انصاف یا تماشا ۔۔۔ راجہ فرقان احمد

میں جس دور جدیدیت میں رہتا ہوں   اس کو دنیا گلوبل ولیج کہتی ہے۔اگرچہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی ترقی کی بدولت ہم چاند پر پہنچ چکے ہیں ،لیکن ابھی تک انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرپائے ہیں ۔عدالتوں کا بوسیدہ نظام عوام کو گھٹنےٹیکنے پر مجبور کردیتا ہے۔بعض اوقات تو حالات اس  نہج پر آجاتے ہیں کہ سائل کی حرکت قلب بند ہوجاتی ہے لیکن وہ انصاف حاصل کرنے میں ناکام ٹھہرتا ہے۔

انصاف  حاصل کرنا اس وقت پاکستانی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔پاکستان کی آزادی کے وقت سے لے کر اب تک بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ جب جج صاحبان نے اپنے منصب کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاستدانوں کا ساتھ دیا،اور بے انصافی کی۔۔۔

اس سلسلے میں جسٹس منیر کا نام سرِ فہرست ہے،جنہوں نے   1955 میں نظریہ ضرورت کی بنیاد رکھی اور گورنر جنرل کی بنگال اسمبلی توڑنے کی تائید کی ۔ یہ فن بھی ججزحضرات کے پاس ہی ہوتا ہے کہ وہ  غیر قانونی   چیز کو بھی قانون کے مطابق قرار  دے دیتے ہیں۔

مارشل لاء کے دور میں بھی اکثر ججز نے اپنا فائدہ دیکھا اور پی سی او کے تحت دوبارہ حلف اٹھایا یا جو کہ پاکستان کے ساتھ ایک طرح سے غداری بھی تھی۔ اسی طرح شہباز شریف اور جسٹس قیوم کی آڈیو ٹیپ موجود ہے جس میں شہباز شریف نے من مانے فیصلے کرانے کے لیے   جسٹس قیوم کو فون کیا اور جسٹس صاحب نے ان کا فیصلہ دینے پر حامی بھری۔  یہ وہی لوگ ہیں جن سے ہم انصاف کی توقع رکھتے ہیں اور وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔  آج کل بھی جس طرح جج ارشد ملک کا کیس چل رہا ہے اس سے بھی عدلیہ کی   ساکھ  متاثر ہوئی۔جسٹس ثاقب نثار کو تو سب جانتے ہی ہوں گے جنہوں نے ڈیم فنڈ اکٹھا کر نے کا اعلان کیا ،ان صاحب نے اپنے ادارے کو صحیح کرنے کے بجائے دوسرے کی جیورسٹ کشن میں مداخلت کی۔ روزانہ ہسپتالوں کا چکر لگاتے۔ اکثر میں یہی سوچتا تھا کہ شاید عدالتوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔  کیونکہ جتنے چکروہ ہسپتالوں کے لگاتے تھے اتنے چکر توڈاکٹربھی نہیں لگاتا۔کاش وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا چکر لگاتے، کاش وہ لاہور ہائی کورٹ کا چکر لگاتے ، کاش وہ سندھ ہائی کورٹ کا چکر لگاتے جہاں پر لاکھوں   کی تعداد میں کیس موجود ہیں جن کا سالوں سے کوئی فیصلہ نہیں  ہوسکا۔  بات یہ ہے کہ اگر محترم جج صاحبان سیاست سے گریز کریں اور اپنے ادارے میں فوری طور پر ریفارم لائیں تو یہ اس غریب عوام کے لیے بہت بڑا ریلیف ہوگا۔

یہ ملک پاکستان کے لیے شرم کا مقام ہے کہ پاکستان  اسلام کے نام پر بنا۔ جو دین ہمیں عدل و انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اس ملک  میں عدل و انصاف حاصل کرنے کے لئے سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ لاکھوں واقعات ایسے ہیں جس کو سن کر ان جج صاحبان کو کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔  ان میں سے ایک واقعہ قصور میں ایک شخص کا ہے جسے پولیس نے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا اور پانچ دن غیر قانونی تحویل میں رکھا۔ اس شخص نے غیر قانونی طور پر تحویل میں رکھنے کے لیے عدالت میں کیس کیا    جس کے نتیجے میں یہ 15 سال جیل میں رہا اور عدالتوں کا چکر لگاتا رہا۔ 15 سال بعد جاکر اس کو انصاف ملا ۔ اسی طرح ایک واقعہ اڈیالہ جیل کا بھی ہے کہ 2015 میں ایک شخص کو پھانسی ہوئی اور 2017 میں اس کی پھانسی کو معطل کرنے کا عدالتی حکم ملا لیکن اب بہت دیر ہو گئی تھی۔  ایسے ہزاروں لوگ اس دنیا میں موجود ہیں جو انصاف کی طلب میں   اس بے سود  نظام کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔
میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کو بھی سر اہتا ہوں جنہوں نے ٹیکنالوجی کے ساتھ چلنے کے لیے آئی کورٹ کا اعلان کیا۔پاکستان میں عدالتوں اور ان کے نظام میں ایمرجنسی ریفارم لانے کی ضرورت ہے تاکہ جلد سے جلد عام آدمی کو انصاف میسر ہو سکے۔انصاف کو تماشا نہ بنایا جائے۔   ارتضی نشاط نے کیا خوب کہا ہے
کرسی ہے! تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اُتر کیوں نہیں جاتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *