محسن علی خاں کی تحاریر

مستنتڑہسینتسڑاڑڑ۔۔محسن علی خان

اس تحریر کا عنوان پڑھنے میں یقیناً آپ کو تھوڑی سی مشکل پیش آئی ہوگی، روانی سے نہیں پڑھا جا رہا ہو گا۔ غالباً آپ سمجھ رہے ہیں یہ فارسی کا کوئی عنوان ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ پہلی←  مزید پڑھیے

آج کی اُردو زبان اور ہمارا اصل ورثہ۔۔محسن علی خان

پاکستان کے کالجز اور یونیورسٹیز میں جب نئے خطوط پر استوار تعلیمی نظام کے مطابق بی ایس سی کے دو سالہ اور ایم ایس سی کے دو سالہ پروگرام کو باہم مربوط کر کے بی ایس (آنر) سمسٹر سسٹم کے←  مزید پڑھیے

چالیس روزے، کوہ طور اور تجلی۔۔محسن علی خان

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے۔ تیس روزے ہم پر فرض ہیں۔ ہم پر آسانی یہ ہے کہ ہمیں سحری اور افطاری کی برکات سے نوازا گیا ہے۔ سحری میں بھی روٹی،پراٹھا، سالن،دہی، دودھ،لسّی وغیرہ اور افطاری میں بھی کھجور،←  مزید پڑھیے

پاکستان، ارطغرل اور حلیمہ باجی استغفراللہ۔۔محسن علی خان

آج کل جس ڈرامہ کے چرچے ہیں ہر زبان پر، پاکستان اور ترکی کا تو معلوم ہے لیکن پوری دنیا کو بھی اس کی خبر ہو گئی۔ کائی قبیلہ والے کون ہیں، کیسے لڑتے تھے، کس خطہ زمین سے اٹھے←  مزید پڑھیے

اُف اور عاجزی (ہیپی مدر ڈے)۔۔محسن علی خان

“اور ہم کس کے لئے وہ کام کرتے ہیں جو نوبل انعامات دینے کا باعث بنتے ہیں، اگر ہم ماؤں کے لئے نہیں کرتے؟؟؟ یہ وہ الفاظ تھے جو 2003ء میں ادب کا نوبل انعام جیتنے والے جے ایم کوئیٹزی←  مزید پڑھیے

اینٹ اور اطمینان۔۔محسن علی خان

خلیفہ دوئم امیرالمومنین حضرت عمر فاروق (رض) کا ایک مشہور واقعہ تو ہم سب نے سُن رکھا ہو گا۔ جب روم کا سفیر مدینہ منورہ آتا ہے۔ اور خلیفہ کے محل کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔ تو اس کو←  مزید پڑھیے

گیلیلو گلیلی اور مولانا طارق جمیل کی معافی۔۔محسن علی خان

ہم میں سے اکثر لوگوں نے ایک مشہور و معروف تصویر ضرور دیکھ رکھی ہو گی۔ جس میں ایک سفید رنگ کا گول مینار ہے جو کہ ایک طرف کو جھکا ہوا ہے۔ اسی جھکاؤ کی وجہ سے اس کو←  مزید پڑھیے

اکیس اپریل (پہلی اور آخری سانس)۔۔محسن علی خان

لندن میں سورج سارا دن بادلوں سے آنکھ مچولی کرنے کے بعد جب نڈھال ہوا، تو بارش کی بوندیں اپنی فتح کا جشن منانے کے لئے مے فیئر کی زمین کی طرف روانہ ہوئیں۔ ہواؤں نے بھی پینترا بدلا اور←  مزید پڑھیے

شہتیر کا شکار۔۔محسن علی خان

سخت جاڑے کا موسم تھا۔ سردی پہاڑوں سے اتر کر میدانی علاقوں میں قدم جما چکی تھی۔ صبح سے بارش کی جھڑی لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ہوا میں خون جما دینے والی لہر پیدا ہو رہی تھی۔←  مزید پڑھیے

کائنات کا اصل دِل۔۔محسن علی خان

آج کل موسم بہت خوشگوار ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے  جیسے سارے موسم سمٹ کر ایک ہی دن میں سما گئے ہیں۔ رات میں خنکی اور ٹھنڈ کی آمیزش ہے، صبح بہار نو کی طرع سانس لیتی ہے، سورج←  مزید پڑھیے

ہماری خواہشات کا گوبریلا۔۔۔محسن علی خان

صبح ہوئی اور وہ اپنے بِل سے نکل کر اپنی منزل کی طرف چل نکلا۔ راستہ میں ایک خوبصورت باغ آیا جو کہ رنگ برنگ پھولوں سے سجا ہوا تھا۔ باغ میں سرخ، سفید اور کالے گلاب،گُل داؤدی، گُل بابونہ،←  مزید پڑھیے

مسٹر پی فرام اٹلی اور ہماری ہٹ دھرمی۔۔محسن علی خان

رمینی، اٹلی کا ایک خوبصورت سیاحتی شہر ہے۔ فضاء میں خوشبو بکھیرتے ہوۓ رنگارنگ پھول، چہار سُو سبزہ، دریا کے پانی کی پرسکون روانی، اور رومن ایمپائر کی بہت سی یادگار نشانیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاح اس←  مزید پڑھیے

ہمارا اصل کھونٹا۔۔محسن علی خان

ایک بکری چراگاہ میں چرتی ہوئی دُور نکل گئی، پیاس لگی تو پانی کی تلاش میں اور آگے بڑھ گئی، ڈھلوان میں اسے پانی محسوس ہوا، پیاس کی شدت تھی بکری نے فوراً چھلانگ لگائی لیکن اندازہ غلط ہو گیا،←  مزید پڑھیے

قرنطینہ۔۔محسن علی خان

قرنطینہ (Quarantine) یا قیدِ طبّی یا جبری حراست ایسی پابندی ہوتی ہے جو وبائی بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔کسی وبائی مرض کے پھیلنے کی صورت میں متاثرہ علاقے سے آنے والے لوگوں کو مخصوص مدت←  مزید پڑھیے

ڈیکورم۔۔محسن علی خان

بہار کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ کالے بادلوں نے اپنی اپنی منزلوں کے لئے رخت سفر باندھ لیا ہے۔ جانے سے پہلے خوب روئے  ہیں، لیکن واپسی بھی ضروری ہے، پھر آئیں گے۔ اب ان کی جگہ دودھیا رنگ←  مزید پڑھیے

گھرونا وائرس۔۔محسن علی خان

آ۔آ۔آچھ۔آچھیی۔ی۔شکر الحمداللہ۔ یہ میری پچھلے پندرہ منٹوں میں اُنیسویں چھینک تھی۔ رات کھانسی کا دورہ پڑا تھا لیکن نیند کی شدت سے پتہ نہیں لگا وہ کیسے رُک گیا تھا، یا ہو سکتا ہے دوبارہ کھانسی آئی ہی نہ ہو۔←  مزید پڑھیے

اگلے سو سال۔۔محسن علی خان

میں صبح سو کر اٹھنے کی کوشش میں تھا، پورا جسم مفلوج تھا، دل کی دھڑکن سے زندگی کے آثار ملے، انگرائی لینے کی ناکام سی کوشش کی۔ اِک آنکھ میں ابھی نیند باقی تھی، دوسری آنکھ میں نے زبردستی←  مزید پڑھیے

انسان کی مادری زبان۔۔محسن علی خان

سینٹ رافیل ہسپتال (فیصل آباد) میں سفید لباس میں مَلبوس نرس، جس نے اپنا آدھا چہرہ ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا، ہاتھ میں اک ننھی رُوح پکڑے ہوۓ، جو ابھی کائنات میں اُتری تھی، مسلسل اپنی مخصوص آواز میں“ اوئیں←  مزید پڑھیے

امریکی جج صاحب۔۔محسن علی خان

جج صاحب کا نام فرانسسکو کیپریو ہے، نِک نیم فرینک ہے، کچھ لوگ کیپری بھی کہتے ہیں، جو زیادہ فرینک ہیں وہ فرینکی بھی کہتے ہیں۔ لیکن ہم چونکہ پاکستان میں ہیں، توہین عدالت کے ڈر سے، بھاری جرمانہ، جیل←  مزید پڑھیے

تمہارا ویلنٹائن۔۔محسن علی خان

رومن ایمپائر جیسے جیسے سکڑتی جا رہی تھی ویسے ویسے بادشاہ کی اپنے گہرے سرخ رنگ کے پتھروں سے بنے محل کی خواب گاہ میں نیند کم ہوتی جا رہی تھی، بادشاہ اب رومن ایمپائر کی سرحدیں محفوظ بنانے کے←  مزید پڑھیے