اندھیرے کا ذکر ہوتے ہی ہمیں اپنی بینائی کی صلاحیت کے متعلق تشویش شروع ہو جاتی ہے کہ اب ہم ظلمت میں کیا کریں گے۔ یہ اور بات ہے کہ تیرگی میں صرف چند لمحات بعد ہماری ہر ایک حِس← مزید پڑھیے
آج وادی میں لگے کرفیو کا پچیسواں روز تھا، چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، اپنی ٹھنڈی میٹھی روشنی کی مہربان کرنیں ہر اندھیر کوٹھڑی کے قیدی کو دان کر رہا تھا۔کرفیو نے روشنی← مزید پڑھیے
“شکیل عادل زادہ “سب رنگ” ڈائجسٹ کے مدیر اور معروف ناول “بازی گر” کے مصنف ہیں۔ اُن کے سر پر قارئین کو اعلیٰ ادب اور عمدہ اردو زبان سے متعارف کروانے کا سہرا ہے۔دل چسپ بات تو یہ ہے کہ← مزید پڑھیے
پچھلا پورا ہفتہ ماضی کے بھید بھرے شہر میں گزرا۔ میں محترمہ حنا جمشید کے ہمراہ اس شہر کے دروازے ہری یوپیا کے راستے داخل ہوا اور کل رات ایک تختے پر بیٹھ کر سیلابی پانی کے تھپیڑوں کے رحم← مزید پڑھیے
فاربڈن سٹی Forbidden city تو پروگرام میں کہیں آگے جاکر شامل تھا۔ مگر سچی بات تو یہی تھی کہ یہ سویلین گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والی عورت اب اپنی خودمختاری کے راستے ڈھونڈنا شروع ہوگئی تھی۔فوجی کے سارے کاغذی← مزید پڑھیے
کچھ بودھی فرقوں کا یہ خیال تھا کہ گوتم بدھ اس جنم کے بعد آوا گون کی زنجیر سے آزاد نہیں ہوئے ۔ اس کے بعد ان کا ایک اور جنم ہوا، جس میں وہ دار پر مصلوب کیے گئے۔۔۔یہ← مزید پڑھیے
آج میں بہت خوش ہوں۔آج1991 ہے۔ نیلسن منڈیلا ستائیس سال بعد جیل سے نکلے ہیں۔افریقی لوگوں کی خوشی کی انتہا نہیں ہے۔نیلسن منڈیلا بھی بہت خوش ہیں مگر بہت لاغر ہوگئے ہیں۔ایسے لیڈر جسم کے کتنے بھی کمزور ہوجائیں ان← مزید پڑھیے
اس نام سے لکھی ایک مختصر کتاب کو لکھنے والے نے سوانحی ناول کہا ہے۔ مجھے بہت زیادہ شک ہے کہ یہ سوانحی کتاب ہے اور ناول تو میں اسے مانوں گا ہی نہیں کہ ہئیت کے حوالے سے یہ← مزید پڑھیے
سبز و سفید ردا پر نور کی برسات تھی۔ گرد آلودہ وردی چمک رہی تھی۔ ریت اور مٹی سے اٹا، کافوری خوشبو میں لپٹا چہرہ سکون اور ثبات کا مظہر تھا۔ اجنبی لوگوں کا جمگھٹا، اجنبی عورتوں کی باتیں سب← مزید پڑھیے
سچی بات ہے اگر پرانے شہر کے کسی باسی سے یہ پوچھا جائے کہ قدیم بیجنگ کی سب سے زیادہ ناقابلِ فراموش بات کونسی ہے؟تو پتہ ہے وہ کیاکہے گا اور کیا کرے گا؟ پہلے تو وہ ہنسے گا اور← مزید پڑھیے
کیسی طبیعت ہے آپ کی؟بیوی نے پوچھا۔ ارے طبیعت ٹھیک ہوتی تو مشاعرے میں نہ چلا جاتا۔کیا غزل ہوئی اللہ قسم۔۔ ارے یہ کھانسی ہی دم لینے دیتی تو چلا جاتا۔ بخار بھی تو تھاآج ہی تو اُترا ہے۔ ہاں← مزید پڑھیے
کہانی لکھنے والی نے کئ بار ان لفظوں کو پکارنا چاہا جو امید دلاسے اور تسلی کے قبیلے سے تعلق رکھتے تهے اور اب اپنے معنی بدل کر یاس، نا امیدی اور حسرت کے چوغے پہن رہے تھے۔ ان لفظوں← مزید پڑھیے
ہمارے بڑے شہر کے خانگی اسکول کے استادوں نے ایک بچے کو ذلیل کرتے ہوئے کہا “تمہیں انگریزی نہیں آتی” پھر اس کے چہرے پر کالا داغ لگایا کالا رنگ جو ہمارے پاس ذلت کا نشان ہے کہ یہ زمیں← مزید پڑھیے
ایک کہانی وہ تھی جسے وہ لکھتی تھی اور ایک کہانی وہ تھی جس کا لکھا وہ بھوگتی تھی، دونوں کہانیاں بالکل مختلف تھیں مگر گڈ مڈ ہو ہو جاتی تھیں۔ پھر جو وہ لکھنا چاہتی تھی، اس سے لکھا← مزید پڑھیے
روٹین ورک کہیے یا روزانہ کی بنیاد پر اپنی قوتِ محنت کو اُجرت کے عوض بیچنے کا معاملہ کہیے یا پھر استاد مارکس کی زبان میں رشتہ زیست کو قائم رکھنے کے لیے اپنی پیدا قدر زائد کو اُجرت کے← مزید پڑھیے
انسان اور جانور جنم جنم کے ساتھی ہونے کے باوجودکہیں ایک دوسرے کے رقیب نظر آتے ہیں تو کہیں ان دونوں کی ایک دوسرے سے دشمنی جان لیوا حد تک خطرناک ہوجاتی ہے ۔ایک طرف اشرف المخلوقات کا عقیدہ انسان← مزید پڑھیے
ڈاک سے ملنے والی خوبصورت سی کتاب کے پہلے کورے کاغذ پر ایک دست خطی جملے نے ہمیں چونکا دیا۔۔۔۔’’شاید آپ کو مظفرآباد کی تقریب میں ’کبیرخان زندہ باد‘ کا عنوان یاد ہو‘‘۔ کیا کہتے ، ہمیں تو مشتاق احمد← مزید پڑھیے
اے کرشا گوتمی! تُو پھر آگئی۔ وہ دن جب سدھارتھ کی بیوی یشودھرا کی امیدوں کے باغ میں پھل آیا اس دن تو خیر مقدمی گیت گا رہی تھی۔ خوشی کا گیت۔۔ ” سب خوش ہیں، باپ خوش، ماں خوش← مزید پڑھیے
ایک تھے محمد اَمبیر خان ۔اُنھوں نے اپنے بیٹے نیازمحمد خان کی شادی قریبی گاؤں ٹنگی کھیترسے کروائی۔بہوکے سسرال اَورمیکے کے درمیان لگ بھگ ایک کلومیٹر کاپیدل اَور پہاڑی رستہ تھا۔رستے میں گھناجنگل تھا،جھاڑیاں تھیں ،پرانے درخت تھے اَور ایک← مزید پڑھیے
سماجی ابلاغ کی مرہونِ منت لکھنے والوں کے آپسی جان پہچان کو بہت تقویت پہنچی ہے ، پذیرائی کا عنصر بھی بڑھ گیا ہے جسکی وجہ سے لکھنے والوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، کورونا اس← مزید پڑھیے