انقلاب اور مکالمہ ۔ بلال حسن

جس طرف نظر دوڑائیں، عوام کو اس کرپٹ نظام اورظالم حکمرانوں سے نجات دلانے کے لیے تحریکیں چل رھی ھیں۔ یہ تحریکیں عوام کوسوشل ،پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا کے ذریعے اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں۔ یہ سلسلہ ویسے تو دو سال پہلے شروع ھوا جب عمران خان صاحب نے چار حلقے کھلوانے کے لیےسونامی مارچ کا اعلان کیا اور پھر 17 جون 2014 والا واقعہ ہوا جس میں عوامی تحریک کے 14 کارکن ماڈل ٹاون میں پولیس گردی کا نشانہ بنے۔ اپنے کارکنوں کو انصاف دلانے کے لیےڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے حکومت وقت کے خلاف انقلاب مارچ کا اعلان کر دیا۔ اس دوران لال حویلی والے بقراط عصرنے سونامی اور انقلاب مارچ کو ملانے کی کامیاب کوشش کی اور اسی وجہ سے ہی آگے چل کر ان تحریکوں کے  کارکن کزنز کہلائے ۔ 14 اگست کو لاہور سے نکلنے کے بعد یہ لوگ دو ماہ سے زیادہ ڈی چوک اسلام آباد میں رہے اور اٰس دوران جو ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ لوگ اسے لندن پلان کہیں یا اس کے پیچھے مقتدرحلقوں کی سازش تلاش کریں، لیکن ان دھرنوں اور مارچوں نے بےشمار نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس میں بہت زیادہ ہاتھ ڈاکٹر طاہر القادری کے بہترین مقرر ہونے اورعمران خان کی کرشماتی شخصیت کا ہے ۔ تاہم اس سارے ڈرامے کا ایک اہم کردارسوشل ،پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا رہا جس نے ان دھرنوں کے متعلق پل پل کی خبرعوام تک پہنچائی۔ میرے جیسے بہت سے نوجوانوں نے انقلاب کی اس آواز پر لبیک کہا۔ ہمیں مطالعہ پاکستان کے نام پر چند غلط تاریخی حقائق رٹوائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ہمارا تاریخ کا کوئی مطالعہ نہیں تھا۔ ہمیں تو یہ دونوں ہی نجات دہندہ نظر آئے اور ہم نے ان کی دعوت پر دل و جان سے لبیک کہا۔

میرے جیسے بیشمارنوجوانوں کو انداذہ نہیں کہ ابھی چند دہائیاں پہلے ایران میں آنے والےاسلامی انقلاب کا عفریت تقریباً 60 ہزارانسانوں کو کھا گیا۔ اس انقلاب نے ایرانی معاشرے کے تاروپو ادھیڑ کر رکھ دئیے اور عام لوگوں کو تباہی کے سوا کچھ نہ ملا۔ میں تو کبھی کبھی سوچتا ھوں کہ کہیں ان تحریکوں کا مقصد بھی کسی کو خوش کرنا تو نہیں تھا؟ کمیونیسٹ اور سوشلسٹ انقلاب نے بھی ایک دور میں پوری دنیا کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ مارتن مالیا نے اپنی کتاب “بلیک بک آف کمیونسٹ” میں 85 سے 100 ملین لوگوں کے قتل ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ سویت یونین کا خاتمہ کمیونسٹ انقلاب کے مزار کی آخری اینٹ ثابت ہوا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ایران، روس اور چین، یہ تینوں ممالک انقلاب کی راہ سے ہٹ کر ایک نیا بیانیہ اپنا چکے ہیں۔۔

جناب عمران خان اورمحترم طاہر القادری صاحب! ھم تو پہلے ہی زخم خوردہ قوم ہیں۔ آئے دن دہشت گرد ہمارے لوگوں کو بارود کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ اس ناسور سے نمٹنے کے لئے ہماری افواج ضرب عضب جیسے بڑے فوجی آپریشن میں مصروف یے۔ عمران خان صاحب آپ تو آکسفورڈ جیسی عظیم یونیورسٹی میں پڑھے ہیں۔ علامہ صاحب آپ تودنیا بھر میں امن کی بات کرتے ہیں۔ پھر کیوں آپ تباہی اور غارت گری کی طرف جاتے ہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ خود ایک رول ماڈل بن کر ہمیں سکھائیں کہ کس طریقے سے ہم اپنے حقوق کو جمہوری طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں۔ صاحب! ہمیں قربانی سے پہلے قربانی بالکل نہیں چاہئے۔ اور نہ ہی ہمیں ملک میں افراتفری کی آگ پھیلانی ہے۔ یہ ہمارا وطن ایک گلشن کی طرح ہے جسے سجایا جاتا ہے نہ کہ آگ کی نذر کیا جاتا ہے۔

بھائیو ہم پٹواری،جیالے،انصافی، جما عتیے یا انقلابی نہیں بلکہ پاکستانی ہیں۔ ہمیں اپنی اندھی عقیدتوں سے با ہر نکل کے سوچنا ہو گا۔ ضروری تو نہیں کہ الزام کے بدلے الزام لگایا جائے یا گالی دی جائے۔ کیوں نہ ہم مکالمے کی طرف رخ کریں۔ خود بھی بولیں اور دوسروں کو بھی بولنے کا حق دیں۔

نوم چومسکی اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ جو لوگ تاریخ پر نظر رکھتے ہیں انہیں حیرت نہیں ہو گی اگروہ لوگ جو ایک دور میں سب سے اونچی آواز میں چیختے ہیں کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے، بعد میں وہ خود اسی جبرو تشدد پر تعمیر نظام کا حصہ بن جائیں۔

 بھائیوحکمرانوں کے اپنے مفاد ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں آپکا لیڈرسچا ہو اوراسکی ہر بات حرف آخر ہو۔ اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ دوسروں کے لیڈر ہمیشہ جھوٹ ہی بولتے ہوں۔ یہ لازم ہے کہ ہم اورآپ حقائق کو مختلف زاویوں سے پرکھیں تاکہ مکالمے کی بنیاد پڑے۔ ایک ایسے مکالمے کی بنیاد جس کا مقصد اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانا ہو نہ کہ دوسروں پر الزام لگانا یا کج بحثی کے ذریعے لا جواب کرنا۔ عین ممکن ہے کہ اس دوران بہت سے بت ٹوٹیں جس سے دل کو بھی تکلیف ہو۔ مگر یہ بات یقینی ہے کہ آخر کار ہم مل کر سچ کو اپنی اصلی حالت میں ضرور پا لیں گے۔ تو آئیے صاحبو اپنے ان بزرگوں کی رہنمائی میں مکالمہ شروع کریں اور اس سے کچھ نیا سیکھیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *