میرے ماضی کی جانب دو رستے ہیں ایک آسیبی گھر کا دوسرا تم سے محبت کا میں ان دونوں راستوں کے کواڑ بند کر دوں گی دونوں نے مجھے دکھ کے سوا کیا دیا ہے؟ ہر کسی کو تو دکھ← مزید پڑھیے
منٹو ادیبوں کا چے گویرا تھا جو کشمیر سے لے کر راجھستان تک اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے لے کر قلات تک کے ننگے معاشرے کے یکساں کرداروں کو اپنی ننگی قلم کے ذریعے آشکار کرتا رہا ۔اس نے عظیم← مزید پڑھیے
یہ بٹھو کے دور کا پاکستان تھا۔ اسمبلی میں سیکولر اور مذہبی لیڈروں کی بھرمار تھی اور ہر بندہ مہارت میں اعلیٰ تھا چاہے وہ سیکولر ہو یا پھر مذہبی۔ اسمبلی کا ایک سیشن چل رہا تھا تو ایک عورت← مزید پڑھیے
یہ غالباً دو ہزار پانچ یا چھ کی بات ہوگی۔ جب آتش جوان نہیں تھا ابھی تک ایک کم سن بچہ تھا۔ خزاں سے ذرا پہلے کا موسم تھا۔ مکئی کی فصل تقریباً تیار ہوچکی تھی۔ جب مکئی کے پودے← مزید پڑھیے
وہ دیکھو ! سب دیکھو علیشا کے شوز پھٹے ہوئے ہیں اور بیگ بھی کتنا پرانا ہے علیشا تمہارا یونیفارم اُف بہت میلا ہے, بدبو آتی ہے تم سے ،کیا تمہارے پاپا تمہیں نئے جوتے نہیں لے کر دیتے← مزید پڑھیے
مجھے آج تک یاد ہے جب پہلی مرتبہ لینڈ لائن نمبر لگنا تھا اور اس کا ڈیمانڈ نوٹس مل گیا تو سرتاج نے ملنے والوں کے توسط سے یہ نمبر لیا تھا
ہمارے گھر کا نمبر 58 اور ہمارے فون کا نمبر بھی 58 ہی تھا
پچھلے 30 سال سے ہمارا یہی نمبر چل رہا ہے حتی کہ جب ہم نے نیا گھر بنایا اور اس میں شفٹ ہوئے تو یہی نمبر ساتھ لے کے گیے← مزید پڑھیے
زندگی میں کم پیسوں میں بھی گزارا ہو جاتا ہے اور ہمیں حالات کی عادت بھی ہو جاتی ہے۔ مگر ایک خواہش دل میں رہتی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا نہ ہو، کہ عام ضروریات زندگی اپنے بچوں کو← مزید پڑھیے
جب 2018ء میں “اپنا ٹی وی “میں تھا ،ایک دن ہدایت سائر سے گفتگو جاری تھی ،وہ فون سننے لگے تو خالد معین سے بات چیت کا آغاز ہوا، اس طویل گھنٹے بھر کی گفتگو کا حاصل یہ ہوا← مزید پڑھیے
اللہ انسان کی شہ رگ سے زيادہ اس کے قريب ہے اس کا مطلب انسان کے ساتھ ہميشہ موجود ہے اس کی خوشيوں ميں بھی اور غموں ميں بھی ۔خوشی کے وقت تو ہم شکر کو بھلا کر اور اللہ← مزید پڑھیے
لائکس، شیئرز، وائریلٹی اور بریکنگ جیسے نشے اتنے خطرناک ہیں کہ شاید ہی چرس وغیرہ ان جیسے خطرناک ہوں کیونکہ یہ مادی نشے تو ایک جسم کو متاثر کرتے ہیں اور کینسر بن کر ایک زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں← مزید پڑھیے
آپ نے کبھی مرغی پکڑی ہے۔۔۔ دیسی مرغی چاق و چوبند،جو گھروں میں پالی گئیں ہوتی ہیں ؟ اگر ہاں تو آپ بخوبی جانتے ہیں ، اگر نہیں تو میں آپکو بتا دوں کہ دیسی مرغی پکڑے جانے سے پہلے← مزید پڑھیے
میں کراچی میں اور وہ لاہور میں ، کراچی مرے مزاج جیسا گرم اور اسکا موسم لاہور جیسا ۔۔کوئی تین سال لگ بھگ میں نے ہم سب پر جب سیاسی کالمز پڑھنے سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کی ،اور ← مزید پڑھیے
جب بھی لفظ محبت پڑھتی سنتی ہوں ذہن میں لفظ ماں آجاتا ہے اور ماں لغت کا وہ حسین لفظ ہے جسے پڑھتے ہی زبان پہ شیرینی اور تصور میں سراپا محبت سے موجزن ہستی آجاتی ہے ۔۔ ماں کی← مزید پڑھیے
نجانے کیوں میرے دل میں کبھی کبھار یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کوئی بھی بچہ کبھی بڑا نہ ہو ۔وہ یوں ہی چھوٹے رہیں تاکہ تمام گھر والوں کے چہروں پر خوشیاں برقرار رہیں ۔بچے جب پہلی سالگرہ کو← مزید پڑھیے
“ہمیں چاہیے کم از کم آج کے دن مزدوروں کو بخش دیں ،لیکن ہم لوگوں میں احساس نام کی کوئی شے نہیں۔ آج تو لوگ اپنے گھر کے کام خود اپنے ہاتھ سے کام کریں۔” وزیر صاحب یکم مئی کی← مزید پڑھیے
رمضان کا پہلا روزہ تھا اس نے ماں سے لسٹ بنوائی اور سامان لینے بازار کو روانہ ہوگیا۔اس نے اپنے دوستوں کو افطاری پر مدعو کیا تھا۔۔ پھل اور طرح طرح کی کھانے پینے کی اشیاء خرید کر واپس آیا← مزید پڑھیے
اگر آپ لاہور میں رہتے ہیں ،اور اشیاء ضرورت خریدنے کے لیے بازار جائیں تو ،آپ کو مختلف دکانوں سے ایک ہی چیز کی مختلف قیمتیں ملیں گی۔ہر شخص اپنی رہائش سے قریبی دکانوں سے خریداری کرنے کا خواہاں ہوتا← مزید پڑھیے
اس کتاب کے مصنف عالمی شہرت یافتہ رابن شرما ہیں ، جو اب تک گیارہ کتابیں لکھ چکے ہیں ،اس کتاب کے مطالعے کے دوران جو سکون اور لطف میں نے محسوس کیا،وہ ناقابلِ بیان ہے۔ مصنف لکھتا ہے کہ← مزید پڑھیے
کچھ ماہ کچھ مخصوص سرگرمیوں کے لیے مختص ہوتے ہیں ۔ مارچ کا مہینہ آتے ہی سکول سے جڑے بچوں کے پہلے سالانہ امتحانات اور ان کے نتائج کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ اسی سلسلے میں محترم والدین اور← مزید پڑھیے
نجانے کیوں لیکن اس وقت سے ہمیں ایک لقب “خان” کا ملا۔ یقین مانیے آج تک ہم کسی بھی جگہ چلیں جائیں, کسی بھی چھوٹی بڑی تقریب میں ہمیں ہمارے نام سے کوئی نہیں پکارتا، خان صاحب کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ہم بے وقوف کہ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔← مزید پڑھیے