محمد کبیر کی تحاریر

چھوٹا برادرِ بزرگ /کبیر خان

اللہ بڑا بول نہ بلوائے لیکن پِیروں سائیوں کے دھاگے تعویذ ، دم درود کی برکت سے ہم ڈَھیلے ڈوٹے، چمچے، چمٹے،پیڑھے ، کِھیڑے جیسے جدید سائنسی آلاتِ حرب وضرب سے کبھی بہت زیادہ گھبرائے نہیں ۔ مگر نِکّی بے←  مزید پڑھیے

چند جٹکی آلاتِ ضروریہ (2)-کبیر خان

پہلی قسط کا لنک چند جٹکی آلاتِ ضروریہ /کبیر خان( 1)  ۳۔ موہلا گھریلو آلاتِ کشاورزی میں’موہلا‘نام کا ایک بد لحاظ آلہ بھی نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ یہ آلہ اُکھلی میں دئیے سر اور اناج کو کوُٹ←  مزید پڑھیے

چند جٹکی آلاتِ ضروریہ /کبیر خان( 1)

ہل ، پیل ، جندرا ، سلانگا ، پِیو،پھیو ، تیشہ ، درانتی ، سِکلی ، گینتی ، ترنگلی، جھبلی ، دھمچوُڑ، مورخ ، سُبّی ،روہڑا،جوترا، کھوتی کھرکھرا وغیرہ ہماری خالص دیہی زندگی کے لوازم میں شمار ہوتے رہے ہیں←  مزید پڑھیے

او کن جیا/کبیر خان

’’ اوکن جِیا کیا جیا ہوتا ہے۔ ۔؟ ‘‘اُس نے آٹھویں بار پوچھا،ہم نے سولہویں بار اِدھر اُدھر کر دیا ۔ خدا ہونی کہیں ، اُردو میں دودھ پیتے بچّے کوہم کیسے سمجھاتے کہ ایسے تمام سوالات جن سے بڑوں←  مزید پڑھیے

دوڑ پیچھے کو/کبیر خان

اللہ پوچھ نہ کرے، مبد فیض سے اجمل نیازی کو بے نیازی بھرکے عطا ہوئی تھی ۔ محبّی امجد اسلام امجد اورعطا الحق قاسمی کے تابڑ توڑ اور تیکھے جملے ناصرف سالم ہضم کر جاتے تھے بلکہ بسااوقات اپنی گرہ←  مزید پڑھیے

جاناں جاناں (پروفیسر مسرّت مرزا) قسط1/کبیر خان

فنّی تربیتی کورس کے سلسلہ میں ایک بار کچھ عرصہ اٹلی میں رہنے کا موقع ملا۔ ویٹیکن ، روم اور وینس سمیت کئی مقامات دیکھے۔ تین سے زائد جگہوں پر مائیکل اینجلو کے شاہکار دیکھے۔ ایک مقام پر بڑے قاسمی←  مزید پڑھیے

آکا باکا کاکا /کبیر خان

سفرکی دو قِسمیں ہیں ، پہلی وہ جس میں قدم قدم مقام بدلتا ہے، دوسرا جس میں قدم اُٹھتا توہے ، فاصلہ طے نہیں ہوتا ۔ عسکری اصطلاح میں اسے ’’مارک ٹائم‘‘ اور مارک ٹائم کو ریاضت کہتے ہیں ۔←  مزید پڑھیے

آہ !امجد اسلام امجد/کبیر خان

ادب کی دُنیا میں راقم کی جو موہوم سی پہچان ہے، محبّی عطاءالحق قاسمی کی بدولت ہے۔ اُنہوں نے سب سے پہلے مجھے جس ہستی سے ملوایا،وہ احمد ندیم قاسمیؒ تھے ۔ بڑے قاسمی صاحب تو بہت بڑے قاسمی صاحب←  مزید پڑھیے

ادھوری کہانیاں /کبیر خان

ڈاک سے ملنے والی خوبصورت سی کتاب کے پہلے کورے کاغذ پر ایک دست خطی جملے نے ہمیں چونکا دیا۔۔۔۔’’شاید آپ کو مظفرآباد کی تقریب میں ’کبیرخان زندہ باد‘ کا عنوان یاد ہو‘‘۔ کیا کہتے ، ہمیں تو مشتاق احمد←  مزید پڑھیے

آیا کا پاسپورٹ/کبیر خان

یہ ۱۹۸۵ کی ایک سہانی صبح کا ذکر ہے ، ہم نے جب یہ دیکھا کہ اصلاح معاشرہ مہم میں ہمارے گھر والے بھی ہمیں سیریس نہیں لیتے تو بچی کھچی عزتِ سادات کی پوٹلی بنائی اور سیدھےمتحدہ عرب امارات←  مزید پڑھیے

سالِ نو اورگُٹھلی مبارک/کبیر خان

چَیتے بِسرے پڑے ہیں ، ماہ و سال یاد نہیں   لیکن ہم عراق کے ریگ مہا ساگرعکاشات کی اُبلتی ریت سے اپنے کُنبہ قبیلہ کے لئے آٹا دانہ پھرول رہے تھے۔ صاحبو! منہ طرف خانہ کعبہ شریف کے ہو یا←  مزید پڑھیے

اَتے فیر۔۔ ؟-کبیر خان

ہمارے بچپن میں قُرّاٗ اور حفّاظ کا کال تھا۔ چنانچہ الف بے جیم اور ہیک دونی دونی ، دو دونی چارکی پٹّیوں کے علاوہ جٹکی گالیوں کے اِملاء  اور صحیح مخرج سے ادائیگی کی تربیت کے لئے بھی مقامی پرائمری←  مزید پڑھیے

عقابی تاریخ/کبیر خان

ہم توہّم پرست نہیں ہیں مگر گھر سے باہرنکلتے ہی، خواہ اپنا سمجھ کر منڈیر پر کاگا بول جائے ، بیگانہ مال جان کر بِلّی رستہ کاٹ لے یا بے سبب و بلا اشتعال بائیں آنکھ پھڑک پھڑک جائے تو←  مزید پڑھیے

میٹھی چھینک /کبیر خان

ہم توہّم پرست نہیں ہیں مگر گھر سے باہرنکلتے ہی، خواہ اپنا سمجھ کر منڈیر پر کاگا بول جائے ، بیگانہ مال جان کر بِلّی رستہ کاٹ لے یا بے سبب و بلا اشتعال بائیں آنکھ پھڑک پھڑک جائے تو←  مزید پڑھیے

پوٹھی تا لال کوٹھی(سفرنامہ-قسط1) کبیر خان

’’عجائباتِ فرنگ ‘‘ ۔۔۔ کہ سفرنامہ ہے پہلا اُردوئے معلّیٰ کا اور تصنیف ہے ایک خان کمبل پوش کی۔ لگتا ہے نام سے بندہ اپنی ذات ذوات کا۔ فرمایا ہے بیچ اس تصنیف کے فاضل مصنّف نےیوں : ’’  یکبارگی←  مزید پڑھیے

کرشن چندر نا کشمیر/کبیر خان

’’ اب یہ نہ کہنا کہ تم تہجّد کے لئے اُٹھے تھے ۔ اس واسطے کہ دارالافتاٗ کے مطابق صبح صادق کے بعد سے اشراق تک ، عصر کے بعد غروب آفتاب تک اور نصف النہار کے دوران کوئی بھی←  مزید پڑھیے

خضر صاحب- ایک تارااور ٹوٹا/کبیر خان

ہم نے جس عہد میں آنکھ کھولی، راولاکوٹ میں ’’جھنڈل کِیڑے کی گولی‘‘سے ’’پھُٹ وال‘‘(فٹ بال) کھیلا جاتا تھا۔ جی ہاں، جھنڈل کیڑے کی گولی ۔اور وہ گولی پورے اسکول کے صرف ایک بستے میں پائی جاتی تھی جس کا←  مزید پڑھیے

ابجد/کبیر خان

ا ، ب ، ج ، د ۔۔۔ ، قِسم کی چیزوں کو حروفِ ابجد ، ہِجّا یا تہجّی کہتے ہیں ۔ انہی حروف کے ملاپ سے زبان بنتی ہے۔  چاہے وہ غالبؔ کے مونہہ والی ہو ، خواہ داغؔ←  مزید پڑھیے

خطِ جدّی/کبیر خان

خط اُس سبزہِ نو رُستہ کو ہی نہیں کہتے جس کی آمد پر ماں نورِ نظر کو معمول کا تھپڑ جڑتی ہے ، پھر یہ فیصلہ نہیں کرپاتی کہ لاڈلا دوشاخہ آواز میں رو رہا ہے یا کم بخت کورس←  مزید پڑھیے

بڑا کون؟/کبیر خان

آپ نے بقائمی ہوش و حواس کبھی کسی مقامی جملہ کو ’’آکھان‘‘ اور آکھان کو ضرب المثل بنتے دیکھا ہے؟۔ ہم نے دیکھا ہے ۔ وہ تھا۔۔۔ : ’’نورجہان کے غازیوں اور ایم ایم خان کے حاجیوں کا جواب نہیں‘‘۔←  مزید پڑھیے