ہما کی تحاریر

عارضی تعلق۔۔۔ہُما

وہ ایک عارضی سا تعلق،رُوح کی دھجیاں اُڑا گیا دور جدید کی سب سے خطرناک ایجاد عارضی تعلق ہیں۔۔۔ یہ سطر نظر سے گزری  تو کچھ پل کو   بہت سے تعلق ذہن میں گھومنے لگے۔۔۔پہلے وقتوں میں انسان کیلئے←  مزید پڑھیے

امت فرقیہ پر افسو س کیوں؟۔۔۔۔ہما

نفرتوں کو بوکر بھی انتظار کرتے ہیں فصل ہو محبت کی چھوڑ کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا ،ریت اس نگر کی ہے۔۔۔ ایک تکلیف سے بلکتا زخمی فقیر اگر کسی ایسے محل کے سامنے صدائیں لگانے بیٹھ جائے جہاں←  مزید پڑھیے

نہایت اس کی حسین ابتدا ہیں اسماعیل۔۔۔ہما

غریب سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم نہایت اس کی حسین ابتدا ہیں اسماعیل علامہ اقبال نے ان دو مصرعوں میں حسین و اسماعیل کو مماثلت دے کر جیسے سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہو،۔ داستان حرم جو کہ←  مزید پڑھیے

بہت سی ہاجرائیں۔۔۔ہما

عورت کو محبت کی اک بوند ملتی ہے تو وہ بارش سمجھ کر اس میں بھیگنے لگتی ہےاور مرد، مرد کیا کرتا ہے اک بوند پھینک کر عورت کے پاگل پن کا تماشہ دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ہم “چینل کے ڈرامہ←  مزید پڑھیے

انسانیت انسانوں کی دوست ہے؟۔۔۔۔ہما

سن عیسوی کے مطابق سال کے تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں، ہر دن دنیا کے کسی نا کسی مسئلے سے جڑا ہوا ہے، لیکن دنیا کے مسائل اتنے ہیں کہ ایک دن منالینے کے بعد اگلے سال ہی اس←  مزید پڑھیے

اے دنیا کے منصفوں۔۔۔۔ہما

اے دنیا کے منصفوں ،سلامتی کے ضامنوں کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو! اے دنیا کے منصفوں! اپنے بچپن میں ہر شام پی ٹی وی پر کشمیری بلیٹن کے بعد یہ آواز سننا میرا معمول←  مزید پڑھیے

کراچی رو رہا ہے۔۔۔ ہما

عجب غضب ہوا کہ قدرتی موسم میں قدرتی بارش میں کوئی آسمانی بجلی نہیں گری لیکن زمینی بجلی نے گر کر اس شہر کے قیمتی چراغ گل کرکے اس شہر کو رلادیا۔۔ کراچی رو رہا ہے،کراچی بہت رورہا ہے ۔۔۔۔۔۔←  مزید پڑھیے

تم یاد آئے۔۔۔ ہما

تم یاد آئے۔۔۔۔ اشفاق احمد اپنی کتاب زاویہ کے باب نمبر چھ کے صفحہ نمبر 47 پر اپنے اٹلی کے قیام کا ایک واقعہ لکھتے ہیں۔۔ جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے۔۔۔ میں روم یونیورسٹی میں بطور پروفیسر فرائض←  مزید پڑھیے

کیا واقعی امریکہ گدھے کو باپ بنارہا ہے؟ ۔۔۔ ہما

وقت پڑنے پر تو لوگ گدھے کو بھی باپ بنالیتے ہیں ہم نے تو صرف مہمان بنایا ہے۔ یہ الفاظ میرے نہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس عاجزانہ رویے کی وضاحت کرتے ہیں، جو دورہ اتفاقی وزیراعظم پاکستان کے←  مزید پڑھیے

خاموش ہیں سسکیاں۔۔۔ہُما

میری فکر تمہیں بوڑھا کردے جب یہ سوچوں تو دم گھٹتا ہے کچھ ہفتے پہلے بلال غفور کی تحریر “کیسے نہ کہہ دوں کہ تھک گیا ہوں میں“۔۔۔  نظر سے گزری ۔۔۔ تحریر کا موضوع اور ابتدائی سطور ہی منظر←  مزید پڑھیے

استادوں کی اباگیریاں ۔۔۔ ہما

استادوں کی ابا گیریاں۔۔۔۔۔۔ مس آپ کو تو لکھنا ہی نہیں آتا، ادھر دیں میں لکھ کر دکھاؤں۔ چھ سالہ جہانزیب نے میرے ہاتھ سے اپنی ڈائری چھینی اور کچھ الفاظ لکھنے لگا میرے ہاتھ ہوا میں معلق رہے اور←  مزید پڑھیے

خُدا۔۔۔ہُما

عین ممکن ہےتجھے  حَبس و تِیرگی میں کوئی صورت مثلِ خدا لگے۔۔۔ تو تلخیاں اسے سناکر اپنی آہیں، اپنے آنسو سپرد اسکے کر کے خوف ، امید و طمع ، مان پھر اعتبار اسی سے وابستہ کرکے روح خدا کی←  مزید پڑھیے

بشری عامر بنئیے ۔۔۔ ہما

پاکستان کے کسی وقت کے مذہبی امور کے وزیر عامر لیاقت حسین بھی اپنی دوسری شادی پر یہی دلائل ببانگ دہل دیتے ہوئے پائے گئے کہ میں نے نکاح کیا ہے کوئی گناہ نہیں کیا، مجھے میرا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ عامر لیاقت اپنی چھوٹی بیگم کی ہر جگہ منہ دکھائی کرواتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہوئے پائے گئے۔←  مزید پڑھیے

عورت ایک فتنہ ہے۔۔۔۔ہما

مردوں کے لئے عورت سے ذیادہ نقصان دہ کوئی اور فتنہ نہیں ہو سکتا۔۔۔کاش یہ جھوٹ ہوتا۔۔ لیکن افسوس! یہ سچ ہے۔ اوپر لکھے ہوئے لفظ میرے نہیں بلکہ کسی کی تحریر میں پڑھے اور پڑھتے ہی مردوں کی خود←  مزید پڑھیے

اب فرشتہ بھی انصاف انسانوں سے مانگیں گے؟ ۔۔۔ ہما

اب کی بار ایک فرشتہ ہیش ٹیگ کے ساتھ دہائی دیتا نظر آرہا ہے۔ #Justice_For_Farishta فرشتہ 15 مئی کو چیک شہزاد سے لاپتہ ہونے والی زیادتی کا نشانہ بننے والی 11 سالہ بچی ہے۔ فرشتہ کا تعلق قبائلی ضلع مومند سے بتایا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فرشتہ کی تلاش کیلئے ایف آئی آر درج کرنے میں اسقدر لیت و لعل سے کام لیا کہ اس پھول کی مسلی ہوئی لاش کیچڑ سے اندھیرے میں برآمد کی گئی ۔←  مزید پڑھیے

ایک ایک کراچی بنادیں۔۔ہما

درج ذیل مختصر تحریر میں نے آج سے چار سال پہلے 2015 میں لکھی تھی جب حیدرآباد کے ایک انتخاب میں ایم کیوایم کے خلاف 9 جماعتی اتحاد ہوا تھا اور وہ اتحاد بدترین شکست سے دوچار ہوا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔←  مزید پڑھیے

بنت حوا

بنت حوا آج بھی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ بنت حوا آج تو ملالہ ہے پھر بھی کہتی ہوں زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے بنت حوا آج تو شرمین عبید چناٰئے ہے پھر بھی کہتی ہوں کہ زنجیروں میں جکڑی←  مزید پڑھیے