شخصیت پرستی۔۔۔ڈاکٹر شاکرہ نندنی

انسان عقلی گُتھیوں کو سلجھانے میں ہمیشہ ضعف کا شکار ہوتا آیاہے وہ جلد ہی کسی نہ کسی سوچ سے منسلک ہوکر سکون محسوس کرتا رہا ہے جب وہ عقل اور وقت کے تقاضوں سے خالی ہو کر اندھی تقلید کرتا ہے تو یہ شخصیت پرستی کہلاتی ہے اس میں کسی شخص، چیز، نظام یا طاقت کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ نتیجتاً لوگوں کی سوچ، عمل اور کردار پر جمود طاری ہو جائے جو عقل و شعورکو لعنت سمجھتے ہوئے اپنی زندگی ایک روبوٹ کی مانند گزارتے ہیں چونکہ فطرت انسان کے لئے خدا کا سب سے عظیم قانون رہا ہے پھر انسان نے قدرت پر قابو پانے کے لئے کافی ارتقائی مراحل طے کیے  ہیں جسکی وجہ سے الہامی اور روحانی مذاہب کی اشاعت میں تبدیلیاں آتی رہیں انسان چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہوہر وقت اسے اپنی سوچ کی ازسر نو تعمیر کی ضرورت پڑتی ہے اس کے لئے اسے کسی سے بھی صرف مدد لینی چاہیے کیونکہ دین سیکھنے سے نہیں بلکہ سمجھنے سے آتا ہے۔

شخصیت پرستی اورمسلمان: اسلام اپنی عمارت کچھ قوانین پر کھڑی کرتا ہے جس میں بت پرستی جیسے جامد یعنی فکس عقائد اور مطلق العنان اخلاقیات کو شخصیت پرستی یا شرک وکفر قرار دیتا ہے کیونکہ اسلام خدا کا بھی فکس نظریہ پیش کرتا کہیں نظر نہیں آتا بلکہ اس سے بڑھ کر الباب اور بینات(عقلیت) کے لئے نشانیاں اور غوروفکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ معاشرہ امربالمعروف و نہی عن منکرسے معراج حاصل کرلے۔

اسلام انسان کے اپنے اور دوسرے لوگوں کے باہم حقوق و فرائض کو ایسے بُنتا جاتا ہے جس سے ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم ہوجائے اس پر حاکم /نائب بھی سرچشمہِ طاقت کے زیر طبع ہو اور انکی شخصیت، طاقت،عمل اورکردارکچھ بھی متعین کیا ہوا نا ہوبلکہ وقت کے تقاضوں پر مبنی ہو۔

مسلمانوں کے سارے عقائد جامدہیں توحید پرستی سے لے کر شخصیت پرستی یا قبرپرستی تک۔ مسلمانوں نے عالمِ دین ایسے پیدا کیے جن کا کام سوئچ آپریٹر آن / آف کرنا ہے۔ مطلب ـــ ” مطلق العنان اخلاقیات”۔ پیر، ولیوں اور علماء دین کا مطلب رہنمائی کرنے والا لیکن انہوں نے رنگ برنگے لباس اورگدی نشینوں کے چکروں میں لگادیا ہے۔

انسانی تاریخ ارتقائی مراحل سے گزرتی رہتی ہے جس سے وقت کے تقاضوں میں تبدیلی رونما ہوتی ہے لیکن مسلمان اسی تمدن کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں جو فکس ہے اورآج سےچودہ سوسال پرانی تھی اس میں وہی اعمال و رسومات اور اقداربھی ہونے چاہیے۔

پاکستان میں مذہبی رہنما تو ایک طرف سماجی، معاشرتی اور دفتری معاملات میں بھی ہمیں کثرت سے شخصیت پرستی نظر آتی ہے کیونکہ یہاں کے قانون دان خود نمائی کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں جس میں انکی شخصیت ممتاز حیثیت رکھتی ہو۔

قانون کی بالادستی کے بجائے لوگ قانون کے لئے “قانون بنتے ہی توٹنے کے لئے ہیں” کی رائے رکھتے ہیں۔ ہمارہ معاشرتی نظام پیشہ وارانہ صلاحیت کے بجائے بیکاری زیادہ پیدا کر رہا ہے جو پارلیمنٹ سے عام آدمی تک دیکھا جاسکتا ہے۔

انسان کی اساس مادیت اور روحانیت دونوں پرہے اگر لوگ مادہ پرستی شروع کردیں یا روح پرستی شروع کر دیں تو معاشرے کے نظام میں بگاڑ آجائے گا انسان بذات خود اور اس سے وابستہ لوگ جمود کا شکار ہوکر کفر و شرک کی طرف مائل ہوجائیں گی۔

شخصیت پرستی کی سب سے بڑی وجہ لوگوں میں علم وحکمت ودانش کے حصول کی کمی ہے۔

ڈاکٹر شاکرہ نندنی
ڈاکٹر شاکرہ نندنی
ڈاکٹر شاکرہ نندنی لاہور میں پیدا ہوئی تھیں اِن کے والد کا تعلق جیسور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا اور والدہ بنگلور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئیں تھیں اور پیشے سے نرس تھیں شوہر کے انتقال کے بعد وہ شاکرہ کو ساتھ لے کر وہ روس چلی گئیں تھیں۔شاکرہ نے تعلیم روس اور فلپائین میں حاصل کی۔ سنہ 2007 میں پرتگال سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور استاد کیا، اس کے بعد چیک ری پبلک میں ماڈلنگ کے ایک ادارے سے بطور انسٹرکٹر وابستہ رہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سویڈن سے ڈانس اور موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اب ایک ماڈل ایجنسی، پُرتگال میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *