کاشف رضا،ایک منجھے ہوئے لکھاری۔۔محسن علی

جب 2018ء میں “اپنا ٹی وی “میں تھا ،ایک دن  ہدایت    سائر سے گفتگو جاری تھی ،وہ فون سننے لگے تو خالد معین سے بات چیت کا آغاز ہوا، اس طویل گھنٹے بھر کی  گفتگو  کا حاصل یہ ہوا ، کہ انہوں نے حلقہ میں جانےکی راہ دکھائی، پھر کچھ عرصہ بعد ان کے توسط سے حلقہ میں پہنچا تو سب سے پہلے  میں موجود تھا ،میرے بعد سید کاشف رضا پہنچے، اس کے بعد   حلقہ کی کئی  نشستوں میں گیا ،انکی بدولت اور کئی اہم لکھنے والوں سے شناسائی ہوئی ،یوں سید کاشف رضا سے اچھی سلام دعا ہوگئی   جو  دوستی میں بدل گئی۔

سید کاشف رضا جیسا فیسبک پر لکھتے ہیں ویسا ہی بولتے ہیں، انکا ہیومر کمال کا ہے اور جیو نیوز میں پروڈیوسر ہونے کے باعث خبر سے قریب ہوتے ہیں تو زیادہ بہتر انداز میں سیاسی معاملات کو دیکھنے کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ سید کاشف رضا ایک و ضع دار اور ملنسار انسان ہیں ، انکی تحریروں میں ایک غصہ ہوتا ہے جو   حالات کے باعث  بالکل بجا ہوتا ہے۔ ۔ جہاں وہ پنڈی بوائز کے مخالف وہاں وہ سیاستدانوں گیٹ نمبر چار پر بیل بجانے پر بھی معترض ہیں ،وہ ایک جمہوری سوچ کے حامل انسان ہیں ۔ وہ کئی کتابوں کے مترجم ہیں جس میں پھٹے آموں کا قصہ ریاست کی جانب سے قبضہ میں ہونے کے باعث اور مشہور ہوگئی ۔ان حلقوں نے بھی پڑھی جو ایسی کتابیں دور سے دیکھا کرتے تھے ۔

tripako tours pakistan

اس کے علاوہ  انکا ناول چار درویش اور ایک کچھوا، بینظیر کے قتل پر متجسس ناول اپنے اچھوتے   بیان کے باعث ایک ایوارڈ بھی لے اُڑا ۔ انکے اس ناول میں اردو کے ساتھ ساتھ انکی انگریزی ادب پر گفتگو اور ساتھ پنجابی مکالمہ نگاری خوبصورتی سے چھب دکھلاتی  ہے ۔ بیشک انکا اندازِ بیا ں کچھ پڑھنے والوں کو مشکل لگا  مگر اس میں ایک کشش بھی محسوس ہوتی ہے ۔وہ  نے جیو کے مشکل حالات میں بھی   ٹیم کے ساتھ کھڑے  رہے ۔

Advertisements
merkit.pk

ایسے ہی  کئی موقعوں پر دوستوں کی مدد  کرتے دکھائی دئیے، سید کاشف رضا آج کے اردو ادب کے  محسن ہیں جو اردو کو نئے رنگوں سے آشنا کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں اور مزاحمتی لکھاری ہیں ۔خیر میں ان کو آگاہ کرچکا ہوں  کہ  میں ان سے ایک رومانوی  سسپنس  ناول کی امید رکھتا ہوں ۔  یقیناً  وہ جلد ہی  ایسا ناول لکھ کر اپنے قارئین کو حیران  کردینگے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply