کپاس (37) ۔ تاجر/وہاراامباکر

عالمی تجارت کا دِل لیورپول تھا لیکن یہ عالمی کپاس کی تجارت کا ایک گروپ ہی تھا۔ یہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ گجراتی کسان سے اولڈہیم کی سپننگ مل تک، مانچسٹر کے کارخانے سے استنبول کے بازار تک، ملہاوس کی فیکٹری سے نیویارک کے ٹریڈنگ ہاوس تک کپاس کی نقل و حرکت میں بہت کچھ شامل تھا۔ مثلاً، بارباڈوس کے کاشتکار کو فصل اگانے کے لئے قرض دینا، مختلف کاشتکاروں سے پیداوار اکٹھا کر کے گانٹھیں تیار کرنا، دنیا کے سمندروں کے سینے پر چلتے بحری جہازوں میں اس کو دنیا بھر میں بھیجنا، بازار سے فیکٹری، فیکٹری سے بندرگاہ، بندرگاہ سے کھیت تک انفارمیشن کا جال پھیلانا، فیکٹریوں پر زیادہ سے زیادہ اور سستی سے سستی پیداوار کا پریشر ڈالنے کی مقابلہ بازی کروانا، زیادہ سے زیادہ صارفین تک اس کی رسائی ممکن کرنا، انشورنس، شپنگ ۔۔۔ یہ تاجر نہ ہی اگاتے تھے اور نہ ہی بناتے تھے۔ ان کا کام حرکت دینا تھا۔ اور اس میں جتنے بڑے چیلنج تھے، اتنا ہی منافع بھی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس طرح جولاہے کپاس کے دھاگے کا جال بنتے تھے، ویسے ان تاجروں نے دنیا میں جال بنے تھے جو کریڈٹ، تجارت، انفارمیشن، سماجی روابط اور کبھی نہ ختم ہونے والی منافع کی طلب کے دھاگوں سے بنے گئے تھے۔ کاٹن کی ایک قمیض کے پیچھے کللکتہ سے ٹیکساس تک ۔۔۔ ایک دنیا متحرک تھی۔
اس سے پہلے دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ آپس میں کوآرڈینیشن کے اس سکیل کے بڑے مسائل تھے اور تاجروں نے ٹھیک پہچانا تھا کہ اس سب کو ٹھیک طریقے سے کر لینے سے امیر بننے کے مواقع بھی بڑے تھے۔ کمیشن، خدمات کا معاوضہ، قرض پر منافع ۔۔۔ انہوں نے کئی لوگوں کو بے حد امیر بنا دیا۔ لیورپول کے راتھ بون، بریمن کے واٹجن، ممبئی کے جی جی بھائی، نیو اورلینز کے فورسٹال، سکندریہ کے کرتالی، نیویارک کے براون، ونٹرتھر کے وولکارٹ ۔۔۔ کپاس کی عالمی سلطنت کو حرکت دینے والے اس طرح کے بہت سے خاندانوں نے بے حد دولت اور طاقت حاصل کی۔ عظیم الشان محلات والے ان تاجروں کے بعد ہزارہا دوسرے تاجر تھے جن کو آج ہم نہیں جانتے لیکن انہوں نے اس پیشے کی بنا پر اچھی زندگی گزاری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تاجر کا زیادہ کام خط و کتابت میں گزرتا تھا۔ سپلائر سے بات کرنا، کسٹمر سے بات کرنا، سفر کرنا، حساب کتاب کرنا۔ کپاس کی سلطنت اتنی وسیع تھی کہ ایک تاجر اس سسٹم کے کسی خاص حصے کا ہی ماہر تھا۔ کسی کی مہارت کپاس کو کھیت سے بندرگاہ تک لانے کی تھی۔ کسی کی مہارت بین الاقوامی شپنگ میں۔ کسی کی مصنوعات کی برآمد میں۔ کسی کی درآمدات کے ڈسٹریبیوٹر کے طور پر۔ عام طور پر تاجر کسی ایک علاقے میں کام کرتے تھے۔ کسی ایک علاقے میں تعلقات اور مہارت ہوا کرتی تھی۔ اس وجہ سے یہ سب بزنس ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے۔ عالمی سسٹم کسی مرکزی یا امپیریل ہدایات کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ بہت سے ایکٹرز کا ڈھیلا ڈھالا اور متنوع جوڑ تھا جو اپنی اپنی مقامی پرابلم حل کرتے تھے۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply