حسین مرزا کی تحاریر

اَن کہی فریاد۔۔حسین مرزا

ایک دفعہ کچھ یوں ہوا، گاؤں والوں کو حُکم ہوا کہ سب باری باری دربار میں آؤ اور اپنی گزارشات بیان کرو۔۔ ایک ایک کرکے فریادی آئے، اور اپنی فریادیں مانگیں۔ سارا گاؤں دربار میں اکھٹا ہو گیا کیونکہ گاؤں←  مزید پڑھیے

تعظیم ہے تیری بڑائی کی، تیرا ہر فرمان معتبر۔۔خالد حسین مرزا

کچھ لوگ جج کے سامنے کھڑے  اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دے رہے تھے۔ ایک شخص پر الزام یہ تھا کہ اُس نے لکھا ہے، “خواتین مرد حضرات کے برابر نہیں ہیں۔” اُس شخص نے جواب دیا “جی جناب!←  مزید پڑھیے

اُلجھنوں میں رونقوں کے سجائے خواب۔۔خالد حسین مرزا

ابھی ابھی ایک کر دار  ذہن میں آیا ہے، وہ  کردار جو  لکھاری  بننے کے لیے اِتنا پاگل ہے کہ ایک دِن کیا ہوا،( جہانزیب ) ہوٹل سے ایسا نِکلا کہ کلچ بھی اب کی بار صحیح وقت پر دبایا←  مزید پڑھیے

سچ، یقین، گمان، ہم پر رائے زَنی ،اندرونی ڈر اور نیک آرزوئیں۔۔حسین خالد

چند  ابہام ذہن میں پختہ کیے، ہم اپنے گمان کو یقین کی حد تک جی رہے ہوتے ہیں۔ میں نے جب لکھنا شروع کیا تھا، تب صرف ذہن میں ایک بات تھی، وہ یہ کہ مُجھے لکھنا ہے، اُس کے بعد←  مزید پڑھیے

اِک رہنما چلے کارواں لے کر۔۔۔خالد حسین مرزا

ایک رہنما چلے کارواں لے کر، اپنی قوم کی دُعا بن کر۔۔ ہم اکثر حتمی نتیجے کو ذہن میں رکھ کر کسی بھی کام کو لے کر ایک منصوبہ تیار کرتے ہیں۔ خاص طور پر تب جب ہم ایک رہنما←  مزید پڑھیے

جو خاک چھانی تھی،اُس میں کہیں سونا بھی تھا۔۔۔خالد حسین مرزا

اگر واقعی، حقیقی معنی میں صعوبت کاٹ لی ہے تو جو خاک چھانٹی تھی اُس میں کہیں سونا بھی تھا۔۔۔ اب کہاں شوقِ نہاں رہا طُغیانی مچا شور رچا یہ نظام یہ بقا یہ اِنتہا زندگی کے تاریک لمحوں میں←  مزید پڑھیے

کہ تجھے ہر شوقِ جنوں سے آواز آئے۔۔خالد حسین مرزا

ادبی ذوق، تماشہء حُسن ہائے ساقی کیا کہنے وہ دیکھو شوقِ مستی میں کیسے مجنوں بنے ہے حُسن جوان رہتا ہے، زندگی بوڑھی ہو جاتی ہے، حسن دلکش ہوتا ہے ہر کسی کی آنکھ کو بھاتا ہے اور سب سے←  مزید پڑھیے

میرا خیال،میری تخلیق،مگر میں مسیحا نہیں ۔۔خالد حسین مرزا

اپنی سوچ کو محدود نہ رکھ! لیکن ،کل تک تو تُو ہی کہہ  رہا تھا کہ ایک انسان کی سوچ محدود ہے۔۔ ہاں، ضرور کہا تھا، لیکن ایک بات بتاؤں، بات مطلب سمجھنے کی ہے، اب جہاں ہمت کی ضرورت←  مزید پڑھیے

ہر لفظِ تمنا کی جستجو لکھ، خیال جو بھی نکھرا تھا بیکار کچھ بھی نہیں۔۔۔خالد حسین مرزا

نہیں ہے کوئی چیز نکمی اس زمانے میں، یہ ہمارے قومی شاعر ہمیں سکھا گئے تھے، ایک بات بتاؤں ہم نے صرف اقبال کو ہیرو ہی بنایا اور اُس کی بات پر عمل وہاں کر لیا جہاں ہمارا دل کیا۔←  مزید پڑھیے

مکالمہ کی تیسری سالگرہ۔۔۔۔حسین مرزا

ہوا کچھ یوں تھا کہ  مجھے اِس بات کا کہا گیا تھا کہ کوئی الفاظ لکھو، جو مکالمہ کی ویب سائٹ کے بارے میں کچھ بتائیں، کیونکہ اِس کے تین سال پورے ہو چکے ہیں۔ سچ بولوں! سچ کا کس←  مزید پڑھیے

سَلّو کی چائے،اُس کا ہنر ،میرا ٹھکانہ۔۔۔۔۔۔حسین خالد مرزا

ایک چیز  اپنی ضرورت اپنی کمائی سے حاصل کی جائے تو اُس کی قدر ہوتی ہے، جس طرح کسی نے محنت کر کے اپنے وزن میں توازن برقرار رکھا ہو تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ کیا اُس نے منہ←  مزید پڑھیے

تُکے سے جیتنے کا مزہ نہیں آنا۔۔۔۔حسین مرزا

مجھے کرنا کیا ہے؟ سب سے پہلے تو  بڑا سوال یہ ہے، باقی باتیں بعد کی ہیں کہ  کون سی انڈسٹری میں اپنا  رنگ جمانا ہے۔ ایک دم پورا پکا کر کے، ایک سہی بات بتاؤں مجھے نہ آج اپنے←  مزید پڑھیے

شاہیں پرواز تو اونچی کر لے، مگر بناتا نہیں ٹھکانا۔۔۔۔خالد حسین مرزا

چیمہ یاد آ رہا ہے، وہ اکثر کہتا ہے کہ حسین بندے کا پتر بن! اور اُس کی ایک دبک ہوش میں لے کر آنے کے لیے کافی ہوتی ہے، میں  اُسے ہمیشہ کہتا تھا کہ  میں ! اپنے ابو←  مزید پڑھیے

نیند میں جاگتے خواب اکثر مل جاتے ہیں۔۔۔۔حسین مرزا

بات یوں ہے کہ  بلال تنویر کی کتاب کے حوالے سے کوئی خواب آیا تھا، اب وہ کس بات کی طرف اشارہ تھا معلوم نہیں اور خشونت سنگھ کو تو یوں پایا تھا جس طرح وہ میرے کمرے میں میری←  مزید پڑھیے

کوئی نا مکمل بات بوجھ رہی دل پر، مگر اب مکمل کر دی۔۔۔۔خالد حسین مرزا

رات کا سبق تو  یہ تھا کہ سیڑھی اوپر  چڑھتے ہوئے اگر کوئی اس طریقے سے آپ کے پیر تلے کیل رکھنے کی کوشش کرے کہ اس کےنام پر کوئی حرف نہ آئے اور وہ یوں خود کے لیئے پختہ←  مزید پڑھیے

بچا لو اپنی بستی میں سبھی کو یاروں۔۔۔حسین مرزا

بچا لو اپنی بستی میں سبھی کو یاروں کوئی امیر ہو، غریب ہو یا ہو کوئی ضرورت مند  کوئی ہو مسیخا، مفکر دین یا علم کا خواشمند  علی با با فاؤنڈیشن خون سبھی کی رگوں میں دوڑتا ہے، اور ہر←  مزید پڑھیے

سنو بھائی سنو ! امبانی کی بیٹی کی شادی ہے۔۔۔۔۔حسین مرزا

نہ میرا کچھ لینا نہ  دینا! امبانی کون ہے مجھے ٹھیک سے تو اتنا بھی نہیں پتا۔ لیکن سب کو بتاتا چلوں امبانی کی بیٹی کی شادی ہے۔کیا کیا کچھ کرتا ہے۔ کون کون سا پروڈکٹ  بیچتا ہے، اور کیسے←  مزید پڑھیے

میرا تجسس مجھے خوبصورت بناتا گیا۔۔۔خالد حسین مرزا

ٹھہراو سمندر کے بہتے ہوئے واٹر فال کی مانند ہے۔ بہت ہی مشکل سے اپنے اندر لانے کی کوشش کر رہا ہوں، مگر اب بھی بہت  سی مشقیں درکار ہیں۔ کبھی وہ وقت تھا جو بہتے ہوئے پانی کی طرح←  مزید پڑھیے

نیند اور رشوت کا تعلق۔۔۔۔ حسین مرزا

پچھلے کچھ دنوں سے ایک سوال ذہن میں اٹھ رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ بھوک بڑی ہے یا نیند ؟ نیند جیسے ہی طاری ہونے لگتی ہے ایک تصور بناتی چلی جاتی ہے جیسے آپ ابھی کوئی راستہ←  مزید پڑھیے

اور تماشابن گیا۔۔۔۔ حسین مرزا

ہم لوگ کسی کی پریشانی دیکھ کرخوش ہونے کے عادی ہیں، وہ لوگ معاشرے میں کم ہی پائے جاتے ہیں جو نیک نیتی سے  کسی دوسرے کے مسئلے کو اپنا سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کسی←  مزید پڑھیے