار کرتے ہیں فصل ہو محبت کی چھوڑ کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا ،ریت اس نگر کی ہے۔۔۔ ایک تکلیف سے بلکتا زخمی فقیر اگر کسی ایسے محل کے سامنے صدائیں لگانے بیٹھ جائے جہاں←  مزید پڑھیے

نہایت اس کی حسین ابتدا ہیں اسماعیل۔۔۔ہما

غریب سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم نہایت اس کی حسین ابتدا ہیں اسماعیل علامہ اقبال نے ان دو مصرعوں میں حسین و اسماعیل کو مماثلت دے کر جیسے سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہو،۔ داستان حرم جو کہ←  مزید پڑھیے

بہت سی ہاجرائیں۔۔۔ہما

عورت کو محبت کی اک بوند ملتی ہے تو وہ بارش سمجھ کر اس میں بھیگنے لگتی ہےاور مرد، مرد کیا کرتا ہے اک بوند پھینک کر عورت کے پاگل پن کا تماشہ دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ہم “چینل کے ڈرامہ←  مزید پڑھیے

انسانیت انسانوں کی دوست ہے؟۔۔۔۔ہما

سن عیسوی کے مطابق سال کے تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں، ہر دن دنیا کے کسی نا کسی مسئلے سے جڑا ہوا ہے، لیکن دنیا کے مسائل اتنے ہیں کہ ایک دن منالینے کے بعد اگلے سال ہی اس←  مزید پڑھیے

اے دنیا کے منصفوں۔۔۔۔ہما

اے دنیا کے منصفوں ،سلامتی کے ضامنوں کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو! اے دنیا کے منصفوں! اپنے بچپن میں ہر شام پی ٹی وی پر کشمیری بلیٹن کے بعد یہ آواز سننا میرا معمول←  مزید پڑھیے

کراچی رو رہا ہے۔۔۔ ہما

عجب غضب ہوا کہ قدرتی موسم میں قدرتی بارش میں کوئی آسمانی بجلی نہیں گری لیکن زمینی بجلی نے گر کر اس شہر کے قیمتی چراغ گل کرکے اس شہر کو رلادیا۔۔ کراچی رو رہا ہے،کراچی بہت رورہا ہے ۔۔۔۔۔۔←  مزید پڑھیے

تم یاد آئے۔۔۔ ہما

تم یاد آئے۔۔۔۔ اشفاق احمد اپنی کتاب زاویہ کے باب نمبر چھ کے صفحہ نمبر 47 پر اپنے اٹلی کے قیام کا ایک واقعہ لکھتے ہیں۔۔ جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے۔۔۔ میں روم یونیورسٹی میں بطور پروفیسر فرائض←  مزید پڑھیے

کیا واقعی امریکہ گدھے کو باپ بنارہا ہے؟ ۔۔۔ ہما

وقت پڑنے پر تو لوگ گدھے کو بھی باپ بنالیتے ہیں ہم نے تو صرف مہمان بنایا ہے۔ یہ الفاظ میرے نہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس عاجزانہ رویے کی وضاحت کرتے ہیں، جو دورہ اتفاقی وزیراعظم پاکستان کے←  مزید پڑھیے

خاموش ہیں سسکیاں۔۔۔ہُما

میری فکر تمہیں بوڑھا کردے جب یہ سوچوں تو دم گھٹتا ہے کچھ ہفتے پہلے بلال غفور کی تحریر “کیسے نہ کہہ دوں کہ تھک گیا ہوں میں“۔۔۔  نظر سے گزری ۔۔۔ تحریر کا موضوع اور ابتدائی سطور ہی منظر←  مزید پڑھیے